کیا 5 جولائی کے تاریک سائے ختم ہوچکے؟

کالم نگار  |  قیوم نظامی

8 اکتوبر 1958، 5 جولائی 1977ءاور 12 اکتوبر 1999ءپاکستان کی سیاسی تاریخ کے سیاہ دن ہیں جب جمہور کی آواز کو بندوق کی آواز سے دبادیا گیا۔ نیک نام سیاستدان پی این اے کے سیکریٹری جنرل پروفیسر غفور احمد مرحوم کے مطابق پی پی پی اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوچکے تھے دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ افواج پاکستان کے آرمی چیف جنرل ضیاءالحق نے 4 اور 5 جولائی 1977ءکی درمیانی شب کو شب خون مار کر منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر مارشل لاءمسلط کردیا۔ جنرل ضیاءالحق نے قوم سے نوے روزہ آپریشن فیئر پلے اور 18 اکتوبر 1977ءکو عام انتخابات کرانے کا وعدہ کیا جو گیارہ سالہ فاﺅل پلے ثابت ہوا۔ جنرل ضیاءالحق کا آمرانہ دور اس قدر بھیانک اور طویل تھا کہ مجاہد صحافت ڈاکٹر مجید نظامی نے جرات اور بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایڈیٹروں کے اجلاس میں آمر سے یہ پوچھ لیا ”ہُن ساڈی جان کدوں چھڈو گے“ مو¿رخین متفق ہیں کہ 5 جولائی 1977ءکا مارشل لاءگہری سازش کا نتیجہ تھا۔ یہ سازش کیا تھی اس سازش کا شکار ہوکر پھانسی پانے والے مقبول عوامی رہنما ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اسے 28 اپریل 1977ءکو پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان الفاظ میں بیان کیا۔”سازشی عناصر مجھے ہٹانا چاہتے ہیں۔ وہ پاکستان کی معیشت تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایک ملک موجود ہ تحریک کیلئے بھاری رقم خرچ کررہا ہے۔ ہاتھی نے ویت نام اور مشرق وسطیٰ پر ہمارے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ ہاتھی مجھ سے ناراض ہے لیکن اس کا واسطہ بندہ¿ صحرا سے آن پڑا ہے۔ ہم نے ایٹمی پلانٹ پر قومی مفاد کیمطابق موقف اختیار کیا ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی کرنسی پانی کی طرح بہائی جارہی ہے۔ کراچی میں ڈالر چھ روپے کا ہوگیا ہے۔ اسکی کوئی مثال نہیں ملتی کہ کس طرح لوگوں کو اذانیں دینے کیلئے رقوم دی گئیں اور لوگوں کو جیل جانے کیلئے رشوتیں دی گئیں“۔[جو دیکھا جو سنا]امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر 1976ءمیں بھٹو شہید کو ”عبرتناک مثال“ بنانے کی دھمکی دے چکے تھے۔ بھٹو کابینہ کے وزیر رفیع رضا امریکہ کی پسندیدہ شخصیت تھے ان کو 1977ءکے انتخابات سے پہلے بھٹو اور پی پی پی کے بارے میں امریکی عزائم کا علم ہوچکا تھا۔ رفیع رضا نے بھٹو سے تفصیلی ملاقات کرکے امریکی سکرپٹ انکے سامنے رکھ دیا۔ بھٹو نے اس ملاقات میں ہونیوالی حساس گفتگو کی تفصیل اپنی آخری کتاب ”اگر مجھے قتل کیاگیا“ میں شامل کی ہے۔ بھٹو لکھتے ہیں۔”11 جنوری 1977ءمیں خفیہ ہاتھوں کے بارے میں مجھے رپورٹیں ملنے لگیں۔ اسی مہینے میں رفیع رضا نے میرے ساتھ ساڑھے چار گھنٹے ملاقات کی۔ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ پی این اے ایک وجود حاصل کررہی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ پی این اے کا صدر کون ہوگا اور اسکے دوسرے عہدیدار کون ہونگے۔ اُنہوں نے مجھے اسکے ڈھانچے، ڈیزائن، حکمت عملی اور مقاصد کے بارے میں بتایا۔ اپنے انکشافات کے آخر میں اُنہوں نے مجھے بتایا کہ میرے پاس تین آپشن ہیں۔1۔میں نیو کلیئر پروسیسنگ پلانٹ کو بھول جاﺅں تو اپوزیشن کبھی متحد نہ ہوسکے گی۔ 2۔انتخابات ملتوی کردوں یا3۔انتہائی سنگین نتائج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار رہوں۔وہ اصرار کرتے رہے کہ میں اُن پر انکے ذرائع کے انکشاف پر دباﺅ نہ ڈالوں۔ تاہم جو کچھ ہورہا تھا اسکے بارے میں وہ پورے علم و یقین کیساتھ بتارہے تھے۔ جانے سے پہلے اُنہوں نے مجھ سے ایک سوال پوچھنے کی اجازت چاہی۔ میں نے کہا ”ضرور یقینا“ اس پر اُنہوں نے پوچھا ”آپ یہ سب کچھ کیوں کررہے ہیں؟ آپ اپنے اور اپنے خاندان کو اتنے بڑے خطروں میں کیوں ڈال رہے ہیں؟ ”میں نے انہیں بتایا کہ میں یہ اس لیے کررہا ہوں کہ ایک فلاحی نظام قائم کرسکوں، اپنے ملک کو توانا اور جدید بنا سکوں۔ اُن لوگوں کیلئے خوشیاں لاسکوں جو اس لفظ کے معنی سے بھی آشنا نہیں۔ میں نے اُسے بتایا کہ آنسو ہمیشہ بہتے رہیں گے لیکن میں چاہتا ہوں کہ کم آنسو بہیں اور کم تلخی کیساتھ بہیں““۔[تفصیل کیلئے دیکھیئے کتاب جو دیکھا جو سنا]بھٹو اور پی پی پی کیخلاف سازش بین الاقوامی تھی جس میں سامراج اور اسکے اتحادی شریک تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت بنے۔ پاکستان کے جاگیردار، سردار، تاجر، صنعتکار زرعی اصلاحات اور نیشلائزیشن کی بناءپر اس سازش کے معاون بن گئے۔ پی این اے کی جماعتیں اقتدار کی خاطر سازش کا ہر اول دستہ بنیں۔ میڈیا کے بھٹو مخالف صحافیوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور جب جنرل ضیاءالحق مارشل لاءلگانے میں کامیاب ہوگئے تو عوام کو یہ سرخی بھی پڑھنے کو ملی ”جاءالحق و زاحق الباطل“ ترجمہ ”حق آگیا اور باطل ختم ہوگیا“۔ اس ”حق“ نے گیارہ سال تک پاکستان کے ساتھ جو ناحق کیا اس کا خمیازہ آج پوری قوم بھگت رہی ہے۔ آج کا سوال یہ ہے کہ کیا 5 جولائی 1977ءکے تاریک سائے ختم ہوچکے ہیں اور اب فوجی مداخلت کا کوئی خطرہ نہیں رہا۔ پاکستان کے بزرگ سیاستدان محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب کے دوران میاں نواز شریف کو کالی مرغی کا صدقہ دینے کا مشورہ دیا۔ صدر پاکستان آصف زرداری کالے بکرے کا صدقہ دیتے رہے ہیں۔ اچکزئی صاحب کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرہ موجود ہے مگر پہلے سے کم ہے جس کو ٹالنے کیلئے بکرے کی بجائے کالی مرغی ہی کافی ہے۔ جب تک فوج طاقتور اور سوسائٹی و سیاسی جماعتیں کمزور رہیں گی ایک اور 5 جولائی کے امکانات موجود رہیں گے۔ جمہوریت پسند ریٹائرڈ جرنیلوں کی رائے ہے کہ مارشل لاءکا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کرنے کیلئے لازم ہے کہ انگریز کا بنایا ہوا آرمی ایکٹ تبدیل کیا جائے اور آرمی چیف کے ”خدائی اختیارات“ متوازن بنائے جائیں۔ عوام نے مسلم لیگ(ن) کو واضح اکثریت کیساتھ اقتدار سے نوازا ہے۔ پی پی پی کی طرح اسے مخلوط حکومت بنا کر بلیک میل ہونے کی ضرورت نہیں ہے اگر میاں نواز شریف عوام کو اچھی اور معیاری حکومت دینے میں کامیاب ہوگئے اور عوام کا اعتماد ان کو بدستور حاصل رہا تو فوجی مداخلت کا خطرہ نہیں ہوگا۔