عمران فاروق قتل ۔۔۔ پس منظر اور مضمرات

1978میں الطاف حسین نے کراچی میں آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے ایک فورم کی بنیاد رکھی۔ مرحوم عمران فاروق اس تنظیم کے بانی رکن اور الطاف حسین کے دست راست تھے۔اس وقت ملک میں جنرل ضیاءالحق کی بھٹو مخالف حکومت تھی جس کی حوصلہ افزائی سے تقریباً چھ سال کے بعد 1984 میں مہاجر طلبا کی اس تنظیم کی بنیادوں پر ایک اور سیاسی ڈھانچہ کھڑا کر دیا گیا جس کا نام مہاجر قومی مومنٹ طے پایا۔ اس سیاسی پلیٹ فارم سے الطاف حسین نے دل بھر کر سیاست کی۔ ضیاءالحق کے المناک ہوائی حادثے کے بعد الطاف حسین نے 1988 میں پیپلز پارٹی سے اتحاد کر لیا۔ جو صرف ایک سال چل سکا۔ پھر ایم کیو ایم 1990ءمیں اگلی بر سر اقتدار جماعت مسلم لیگ نون کی کشتی میں بھی سوار ہو گئی‘ یہ اتحاد بھی زیادہ دیر نہ چل سکا۔ان دو بڑی جماعتوں سے اتحاد کے ٹوٹنے کی وجہ ایم کیو ایم کا وہ انداز سیاست تھا جس نے بد قسمتی سے کراچی جیسے ملکی معاشی مرکز اور پر امن شہر میں بدامنی کے بیج بوئے اور جلد TTپسٹل کلچر نے کراچی شہر اور وہاں موجود تقریباً سارے بڑے بڑے سرکاری اداروں کوبھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ساتھ ہی ایم کیوایم حقیقی وجود میں آگئی۔ نوے کی دہائی کے اوائل میں سٹیل ملز جیسے قومی نوعیت کے ادارے میں جس پر ساری انجینئرنگ انڈسٹری اور ملکی معیشت کا دارومدار تھا، کچھ پلانٹ پر ایم کیو ایم حقیقی اور کچھ پر ایم کیو ایم الطاف کے مسلح افراد کا قبضہ تھا۔ ایک پلانٹ سے دوسرے پلانٹ پر فائرنگ کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا۔ ایک دوسرے کے ساتھیوں کو پکڑ کر یر غمال بنا لیا جاتا۔ شہر کی حالت یہ تھی کہ حکیم سعید جیسے اللہ کے ولی کو دن دہاڑے قتل کر دیا گیا۔ پی آئی اے،مشین ٹول فیکٹری، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی سمیت ہر ادارہ مقامی لیبر یونین کے لبادے میں ملبوس مسلح گروہوں کی گرفت میں چلا گیا۔ اداروں کو Politicize کرنے میں ساری سیاسی جماعتیں ملوث رہیں ۔ نواز شریف صاحب کے حکم پر اس وقت کراچی کے کور کمانڈر جنرل آصف نواز نے سٹیل ملز میں جا کر دونوں دھڑوں میں صلح کروائی اور پھر قیدیوں کا تبادلہ ہوا۔ اسکے بعد 1992میں ایم کیو ایم کیخلاف فوجی ایکشن ہوا اور الطاف حسین کراچی چھوڑ کر لندن چلے گئے۔ اسکے بعد بے نظیر بھٹو کی حکومت آئی تو 1995-1994میں کراچی میں No go علاقے تھے ، کھجی گراﺅنڈ کے علاقے اور کئی محلوں میں عقوبت خانے تھے جہاں لوگوں پر ٹارچر ہوتا تھا۔ ہڈیوں میں ڈرل مشین سے سوراخ اور بوری بند لاشوں نے کراچی میں خوف وہراس پھیلایاہوا تھا ۔ نڈر بھتہ مافیا کی ابتدا اسی وقت سے ہوئی جو آج بھی جاری ہے لیکن اس گھناﺅنے جرم میں اور بھی جرائم پیشہ لوگ شامل ہو چکے ہیں اور حالات ایم کیو ایم کے ہاتھ سے بھی باہر نظر آتے ہیں۔ آج کی طرح اس وقت بھی کسی کی جان و مال کراچی میں محفوظ نہ تھی۔ وزیر اعظم بے نظیر کو سیکورٹی ایجنسیز نے دو ماہ تک کراچی لینڈ کرنے سے روکے رکھا چونکہ انکی جان کو خطرہ تھا ۔ اطلاع یہ بھی تھی کہ وزیر اعظم کے جہاز پر لینڈ کرتے وقت گولی چلائی جائیگی لہٰذا ایم کیو ایم کیخلاف ایک ملٹری نہیں بلکہ جنرل نصیر اللہ بابر اور آئی بی کے سربراہ میجر مسعود خٹک کی سربراہی میں انٹیلی جنس آپریشن ہوا جس نے ایم کیو ایم کے Militant ونگ کی کمر توڑ کر رکھ دی اور اس میں Electronic Interception نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اس اثنا میں عمران فاروق بھی زیر زمین چلے گئے اور پھر لندن میں جا کر نمودار ہوئے۔ 12 اکتوبر 1999میں جنر ل پرویز مشرف کے حکومت پر قبضے کے بعد ایم کیو ایم کے نصیب پھر جاگ اٹھے اور پچھلے تقریباً 13سالوں میں سندھ کی گورنر شپ، پورٹ اور شپنگ سمیت جوسی وزارتیں ، کراچی شہر کا مکمل کنٹرول اور پیسے کی ریل پیل نے ایم کیو ایم کو مالی لحاظ سے بہت خوشحال کر دیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انکے حکم کے تحت کراچی میں موجود سارے سرکاری اداروں سے تقریباً 29 ارب روپے اکٹھے کئے گئے جس سے کراچی میں سڑکیں اور Fly Overs بنائے گئے ۔ مثلاً قائد آباد فلائی اور کیلئے اسٹیل ملز نے فنڈز دیئے جس سے کراچی شہر کراچی کور ہیڈ کوارٹر کی نگرانی میں Modernise ہوا جس کا Credit فوجی قیادت کو دینے کی بجائے ایم کیو ایم کے سابقہ سٹی ناظم خود لیتے ہیں جنہوں نے بہت اچھے کام کئے ہو نگے لیکن بڑے بڑے پراجیکٹس کیلئے فوج نے ان کو کارپوریشنوں سے فنڈز اکٹھے کرکے دیئے تھے۔ 16 ستمبر 2010 کے دن شمالی لندن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر ہونیوالے عمران فاروق کے قتل کے سلسلے میںاہم شخصیات کو شامل تفتیش کرنے اور بالی نامی شخص کی 24 جون کو گرفتاری کے بعد اب ایم کیو ایم اپنی تاریخ کے بد ترین بحران سے دو چار ہے۔ چونکہ حالیہ انتخابات میں کراچی سے پی ٹی آئی کے نو لاکھ ووٹ حاصل کرنے کے بعد الطاف حسین نے اپنی پارٹی میں جو تبدیلیاںکیں اس سے بھی کچھ لوگ ناراض ہیں یہ کراچی شہر کیلئے اچھا شگون نہیں۔ الطاف حسین نے پارٹی کی بنیاد رکھی اور 1992 سے لیکر آج تک خود ساختہ جلاوطنی سے پارٹی کو موثر طریقے سے چلایا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بد قسمتی سے ایم کیو ایم کے بہت سارے معصوم ارکان کی جانیں بھی دہشت گردی کی نذر ہوئیں۔ ایک ایم پی اے اور اس کا فرزند درندوں کے ہاتھوں حال ہی میں لقمہ اجل بنا لیکن مہذب معاشروں میں دہشت گردوں پر قانون ہی ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ دہشت گردی کا جواب دہشت گردی سے دینا بالکل مناسب نہیں۔ عمران فاروق کے قتل کے فوراً بعد عام تاثر یہی ہے کہ یہ ایک عام سٹریٹ کرائم نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہونیوالا قتل ہے۔ اب لندن میٹروپولیٹن پولیس اور سکاٹ لینڈ یارڈ کے علاوہ برطانیہ کی "Serious and Organized Crime Agency" بھی حرکت میں آچکی ہے ۔ Forensic Scientist کی خدمات بھی حاصل کر لی گئی ہیں جس سے لگتا یوں ہے کہ بعض اہم شخصیات کیخلاف اب گھیرا تنگ ہوتا جارہاہے۔ اگر وہ بے قصور ہیں تو ضرور سر خرو ہو جائینگے ایسی صورت میں ان سے استدعا یہ ہو گی کہ اصولوں کی سیاست اپنائیں اور صرف اقتدار کی سیاست کو ترک کردیں اور 18 کروڑ عوام کیساتھ ملکر ان کے دکھ بانٹیں۔ بھتہ لینے والوں کو عبرت ناک سزائیں دیں۔ اپنی جماعت کو چاروں صوبوں کی جماعت بنائیں ۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ کشمیر کے زلزے میں اچھا کام کر کے ایم کیو ایم نے کشمیری پارلیمان میں نمائندگی حاصل کرلی تھی جو بہت خوش آئندتھا۔ الطاف حسین برطانیہ کے ہی نہیں بلکہ پاکستان کے بھی شہری ہیں اس لئے اگر پاکستانی نژاد یورپین بھی کوئی اچھا کام سر انجام دیگا تو پاکستان کا سر فخر سے بلند ہوگا۔ مثلاً لارڈز نذیر، چوہدری سرور، سر انور پرویز اور سعیدہ وارثی جیسے سینکڑوں لوگ پاکستان کا فخر ہیں۔ لیکن کوئی پاکستانی نژاد نیویارک ٹائم سکوائر میں دھماکے کی کوشش کرے یا قتل کی واردات میں ملوث ہو تو پاکستان کے قومی وقار کو ضرور دھکا لگے گا یہی وجہ ہے کہ عمران فاروق قتل کیس میں اگر مقتول کے علاوہ قاتل بھی پاکستانی شہری نکلے تو یہ پاکستان کی بہت بڑی بدنصیبی ہوگی جس کیلئے پاکستانی یا بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو مورد الزام ٹھہرانا ناقابل فہم ہے۔