تبدیلیاں اور تلخیاں

سال2013کو تبدیلیوں کا سال قرار دیا جا سکتا ہے۔مملکت میں اِس سال کے دوران بڑی بڑی تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔سب سے پہلے تو پارلیمنٹ نے اپنی مدت پوری کی جس کے بعد ملک میں عام انتخابات کرائے گئے ۔ایک نئی پارلیمنٹ اور نئی حکومت معرض وجود میں آئی۔میاں نواز شریف نے تیسری بار وزیراعظم کے عہدے کا حلف اُٹھایا۔اہم بات یہ ہے کہ یہ عمل اِس قدر پُر امن طریقے سے مکمل ہوئے کہ حیرت ہوتی تھی کہ اِس سے پہلے ایسا کیوں نہ ہو سکا ۔صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی صدارت کی آئینی مدت پوری کی ایک نئے صدر کا انتخاب عمل میں آیا۔جناب ممنون حسین کو نیا صدر منتخب کیا گیا ۔عام انتخابات اور صدر مملکت کے انتخاب کے وقت ہر چند کہ الیکشن کمیشن کی سربراہی جناب فخرالدین جی ابراہیم کر رہے تھے ۔سپریم کورٹ کی طرف سے الیکشن کمیشن پر سخت دبائو جاری رہا ہے ۔انتخابات کرانا کلیتًاالیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی لیکن سپریم کورٹ نے اِس معاملہ میں بھی الیکشن کمیشن کو مجبور کیا کہ وہ سپریم کورٹ کی مرضی کے تابع کام کرے۔چند فروعی اور مبہم دلائل کی بنا پر سپریم کورٹ نے صدارتی انتخاب کا شیڈول تبدیل کر دیا ۔عام انتخابات چونکہ عدلیہ کی نگرانی میں ہوئے تھے ۔ریٹرننگ آفیسرز اور پریزائڈنگ آفیسرز عدلیہ سے لئے گئے تھے ۔ عام انتخابات میں بدنظمی اور بد عنوانی کے چھینٹے عدلیہ کے دامن پر بھی پڑے ۔چیف الیکشن کمیشنر فخر ا لدین جی ابراہیم جن کا عمر بھر کا ریکارڈ بے داغ، شفاف اور شاندار رہا تھا بطور چیف الیکشن کمیشنر اپنا سابقہ ریکارڈبرقرار نہ رکھ سکے اور شکایات کے انبار میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو کے گھر جابیٹھے۔الیکشن تنازعات الیکشن ٹربیونلز اور عدلیہ کے سامنے ہنوز زیر سماعت ہیںجنکے فیصلوں کا عوام کو انتظام ہے ۔
دسمبر2013 کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس افتخار چوہدری اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ بدقسمتی سے انکا  عہد  غیر متنازعہ نہ رہ سکا روانگی کے وقت متعددبار کونسلوں نے اُن کو دی جانے والی عشائیوں کی دعوت بھی منسوخ کر دی اور یوں اُنکی روانگی یا ریٹائر منٹ اُنکے عہدئہ جلیلہ کے شایان شان نہ رہی۔تبدیلیوں کے اِس سال میں فوج کے سربراہ جنرل کیانی بھی اپنی مدت ملازمت پوری کرکے ریٹائر ہوئے اُنکی کی جگہ جنرل راحیل شریف فوج کے نئے سربراہ مقرر ہوئے اور جنرل راشد محمود کو چیفس آف سٹاف کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ۔اِس طرح مملکت میں تمام عہدہ ہائے جلیلہ پر نئے عہدہ دار متمکن ہوئے ۔اَب دیکھنا یہ ہے کہ یہ لوگ اِس ملک کو کس طرح اور کس حد تک اُن مشکلات سے نکالتے ہیں جس میں اِس وقت یہ گھرا ہوا ہے۔     
دو اہم مسلئے جن کا ہمارے ملک کو گزشتہ برس سامنا رہا دہشت گردی اور معیشت کی بد حالی تھے ۔معیشت کی بد حالی کی ایک بڑی وجہ ملک میں دہشت گردی،قتل وغارت ،بموں کے دھماکے ،بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان وغیرہ تھے ۔انرجی کا بحران ،بجلی اور گیس کی قلت مصائب میں مزید اضافہ کئے دیتے تھے۔ ملک میں غیر محفوظ سمجھتے ہوئے بہت سے سرمایہ دار اپنا سرمایہ اور کارخانے وغیرہ ملک سے باہر سری لنکا،بنگلہ دیش،ملیشیا وغیرہ لے گئے ۔اِس سے ملک میں بے روزگاری میں اضافہ ہوا غریبوں کے چولھے بجھنے لگے ۔دہشت گردی کی صورت یہ ہے کہ شمالی وزیرستان میںنو پیس نو وار کا عالم ہے ۔حکومت نے شدت پسندوں سے مذاکرات کا فیصلہ تو کر رکھا ہے لیکن جن سے مذاکرات کرنا چاہئیں وہ ایسا کرنے کو تیار نہیں۔فوج نے حکومت کے ساتھ اتفاق کیا تھا کہ مذاکرات کو ایک موقعہ ضرور دینا چاہئے لیکن اِس ضمن میں کوئی پیش رفت اَبھی تک دیکھنے میں نہیں آئی۔دسمبر کے آخر میں وزیراعظم نے مولانا سمیع الحق سے ملاقات کر کے طالبان سے مذاکرات کے آغاز کی ذمہ دار مولانا سمیع الحق کو سُپرد کی اَب دیکھنا ہے کہ مولانا کس حد تک ذمہ داری نبھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اِس گو مگو کی کیفیت میں فوج کو زبردست نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔ دشمن گھات لگاکر فوجی نے ٹھکانوں پر حملے کرتا ہے ۔شمالی وزیرستان میں فوج کو جو نقصان اُٹھانا پڑا ہے وہ اُس سب سے کہیں زیادہ ہے جو ملک کے باقی حصوں اور فاٹا میں ہو رہاہے۔ زخمیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے ۔حکومت کو بالآخر فیصلہ کرنا ہو گا ۔قاتل کو قاتل کہنا ہو گا۔ملک دشمن عناصر کا قلع قمع کرنا ہو گا ۔ابھی تک دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ کوئی بڑا واقعہ ہو جائے تو حکومت سوگ میں پڑ جاتی ہے۔ کچھ طے نہیں کر پاتی۔اِس سے دہشت گردوں کو (Space)بڑھانے کا موقعہ مل جاتا ہے۔ اگرجلد ہی درست فیصلے نہ کئے گئے تو یہ مسئلہ پیچیدہ ہوتا جائیگا،اتناپیچیدہ جس میں فوج کو بھی کامیاب ہونا آسان نہ رہے۔
2013 تو جیسے تیسے گزر گیا ۔اَب دیکھنا یہ ہے کے 2014ہمارے لئے کس قسم کے چیلنجز اور امکانات لے کر آتا ہے ۔اِس سال ہمارے خطے میں اہم واقعات رونما ہونے کو ہیںسب سے پہلے 2014میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کا اشو ہے ۔اُس کے ساتھ ہی پڑوسی ملک بھارت اور افغانستان میں انتخابات کا معاملہ ہے۔پاکستان میں معیشت میں بہتری بھی اتنا ہی اہم اشو ہے ۔امریکہ کی خواہش تھی کہ 2014کے بعد بھی کوئی آٹھ دس ہزار امریکی فوجی افغانستان میں مقیم رہیں جو حسب ضرورت افغانستان میں امن برقراررکھنے کے کام آسکیںلیکن یہ بات اُس صورت میں ممکن ہو سکتی تھی کہ امریکہ اور افغانستان میں ایک معاہد ے پر اتفاق رائے کے بعد دستخط ہو سکیں ۔افغان صدر کرزئی ایسے کسی معاہدہ پر دستخط کرنے کو تیار نہیںجس کے بغیر امریکہ اپنے تمام فوجی افغانستان سے نکالنے کا پابند ہے۔کرزئی کہتے ہیں ایسے معاہدے پر دستخط افغانستان انتخابات کے بعد ہی ممکن ہیں۔اندیشہ ہے کہ امریکی انخلاء کے بعد افغانستان میں سکیورٹی کی صورت حال میں زبردست تبدیلی رونماہو گی ۔طالبان اور القاعدہ کی طاقت میں اضافہ ہو گا اور یہ دونوں افغانستان میں اپنے اثررسوخ اور عملداری میں اضافہ کریں گے ۔اُدھر یہ بھی معلوم نہیں کہ افغانستان میں کس قسم کی حکومت برسراقتدار آتی ہے۔پاکستان پر افغان واقعات کا اثر پڑنا ایک لازمی امر ہے ۔افغان طالبان کا تعلق پاکستانی طالبان سے ہے بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ موخر الذکر افغان طالبان کے قطعی زیراثر ہیں۔افغان طالبان کی قوت میں اضافہ تحریک طالبان پاکستان کی قوت میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔طالبان کے متعلق فیصلہ کرتے وقت حکومت کو اِن باتوں کا خیال رکھنا ہو گا۔افغان طالبان کے لئے ہماری حکومت اور سکیورٹی ایجنسیز کے دل میں ایک نرم گوشہ رہا ہے ۔غالبًا اُس رویہ پر نظرثانی کی ضرورت ہو گی۔ ہمیں افغانستان کے معاملات سے قطعی طور پر لا تعلق ہونا چاہئے ۔افغان انتخابات ،افغانستان کی داخلی صورت حال ہر صورت میں افغانستان کا معاملہ ہے ہماری خواہش ہے کہ افغانستان میں امن چین قائم رہے ۔افغانستان ترقی کرے افغان بھائی خوشحال ہوں بس صرف اتنا کہ افغانستان میں قائم ہونے والی حکومت پاک دشمن نہ ہو۔
بھارت میں ہونے والے انتخابات میں بھی ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت سے پاکستان کی دلچسپی قابلِ فہم ہے ۔وزیراعظم نواز شریف نے بھارت اور افغانستان سے تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے ۔ہرچند کہ اِس میں اَبھی نمایاں پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی ۔یہ کوشش جاری رہنی چاہئے ۔ہمیں تمام پڑوسی ممالک بالخصوص بھارت ، افغانستان ،ایران اور اِن سب سے بڑھ کر چین سے تعلقات کو خاص توجہ دینا چاہئے۔
جہاں تک معیشت کا تعلق ہے اُس میں قابل ذکر بہتری کی کوئی فوری صورت نظر نہیں آتی۔یورپی یونین کے27 ممالک میں بنِاڈیوٹی ٹیکسٹائل کی برآمدات سے خوشگوار امکانات تو پیدا ہوئے ہیں لیکن توانائی بحران بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے اہداف کا حصول کہاں تک ممکن ہو گا کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ نئی جابز پیدا کرنا اشد ضروری ہے ۔ہر سال لاکھوں افراد ملازمت کی منڈی میں داخل ہو رہے ہیں اگر اُنھیں تسلی بخش طور پرکھپایا نہ جاسکا تو صورت حال تشویشناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔ 2014حکومت کی آزمائش کا سال ہو گا سیاسی اختلافات ،دہشت گردی، معاشی صورت حال، ہر محاذپر نمٹنے کے لئے اہلیت اور قابلیت کی ضرورت ہو گی ۔محض دوستی اور وفاداری کی حدوں سے آگے نکل کے سوچنا ہو گا۔باتیں بہت ہو چکیں اَب گڈ گورننس کے عمل مظاہرے کی ضرورت ہے۔