کشمیر کا مقدمہ

کالم نگار  |  قیوم نظامی

آج یوم یک جہتی کشمیر ہے۔ پاکستان میں کشمیری بھائیوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے حکومتی اور نجی سطح پر تقاریب منعقد کی جائینگی۔ اسلام کے عظیم فرزند قاضی حسین احمد مرحوم کی اپیل پر حکومت نے 5 فروری کشمیریوں کیساتھ یک جہتی کا دن قرار دیا تھا۔ 1947ء میں اگر بھارتی لیڈر مکاری اور عیاری کا مظاہرہ نہ کرتے تو کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا اور جنوبی ایشیاء امن کا گہوارہ ہوتا۔ بھارت نے کشمیر میں فوج داخل کردی قائداعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیتے ہوئے جنرل گریسی کو حکم دیا کہ کشمیر کی جانب فوج روانہ کی جائے اس نے آئینی، قانونی اور انتظامی پابندیوں کا جواز پیش کرکے احکامات پر عمل کرنے سے معذوری ظاہر کردی۔ اس نازک موقع پر وزیرستان کے آفریدی اور محسود قبائل نے کشمیر میں لشکر روانہ کرکے کشمیریوں کا ساتھ دیا اور پاکستان کے مفادات کا دفاع کیا۔ بھارت نے یکم جنوری 1948ء کو کشمیر کا تنازعہ حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ میں درخواست دائر کر دی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی جس میں طے پایا کہ کشمیر کا مسئلہ استصواب کے ذریعے حل کیا جائیگا۔ کشمیری ریفرنڈم میں فیصلہ کرینگے کہ وہ پاکستان اور بھارت میں کس کیساتھ الحاق کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ اگر آغاز میں ہی بھارت پر دبائو ڈالتے تو اقوام متحدہ کی قرارداد کیمطابق کشمیر کا فیصلہ ہوجاتا۔
پاکستان نے امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے ثالثی کی تجویز تسلیم کرلی مگر بھارت رضامند نہ ہوا۔ 1953ء میں امریکہ کے سیکریٹری آف سٹیٹس ڈلس (Dulles) نے تجویز دی ’’ریاست کی تقسیم ہی واحد حل ہے جو عملی طور پر ممکن دکھائی دیتا ہے‘‘۔ [FRUS سیکریٹری ڈلس کا صدر آئزن ہاور کے نام میمو رنڈم 14 مارچ 1953] 1962ء میں جب چین اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازعہ شروع ہوا تو جنرل ایوب خان نے امریکہ سے درخواست کی کہ موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے دبائو ڈالا جائے امریکہ نے منافقت سے کام لے کر یہ موقع بھی گنوا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے 1965ء میں وزیر خارجہ کی حیثیت میں سلامتی کونسل میں کشمیر کا مقدمہ لڑا۔ 1965ء میں ہی کشمیر پر پاک بھارت جنگ ہوئی جو نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی۔ 1972ء میں بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی اور پاکستان کے وزیراعظم بھٹو کے درمیان شملہ معاہدہ طے پایا جس میں دونوں لیڈروں نے اتفاق کیا کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات دو طرفہ بنیاد پر پر امن ذرائع سے حل کیے جائینگے۔ 1989ء میں کشمیر کے نوجوانوں نے آزادی کی تحریک شروع کی جس کی کامیابی کیلئے عظیم اور بے مثال قربانیاں دی گئیں۔ بھارتی فوج نے آزادی کی تحریک کو کچلنے کیلئے جبروتشدد کی نئی تاریخ رقم کی۔ امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ میں بیان کیا ’’جموں و کشمیر اور دوسری ریاستوں میں انسانی حقوق کی سخت خلاف ورزی، ماورائے عدالت قتل اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے طاقت کا انتہائی استعمال پولیس اور دوسری سرکاری ایجنسیوں کا تشدد، زنا بالجبر ملزمان کی پولیس کی حراست میں اموات بلا جواز گرفتاریاں اور نظر بندیاں عروج پر ہیں۔ ایمنٹسی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کے رپورٹروں کو جموں و کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے‘‘۔[سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ 30 جنوری 1998]
1998ء میں بھارت کے وزیراعظم واجپائی دوستی کی بس پر سوار ہوکر واہگہ سرحد پر آئے اور پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کیساتھ امن مذاکرات کیے۔ کشمیر اور دوسرے تنازعات حل کرنے کیلئے ایک تاریخی موقع پیدا ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے کارگل کی مہم جوئی کرکے یہ موقع ضائع کردیا۔ اگر کارگل آپریشن نہ ہوتا تو جنوبی ایشیاء کی تاریخ مختلف ہوتی۔ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداد پاکستان کا سب سے بڑا ہتھیار تھا اس ہتھیار کو اعلیٰ سفارت کاری کے ذریعے استعمال کیا جاتا تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا۔کشمیر کے نام پر جہاد شروع کیا گیا۔ پرائیویٹ جہاد کی سرپرستی کی گئی اربوں روپے کے قومی وسائل صرف ہوئے مگر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ جنرل پرویز مشرف نے 2004ء میں اصولی مؤقف سے انحراف کرتے ہوئے ایک ایسا حل پیش کردیا جس پر قومی اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
9/11 نے دنیا کا منظر نامہ ہی تبدیل کردیا۔ امریکہ نے اپنے لانگ ٹرم قومی مفادات کے پیش نظر پاکستان کو یقین دلایا کہ اگر پاکستان عالمی دہشت گردی کیخلاف فرنٹ لائین سٹیٹ کا کردار ادا کرنے پر آمادہ ہوجائے تو امریکہ کشمیر کا تنازعہ حل کرانے کیلئے مکمل تعاون کریگا۔ پاکستان کے آمر جرنیل اپنے اقتدار کی خاطر امریکہ کے دبائو میں آتے رہے اور امریکہ اپنے قومی مفادات کیلئے کشمیر کارڈ استعمال کرتا رہا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت مذاکرات کیلئے ایک میز پر بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہے اور امریکہ اس پر معمولی دبائو ڈالنے پر آمادہ نہیں۔ کاش ہمارے آمر حکمران پاکستان کے قومی مفادات پر سودے بازی نہ کرتے اور ڈالروں کی چمک سے متاثر نہ ہوتے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوچکا ہوتا۔ کشمیر کی آزادی کیلئے کشمیر کے عوام نے لاکھوں جانوں کی قربانی دی ہے۔ تاریخ شاہد ہے شہیدوں کا خون رنگ لاتا ہے۔ کشمیر ایک دن کشمیری عوام کی خواہش کیمطابق حل ہوگا۔ بھارت فوج کی طاقت سے ہمیشہ کیلئے کشمیر کو غلام نہیں رکھ سکتا۔ یہ درست ہے کہ بھارت معیشت اور عسکری حوالے سے پاکستان سے بہت آگے نکل چکا ہے اور فوجی طاقت سے یہ مسئلہ حل نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ تنازعہ اب سیاسی اور سفارتی ذرائع سے حل ہوگا۔ جنرل پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور سابق وزیر خارجہ خورشید محمودقصوری نے قوم کو کشمیر کے حل کی خوشخبری سنائی تھی ۔ ممبئی میں دہشت گردی کے سانحہ نے پاک بھارت مفاہمت کو سبوتاژ کردیا تھا۔
وزیراعظم نواز شریف نے ایک بار پھر پاک بھارت امن مذاکرات کی کوششوں کا آغاز کیا ہے ۔ان کو پاک فوج اور کشمیری لیڈروں کا تعاون بھی حاصل ہے۔ اخباری رپوٹوں کیمطابق بھارت کے وزیراعظم من موہن سنگھ مارچ میں پاکستان کا دورہ کرینگے اور مذاکرات کا آغاز سابقہ مفاہمت سے ہوگا جہاں سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھا۔ کشمیری عوام کی آرزوئوں اور تمنائوں کو سامنے رکھ کر ہی کشمیر کا تنازعہ حل کیا جائیگا کیونکہ اس تنازعہ کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈر کشمیر کے عوام ہیں جنہوں نے کشمیر کاز کیلئے مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں۔ اُمید ہے کہ پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتیں خلوص نیت کیساتھ وزیراعظم پاکستان سے تعاون کرینگی۔ پانی کا مسئلہ بھی کشمیر کے حل کیساتھ جڑا ہوا ہے۔ بھارت دنیا کا لیڈر بننا چاہتا ہے اسکی یہ آرزو اسی وقت پوری ہوگی جب جنوبی ایشیا میں امن ہوگا۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی کیلئے لازم ہے کہ کشمیر کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہو۔ پاکستان کے عوام آج بھی اپنے کشمیری بھائیوں کیساتھ کھڑے ہیں اور انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام مسئلہ کشمیر پر اے پی سی کانفرنس ہوئی جس میں مختلف جماعتوں کے سیاسی اور مذہبی رہنمائوں نے کشمیری عوام کے ساتھ شاندار الفاظ میں اظہار یک جہتی کیا۔