کشمیری زندہ باد پاکستانی پائندہ باد

کالم نگار  |  قسور سعید مرزا

 ویسے تو انسان کیلئے ہر دن کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے لیکن پانچ فروری ہمارا ایک ایسا قومی دن ہے کہ جب ہم اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کیا گیا عہد دھراتے ہیں۔ اپنی آل و اولاد کو بھی ان کا ایمان یاد دلاتے ہیں۔ہم نئی نسل اور اپنے نوجوانوں کو بھی ذہن نشیں کراتے ہیں کہ ہم بھارت کے وجود کو تو مانتے ہیں اس کی حیثیت کو بھی تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے مزاج، ذہنیت اور حکومتی رویے سے نفرت کرتے ہیں ۔ظاہر ہے کہ جب تک بھارت اور بھارتی قیادت کی سوچ، فکر اور عمل میں نمایاں طورپر جوہری تبدیلی نہیں آئے گی تب تک ہمارے خطے میں دیرپا اور پائیدار امن قائم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کوئی فرمائشی شو نہیں ہے جو کسی امداد یا NGO کے ڈالروں پر چل رہا ہو اور نہ ہی یہ ایسی تحریک ہے کہ جو کسی کے اشارے پر تھم جائے۔وقت کے ساتھ ساتھ اتار چڑھائو آتا رہتا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں آباد ہونے والے میلوں لمبے شہداء کے قبرستان اس تحریک کے مالک ہیں۔ شہداء کی مائیں، بیوائیں، بہنیں اور بیٹیاں اس تحریک کی وارث ہیں۔معصوم اور بے گناہ خواتین کی عصمتیں، بزرگوں کے زندہ لاشے،نوجوانوں کے اپاہج بدن اس تحریک کے مدعی ہیں۔یہ ملکیت اور وراثت نسل در نسل منتقل ہورہی ہے۔
قصور ان کا صرف یہ ہے کہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل چاہتے ہیں،عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے لہو میں نہاتے چلے آرہے ہیں اور آگ کے دریا میں ڈوبے ہیں اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے کہ کسی قوم کے حق میں فیصلہ ہوچکا ہو لیکن اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے کیلئے 65 سال سے خون کا نذرانہ پیش کیا جارہا ہو؟
 لاکھوں شہید ہوچکے ہیں۔ ہزاروں کی زندگی اجیرن ہے۔سینکڑوں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معذور ہوگئے ہیں۔ یہ اپنے گھر میں بے گھر ہیں۔ یہ اپنے دیس میں مہاجر ہیں۔ یہ اپنی دھرتی پر پردیسی بنے ہیں۔ تاریخی سچائی یہ ہے کہ پاکستان بننے کے وقت اہل کشمیر کا سیاسی میلان کچھ اور تھا۔اس وقت کی کانگریسی قیادت کشمیریوں کی خواہشات کو جبر،دھونس، دھاندلی ،مکرو ترغیب کے ہر اندازے سے کچلنے اور اغواء کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔انگریز فرنگی بھی مہین کاری میں مصروف تھا۔
بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوئیں۔پاکستان اور بھارت کے درمیان باقاعدہ جنگ چھڑی جبکہ اس وقت پاکستان کی عمر صرف ڈیڑھ سال تھی۔کیا ملکوں کی تاریخ میں کسی نوزائیدہ ملک کے ساتھ ایسا ہوا ہے؟ پھر طرفہ تماشہ یہ ہوا کہ بھارت خود ہی بھاگ کر اقوامِ متحدہ گیا۔وزیراعظم نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت دیں گے۔
 جنوری 1949ء میں متفقہ قرارداد منظور ہوئی جس میں پاکستان اور بھارت کی ذمہ داریوں کا تعین کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا گیا کہ کشمیری عوام کی رائے معلوم کرنے کے لئے بین الاقوامی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے گی۔بھارت کی جانب سے شیخ عبداللہ اور آزاد کشمیر کی طرف سے سردار ابراہیم پیش ہوئے تھے۔
اقوام متحدہ کی تاریخ میں اتنا مضبوط مقدمہ اتنی بڑی اخلاقی برتری کے ساتھ کسی اور قوم کے پاس نہیں ہے سوائے کشمیریوںکے۔ اقوام متحدہ کی اس متفقہ قرارداد پر عمل کرانے کیلئے مستقل خون بہہ رہا ہے کہ جس کے نتیجے میں آ ج کشمیر کی دھرتی لہو رنگ ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیریوںکا محور ہیں۔ یہ ان کا جائز اور قانونی موقف ہے۔ان کی حمایت کرنا ہرپاکستانی کا ایمان ہے۔
 حقیقت میں یہی قراردادیں ہیں جو مسئلہ کشمیر میں پاکستان کو فریق ہونے کا حق دیتی ہیں اور اسلام نے کشمیر کے تمام خطوں کو ایک مضبوط زنجیر کی طرح باندھا ہوا ہے۔ قوموں پر اچھے برے وقت آتے رہتے ہیں۔ ہمیں قطعاً گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ دشمن کی شناخت ہوچکی ہے یہ ایک نئے چہرے اور منصوبے کے ساتھ ہمارے سامنے آچکا ہے۔امریکہ نے بھارت کے سر پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔یہ جنوبی ایشیاء میں امریکہ کا پولیس مین ہے۔ یہ کشمیر سے دنیا کی نظریں ہٹاناچاہتا ہے۔ہمارے ملک میں جاری دہشت گردی اسی ایجنڈے کا حصہ ہے۔صاف اور کھری بات یہی ہے ۔تھوڑی دیر کے لئے سوچیں کہ اگر جنوبی ایشیاء میں بھارت کی بالادستی باقاعدہ طورپر تسلیم کرلی جائے تو اس کی خرمستی کا عالم کیا ہوگا؟ کیا امن کی قیمت یہ چکائی جائے کہ ہم امریکی ایجنڈے کے مطابق کشمیر سے منہ موڑ لیں اور چین کوالگ و محصور کردیاجائے ؟ یہ ایک بیہودہ سوچ ہے۔ہمارے ہاں مختصر سا ایسا طبقہ ضرور موجود ہے جو بھارت کے ساتھ جلد سے جلد رشتہ محبت استوار، راہِ تجارت ہموار اور فضائے مذاکرات سازگار کرانے کا ڈھول پیٹتا رہتا ہے۔یہ طبقہ اقتدار کے ایوانوں اور اسلام آباد کے میخانوں میں اپنے گہرے اثرات رکھتا ہے۔یہ گروہ ہے جو کم لباس اور زیادہ نمائش کا دلدادہ ہے۔ اسے بھارت کے کھلے کلچر میں ہمیشہ دلچسپی رہی ہے۔اسی طرح ہمارے غیر نظریاتی تاجروں کا طبقہ ہے جو ہر قیمت پر دولت کمانے کا عادی ہوچکا ہے۔انہیں بھارتی مارکیٹ تک رسائی نے دیوانہ بنایا ہوا ہے۔پھر وہ دانشور بھی کسی سے پیچھے نہیں جو کبھی ماسکو کے دلداہ تھے اور روبل پر پلتے تھے۔
سوویت یونین پر زوال آیا تو امریکہ کو قبلہ مان کر آج اس کے آگے سجدے میں گرے پڑے ہیں۔ یہ زبان دراز بھی ہیں۔ گالی دینے و الزام تراشی کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ وہ لوگ جو خود کو مسلم لیگی کہتے ہیں اور کسی نہ کسی مسلم لیگ سے ان کا تعلق بھی ہے۔کیا وہ اس حقیقت کو فراموش کرسکتے ہیں کہ قائداعظمؒ نے کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کیا پیپلز پارٹی والے بھول سکتے ہیں کہ ان کے قائد عوام نے کشمیر کی خاطر ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا تھا؟ کیا امریکی دبائو پر وہ سیاسی پارٹیاں خاموش ہوجائیں گی کہ جنہوں نے کشمیر کی تحریک اور جدوجہد آزادی کو اپنا اوڑھنا، بچھونا بنایا ہوا تھا؟ کیا ہم امریکہ کے دبائو پر کشمیریوں کی اخلاقی امداد کرنے سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ہم کشمیری بھائیوں کے ساتھ تھے۔ہم کشمیری مائوں اور بہنوں کی دعائوں کا حصہ ہیں۔ ہم کشمیری نوجوانوں کے ساتھ رہیں گے۔ہنود و یہود کا ایجنڈا خاک چاٹے گا۔
مسئلہ کشمیر کا حل وہ نہیں ہوگا کہ جس کا بھارت خواہشمند ہے اور نہ ہی پاکستان اپنا کوئی نیا فارمولا کشمیریوں پر تھوپنا چاہتا ہے ۔ ایسا بھی نہیں ہوگا جیسا امریکہ چاہتا ہے اس مسئلے کا پائیدار حل وہی ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود ہے جس کی پاکستان حمایت کرتا ہے اورکرتا رہے گا وہ دن دور نہیں جب کشمیریوں کا خون رنگ لائے گا اور کشمیر، کشمیریوں کا ہوگا۔کشمیری زندہ پاکستانی پائندہ باد۔