پینٹاگون بمقابلہ جی ایچ کیو

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
پینٹاگون بمقابلہ جی ایچ کیو

پاکستان کا دورہ کرنے والے امریکی وزیر دفاع مصائب کا شکار جنوبی 'وسطی اور مغربی ایشیا کے چپے چپے سے واقف ہیں ایک دو ماہ نہیں' کامل تین دہائیوں سے جنگوں اور جارحیت کا شکار اس خطے میں مختلف حثیتوں میں بروئے کار رہے ہیں اس لئے ان کا دورہ ضرورت سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ جیمز نارمن میٹس امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل ہیں دنیا کی سب سے بڑی فوجی قوت کے وزیردفاع کی حیثیت سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ’’تاریخی‘‘ کابینہ کے رکن ہیں۔ بے تکلف دوست انہیں ’میڈ ڈاگ‘ کہتے ہیں۔ 2010 سے 2013 تک تین برس امریکی افواج کے مرکز یعنی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے گیارھویں کمانڈر رہے ۔ بدقسمتی کے شکار مشرق وسطی، شمال مشرقی افریقہ اور وسطی ایشیا میں امریکی عسکری کارروائیاں کرنیوالے جرنیل تھے۔ لیفٹیننٹ کرنل جیمز میٹس خلیج فارس میں بھی تعینات رہے جہاں وہ صحرا کی حفاظت کے عنوان سے ’آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ‘ کا حصہ تھے۔ فرسٹ میرین ڈویژن کی ساتویں ریجمنٹل لڑاکا ٹیم (ٹاسک فورس ریپر) وہ اولین دستہ تھا جو کویت میں داخل ہوا۔ بہادری پر میٹس کو کانسی کا تمغہ عطا ہوا۔ کرنل کے عہدے پر ترقی کے مرحلے پر میرین کور کا اعلیٰ ترین ’ایڈسنز ایگل‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ امریکہ بحریہ میں یہ نشان پہلی بار بحریہ میں نام کمانے والے میجر جنرل میرٹ آسٹن ایڈسن نے پہنا تھا جو امریکی بحریہ میں ایک جانباز ہیرو تصور ہوتے ہیں۔ ’ریڈ مائک‘ کے نام سے شہرت کمانے والے ایڈسن نے جنگ عظیم دوم میں جاپانیوں کیخلاف ’فرسٹ میرین رے ڈر بٹالین‘ کے کمانڈنگ افسر کے طورپر دادشجاعت پائی۔ بتایا جاتا ہے کہ آٹھ سو افراد کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے دست بدست لڑائی بھی اس معرکہ میں اسکے کریڈٹ پر ہے۔ جیمز میٹس کو یہ اعزاز اس اعتراف کے ساتھ دیا گیا کہ اس نے ایڈسن کی طرح لڑائی کے جذبہ کا مظاہرہ کیا۔ میٹس نے اس اعلیٰ اعزاز کو 1995تک سینے سے لگائے رکھا اور پھر 1997 میں بریگیڈئر جنرل کے عہدے پر ترقی کے موقع پر یہ نشان بہادری دوسرے کرنل کے سپرد کیا۔

افغان جنگ کی منصوبہ بندی کے مرحلے پر اسے ٹاسک فورس 58 کی قیادت کیلئے منتخب کیاگیا۔ میرین کے طورپر وہ واحد مثال ہے کہ جس نے امریکی بحریہ کے چھاپہ مار خصوصی گروہوں کی کمان کی۔ اس گروہ میں طیار بردار بحری جنگی جہاز، چھاتہ بردار، حملہ آور دستے اور دیگر سازوسامان سے لیس عملہ شامل ہوتا ہے۔ یہ میٹس ہی تھا جس نے مشرف دور میں حکومت پاکستان سے خفیہ معاہدہ کر لیا اور اسے حملہ آور کے طورپر کارروائی کرنا نہ پڑی بلکہ ساحل تک رسائی اور فوج اتارنے کی اجازت حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ یعنی بغیر جنگ ہی اس نے وہ مقصد پا لیا۔ ٹاسک فورس 58 نے 2001 میں قندھار پر قبضہ میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس شہر کو طالبان کا روحانی مرکز قرار دیاجاتاتھا۔ میجر جنرل ترقی پانے کے بعد میٹس نے عراق جنگ کے اولین مراحل کے دوران ’فرسٹ میرین ڈویژن‘ کی قیادت سنبھالی۔ بحری فوج کی تاریخ میں یہ طویل ترین پیشقدمی قرار دی جاتی جس کا نگران جنرل میٹس تھا۔ 2003 کے آخر میں یہ بحری فوج امریکہ واپس آگئی لیکن ایک ہی سال بعد اسے واپس عراق میں تعینات کر دیا گیا۔ الفلوجہ میں میرین حملہ کی قیادت میٹس نے کی۔
مئی 2004 میں میٹس نے تیسرا ستارہ بھی پا لیا اور اسے لڑاکا بحری دستوں کی ترقی کی کمان سونپ کر کوآنٹیکو، ریاست ورجینیا بھجوا دیا گیا۔ یہاں اس نے افغانستان اور عراق میں میدان حرب میں موجود دستوں نے جو تجربات حاصل کئے تھے، ان سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔ امریکی فوج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کے ساتھ اس نے فرائض انجام دئیے اور انسداد بغاوت کے موضوع پر جامع دستاویز کی تیاری میں معاونت پر مامور رہا۔ یہ دستاویز میدان حرب میں طریقہ کار کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
2005 میں اس نے طالبان کو ہلاک کرنے کا اظہار ’فن ٹو شوٹ‘ یعنی ہلاکت میں مزہ سے کیا تھا۔ اسکے استاد اسے ’’وارئیرمونک‘‘ یا جنگجو بھکشو کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ اسے نیپولین کی واٹر لو میں شکست کی مہمات میں شامل جنگی فلسفی اور حکمت کار ’کلازوٹز‘ کے جنگی نکتہ نظر کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ کارل وان کلازوٹز نے 1832 میں ’وام کریگ‘ کے عنوان سے جنگی حکمت عملی پر تحقیق کی۔ اس کی تحریرکو حربی حکمت کاری میں نہایت احترام دیا جاتا ہے۔ اس کا ماننا تھا کہ جنگ سیاسی مقاصد کی تکمیل کا ایک ذریعہ ہے۔ میٹس اس نظریہ پر کاربند بتایا جاتا ہے۔ میٹس بغاوت کچلنے کیلئے لوگوں کے دل اور دماغ جیتنے پرزور دیتا ہے۔ مقامی کلچر سے آشنائی اور زبان کی مہارت جاننے پر اصرار کرتا ہے۔ اپنے عسکری کیرئیر کے آخر میں خوبرو حسینہ کی زلف گرہ گیر کا شکار ہونیوالے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو جب افغانستان میں امریکہ اور نیٹو فوج کی سربراہی ملی تو میٹس نے سنٹ کام کی قیادت سنبھال لی۔ اپنی ریٹائرمنٹ تک وہ اسی منصب پر فائز رہا۔ سینٹ نے وزیر دفاع کے طور پر میٹس کی تقرری کی تائید 98 ووٹوں سے کی تھی۔
امریکی وزیر دفاع کے طورپر جیمز میٹس اپنے پہلے سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں جو اس وقت امریکی طعنوں کی توپوں کا نشانہ ہے۔ اس دورہ پر آمد کا مقصد بقول میٹس مشترکہ نکات کی تلاش ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ٹرمپ کی اس خطہ میں نئی حکمت عملی پر بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے۔ میٹس کا کہنا ہے کہ وہ بھارت اور افغانستان کا پہلے ہی دورہ کر چکا ہے۔ یہ دورہ افغانستان میں قیام امن کیلئے امریکہ کے جاری مذاکراتی عمل کا تسلسل بیان کیا گیا۔ ’محفوظ ٹھکانوں‘ کے خاتمے کی گردان میں میٹس کہتے ہیں کہ امریکہ حقیقت پسندانہ تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے جو تعاون اور مشترکہ مفادات پرفروغ پائیں۔
پاکستان کی امریکہ سے تعلقات ’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘ کے مصداق رہے ہیں۔ دونوں نے مل کر جنگیں لڑی ہیں۔ چین سے تعلقات کی استواری میں پاکستان ہی نے امریکہ کی رہنمائی اور معاونت کی ہے۔ 1971میں ساتواں امریکی بحریہ کا بیڑا نہ جانے کہاں غرق ہو گیا، ہمارے لوگ اب بھی نفرت کے اظہار کے طور پر کہتے ہیں کہ وہ بیڑا اب تک نہیں پہنچا۔ ڈالروں اور اسلحہ کے بھی پورے دفتر کے دفتر بھرے پڑے ہیں۔ بنیادی طور پر پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کا انحصار اسلحہ اور سرمایہ کی فراہمی کی ’گھمن گھیری‘ ہے۔ برس ہا برس سے پاکستان امریکی اسلحہ کا خریدار ہے، اس اسلحہ کیلئے فاضل پرزہ جات بھی درکار ہوتے ہیں لہٰذا ان تعلقات کی پرتیں اتنی سادہ نہیں۔ تبدیل ہوتے عالمی منظر نامے میں دونوں کے تعلقات میں نئے چیلنجز بھی سامنے آرہے ہیں۔ چین کی عالمی معاشی قوت کے طور پر ابھرنے کی نئی جہت ان تعلقات میں ایک نیا چیلنج ہے۔ خطے میں روایتی حلیف حریف اور حریف حلیف میں بدل گئے۔ اخلاقیات کو ان تعلقات میں شامل کرنا یقیناً کوئی عقل مندانہ یا حقیقت پسندانہ سوچ نہیں ہوتی۔ ایسے معاملات میں جذبات کا بھی کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ یہ مفادات کے سودے ہیں۔ میٹس کا آمد سے قبل اظہار خیال یہ ہے کہ پاکستانی قیادت دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کی حمات نہیں کرتی۔ وہ مانتے ہیں کہ پاکستان نے عام آبادی اور فوج دونوں طرف بھاری جانی نقصان اٹھایا ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ کی قیمت ادا کی ہے۔ میڈیا کے ذریعے انہوں نے اس امریکی تمنا کا ذکر کیا ہے کہ وہ اسے ایک مشترکہ مقصد بنانا چاہتے ہیں اور اس کا دائرہ وسیع کرنا ان کا مطمع نظر ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت دونوں کے درمیان اشتراک عمل کی بہت گنجائش ہے۔ بعض پہلو ایسے ہیں جن میں ہمارا اختلاف ہے۔ ان کی بات کا سادہ مطلب یہ سمجھ آتا ہے کہ امریکی جو کرنا چاہتے ہیں پاکستان کو وہ اس انداز اور شرائط پر قبول نہیں۔ میٹس مصر سے پاکستان آئے ہیں۔ جہاں اس وقت داخلی صورتحال خاصی نازک ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ رواں ہفتے اسرائیل میں امریکی سفارت خانہ مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان متنازعہ ’امن کے شہر‘ یعنی یروشلم منتقلی کا بھونچال بپا کرنے والا اعلان کرنیوالے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ جوابی متوقع شدید ردعمل کیلئے تیاریوں کا پہلے ہی حکم صادر ہو چکا ہے۔ اس کے اثرات کیا رخ اختیار کرینگے، طوفان سے قبل سہمے پرندوں کی طرح دنیا اس کی منتظر ہے۔
’ڈومور‘ کے امریکی اصرار کو ’نومور‘ کے پاکستانی جواب سے ایک نئی جہت مل چکی ہے۔ ہمارے پالیسی ساز واضح کر چکے ہیں کہ وہ مالی مدد کے بدلے اپنے قومی وقار کو داؤ پر لگانے کیلئے تیار نہیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی پالیسی سازوں نے اپنی جوابی حکمت عملی مرتب کر لی ہے جس میں میٹس کو یہ جواب دیا جائیگا کہ طالبان کو پلیٹ میں رکھ کر امریکہ کو پیش کرنے کا خواب اب پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔ امریکہ کیساتھ بات چیت کے وقت ایک کمزور سول حکومت پاکستان میں موجود ہے جو اقتدار سے جھول رہی ہے۔ انتشار کی کیفیت میں طاقت کے مراکز واضح نہ ہونے کے بھی خدشات ظاہر ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے سرکاری ذرائع کے حوالے سے یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کیلئے نئی پالیسی پر موقف واضح کیا جا چکا ہے۔ امریکی وزیر دفاع کو بتانے کیلئے کوئی نئی بات نہیں۔ امریکی شرائط پر پاکستان کو تعاون کیلئے مجبور نہیں کیا جا سکتا۔دیکھنا یہ ہے کہ دورہ پاکستان کے بعد میٹس جنگجو بدھ بھکشوبن کر سامنے آتے ہیں یا پھر وہ کی شہرت غالب آتی ہے جس نام سے بے تکلف دوست پکارتے ہیں۔ مغرب میں ویسے کتے اور گدھے کا تعارف وہ نہیں جو مشرق میں ہے۔ مشرق اور مغرب کے درمیان یہ خلیج کس طرح پاٹنا ممکن ہو گا۔ یہ سوال ہنوز اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی خفیہ ادارے (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر مائک پامپئیو نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان نے اپنے علاقے میں دہشت گردی کے مبینہ محفوظ ٹھکانے ختم نہ کئے تو امریکہ ان ٹھکانوں کو تباہ کرنے کیلئے جو کچھ اسکے بس میں ہے کریگا۔ اسی طرح کی صورت حال پر کہا گیا تھا
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات