کیا عمران خان توہین عدالت کے مرتکب ہوئے؟

کالم نگار  |  قیوم نظامی

عمران خان بنیادی طور پر کرکٹر ہیں۔ کرکٹ میں جوش کی ضرورت ہوتی ہے ۔ سیاست ایک نازک اور حساس کھیل ہے جو ہوش کا تقاضہ کرتا ہے۔ ہمارے ذاتی علم میں ہے کہ انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے اپنے سیاسی مخالفین کے لیے غیر شائستہ الفاظ استعمال کرکے اپنے کئی حامیوں کو ناراض کرلیا۔ گزشتہ روز افطار ڈنر پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنما جاوید ہاشمی کو مشورہ دیا....
اچھا ہے دل کے پاس رہے پاسبان عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی کا سیاسی تجربہ زیادہ ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اپنے لیڈر کو مشورے دیتے رہیں تاکہ دل اور عقل کے درمیان توازن پیدا ہوسکے۔ عدالت کے اندر اور عدالت سے باہر یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا عمران خان توہین عدالت کے مرتکب ہوئے اس سوال کے جواب کے لیے ہمیں آئین کے آرٹیکل 204 کی شق بی کا مطالعہ کرنا پڑے گا۔
"A court shall have power to punish any person who--- scandalizes the court or otherwise does anything which tends to bring the court or a Judge of the court into hatred, ridicule or contempt".
ترجمہ:۔”عدالت کے پاس ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار ہوگا جو عدالت کو بدنام کرے یا بصورت دیگر کوئی ایسا فعل کرے جو اس عدالت یا عدالت کے جج کے بارے میں نفرت، تضحیک یا توہین کا باعث ہو“۔
عمران خان پاکستان کے پاپولر لیڈر ہیں ان کے بیانات سے لاکھوں عوام متاثر ہوتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 204 کی روشنی میں اگر عمران خان کے 26 جولائی کے بیان کا جائزہ لیا جائے جس میں عمران خان نے عدلیہ کے کردار کو ”شرمناک“ قراردیتے ہوئے عدلیہ اور الیکشن کمشن پر تاریخ کی بدترین دھاندلی کا الزام لگایا۔ ان کا یہ بیان عدلیہ کو بدنام کرنے اور اس کے خلاف نفرت پھیلانے کے مترادف ہے۔ عمران خان کا عدلیہ کی آزادی اور بحالی کے لیے ریکارڈ شاندار رہا ہے۔انہوں نے عدلیہ کے لیے جیل کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔ ان کی جماعت کا نام بھی ”تحریک انصاف“ ہے۔ اس پس منظر کی روشنی میں یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کی ہرگز توہین عدالت کی نیت نہ تھی البتہ غیر دانستہ یا لاشعوری طور پر انہوں نے ایسے الفاظ بول دئیے جن سے توہین عدالت کی بُو آتی ہے۔عمل کی بنیاد نیت پر ہوتی ہے اس لحاظ سے عمران خان توہین عدالت کے مرتکب نہیں ہوئے۔ عدلیہ عمران خان کے ریمارکس کو ان کے پس منظر کی روشنی میں نظر انداز بھی کرسکتی تھی اور عمران خان کو حامد خان کے ذریعے محتاط رہنے کا پیغام بھی بھیجا جاسکتا تھا مگر پاکستان کے مقبول ترین چیف جسٹس نے عمران خان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنا مناسب سمجھا۔ عمران خان بھی شہرت کے اسیر بن چکے ہیں انہوں نے نوٹس ملنے کے بعد مصالحانہ کی بجائے جارہانہ رویہ اختیار کیا۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انا پرست ہیں۔ قابل فخر جج جسٹس جواد خواجہ نے درست کہا کہ ”انا انسان کو تباہ کردیتی ہے“۔ غلطیوں کا اعتراف کرنا صوفیوں اور ولیوں کا شیوہ رہا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان افتخار محمد چوہدری ، جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل تین رکنی بنچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ پاکستان کے نامور اور اعتدال پسند بیرسٹر حامد خان نے اپنے لیڈر عمران خان کی وکالت کی۔ عمران خان اگر انا پرستی کی بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیتے تو معاملہ پہلی پیشی پر ہی نمٹ جاتا۔ لیڈر نہ صرف عوام کی رہنمائی کرتا ہے بلکہ عوام کو ایجوکیٹ بھی کرتا ہے۔ عدلیہ کا رویہ مفاہمانہ اور مصالحانہ تھا۔ عمران خان کی زبانی اور تحریری وضاحت نے عدلیہ کو مایوس کیا اور اس نے عمران خان کی وضاحت کو ناقابل قبول قراردے کر اگلی پیشی پر جامع جواب دینے کی ہدایت کی۔مناسب ہوگا کہ عمران خان عدلیہ اور الیکشن کمشن پر دھاندلی کے الزامات لگانے سے پہلے اپنا مقدمہ ٹھوس ثبوت کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کریں۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے درست کہا کہ جج شیشے میں بند مچھلیاں ہیں جو تنقید کا جواب بھی نہیں دے سکتے۔ چیف جسٹس پاکستان نے حامد خان سے کہا کہ وہ عمران خان کو آئین سکھائیں۔ عمران خان بڑے لیڈر ہیں وہ اگر عدلیہ کے بارے میں منفی ریمارکس دیں گے تو عوام ان سے متاثر ہوں گے۔ عمران خان نے عدلیہ کے سامنے کہا کہ انہوں نے عدلیہ کے لیے جیل کاٹی ہے اور عدلیہ کی توہین نہیں کرسکتے۔ عدالت کے کمرے میں عمران خان کا لب و لہجہ باوقار تھا مگر جب وہ سپریم کورٹ سے باہر آئے تو کیمرے کے سامنے ان کا لہجہ مختلف تھا۔ پاپولر لیڈر میں یہ تضاد نہیں ہونا چاہیئے۔ پاکستان میں جمہوریت، سیاست اور عدالت کے سلسلے میں عمران خان نے قابل ستائش خدمات انجام دی ہیں۔ عوام نے ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ان کو پاکستان کا دوسرا بڑا قومی لیڈر بنادیا ہے۔ رب کائنات نے ان کو دوسری زندگی عطا کی ہے وہ انا پرستی کو ترک کرکے عجزو انکساری کی جانب آئیں۔ محسن انسانیتﷺ نے ہر قسم کی انا اور غرور کو مسترد کردیا تھا۔ آپﷺ نے برداشت اور عجز و انکساری کا مثالی عملی مظاہرہ کرکے دنیا کو فتح کرلیا۔ عمران خان رب اور رسولﷺ کی عظمت کے قائل ہیں وہ ایک ایسا ماڈل پیش کریں جو عوام کے لیے قابل رشک ہو۔
عمران خان کسی غلط فہمی میں نہ رہیں۔ اگر یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوسکتی ہے تو عمران خان کو استثنیٰ نہیں دیا جاسکتا۔ عمران خان کا سیاسی مستقبل داﺅ پر ہے۔ اگر خدانخواستہ ان پر توہین عدالت کے سلسلے میں فرد جرم عائد کردی گئی تو وہ پانچ سال کے لیے نا اہل ہوسکتے ہیں اور تحریک انصاف بکھر سکتی ہے۔ ریاستی آئینی اداروں کے استحکام اور وقار سے ہی پاکستان مضبوط اور مستحکم ہوسکتا ہے۔ کسی فرد کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ آئینی اداروں بالخصوص عدلیہ کے خلاف دانستہ یا نادانستہ نفرت پھیلائے۔ عمران خان کے پاس ایک ہی آبرومندانہ راستہ ہے کہ وہ اگلی پیشی پر ایسا جامع جواب داخل کریں جس سے عدلیہ کے جج مطمئن ہوجائیں۔ توہین عدالت کے مقدمے میں عدلیہ کے سامنے بلا مشروط سرینڈر کرنا پڑتا ہے۔ عدلیہ کے مقابل کھڑے ہونے سے معاملہ الجھ جاتا ہے۔ عمران خان ”شرمناک“ کے الفاظ واپس لے لیں۔ ایسا کرنے سے وہ نا اہلی سے بھی بچ جائیں گے اور عوامی سطح پر ان کی عزت میں بھی اضافہ ہوگا۔ واصف علی واصف نے کہا تھا کہ ہم اگر معافی مانگنا اور معافی قبول کرنا شروع کردیں تو پاکستان ارضی جنت بن سکتا ہے۔عدلیہ کے ججوں کے دل میں عمران خان کے بارے میں نرم گوشہ موجود ہے انہوں نے پہلی سماعت پر لچک اور نرمی کا مظاہرہ کیا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان بھی لچک کا مظاہرہ کرتے ہیں یا ہٹ دھرمی سے اپنا اور جماعت کا مستقبل برباد کرلیتے ہیں۔ ہماری پرخلوص دعائیں عمران خان کے لیے ہیں خدا ان کا حامی و ناصر ہو۔