جنگ‘ علم اور قلم

کالم نگار  |  نعیم مسعود

کہانی میں پھر وہی تجسس‘ پھر وہی ڈرامہ اور رنج و علم بھی وہی ہے۔ لگتا ہے جہاں زرداری فلم کا افتتاح ہوا‘ وہیں سے نواز مووی کا آغاز ہوا۔ کچھ نہیں بدلا! کچھ بدلتا بھی کیسے؟ ہدایتکار وہی امریکہ‘ سائیڈ ہیرو چائنہ‘ معاون ہیروز میں وہی سعودیہ اور ایران۔ ولن کا کردار پھر بھارت کے پاس۔ ولن کے گینگ میں وہی را‘ موساد اور سی آئی اے.... کہانی یہی بتاتی ہے کہ میرا وطن حالتِ جنگ میں ہے.... حالتِ جنگ میں!!!
ان حالات و واقعات کے باوجود میرے وطن کے باسی مایوس نہیں۔ میرے مزدور‘ میرے کسان‘ میرے وطن کے طلباءاور میرے ملک کے سفید پوش لوگ شبانہ روز ترقی کیلئے مصروفِ عمل ہیں۔ وہ اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ ....
یہ بجا کہ آج اندھیر ہے ذرا رُت بدلنے کی دیر ہے
یہ خزاں کے خوف سے خشک ہے‘ وہی شاخ لائےگی برگ و بر
لیکن برگ و بر کیلئے میاں نوازشریف کو فی الفور نندی پور پراجیکٹ میں ”40 ارب“ کی ضمانت کے حوالے سے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہر صورت میں کرنا ہوگا۔ اسی طرح میاں صاحب کو 60 ہزار ہائبرڈ گاڑیوں کے آرڈر کی تہہ تک بھی پہنچنا ہوگا ورنہ ناقابل تلافی نقصان کا آغاز حکومت کے ابتدائی 50 دنوں میں سامنے آگیا۔ ابھی 100 دن نہیں ہوئے میاں نوازشریف کو‘ رانا ثناءاللہ کے وزیراعلیٰ خیبر پی کے کو ”تیلی پہلوان“ کہنے کا احتساب کرنا ہوگا۔ ایسے نہیں جیسے نوٹس لینے کی خبر بن گئی۔ خبر بننی ضروری تھی کہ میاں نوازشریف کے توجہ دلانے پر میں شہبازشریف نے رانا ثناءاللہ کو ایک ماہ کیلئے معطل کر دیا۔ میں پورے وثوق سے عرض کرتا چلوں رانا ثناءاللہ کا نہ کل فائدہ تھا نہ آج۔ (ن) لیگ کی کامیابی و کامرانی میں رانا ثناءاللہ کا پوائنٹ ون فیصد بھی حصہ نہیں بلکہ ان کی اپنی کامیابی میں ان کا اپنا ذرا برابر کمال نہیں۔ وہ دیں دعائیں میاں شہبازشریف کو۔ دعا یہ بھی ہے کہ تاجر کوالٹی نومنتخب صدر پاکستان ممنون حسین اور امپورٹ کوالٹی گورنر پنجاب چودھری سرور بھی اچھے ثابت ہوں۔ اللہ نہ کرے یہ بالترتیب رفیق تارڑ سے مغلوب اور شوکت عزیز سے ”غالب“ نظر آئیں.... سب کا جاگنا ضروری ہے اورحدود میں بھی رہنا کیونکہ میرا وطن حالتِ جنگ میں ہے۔ ایمانداری کا فقدان اور کرپشن کا بے شمار ہونا جنگ کیساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ ایسی حالت میں دل بڑا کرنا ہوگا۔ دل بڑا کرنا ہوگا۔ عدالت عظمیٰ کے ججوں‘ فوج کے جرنیلوں اور عمران خان جیسی قیادت کو بھی پچھلی سٹوری میں سابق وزرائے اعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویزاشرف کے عدالت میں آنے جانے کے سیٹ بہت ہٹ رہے۔ اللہ نہ کرے کہ عمران خان کے بھی اسی طرح کے سین پارٹ ہٹ نظر آئیں۔ دل بڑا کرنا ہوگا تحریک انصاف کے ماڈرن اور کمپیوٹرائزڈ کارکنان کو بھی کہ وہ سوشل میڈیا پر عدالت عظمیٰ کے قابل قدر ججوں کے خلاف سوشل میڈیا پر حدود سے باہر نہ نکلیں۔ مانا کہ یہ کارکنان (ن) لیگ اور پی پی پی کے کارکنان کی طرح بوڑھے نہیں ہیں‘ لیکن جوانی میں ہوش کا ہونا اور بھی ضروری ہے۔ کیونکہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ حالت جنگ میں!!!
یہ حالت جنگ نہیں تو کیا ہے کہ بنوں کی جیل ٹوٹتی ہے تو بھاگنے والے قیدی آرام و سکون سے دستاربندیاں کرتے ہیں۔ جشن مناتے ہیں اور خراماں خراماں چل دیتے ہیں؟ پھر ڈی آئی خان کی جیل سے قیدی اور خطرناک قیدی یوں نکال لئے جاتے ہیں جیسے مکھن سے بال۔ ایسے جیلیں تو اس وقت ٹوٹتی ہیں جب پردہ سکرین پر فلم چل رہی ہو یا پھر ملک کی گورنس کے پلے کچھ نہ رہا ہو۔ پردہ سکرین ہو یا وطن کی زمین ہمیں کریکٹر اور مثبت کریکٹر مل ہی نہیں رہے۔ چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہے۔ مولانا مودودی نے بھی کیا خوب کہا ہے کہ ”تم میں کریکٹر کی طاقت نہ ہو تو دنیا میں تمہاری کوئی عزت نہ ہوگی۔“ چیتے چلتے آج اپنے طبقے کو بھی باخبر کرتا چلوں کہ چھوڑو اشرافیہ کو اور اشرافیہ کے حرص و ہوس کو اس حالت ِ جنگ میں مایوس نہیں ہونا اور یہ یاد رکھنا ہے کہ ”تم کو درجہ اول کے جتنے آدمی ملیں گے ان میں سے کم از کم 90 فیصد ایسے لوگ جو مفلس و نادار ماں باپ کے ہاں پیدا ہوئے۔“ پس جاگتے رہنا ہے اور بڑھتے رہنا ہے۔دیکھا ہے سب نے کہ اس ہفتے امریکی وزیرخارجہ جان کیری بھی جنگ کو ”دبانے“ یا بھڑکانے سرزمین وطن پر آیا۔ وزیرخارجہ قریشی کے دور میں کیری آیا تھا اور ایک انجینئر ریمنڈ ڈیوس کو سکون سے ”کیری“ کر گیا تھا۔ جب تک ہم خود اپنے وطن اور اپنے آپ ملک علاوہ اپنے مسائل کو کیری نہیں کریں گے تب تک امریکی کیری دلاسوں کے میٹھے زہر سے ہمیں خوابیدہ کرتے رہیں گے اور جنگ کی چنگاریاں سلگاتے رہیں گے۔ ہمارے سبھی سرتاج عزیزوں کو وطن عزیز کیلئے جاگنا اور بھاگنا ہوگا۔عالمی برادری میں دوستیوں کے حوالے سے بھی نبض شناس اور مزاج شناس ہونے کی ضرورت ہے۔ داخلی امور درست ہو گئے تو خارجی امور اور خود کامیابی کی شاہراہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ ہمیں اپنی ترجیحات کو واضح کرنا اور بنانا ہوگا۔ ایک بے وفا اور بدلحاظ پڑوسی کے حوالے سے جماعت الدعوة کے سربراہ پروفیسر حافظ محمد سعید نے دو تین دن قبل بڑی درست بات کی کہ ”قوم بھارت سے دوستی اور بجلی کے معاہدے نہیں کشمیر کی آزادی چاہتی ہے۔“ مقبوضہ کشمیر میں رمضان دیکھا جاتا ہے نہ عیدین کو مدنظر رکھا جاتا‘ نہتے اور معصوم کشمیریوں کے گھر اور آنگن ہی ان کیلئے قربان گاہیں بنا دی جاتی ہیں۔ ہمارے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں بھی جنگ سلگتی رہتی ہے۔ دوسرے بارڈر کی طرف آئیں تو افغانستان کی جنگ کے اثرات ہمیں جینے نہیں دیتے۔ بلوچستان میں ”را“ اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ کراچی میں خون کی ہولی کھیلنے اور کھلانے میں بھی ”را“ پیش پیش ہے۔ ان سب سے بڑھ کر ڈرون حملوں کی آتش و آہن کی بارش ہے۔ مشرف دور حکومت سے زرداری حکومت تک بارود برستا رہا اور رکا اب بھی نہیں۔ کس کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کیا جائے۔ کس کس کے دستانے اتار کر دیکھے جائیں؟؟؟ ارے یہ جنگ نہیں تو کیا ہے؟ لاپتہ افرادکا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ اول تو لاپتہ افراد ملتے نہیں اور اگر مل جائیں تو خدشہ ہوتا ہے کہ نہ جانے کس کے جرم کی سزا ان کے نام لگا دی جائے۔ ایسا ہوتا ہے کہ جب لاپتہ افراد کو اٹھا لیا جاتا ہے اور ان کا جرم نہیں ملتا تو انہیں اپنی تساہل پسندی اور کسی نامعلوم افراد کے جرم کی سزا دیدی جاتی ہے۔ افسران خوش ہو جاتے ہیں کہ کاغذی کارروائی پوری ہو گئی۔ بدنصیبی نہیں تو کیا ہے کہ جنگی صورتحال میں بھی سرکاری کارروائیاں چلتی رہتی ہیں۔”حالت جنگ میں بھی ہیں“ کے حوالے سے اس سقم پر بھی غور کیجئے کہ پہلے اسامہ بن لادن ایبٹ آباد پائے گئے۔ پھر امریکیوں نے بن بتائے اور اجازت لئے بغیر ایبٹ آباد پر حملہ کر لیا۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ہماری ایجنسیاں اور حکمران ”لوری“ کے سبب سو رہے تھے۔ امریکیوں نے اسامہ بن لادن کو آرام سے ختم کیا اور اٹھا کر بھی لے گئے۔محترم وزیراعظم! ہمیں یہ تو نہیں معلوم کہ کوالٹی اور کوانٹٹی کے لحاظ سے فاتح ہونے کے باوجود صدر کے الیکشن میں آپ کو اتنی جلدی کیوں تھی۔ اس عمل سے مصلحت پسندی کو ایک دفعہ تو آپ نے ریزہ ریزہ کر دیا‘ لیکن سعودیہ جانے سے قبل جو آپ نے قوم کو مصلحت پسندی کا پیغام دیا اور یہ سبق پڑھانے کی کوشش کی کہ ملک کی گاڑی مل کر ہی آگے چلے گی۔ ایم کیو ایم کو سینے سے لگانے کی وجہ بھی یہی بتائی۔ اب درخواست ہے کہ اس پر قائم رہئے گا۔ حالت جنگ میں اگر آپ سب کو ساتھ نہیں لیکر چلیں گے اور سیاسی جنگ کے میدان کو بھی سجائے رکھیں گے تو ملک و ملت کا بہت نقصان ہوگا۔ قوم ان جنگوں سے نہیں ڈرتی‘ قوم ہر قسم کے جہاد کیلئے تیار ہے۔ قوم اگر ڈرتی ہے تو قحط الرجال سے‘ خوف ہے تو قائدین کا کہ کہیں کوئی جھانسہ نہ دیدیں۔ سو میاں صاحب اگر آپ نے مصلحت اور قومی یکجہتی کا علم اٹھایا ہے تو اسے بلند رکھئے گا اور شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں سے بچئے گا۔ علم بلند رہے تو جنگی حالتیں بھی فتح کا نشان اور اعلان بن جایا کرتی ہیں!!! اب کہانی بدلنے کی ضرورت ہے۔ گویا جرا¿ت کا علم اور تدبر کا قلم اٹھا لیں میاں صاحب!