احترام کے تقاضے

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی

 امےداور انصاف کا آخری دروازہ عدالتےں ہوتےں ہےںاور جب عدالتوں سے بھی امےد باقی نہ رہے تو پھر ہم مسلمان اﷲسے ا نصاف مانگتے ہےں۔ غےر ممالک مےں نا انصافی کا شکا ر لوگ اپنے ہی ملک کے خلاف علم بغاوت بھی بلند کر دےتے ہےں۔ماےوس افرادنے جب امرےکی جھنڈے کو آگ لگائی تو اےک امرےکی عدالت نے اسے بھی آزادی را ئے کا حق قرار دےا ۔رائے کے اظہار کی آزادی اور تخلےقی کاموں مےں گہرا تعلق ہے۔ جب حکومتےں اور ادارے اپنے اوپر کی گئی تنقےد کو کفر سمجھنے لگےں تو اس ملک اور معاشرے سے تخلےق کی روح پرواز کر جاتی ہے۔
ہماری بد قسمتی ہے کہ مقتدر شخصےا ت کے سا تھ ساتھ ہمارے اداروں مےں بھی انا پرستی نے جھنڈے گا ڑ لئے ہےں۔ہم لوگوں پر بچپن سے احترام بذ رےعہ ڈنڈا لاگو کےا جا تا ہے۔
سکولوں مےں استاد احترام سکھانے کے لئے طالب علموں کو مرغا بناتے ہےں۔ مدرسوں مےں احترام کا مطلب سر پر ٹوپی جمائے رکھنا بھی ہے۔
اداروںمےں احترام کی تشرےح بڑے افسر کا ہر جائز اور نا جائز حکم ماننا ہے۔اور اب عدالتوں مےں احترام سے مراد صحےح ےا غلط بےان پر ©©"غےر مشروط©"معافی لی جاتی ہے۔
اب اگر انصاف کا آخری در بھی اپنا احترام زبر دستی کروائے گا تو ان اداروں کا "دل سے احترام "کون کرے گا۔ ہمارے ہاں عدالتوں نے اپنے احترام کا معےار تو انگرےز کی عدالتوں کے برابر بناےا ہے مگر بدقسمتی سے انگرےز ججوں کے انصاف کا معےار آ ج تک نہےں اپناےا جا سکا۔
سپرےم کورٹ مےں عمران خان کے خلاف تو ہےن عدالت کی کارروائی نے ہمارے معاشرے اور عدالتی ادارے مےں احترام کے فلسفے سے متعلق نئے سوالات کو جنم دےا ہے۔
 کےا کسی شخصےت ےا ادارے کا ماضی کا کردار اسکے احترام کی نوعےت کا تعےن کر سکتا ہے؟ اور کےا ہماری آج کی سپرےم کورٹ اپنے ماضی کی گرد جھا ڑ کر لفظ "شرمناک"کو اےک گالی قرار دے سکتی ہے؟ اگر لفظ "شرمناک"اےک گالی ہے تو کےا صرف ”مقدس ہستیاں“ ہی اس گالی سے مبئرا ہےں؟
ےہ وہ سوالات ہےں جن کا جواب ہر ذی شعور آدمی جانتا ہے ،اسکے باوجود ان سوالات کا جواب آئےن اور قانون کے تحت عدالتی فےصلے کے ذرےعے دےا جانا ضروری ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ توہےن عدالت کے زےادہ تر مقدمات مےن ملزمان کے وکےل دو کشتےوں کے سوار ہوتے ہےں ۔فےس موکل سے لےتے ہےںاور آزادی رائے کا دفاع کرنے کی بجائے موکل سے معافی منگوا کرکہتے ہےں مقدمہ جےت لےا اور جےل سے بچ گئے ۔ان وکےلوں کو معلوم ہے کہ ےہ تو اےک کےس ہے اگر معافی نہ منگوائی تو اگلے کےس مےں ےہ کس منہ سے پےش ہوں گے ....ع
 "کعبہ کس منہ سے جاو¾ گے غالب"
اوپر سے جج صاحب بھی توہےن عدالت کے ملزم سے "غےر مشروط معافی " کے ساتھ ملزم کی طرف اپنے آپ کواﷲکی بجائے عدالت کے "رحم و کرم"پر چھوڑنے جےسے مےٹھے بولوں کے طلب گار ہوتے ہےں۔
اب عمران خان جےسے سےاسی لےڈر کا توہےن عدالت کے جرم مےں جےل جانا آزادی رائے کے لئے قربانی تو کہلواےا جا سکتا ہے۔ مگر اےسے ہی الزام مےں اےک غرےب آدمی ےا کمزور سرکاری ملازم اگر ڈٹ جائے تو مےڈےا اسے عادی مجرم بنا کر نجانے کن کن الفاظ سے ےاد کرے گا ، اےک سرکاری ملازم کی نوکری کوتےل دےنے کے لئے محض چند سےکنڈ کی قےد ےا چند ٹکوں کا جرمانہ بھی کا فی ہے۔سابق وزےراعظم ےوسف رضاگےلانی کی توہےن عدالت کے جرم مےں عہدے سے بر طرفی کے بعد تو بچارے سرکاری افسران نے غلطی سے پہلے ہی اےڈوانس مےں معافےاں مانگنی شروع کر دی ہےں۔بڑی شخصےات کے خلاف زےر التوا توہےن عدالت کے مقدمات اےک لٹکتی تلوا ر بن کر جھول رہے ہےں۔عمران خان کے خلاف سماعت کے دوران ےہ تاثر ملا کہ معزز جج صا حبان غےر مشروط معافی کی صورت مےں مقدمہ ختم کرنے کی طرف مائل تھے مگر خان صاحب بھی اپنی زبان کے پکے نکلے ۔۔۔"خوچہ زبان دی ہے" ےقےنا اےسی لڑائی مےں اےک کی چونچ اور اےک کی دُم گم ہو جاتی ہے۔یہی وہ مقام تھا جہاں سے اےک رےٹائرڈ جرنےل عدالت کی توہےن کرکے بھی معصوم ٹھرا، اےک وزےر اعظم نے غےر مشروط معا فی مانگ کر جان چھڑائی اےک اور وزےراعظم معافی نہ مانگ کر ناقابل معافی ہوئے اور گھر کو سدھارے، اےک اور وزےراعظم نے معافی مانگ کر خط تو لکھ دےا مگر پھر دوسرا خط لکھ کر وہی توہےن کر ڈالی ۔ےہ سب کچھ ےوں ہی چلتا رہے گا جب تک "غےر مشروط"معافی کی ٹہنی سے اتر کر تفصےلی فےصلے صادر نہےںکئے جائینگے اور جب تک آئین کے آرٹےکل 19مےں درج آزادی رائے کے بنےادی حق کی تشرےح نہےں ہو گی اس وقت تک تو ہےن عدالت ہتھےا ر بن کر اداروں اور افراد کے خلاف استعمال ہوتی رہے گی ۔عمران خان کے خلاف کےس مےں عدالتوں کے پاس اےک سنہری موقع ہے کہ وہ انصاف کے ترازو مےں شہری آزادی کو اےک پلڑے مےں رکھےں اور عدالتی احترام کو دوسرے مےں اور فےصلہ کرےں ےقےنا ےہ پلڑے برابر ہونا ضروری نہےں کےونکہ آخر ےہ آزادی رائے ہی تھی جس کے سبب عوام نے ڈوگر عدالتوں کی بجا ئے آئےنی ججوں کو بحال کرواےا۔