’’یہ 26 دن‘‘

قوموں کی زندگی مختلف احساسات اور رویّوں کے نشیب و فراز سے عبارت ہوتی ہے۔ کبھی صدیوں کے جمود الٹے پائوں کے سفر میں گزر جاتے ہیں تو کبھی چند حساّس اور متحرک لمحات دوسری اقوام سے مسابقت میں کہیں آگے لے جانے کا سبب بنتے ہیں۔ ہماری تاریخ الٹے پائوں کا سفر تو ہرگز نہ تھی البتہ بڑھتے پائوں ایک دوسرے کے اوپر رکھنے کی عادت کی وجہ سے ہماری  رفتار ہماری قومی اہلیت سے کہیں کم رہی۔ آج ہم پھر ایک حساس دور کے حساس کونے پر کھڑے ہیں جہاں پیچھے ہزاروں معصوموں کے لاشے اور تڑپتی انسانیت ہے۔ جبکہ آگے باوقار قوم کہلاتے رہنے کا نیا چیلنج ‘جسے ہم نے قبول کر کے صرف چھبیس دن میں اپنی منزلوں کو پہچانتے ہوئے نئے راستوں کا تعیّن کرنا ہے۔ میری مراد 27  ستمبر سے 23   اکتوبر   2013 ہے۔ 27 ستمبر کو ہمارے وزیرِ اعظم نے UNO کی جنرل اسمبلی میں وہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک کہہ ڈالا جو کہ پوری قوم کے دل کی آواز تھی۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے زعمِ برتری میں مبتلا ہندوستان اور اسکے سٹریٹجک پارٹنر کو ضعف پہنچے گا جس سے وہ غیر انسانی و غیر اخلاقی ہتھکنڈوں پر بھی اتر سکتے ہیں۔ اوبامہ کی تقریر کے بعد نہ تو گیلری میں ہمارے قائد سے مصافحہ ہوا نہ ڈنر میں انکی شمولیت ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی  بھارتی وزیرِاعظم نے پاکستان‘ جو کہ دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان اٹھارہا ہے‘ کو ہی تمام دہشت گردی اور خطے میں بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ بھارتی میڈیا جو اپنے ملک کی ہمارے لئے مشروط سفارتکاری کا ترجمان بنا رہا وہ اور اس کی مستعد لابی کا اثر بھی ہر جگہ نمایاں تھا۔ پھر ملاقات بھی سرد مہری سے ہوئی یعنی کوئی مشترکہ اعلامیہ نہ کوئی مشترکہ پریس کانفرنس۔ سب کچھ عمومی پروٹوکول سے ہٹ کر تھا جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
27  ستمبر سے شروع ہونے والے ان رویوّں اور ان سے جنم لینے والے معاملات کو ہم کس طرح ہینڈل کرتے ہیں اس کا مظاہرہ   23  اکتوبر کووزیرِاعظم پاکستان کی اوبامہ سے ملاقات کے دوران‘ اس کے بعد کے اعلامیہ یا پھر اس کے بعد خطّے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ارد گرد رو پذیر ہونے والے واقعات سے ہوگا۔ ان  چھبیس دنوں میں سے ہمارے پاس ہوم ورک کرنے کے لئے در حقیقت صرف 14 دن ہیں یعنی آج سات دن گذر چکے ہیں۔ باقی 19 دنوں میں سے پانچ دن دستاویزات وغیرہ کی فائنل تیاری اور امریکہ سفر کے لئے دے دئیے جائیں تو ہمارے پاس دن رات لگا کر کل 336 گھنٹے بچتے ہیں،۔ وزیرِاعظم کے دورہ ٌامریکہ کے دوران وہاں پر کیا ہوا‘ کیا ہونا چاہیے تھا جو پہلے نہ ہو سکا اور اب کرنا ہے یا بقول منموہن سنگھ کے نواز شریف کے پاس تعلقات کی بہتری کا کوئی مشن ہے! ۔۔۔ شاید بہت ساری باتیں بتانے کی نہ ہوں مگر سب صیغہؑ راز میں بھی رکھنے والی نہیں ہونگی۔ آج صورتِ حالات صرف چند افراد کے نمٹنے کی نہیں رہی بلکہ من حیث القوم گہری سوچ اور عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔آئیں حالات کے طائرانہ جائزے کے ساتھ ان اقدامات پر غور کریں جو ہمیں اس وقت قومی مفاد میں اٹھانے چاہیں:۔
حکومتی سطح پر:
۱۔سب سے پہلے قوم کو  اعتماد میں لے کر افواہوں‘ وسوسوں اور سازشی کہانیوں کا قلع قمع کرنا چاہیے جو صرف حقائق سے آگاہی اور ان کی منطقی تسلیم سے ہی ممکن ہے۔
۲۔ہمارے گردو پیش کا ماحول کچھ اس طرح کا تاثر دے رہا ہے جس طرح  بھارت اور امریکہ کسی ہدف کے قریب پہنچ کر اسے حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں جس میں سر فہرست بھارت کو افغانستان میں پاکستان سے گزر کر پاکستان پر ہی ہاوی رول دینا ہے جو وطن ِ عزیز کی سا  لمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے کسی صورت میں بھی اہلِ پاکستان کے لئے  قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے لئے پاکستان پر کافی دبائو بڑھ سکتا ہے  جو  LOCپر جھڑپوں‘ دہشت گردی کے بڑے اور زیادہ واقعات کے علاوہ ہمارے اندرونی معاملات میں تشدّد کا زہر ڈالنے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔ حکومت کوفوراً بجلی تیل اور گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو واپس لے کر قوم کے جذبات کو مشتعل ہو نے سے بچانا چاہیے۔ اس سے حالات کوپرامن رکھنے میں کافی مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ بھی تمام وسائل بروئے کار لا کر صبر و تحمل کا ما حول پیدا کیا جائے تا کہ کسی جگہ بھی ردِ عمل بے سوچے سمجھے نہ ہو۔ 
۳۔سوسائٹی میں مدافعاتی عمل کو آرگنائز کیا جا ئے کیونکہ جس طرح مجرم گروہ تمام شہروں میں دہشت گردوں کے فرنچائزی بنتے جا رہے ہیں کل کو یہ اُن کے لئے بہترین  بیس مہیا کر سکتے ہیں اور یہ عمل سوسائٹی کے پولیس اور خفیہ اداروں کی امداد میں اترے بغیر نہیں رک سکتا۔ عین ممکن ہے کہ جب 23 اکتوبر کو اوبامہ اور انڈیاکی یکطرفہ ڈکٹیشن نہیں مانی جائے گی تو یہ تمام گروہ ہر جگہ پر فوراً متحرک کر دئیے جائیں۔ لہذا فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
۴۔اچھی ڈپلومیسی بہت ساری پریشانیوں کا حل ہوتی ہے۔ یہ کامیاب ہو تو با اثر ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات  سے ایک فائدہ مند لابی بن جاتی ہے۔جنگی اخراجات بھی بچ جاتے ہیں اور اقتصادی ترقی بھی زیادہ ہوتی ہے۔ ہم نے بوجوہ اس میں مارہی کھائی ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران سفارتکاری کے عہدوں کو ہمیشہ اپنے خدمت گاروں کے لئے انعام و خلعت کی جگہ استعمال کرتے رہے لہذا ان کے لئے نہ کوئی اہداف  تھے نہ احتساب۔ موجودہ حالات میں بھی نہ فل ٹائم وزیرِ خارجہ ہے اور  نہ امر یکہ جیسے ملک میں سفیر‘ تو لابی کہاں سے بنے گی۔  حکومت کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے۔
میڈیا:
اس نازک  موقعے پر میڈیا کو نہایت ذمہ دارانہ رویہ اپنانا ہو گا۔ دشمن ہی سے یہ سبق سیکھ لیں۔ آپ انہیں سچ کی آڑ لے کر اپنی قوم اور اداروں کو مطعون کرتے کبھی نہیں دیکھیں گے خصوصاً آرمڈ فورسز کو۔ میڈیا حکومت سے کتنا ہی نالاں کیوں نہ ہو بین الاقوامی تناظر میں آئینی حکومت کے موقف کی  حمائت لازم ہونی چاہیے۔ مستقبل قریب میں ہمارے میڈیا کو عالمی اور خصوصاً بھارتی میڈیا کی نفسیاتی یلغار کا مقابلہ بھی کرنا ہوگا اور اپنے لوگوں میں قومی یکجہتی کے لئے دانشمندانہ طریقہ ابلاغ کا مظاہرہ بھی۔ 
سوسائٹی۔
میرے نزدیک لیڈروں پر بر ملا بے اعتمادی اور اداروں سے مایوسی کے بعد سوسائٹی ہی وہ واحد ذریعہ ہے جس سے ہم ہر مشکل پر قابو پانے کی طاقت حاصل کر سکتے ہیں۔ آج کے نازک موڑ پر سوسائٹی کو گلیوں میں خود کو اس طرح آرگنائز کر لینا چاہیے کہ کوئی مجرم ہمارے اندر پناہ نہ پا سکے۔   مساجد و مکاتب سے اخلاقی اور معاشرتی اقدار کی آگہی کے دروازے اپنی نئی نسلوں کے لئے کھول دیں۔ اہلِ فکر و دانش حالات کی سنگینی کا جائزہ لیں۔ سیاسی پارٹیوں یا دیگر فشاری گروہوں کے ایجنڈوں سے بالا تر ہو کر سوسائٹی‘ میڈیا اور ہر سطح پر قیادت کی رہنمائی میں اپنا مقدس حق ادا کریں۔ میں اسی کو پبلک سوموٹو کہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہی بالآخر ہمارے بچنے کا طریقہ ثابت ہو گا۔ قومی یکجہتی کی جس قدر ضرورت آج ہے اس کے مدِنظر میں سمجھتا ہوں کہ حکومت کے خلاف جائز احتجاج بھی ان چھبیس دنوں کے لئے روک لیں۔ ہماری پہلی منزل ایک مربوط اور مضبوط سوسائٹی ہے جس میں اندرونی خطرات بری طرح مَسلے جاتے ہیں جبکہ بیرونی خطرات اس سے ٹکرا ٹکرا کر بکھر جاتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم منتشر سے لگتے ہیں مگراسلام ‘پاکستان اور ایٹمی اثاثے ہمارا مشترکہ عشق ہیں۔ دوستو ! جنوں کی آگ سلگا لو کہ عشق کو  امر کرنا ہے۔