پشاور کے چرچ میں خود کش حملہ

کالم نگار  |  بیرسٹیر ظہور بٹ (لندن)

22 ستمبر اتوار کی صبح پشاور میں دو خود کش حملہ آوروں نے ایک چرچ میں داخل ہو کر ایک ایسے وقت میں خود کو دھماکوں سے اڑا دیا جب مسیحی  برادری کے 600 سے زائد افراد عبادت فارغ ہو کر اپنے گھروں کو جانے کیلئے چرچ سے آنا شروع ہوئے تھے ۔ 
ان دو دھماکوں میں ہماری مسیحی برادری کے 81 افراد جاں بحق اور 150 سے زیادہ زخمی ہوئے جن میں عورتیں اور بچے بھی  تھے۔ چرچ بھی مسجد کی طرح ایک عبادت گاہ ہے جسے ایک پناہ گاہ سمجھا جاتا ہے لیکن ان ظالم خود کش حملہ آوروں نے اسے مقتل گاہ بنا دیا۔
 سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا ؟کس نے کیا؟؟ اور کیوں کیا؟؟؟ اب تک جو حقائق سامنے آئے ہیں ان کے مطابق جند اللہ نامی کوئی دہشت گردوں کی تنظیم ہے جس نے اس ہولناک واقعہ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے ۔اس سے پہلے کی ایک خبر کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کی ایک تنظیم جندالحفصہ کا نام لیا جارہا تھا۔ بہرحال تنظیم کوئی بھی ہو ایک بات مسلمہ ہے کہ یہ ان دہشت گردوں کی ایک اور واردات ہے جن کیلئے ہمارے لیڈر عمران خان ایک نرم گوشہ رکھتے ہیں ۔ 
یہ دہشت گرد اب تک ہمارے سول اور فوجی جوانوں سمیت پچاس ہزار لوگوں کو شہید کر چکے ہیں لیکن عمران خان پھر بھی ان کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس قبل انکے ساتھ جتنے مذاکرات کئے گئے وہ سب بے سود ثابت ہوئے۔
حالیہ مذاکرات کے دوران ان کے سات دہشت گرد جن میں دو کو سزائے موت سنائی جا چکی تھی انہیں خیر سگالی کے جذبہ کے تحت رہا کر دیا گیا لیکن اس کے تین ہی دن بعد انہوں نے ہمارے ایک میجر جنرل ایک لیفٹیننٹ جنرل اور ایک لانس نائیک کو شہید کر دیا مگر ہمارے عمران خان ہیں کہ ان کے آگے بچھے جا رہے ہیں اور انہیں پشاور میں اپنا دفتر کھولنے کی مہم چلا رہے ہیں ۔عمران خان سے تو پورا ملک بہت سی امیدیں لگائے بیٹھا تھا کہ یہ ملک سے دہشت گردی کا صفایا کریں گے تاکہ ملک میں امن و امان بحال ہو لیکن وہ ہیں کہ ان ظالموں کو اپنے گھر میں بلانا چاہتے ہیں جو کچھ وہ کر رہے ہیں اچھا نہیں کر رہے۔
بات پشاور کے ایک چرچ میں خود کش حملے کی ہو رہی تھی اب تو نوائے وقت جیسا تحمل و برداشت رکھنے والا روزنامہ بھی چیخ اٹھا ہے کہ کیا شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی گنجائش باقی ہے؟
میرے خیال میں پاکستان کی تاریخ میں ایک چرچ کے اندر اتنی زیادہ جانوں کے نقصان کی کوئی اور مثال نہیں مل سکتی۔  
ہم کیوں یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ہم سب پاکستانی ہیں اور ایک پاکستانی قوم ہیں اور پاکستان پر کسی آفت کے ٹوٹنے کی صورت میں ہم سب ملکر اس آفت کا مقابلہ کرنے کیلئے سینہ سپر ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ بانیء پاکستان حضرت قائد اعظمؒ نے خاص طور پر ہمارے مسیحی بھائیوں کو 23 مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان کے دوسرے حصے میں خصوصی حقوق بھی دیئے تھے جس کا متن کچھ یوںہے۔
’’ان علاقوں میں رہ جانے والی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے ان کے نمائندوں کے ساتھ مشوروں کے بعد آئینی طور پر لازماً انہیں ایسے موثر، کارگر اور لازمی تحفظ مہیا کئے جائے گا جو ان کے مذہبی سماجی معاشی سیاسی اور دیگر حقوق کی عملی ضمانت دے سکے۔‘‘
خدا کیلئے اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کہ کیا ہم نے کبھی اس قرارداد کے مندرجات پر عمل کرنے کا سوچاہے؟ 
میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے اپنے مسیحی بھائیوں کو قراداد پاکستان کے دوسرے حصے کے مطابق آئینی تحفظ فراہم کیا جائے اور جس طرح ہماری حکومت اس قسم کی دہشت گردی کے دوسرے واقعات کے بعد شہید ہوجانے والوں کے لواحقین کو خطیر رقوم دیتی ہے اسی طرح پشاور کے گرجا گھر میں شہید ہونے والوں کے لواحقین کو بھی ان کی مالی مدد کیلئے فراخدلی کے ساتھ خطیر رقمیں دینے کا اعلان کیا جائے۔ 
جانے والے تو اب واپس نہیں آ سکتے لیکن ان کی مالی مدد کرکے ہم ان کے دکھ کو کچھ تھوڑا بہت ہلکا ضرور کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ پاکستان کو اپنی امان میں رکھے کیونکہ اب تک پہلے ہی ہم بے حد دکھ سہ چکے ہیں۔