طالبان سے مذاکرات یا فوجی آپریشن

پچھلے چند ہفتوں سے میں برطانیہ میں تھا ۔ایک شام  برطانیہ پاکستان چیمبر آف کامرس کے صدر نے مجھے سنٹرل لندن میں پاکستانیوں کو خطاب کرنے کی دعوت دی ایسے موقعوں پر میری یہ پوری کاوش رہی کہ مقرہ وقت سے پانچ منٹ پہلے نہیں تو کم از کم وقت پر ضرور پہنچا جائے سڑک پر گاڑیوں کے ہجوم کی بدولت مجھے یہ لگ رہا تھا کہ ہمیں تقریب کے مقام، لندن کے ـ" ہالی ڈے ان ہوٹل " میں کچھ تاخیر ہوسکتی ہے اس لئے میں نے کار پر مجھے ساتھ لے جانے

والے ساتھی سے استدعا کی کہ کار کو تھوڑا تیز چلا یاجائے۔ 
میرے ساتھی نے بتایا کہ اب ہم آبادی کے علاقے سے گذر رہے ہیں جہاں سڑک پر رش تو نہیں لیکن حد رفتار صرف 40 میل فی گھنٹہ ہے اس سے میں نے اگر تجاوز کیا تو کیمرہ فوٹو لے لیگا اور پھر جرمانے کے علاوہ میرے لائسنس پر تین سٹار لگ جائیں گے اور اگر ان سٹارز کی تعداد بارہ ہوگئی تو میرا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ ہو جائے گا اور اس کاروائی کو کوئی ایم پی اے یا ایم این اے تو کیا  وزیر اعظم بھی روکنے کا مجاز نہیں۔ 
اسی طرح 1985 سے 1987 تک میں ایک پاکستانی بٹالین کے  ساتھ سعودی عرب کے خوبصورت جنوبی شہر خمیس مشیط میں بطور لیفٹنٹ کرنل متعین تھا۔ جمعے کی نماز ادا کرنے کے بعد میں مسجد سے نکلا تو باہر سڑک کے چوراہے پر ایک بہت بڑا ہجوم تھا۔
تھوڑی دیر بعد ایک پولیس کی گاڑی آئی اس سے ایک نوجوان کو باہر نکالا گیا جس کی آنکھو پر کا لی پٹی  اور  ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک جلاد نے تیز دھار تلوار سے اس کا سر قلم کردیا ۔ پتہ چلا کہ اس نوجوان نے چار ہفتے  قبل اپنے ایک ساتھی  بیوی کی عزت لوٹی اور پھر اسے قتل کرکے بھاگ نکلا تھا۔
 قارئین تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کہ جن قوموں نے قانون کی حکمرانی کو اپنایا ، عدل کے نظام کو مثالی اور کڑے احتساب کو یقینی بنایاوہی بام عروج تک پہنچیں۔ جن قوموں نے حاکم اور محکوم، امیر اور غریب اور ظالم اور مظلوم کے لئے عدل و انصاف اور احتساب کے مختلف پیمانے اپنائے وہ تباہی کے گڑھے میں گر گئیں ۔ 
افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ 65 سال کے بعد آج بھی پاکستان کی ریاست اپنے ضعیف نظام عدل و انصاف اور کمزور حکمرانی کی بدولت بہت ہی لاچارگی اور بے بسی سے لڑکھڑا رہی ہے جس کی بڑی وجہ قانونی شعبے کی قباحتیں ہیں ۔
مثلاً وکالت کی اسناد کے حصول کے لئے بہت سارے غیر معیاری ادارے ہیں ۔ پنجاب کے بہت سارے لوگ سندھ سے وکالت کی اسناد خرید کر لاتے ہیں۔ وکالت کے پیشے میں زیادہ تر ناکام ہو جانے والے وکیلوں کو سیاسی  بنیادوں پر سفارشی بھرتیاں کر کے جج بنا دیا جاتا ہے ، سول اور غیر سول حکومتوں کا عدلیہ پر پی سی او جیسا نا جائز دبائو رہتا ہے۔ سیاسی مصلحتوں کے تحت محتسبوں کی سفارشی تعیناتیاں ہوتی ہیں ۔ قومی احتساب بیورو کو ہر صورت میں کمزور کرنے کی ریشہ دوانیاں جاری رہتی ہیں۔ کریمینل انٹیلی جنس کا نظام غیر موثر ہے قانون شہادت میں بہت سارے سقم ہیں ۔ ججوں اور گواہوں کو تحفظ حاصل نہیں ، جیلیں غیر محفوظ ہیں اور قانون ساز اسمبلیوں پر زیادہ تر ڈیفالٹرز اور ٹیکس نادہندگان قانون شکن وڈیروں کا قبضہ ہے ۔ اس نے پاکستان کی ساکھ کو ہی بری طرح مجروح نہیں کیا بلکہ اب تو لوگوں کے جان و مال کی حفاظت بھی ممکن نہیں رہی ۔
 آج ملک کے اندر موجودہ لرزہ خیز دہشتگردی کی فضا پوری قوم کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ ہر روز ہمار ی گلیاں اور بازار انسانی خون میں نہاتے ہیں بجائے اس کے کہ ہماری سیکورٹی ایجنسیسز قوم کو یہ بتائیں  کہ یہ واردات کس نے کی ہے اور ان کا حکومت نے کیا حشر کیا ہے ،وارداتی اور دہشتگرد خود دیدہ دلیری سے اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔
 اس میں شک نہیں کہ دہشت گردی کی ان وارداتوں میں بہت سارے اندرونی اور مالی لحاظ سے خاصے آسودہ اور موثر بیرونی گروپ اور طاقتیں ملوث ہیں۔ پیشہ ور بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی کے بغیر عام جرائم پیشہ انتہائی خطرناک گوریلے بھی مہران بیس، کامرہ چھاونی  اور جی ایچ کیو تک نہیں پہنچ سکتے لیکن یہ سوچ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کسی ایک واردات سے متعلق بھی ہماری سیکورٹی ایجنسیاں پوری قوم کو یہ خوشخبری نہ دے سکیں کہ اس کے پیچھے کون تھا۔ ان میں سے کتنے بندے قانون کی گرفت میں آئے اور کتنے تختہ دار پر لٹکا دیئے گئے ۔ 
بینظیر بھٹو، لیفٹیننٹ جنرل مشتاق بیگ، میجر جنرل ثناء اللہ، کرنل امام، خالدخواجہ، ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں بے گناہ  معصوم انسانوں کی جانیں کس نے لیں اور ہم نے کیا کیا؟؟
دکھ سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ Status Qou  سے مستفید ہونے والوں نے پہلے فوجی آمریت کے ادوار کو طوالت کے لئے تن من دھن لگا دیا ۔ پھر تاریخ کی کمزور ترین پچھلی  حکومت کو بھی اجنبی ہمسر آسانی سے مل گئے۔ 
سول حکومت نے کسی سیاسی حل کی تلاش کی نہ چھ لاکھ نفوس پر مشتمل دنیا کی بہترین پیشہ ور لڑاکا فوج کو موثر  طریقے سے استعمال کیا گیا  لیکن  بے گناہ  لوگوں کا خون بے رحمی سے پاک سرزمین پر بکھرتا رہا۔ ایک پاکستانی اور سابقہ فوجی ہونے کے ناطے یہ صورت حال دیکھ کر میر ا کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ میرا یہ دل کرتا ہے کہ ہر وہ ہاتھ جو ہمارے کسی پاکستانی بھائی، بہن، بیٹی  یا بچے ہر اٹھتا ہے اس کو کاٹ دیا جائے۔ ہر وہ پہاڑی ریزہ ریزہ کر دی جائے جہاں ان دہشتگردوں کے مسکن ہیں جو بے گناہ انسانوں کی جانیں لیتے ہیں ۔ ہر اس جنگل کو جلا کر راکھ کر دیا جائے جن میں اغوا شدہ انسانوں کی گردنوں پر چھریاں چلائی جاتی ہیں۔ہر محب وطن پاکستانی جو دہشتگردوں سے مذاکرات کے مخالف ہے کے یہی جذبات ہیں لیکن اگر ٹھنڈے دل سے سوچا جائے تو ایسا ممکن نہیں چونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمارے دشمن کا کوئی چہرہ نہیں، دوسری بات یہ ہے کہ فضل اللہ جیسے دشمنوںکی کمین گاہیں زیادہ تر ملک سے باہر افغانستان یا  بھارت میں ہیں ۔
 تیسری بات یہ ہے کہ ملک کے اندر ان کے صحیح ٹھکانے کی نشاندہی ممکن نہیں چونکہ وہ ایک جگہ پر نہیں ٹکتے اور غاروں میں رہتے ہیں ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ اگر ٹھکانے کی بجائے صرف اس بستی کا پتہ چل جائے جہاں وہ قیام پذیر ہیں تو اس پر ریاستی افواج کی چڑھائی مشکل ترین کام ہے۔ چونکہ اس بستی میں لاکھوں بے گناہ ہمارے اپنے پاکستانی بھائی بستے ہیں اس لئے اس پر توپ کا گولہ، ٹینک کا رائونڈ یا جہاز کا راکٹ گرانے سے ہمارے اپنے بے پناہ جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی میں ملوث گروپوں سے مذاکرات کی بات کی ہے چونکہ اس عمل سے بہت ساری مزید انٹیلی جنس حاصل کی جا سکتی ہے جو بعد کے ریا ستی آپریشن کے لئے سود مند ثابت ہو گی۔  
ہر مہذب معاشرہ یہ چاہتا ہے کہ گھمبیر ترین مسائل کا حل بھی مذاکرات سے نکالا جائے یہی وجہ ہے کہ کل جماعتی کانفرس میں مذاکرات کو ترجیح دینے کا فیصلہ ہوا۔ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں بد قسمتی سے پاکستانی حکومت کے پاس طاقت کے استعمال کے علاوہ اور کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ 
پاکستان کے موجودہ اندرونی حالات اور زبردست قسم کی بیرونی مداخلت کی بدولت یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ بات مذاکرات سے شروع ہو گی اور بد قسمتی سے اس کا انجام طاقت کے استعمال پر ہی ہوگا۔ پاکستانی حکومت لگتا ہے کہ ہر آپشن کے لئے تیار ہے۔