’’را ‘‘سے مدد کی اپیل ؟

کالم نگار  |  اصغر علی شاد
’’را ‘‘سے مدد کی اپیل ؟

بھارت کی ذہنیت کا عالم یہ ہے کہ یکم مئی کے تمام بھارتی اخبارات نے انکشاف کیا کہ نیپال کی فوج نے اپنی حکومت سے کہا ہے کہ فوری طور پر انڈین آرمی اور ایئر فورس کی ان ٹیموں کو ملک سے نکالا جائے جو زلزلہ زدگان کی مدد کے بہانے اپنی خود ساختہ دریا دلی کے قصے اپنے میڈیا کے ذریعے مبالغہ آمیز حد تک بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں ۔ یاد رہے کہ دنیا کے واحد ہندو دیش نیپال کے مظلوم عوام کے ساتھ اس مصیبت زدہ گھڑی میں اگر انڈین آرمی کا یہ رویہ ہے تو باقی ہمسایوں کی بابت ان کی سوچ کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔
بہر حال تاریخ شاہد ہے کہ دہلی کے حکمران اپنے ہمسایہ ملکوں کے خلاف ہمیشہ ہی بالادستی کے عزائم کے حامل رہے ہیں ۔ اسی پس منظر میں الطاف حسین کا یہ بیان خصوصی اہمیت کا حامل ہے جس میں موصوف نے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را ‘‘ سے مد د کی اپیل کی ہے ۔ اس تمام صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اسے محض اتفاق قرار نہیں دیا جا سکتا ماضی قریب میں ایم کیو ایم کے سربراہ ایک سے زائد مرتبہ قیامِ پاکستان کو تاریخ انسانی کی سب سے بڑی غلطی قرار دے چکے ہیں اور اکثر و بیشتر ہندوستان کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ موصوف کا حالیہ بیان سن کر ذہن میں کافی عرصہ قبل کے ہندی اخبار ’’ ہندوستان ‘‘ میں شائع وہ تحریر تازہ ہو گئی اور فطری طور پر یہ خیال آیا کہ حالیہ بیان اور26 اگست 2000 کے ’’ہندوستان ‘‘ میں چھپی خبربعنوان’’ پاکستان کا ایک بٹوارہ (تقسیم ) اور ہونا چاہیے ‘‘( خدانخواستہ) میں کوئی تعلق ہے یا نہیں ۔ آگے بڑھنے سے پہلے مذکورہ تحریر کسی قسم کی قطع و برید کے بغیر قارئین کی خدمت میں پیش ہے ۔
’’بھارت سرکار کب تک صبر سے کام لے گی ۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ہم کس طرح پاکستان کو پریشان کر سکتے ہیں ۔ ہمیں پاکستان کے اندر دہشت پھیلانی چاہیے اور بڑے پیمانے پر تباہی و بربادی کا کھیل کھیلا جائے ۔۔۔ پاکستان میں کچھ لوگ لسانی بنیادوں پر اور کچھ فرقہ وارانہ بنیادوںپر سیاست کر رہے ہیں ۔ بھارت کو ہر حال میں ان کا ساتھ دینا چاہیے ۔ نہ صرف انھیں پیسہ بلکہ ہتھیار ، گولہ بارود اور RDX بھی دیا جائے ۔ تا کہ وہاں کے ہر شہر اور قصبے میں موت اور خون کا کھیل شروع ہوجائے ۔ آخر کب تک ہم ایک کیڑے مکوڑے جیسے چھوٹے ملک سے ڈر کر جیتے رہیں گے ۔ ہمیں اپنے جوانوں کو ’’ شہید ‘‘ نہیں کرانا اور نہ ہی کشمیری عوام کو اپنے ساتھ رکھنے کے لئے مزید کوئی پیسہ خرچ کرناہے ۔ ہمیں تو بس اب اصل ’’ حل ‘‘ نکالنا ہے ۔ ’’ را ‘‘ سمیت اپنی سبھی ایجنسیوں کو حرکت میں لایا جائے تا کہ پاکستان کا داخلی اتحاد اور سلامتی پارہ پارہ ہو جائے ۔ اب تک ہم اتنا ڈر چکے ہیں کہ انتہا پسند کشمیری تنظیموں تک سے مذاکرات کر رہے ہیں ۔ نہیں ، یہ بالکل غلط طریقہ کار ہے۔ اب تو بھارت کو کچھ ’’ ٹھوس ‘‘ قدم اٹھانے ہوں گے اور پاکستان کے اندر اپنی موجودگی ’’ ثابت‘‘ کرنا ہو گی ۔ ہمیں الطاف حسین کو مالی اور دیگر ہر طرح کی مدد دینا ہو گی تا کہ وہاں ہمارے مقاصد حاصل ہو سکیں ۔ بھارت ایک عظیم ملک ہے مگر نکمے رہنمائوں اور قیادت کی وجہ سے آج کشمیر ہمارے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے ۔ ہمیں بھارتی فوج کو بھی کھلی چھوٹ دینی ہو گی ۔ وہ جس قیمت پر بھی چاہیں کشمیریوں کو کچل کر رکھ دیں۔ ‘‘
مندرجہ بالا تحریر ’’ انیل کمار ‘‘ نامی بھارتی دانشور کی لکھی ہوئی ہے ۔
بہر کیف آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی اور چینی صدر کے حالیہ تاریخی دورے کے فوراً بعد جناب الطاف حسین کے فرمودات میں اچانک جارحانہ عنصر کی شدت کے تانے بانے کسی جگہ آپس میں ملتے تو نہیں ؟۔ خدا کرے یہ اندیشے غلط ثابت ہوں لیکن الطاف حسین کی اطلاع کے لئے صرف اتنا عرض کرنا شائد غیر مناسب نہ ہو کہ محض چند روز پہلے یکم مئی کو امریکی حکومتی ادارے ’’ USCIRF ‘‘ ( یونائٹد سٹیٹس کمیشن آن رلیجئس فریڈم ‘‘ نے بھارت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہاں کی مذہبی اقلیتوں مسلمان ، عیسائیوں اور سکھوں کے خلاف تشدد میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ یوں بھی بھارت میں رہ رہے مسلمانوں کی حالت زار دنیا میں کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ اس سلسلے میں بہت سی مثالیں الطاف حسین کی خدمت میں پیش کی جا سکتی ہیں اگرچہ وہ خود بھی یہ سب کچھ یقینا جانتے ہوں گے اور محض چند سطحی مفادات کی خاطر بھارت کو اپنی جنتِ گم گشتہ قرار دیتے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر انہیں اس نام نہاد سیکولر جہنم میں کچھ روز گزارنے پڑیں تو شاید وہ تمام حقائق سے زیادہ بہتر طور پر آگاہ ہو جائیں گویا ان کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن……