پولیس افسران سے وفاقی محتسب تک!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
پولیس افسران سے وفاقی محتسب تک!

ہمارے ایک دوست کہا کرتے ہیں کہ جس قوم کے رہنما تکبر اور حرص و ہوس کی دلدل میں پھنس جائیں تو اس قوم کے پودے تک مہلک فکری بیماریوں کا شکار ہو جایا کرتے ہیں اور اگر کسی قوم کے رہنمائوں میں حب الوطنی اور فرض شناسی کا مادہ ہو تو اس کے مُردوں میں بھی دم خم پایا جاتا ہے۔ اللہ کرے وہ دن قوم کے نصیب میں جلدی آجائے جس دن انتظامی اورسیاسی لاعلاج بیماریوں کے طبیب اور سرجن ہمارے اندر ہی سے دریافت ہو جائیں۔ کم از کم مجھے یقین ہے کہ باصلاحیت افسران اور باصلاحیت سیاسی رہنما ہماری صفوں میں موجود ہیں۔ اقوام اس وقت ترقی کی منزل پاتی ہیں جب تعلیم، فراہمی انصاف اور صحت کی سہولیات میسر آجائیں۔ پھر اقوام اس وقت بھی ترقی کی منزلوں کو چھوتی ہیں جب عوام فرض شناس آفیسرز اور محب وطن سیاسی رہنمائوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ دیانتداروں کی جب حوصلہ افزائی ہونے لگے تو انگڑ کھنگڑ اور انگش بنگش مال ختم ہوتا جائے گا۔ بہر حال وفاقی محتسب سلمان فاروقی اور محنتی پولیس افسران کی حوصلہ افزائی قومی فرض ہے!
وطن عزیز میں را، موساد اور سی آئی اے کے ٹرائیکا نے دہشت گردی کا ایسا جال بچھایا تھا کہ بعد ازاں وہ ہمارے لئے کوڑھ کی کاشت بن گیا۔ ملک کل بھی اور آج بھی حالت جنگ کا شکار تھا اور ہے۔ جہاں ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کے آتش و آہن کا نشانہ بنے وہاں سیکڑوں فوجی جوان اور پولیس آفیسرز نے بھی وطن کی رکھوالی کرتے کرتے جانوں کے نذرانے پیش کردئیے۔ اکیسویں صدی کی آمدہی پاک سرزمین کے لئے امتحانات کے دریچے کھولنے لگی۔ کئی بستیاں اجڑیں، کئی گھرانے تباہ ہوگئے۔ بے شمار گھروں میں صف ماتم بچھی، متعدد خاندان مرثیہ گو اور نوحہ گر بنتے گئے۔ کراچی سے وزیرستان تک اور کوئٹہ سے کشمیر تک را، موساد اور سی آئی اے کو اپنی ہی بستیوں سے سہولت کار ملتے گئے۔ پھر کئی زخموں کے بعد ایک بڑا زخم قوم کے سینے اور دل پر لگایا جاتا ہے۔ اب کے بار افواج پاکستان کے گلستانوں کے گلوں کو نوچا جاتا ہے۔ آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشت گرد خون کی ندیاں بہا دیتے ہیں۔ کم سن سالاروں کے سینے چھلنی کئے جاتے ہیں گویا پوری قوم کا سینہ چیر دیا گیا ہو جیسے۔ 16دسمبر 2014ء کو سانحہ پشاور جنم لیتا ہے اور 12 جنوری 2015ء کو نیشنل ایکشن پلان (20 نکاتی ایجنڈا بذریعہ 21 ویں ترمیم) عمل میں آیا۔ کاش ایسا پلان کچھ عرصہ قبل عمل میں آجاتا۔ کاش مجرم پہلے ہی تختہ دار پر لٹکادئیے جاتے۔ بنیادی باتوں کے حوالے سے اور دہشت گردی پر نظر رکھنے کے لئے راقم نے 2 مارچ 2015ء کو عام فہم اور ہلکا پھلکا کالم ’’تاریخ اور انسداد دہشت گردی کے 14 نکات‘‘ نوائے وقت میں لکھا۔ نایاب حیدر (ترجمان لاہور پولیس) کو میں کہوں گا کہ جب فارغ ہوں تو پولیس افسران کی نظر سے ضرور گزاریں۔ (شفاہوگی)
قارئین با تمکین! بلاشبہ پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں میں کالی بھیڑیں بھی ہیں لیکن بے شمارفعال اور ذمہ دار پولیس افسر بھی ہیں آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا تک اور آئی جی خیبر پختون خواجہ ناصر درانی سے آئی جی بلوچستان محمد اعملش اور سربراہ پولیس آزاد کشمیر خدا بخش اعوان تک کو اگر سیاسی بھنور اور سفارشی گرداب میں نہ دھکیلا جائے تو آپ کو مثبت نتائج اسی طرح ہی دے سکتے ہیں جیسے کسی ترقی یافتہ ممالک کے پولیس افسران، سانحہ پشاور کے بعد جب قوم ایک صفحہ پر ہوئی تو دہشت گردی میں کراچی سے خیبر تک کمی آئی۔ یقینا اس میں فوج کا عمل دخل ہے کہ وہ آمنے سامنے غداروں اور دہشت گردوں سے برسر پیکار ہے لیکن کوچہ و بازار میں پولیس کا کردار بھی پھر نکھر اور سنور کر سامنے آیا جو قابل ستائش ہے پولیس کی دور بینی اور خورد بینی نظروں میں چشم بینا سما گئی۔ اچھے برے سب جگہوں پر ہوتے ہیں۔ کرپشن کوئی محکمہ تعلیم میں بھی کم نہیں۔ یونیورسٹیوں کی سطح پر اگر سوشل سائنسز کی تحقیق ہوتی، کریمینالوجی پر ریسرچ ہوتی، یونیورسٹیوں میں اے بی سی اور ا ب پ کے چکر کے بجائے نفسیات و سیاسیات پر ریسرچ ہوتی تو بھی جرائم کم ہوتے۔ ہم پولیس پولیس کرتے رہتے ہیں یہاں وائس چانسلر حضرات سے متبرک اور معزز بھی چکر چلانے میں رہتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں سرچ کمیٹی نے 10 وی سی سرچ کرنے ہیں لیکن جی سی یو لاہور کے ڈاکٹر خلیق الرحمن اور ایک بڑی یونیورسٹی کے وی سی نے سرچ کمیٹی پر ’’ریسرچ کمیٹی‘‘ بٹھا دی ہے کہ انہیں ایکسٹینشن مل جائے (توبہ توبہ!!!) حالانکہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا وعدہ اور دعویٰ ہے کہ NO EXTENSION ۔
پچھلے دنوں ہائی کورٹ لاہور کے احاطہ میں ایڈیشل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب چوہدری شہباز احمد تتلہ اور سکیورٹی چیف ہائی کورٹ مفخر عدیل (ایس پی) اور میں ایک طویل مباحثہ کے بعد اس بات پر متفق ہوئے کہ ساری انگلیاں برابر نہیں ہوتیں لیکن جب کوئی انگلی رہنمائی کرکے سب کو مکا بنا دے تو وہ مکا جاندار بن گیا کیونکہ انگلیاں یک جان ہو گئیں۔ جس دن قوم کے تعاون کا مکا اور پولیس کا مکا ہم رنگ اور ہم آہنگ ہو گئے، سمجھ لیجئے گا دہشت گردی کے دانت زمین پر ہوں گے۔ بے شمار قابل رشک اور قابل فخر افسران پولیس میں موجود ہیں میرے ذاتی سروے اور مشاہدے کے مطابق لاہور کو امین وینس جیسا سی سی پی او میسر آنا خوش قسمتی ہے۔ لاہور میں دہشت گردی اور جرائم کی شرح واضح کم ہوئی ہے۔ اسی طرح رانا ایاز سلیم (ایس ایس پی انویسٹی گیشن) سے بھی ملاقات کے بعد یہ احساس ہوا کہ لاہور میں پرعزم افسران قابل تحسین ہیں اور ان کے ہاں جذبہ حب الوطنی اپنے شباب پر ہے۔ عبداللہ احمد یار (ایس پی گلگت)، عثمان باجوہ (ایس ایس پی)، CID سندھ، اعتزاز گورائیہ (ایس ایس پی) کوئٹہ میں بھی ایک صاحب کمال سابق پولیس آفیسر الطاف قمر کی سی رمک اور چمک دمک دکھائی دیتی ہے۔ ڈی ایس پی عبدالفتح شہید (کراچی) کیپٹن قاسم شہید (وادی تیراہ) کو سلام۔ ایس ایس پی رائو انوار (کراچی) جذباتی سہی مگراسکی بہادری کو بھی خراج تحسین۔ اللہ کرے کہ پولیس بھی اپنی جانبازی کے ساتھ سرخرو ہو اور اس کے اچھے لوگوں کی اچھائی غالب آئے تاہم موٹر وے پولیس کے بعد پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم نعمت سے مزید نواز رکھا ہے اور وہ وفاقی محتسب کا ادارہ ہے۔ اس ادارہ سے آپ بیتی اور جگ بیتی کا معاملہ ہمیشہ کمال کا رہا۔ وفاقی محتسب سلمان فاروقی اور ان کی ٹیم کو داد دینی پڑے گی کہ مارچ 2013 سے اب تک محنت اور لگن سے انہوں نے 2002سے 2012 تک کے رکے ہوئے کیس نمٹائے۔ پاکستان کا یہ واحد ادارہ ہے جو فوری مفت انصاف فراہم کرتا ہے۔ حتیٰ کہ کسی وکیل کی بھی ضرورت نہیں۔ اس ادارہ نے پچھلے دو سالوں میں ایک لاکھ 76 ہزار کیسوں کا فیصلہ کیا۔ عموماً یہ 15 سے 20 ہزار کیس کا فیصلہ ہر سال کرتا ہے۔ اگر رہ جانے والے کیس اسی رفتار سے ہوتے تو مزید کئی سال لگ جاتے۔ واضح رہے کہ اس وقت اس کے پاس 60 دن سے پرانا کوئی کیس نہیں۔ دو سے زیادہ تاریخیں دیتا ہے نہ HEARING ہے۔ سرکاری محکموں اور سائل کے درمیان فیصلہ کراتے ہوئے یہ آمنے سامنے بٹھا دیتے ہیں۔ 80 فیصد کیس حل کرنے والا یہ محکمہ اپنے فیصلوں کے خلاف محض 0.1 فیصد اپیل رکھتا ہے سبھی کیسوں کو فیصلہ کے بعد وفاقی محتسب صدر کو presentation دیتا ہے۔ وفاقی محتسب کے 450 کیسوں کے خلاف صدر پاکستان کو اپیل کی گئی جس میں 356 فیصلوں کو درست قرار دیا گیا۔ لاہور، کوئٹہ، پشاور، ملتان، کراچی، فیصل آباد، حیدر آباد، سکھر، ڈیرہ اسماعیل خان اور اسلام آباد میں وفاقی محتسب کے 9 ریجنل آفس ہیں۔ سروس سٹرکچر، پروموشن اور سنیارٹی کے علاوہ سبھی کیسوں کو دیکھا جاتا ہے تاہم ڈیفنس اور عدالت میں موجود کیسوں سے وفاقی محتسب کا ادارہ اجتناب کرتا ہے۔ پنشن اور تنخواہ رکنے کے کیس یہ ادارہ ضرور دیکھتا ہے۔ اس کے فیصلے کو صدر کے ہاں یا سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے جس کی شرح آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ قابل تعریف بات یہ ہے کہ REVIEW کو بھی 45 دن میں نمٹا دیا جاتا ہے۔ ایک کروڑ کے قریب اوورسیز کے لیے بھی سروسز جاری ہیں اور مختلف ایئر پورٹس پر دفاتر قائم کرنے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ ایڈوائزر حافظ احسان کھوکھر سے ملاقات کے بعد معلوم ہوا کہ ادارہ کا ایڈوائزر توہین عدالت کے تناظر میں 6 ماہ تک کی سزا دے سکتا ہے۔ پھر ہائر ایجوکیشن کمشن سے متعلقہ بیشمارکیسوں کو بھی نمٹایا جا چکا ہے۔ سوئی گیس اور واپڈا سے ستائے ہوئے لوگوں کے لیے قابل قدر ریلیف سنٹرہے۔ صدر، وزیر اعظم پاکستان، وزارت انصاف اور سپریم کورٹ اس نعمت کدہ پر دست شفقت رکھے تاکہ کہیں تو انصاف کا بول بالا رہے۔