کیا حکمران عمر ؓلاز کو فالو کریں گے؟

کالم نگار  |  نازیہ مصطفٰی
 کیا حکمران عمر ؓلاز کو فالو کریں گے؟

یہ پونے چودہ سو سال پہلے کی بات ہے ۔ عبداللہ اور عبیداللہ میدان جنگ سے واپس آرہے تھے، یہ دونوں اُس وقت روئے زمین کے سب سے بڑے حکمران کے بیٹے تھے،راستے میں بصرہ کے گورنر سے ملے، بصرہ کے گورنر نے اُنہیں کہا کہ ’’میں نے کچھ رقم خزانے میں جمع کرانے کیلئے دارالخلافہ بھجوانی ہے، وہ لیتے جاؤ، میں وہ رقم تمہیں بطور قرض دیے دیتا ہوں، تم اس سے کچھ عراقی مال خرید لو اور دارالخلافہ جاکر بیچ دینا، اصل رقم خزانے میں جمع کرادینا اور منافع خود رکھ لینا‘‘ عبداللہ اور عبیداللہ نے ایسا ہی کیا۔ حاکمِ وقت (اُن کے والد) کو خبر ہوگئی۔ حاکم وقت نے رقم کے بارے میں پوچھا تو بیٹوں نے جواب دیا کہ ’’بصرہ کے گورنر نے یہ رقم ہمیںاُدھار دی تھی، جس سے ہم نے کاروبار کیا‘‘۔ حاکم وقت نے پوچھا ’’کیا بصرہ کے گورنر نے لشکر کے تمام فوجیوں کو اِسی طرح اُدھار دیا تھایا صرف تم دونوں کو؟‘‘ بیٹوں نے جواب دیا کہ ’’گورنر نے سارے لشکر کو تو اُدھار نہیں دیا تھا‘‘۔ حاکم وقت نے کہا کہ ’’پھر اُس نے تمہارے ساتھ یہ ترجیحی سلوک صرف اس لیے کیا کہ تم امیرالمومنین کے بیٹے ہو، جاؤ! مال اور نفع دونوں بیت المال میں جمع کرادو‘‘۔
قومی خزانے کو حقیقت میں قوم کی امانت سمجھنے والے اس حاکم جیسا دوسرا کوئی حاکم آسمان نے دوبارہ نہ دیکھا۔یہ خلیفہ دوم حضرت عمرؓ بن خطاب تھے جو عوام کی دیکھ بھال اور ضروریات کی فکر میں راتوں کو جاگتے رہتے اور اس غم میں اُٹھ اُٹھ کر روتے کہ کہیںکوئی ضرورت مند یا بھوکا نہ رہ گیا ہو۔
ایک دفعہ شاہِ روم کا قاصد آیا تو ملکہ روم کی طرف سے ’’فرماں روائے مملکت اسلامیہ کی بیگم‘‘ کیلئے ہدیہ سلام لایا، خلیفہ دوم کی اہلیہ نے ایک دینا رقرض لیا، اس کا عطر خریدا اور اسے شیشیوں میں بند کرکے ملکہ روم کو بھیج دیا، ملکہ روم نے ’’تحفہ‘‘ موصول ہونے پر انہی شیشیوں کو جواہرات سے بھر کر واپس بھیج دیا۔ حضرت عمر ؓ کو معلوم ہوا تو آپ نے سارے جواہرات فروخت کرکے ایک دینا ربیوی کو دیا اور باقی رقم بیت المال میں جمع کرادی اور بیوی کو آئندہ محتاط رہنے کی تلقین کی۔کیا ہمارے حکمران قومی خزانے کا اس مثال کے عشر عشیر جتنا بھی خیال رکھتے ہیں؟ ایک دفعہ آپکے خادم حضرت اسلم ؓ نے بتایا کہ’’ بیت المال میں ایک اونٹنی آئی ہے جو اندھی ہے، اس کا کیا کیا جائے؟‘‘ آپ نے جب دیکھا کہ اس اونٹنی کا کوئی مصرف نہیں تو اُسے ذبح کراکے گوشت ازدواج مطہراتؓ اور صحابہ کبارؓ کے ہاں تحفہ بھیج دیا، گوشت ملنے پر حضرت عباسؓ آئے اور کہا ’’امیر المونینؓ! آپ ہمارے لیے ہر روز اسی طرح کیا کرتے تو کیا ہی اچھا ہوتا!‘‘ جس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا ’’عباسؓ! ریاست میں بہت سی بھوکی عورتیں ہیں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں، ان کا بھی تو خیال رکھنا ہوتا ہے!‘‘ ایک دفعہ فرمایا کہ ’’اگر میں زندہ رہا تو(مدینہ تو ایک طرف) عراق (ریاست کی سرحد) تک کی بیواؤں کو ایسا بنادوں گا کہ وہ میرے بعد بھی کسی کی محتاج نہ رہیں گی‘‘۔ ان مثالوں کا مطلب یہ ہے کہ اگر مال و دولت قومی خزانے میں آئے تو ’’اشرافیہ اور مقتدر‘‘ طبقے میں اس کاایک حصہ بانٹنے کی ممانعت نہیں، لیکن قومی خزانے سے سب سے پہلے غریب طبقے اور اس میں سے بھی سب سے پہلے بچوں اور خواتین کی ضروریات پوری ہونی چاہئیںتو کیا ہمارے وزیر خزانہ بتانا پسند کرینگے کہ پندرہ کھرب چودہ ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی بجٹ میں سے غریب عوام‘ مسکین خواتین اور یتیم بچوں کیلئے کتنی رقم مختص کی گئی ہے؟
روزگار اور رزق کے معاملے میں حکومت کی ذمہ داری کے سلسلے میں فاروق اعظمؓ ایسی شدت برتتے تھے کہ ایک دفعہ ایک بستی کے رہنے والوں نے ایک پیاسے مسافر کوپینے کو پانی نہ دیا اور وہ مسافر پیاس کی وجہ سے مرگیا تو آپ ؓ نے بیت المال سے اُس مسافر کا خون بہا ادا کیا اور پھر وہ خون بہا اُس بستی والوں سے وصول کیا۔ اسی فاروقی فیصلہ کی رو سے قانون بنا دیا گیا کہ اگر کسی بستی میں کوئی شخص بھوک پیاس سے مرجائے تو اہل بستی پر اسکی دیت لازم آجاتی تھی تو کیا وزیر خزانہ نے کراچی سے لیکر خیبر تک اور تھل سے لیکر لاہور تک کہیں پانی کی عدم دستیابی اور کہیں آلودہ پانی کی وجہ سے مرتے عوام کی زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کی خاطر اور صاف پانی کی چند بوندیں فراہم کرنے کیلئے کوئی رقم مختص کی ہے اور اگر کی ہے تو کتنی رقم کی ہے؟
کفالت عامہ کے سلسلے میں جناب عمر ؓبن خطاب نے حکم دیا کہ ’’قلمروِ خلافت میں بلا تخصیص مذہب و ملت، ہر تنگدست کی امداد کی جائے، ہر مقروض کا قرضہ ادا کیا جائے، ہر کمزور، ضعیف اور مظلوم کی اعانت کی جائے، ہر ظالم کو ظلم سے روکا جائے ، ہر بھوکے کو کھانا کھلایا جائے اور ہر ننگے کو کپڑا پہنایا جائے‘‘۔ کیا دائیں بازو کے نظریات رکھنے والی مسلم لیگ ن نے بجٹ بناتے ہوئے، اقلیتوں اور غربا کے حقوق کیلئے اِن باریک نکات پر سوچا؟ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’ازالہ الخفا‘‘ میں خلیفہ دوم کا ایک قول نقل کیا ہے، کہا کہ ’’اگر فرات کے کنارے کوئی اونٹ بھی بھوک سے مر گیا تو قیامت کے دن عمرؓ سے اسکی بھی باز پرس ہوگی‘‘ بعض روایات میں اونٹ کی جگہ کتے کا بھی ذکر آیا ہے۔ فرات مدینے سے بہت دور اور اُس وقت ریاست مدینہ کی آخری حدود پر واقع تھا، فرات کی مثال دینے سے مراد یہ تھا کہ خلیفہ پر صرف مدینہ ، مکہ اور حجاز میں رہنے والوں کی کفالت کی ذمہ داری ہی عاید نہیں بلکہ ریاست کی آخری حد میں رہنے والے جانور کی ذمہ داری بھی خلیفہ پرعاید ہوتی ہے، ایک حکمران پر ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ دریاؤں سے نکالی جانے والی نہروں سے آس پاس کی زمینیں یکساں سیراب ہوں، فصلیں لہلہائیں اور انسان تو انسان جانور بھی بھوک اور پیاس سے نہ مریں۔ تو کیا ہمارے وزیر خزانہ بتانا پسند کرینگے کہ اُنہوں نے بجٹ میں لاہور اور اسلام آباد سے ہزاروں میل دور تھر،چولستان اور دیہات کے عوام کیلئے بجٹ میں کیا رکھا ہے؟ بلوچستان کے پہاڑوں پر تمام سہولیات سے محرومی میں رہنے والے پیٹ پر پتھر ہی باندھے رکھیں یا ان کیلئے بھی کچھ امید افزا ہے؟ اور قبائلی علاقوں میں رہنے والے عوام کو اس بجٹ میں کیا ملے گا؟
قارئین کرام!! ایک دفعہ حضرت عمرؓ بن خطاب کے سامنے جلولا سے آئے ہوئے مال ِ غنیمت کا ڈھیر لگا تھا کہ اتنے میں آپکا ایک بچہ آگیا ، اُس نے کہا کہ ’’مجھے ایک انگوٹھی دے دیجئے‘‘۔ آپ نے پیار سے اسکے گال تھپتھپائے اور کہا کہ ’’اپنی ماں کے پاس جا، وہ تجھے ستو پلادیگی‘‘۔کیا حکمران طبقہ اس بجٹ کے ’’جواہرات‘‘اپنے بال بچوں میں بانٹے گا یا اُنہیں کہے گا ’’اپنی ماں کے پاس جا، وہ تجھے ستو پلادے گی‘‘۔یہ تھا جناب فاروق اعظم کا بیت المال سے رقم خرچ کرنے کا ’’ڈاکٹرائن‘‘ اور عوام کیلئے بجٹ تشکیل دینے کا طریقہ کار۔قومی خزانے کی دیکھ بھال اور بجٹ بنانے کے اس طریقہ کار پر عمل درآمد کیا جائیگا تو فرات کے کنارے کو کوئی کتا بھی بھوک پیاس سے نہیں مرے گا۔کیا حکمران طبقہ اپنے بچوں کو ستو پلانے کیلئے تیار ہے؟