ایم کیو ایم کی قیادت کا مسئلہ

کالم نگار  |  ستار علوی
 ایم کیو ایم کی قیادت کا مسئلہ

ایک وہ زمانہ تھا جب الطاف حسین آئے روز فوج کو سیاسی مداخلت کی دعوت دیا کرتے تھے اور ہرموقع بموقع فوج کی تعریف بھی کیا کرتے تھے اور اب یہ زمانہ ہے کہ فوج اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے ان کیلئے اچانک غیر ہوگئے ہیں اور غیر بھی ایسے ویسے نہیںہوتے بلکہ وہ اب صریحاً جانبداری کے مرتکب قرار پاتے ہیں۔ بالفاظ دیگر فوجی ادارے خاموش رہیں اور ایسی کوئی بات یا حرکت نہ کریں جس سے ایم کیو ایم پر کسی قسم کا الزام آنے کا اندیشہ ہو تو فوج سر آنکھوں پر۔ مگر جن حالات کا فوج، رینجرز، اور دیگر قانونی اداروں کو کراچی میں سامنا ہے اور جو شواہد منظر عام پر آئے ہیں تو یہ سب ادارے اور فوج ایم کیو ایم کیلئے زہر قاتل کے مترادف ثابت ہو رہے ہیں۔ چنانچہ الطاف بھائی اور انکے ہمنوا سب ایسی باتیں کہہ رہے ہیں جس سے فوج، رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کی ہتک ہو اور انکی کارکردگی مشکوک دکھائی دینے لگے۔
ماضی میں یہ دیکھا گیا ہے کہ جب عام پبلک ایم کیو ایم کے بیانات پر سخت اعتراض شروع کردے اور مختلف سیاسی پارٹیاں اور ادارے بھی اسی قسم کے خیالات کا اظہار کریں تو ایم کیو ایم کی لیڈر شپ فوراً معافی مانگنی شروع کردیتی ہے اور اپنا پرانا بیان دہراتی ہے کہ ہمارے کہنے کا مطلب تو کچھ اور تھا آپ سب لوگ ہی غلط سمجھے۔ الطاف حسین کا تازہ ترین بیان تو اخلاقیات اور شراقت کی تمام حدیں پار کر چکا ہے۔ اس کو سیاسی بیان کہنا بھی غلط ہوگا۔ اپنے ملک کے اداروں کیخلاف ایک حریف ملک کے انٹیلی جنس ادارے سے مدد طلب کرناعمداً غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ مدد طلب کرنا تو بعد کی بات ہے۔ اسکی طرف اشارتاًکچھ کہنا بھی غداری سے کم نہیں۔ ہاں یہاں ایک بات غور طلب ہے وہ یہ کہ کیا الطاف حسین پاکستانی باشندے ہیں؟ عملاً تو وہ برطانوی ہیں اور پاکستان سے ان کا تعلق محض ریڈیو کی تقریروں تک محدود ہے جو کشیدگی اور تنائو کا باعث بنتی ہیں۔ کیا انکے کسی بیان پر پاکستانی قانون لاگو ہوتا ہے۔ اب تک تو نہیں۔
جب عام پبلک نے الطاف حسین کے بیان پر واویلا مچایا تو پاکستان میں موجود ایم کیو ایم کی قیادت نے حسب معمول الطاف حسین بھائی کی حمایت میں بیانات اور ٹی وی پر بحث مباحثے شروع کردیئے۔ مشکل یہ پیش آئی کہ الطاف حسین کا بیان اس قدر واضح اور قابل اعتراض تھا کہ اس کا دفاع نا ممکن تھا اور کسی چارہ گر کی کچھ نہ بن پڑی۔ عام پبلک کا رد عمل اسقدر سخت تھا کہ بالآخر الطاف بھائی کو پھر معافی مانگنی پڑی۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ الطاف حسین کب تک اور کتنی دفعہ ملکی اداروں کیخلاف زہر افشانی کرینگے اور پاکستان حکومت اور ادارے کب تک خاموشی سے سنتے رہیں گے؟ہمیں الطاف حسین کی سیاست سے غرض نہیں۔ کون سا ایسا موضوع ہے۔ جس پر آئے روز الطاف حسین حکومت کو یہ نہیں بتاتے کہ حکومت کو کیا کرنا چاہئے۔ ہمیں اس مشورے سے بھی غرض نہیں ۔ ہاں ہمیں غرض ہے تو ان اداروں کی حفاظت سے ہے جن کی وجہ سے پاکستان قائم ہے اور جو بر وقت ہر اس کام کو کرنے کیلئے موجود ہوتے ہیں جب ذمہ داران بشمول ایم کیو ایم بھی جائے وقوعہ پر جانے سے گھبراتے ہیں۔
حکومت نے قانون کے نفاذ کیلئے کراچی آپریشن شروع کیا ہے اوریہ بلا امتیاز ہر اس شخص اور ادارے کیخلاف ہے جو کسی صورت میں بھی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہو۔ مشکوک افراد کے حق میں بیان دینا خود بیان دینے والے کو مشکوک بنا دیتا ہے۔ کچھ اسی قسم کے حالات ایم کیو ایم کے ہاں پائے جاتے ہیں۔ قانون شکنی پر رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر تو معافی بھی نہیں مانگی جاسکتی۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ ایم کیو ایم کا کردار کافی عرصے سے مشکوک رہا ہے کیونکہ گاہے بگاہے مختلف شخصیات اور سیاسی حریف ایم کیو ایم کے بارے میں ایسے بیانات دے چکے ہیں جو پارٹی اور اسکی قیادت کو دہشت گردی کے زمرے میں لے آتے ہیں۔ چند مثالیں اور واقعات غور طلب ہیں۔ جیو ٹی وی عرصہ دراز سے اس تلاش میں تھا کہ ان کو کوئی الطاف بھائی سے مماثلت رکھنے والا ایسا شخص مل جائے جو ان کے مزاحیہ خاکوں میں الطاف بھائی کا رول ادا کر سکے۔ باوجویکہ اس رول کیلئے بھاری معاوضہ اور فوری پہچان موجود تھی۔ جیو ٹی وی کی پیشکش کو کسی شخص نے قبول نہیں کیا۔ ہر ممکنہ اداکار کی صرف ایک ہی وجہ انکار بیان کی جاتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ میں ابھی زندہ رہنا چاہتا ہوں۔
الطاف حسین کیخلاف 72 مقدمے ہیں جن میں 31 صرف قتل کے ہیں۔ ان سب مقدمات کو پرویز مشرف نے این آر او کے ذریعے ختم کردیا۔
اب عمران فاروق کا قتل اور برطانیہ میں منی لانڈرنگ ایسے ماجرے ہیں جن کی تفتیش برطانوی پولیس اور سکاٹ لینڈ یارڈ کے دائرہ اختیار میں ہے۔
یہ کیا بات ہے کہ ہر تنقید کا جواب دھمکی سے دیا جائے اور وہ بھی اندیشہ قتل کیساتھ اس قسم کے بیانات اور دھمکیاں کسی شخص کو زیب نہیں دیتی خصوصاً ایسے شخص کو جو ایک اہم سیاسی پارٹی کا لیڈر ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ایسے بیانات سے کچھ فوری فوائد حاصل ہوئے ہوں لیکن دیکھا گیا ہے کہ طویل المیعاد تناظر میں ایسی باتیں نقصان دہ ہوتی ہیں اور نہ صرف کہنے والے شخص کی ذاتی وقعت کو کمزور کردیتی ہیں بلکہ پارٹی کیلئے بھی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
اس وقت یوں نظر آ رہا ہے کہ ایم کیو ایم کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ آپریشن کے بعد ایم کیو ایم صرف نام کی پارٹی ہوگی۔ کسی کو اس بات میں شک نہیں ہونا چاہئے کہ ایم کیو ایم میں بہت قابل اور پڑھے لکھے لوگ ہیں جن کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ ایم کیوایم اپنی متنازعہ قیادت کا مسئلہ حل کرے اور ایک دفعہ پھر سے لوگوں کا اعتماد حاصل کرے۔ یہ بات کہنا آسان ہے لیکن اس کو بارآور کرنے کیلئے بہت سارے لوگوں کو ذاتیات سے اوپر سوچنا پڑیگا۔ بصورت دیگر اس ڈھلوان سے نجات مشکل ہے۔