مسلم پاکستان کی نئی علامت

کالم نگار  |  محمد اسلم خان....چوپال
مسلم پاکستان کی نئی علامت

کوئی مانے نہ مانے، کسی کو پسند آئے یا نہ آئے شیخ الحدیث مولوی خادم حسین رضوی اسلامی اقدار اور مسلم پاکستان کی نئی اور طاقتورعلامت بن کر منظر پرابھرے ہیں۔ ایسے مرحلے پر جب تہذیب و تمدن‘ وسعتِ فکراور وسیع نظری کے نام نہاد فلسفے نے پاکستان کی اساس دو قومی نظریے کو اسی پاک سر زمین پر بے بس اور بے کس لاوارث یتیم بچہ بنا دیا تھا اس کا نیا محافظ سامنے آگیا ہے۔اعلیٰ حضرت احمد رضا خان بریلوی کا سچا پیروکارجناب خادم حسین رضوی کی طرز تقریر اور اسلوب پر گفتگو ہوسکتی ہے لیکن ان کا اخلاص اور پاکستان سے والہانہ عشق ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہے‘ وہ جس منفرد انداز میں شاعر مشرق علامہ اقبال کے آفاقی کلام کی تشریح و تعبیر کر رہے ہیں کہ اوریا مقبول جان جیسا جدید فلسفی بھی بے اختیار جھوم رہا ہے ۔

اب بابا رضوی اپنے پرجوش اور جانثار جانبازوں کیساتھ دریدہ دہنوں کو لگام ڈالے گا ۔ایسے نازک مرحلے پر جب واشنگٹن اور جنیوا سے ختم نبوت کی آئینی ترمیم ختم کرنے جارحانہ احکامات جاری ہورہے تھے کہ خدائے واحدہُ لاشریک نے اپنی قدرت کاملہ ان ترامیم کی حفاظت کا ایسا انتظام فرمایا کہ نہ صرف بد باطن نام نہاد ترقی پسندوں کے بڑھتے قدم رک گئے بلکہ گز گز بھر کی غلیظ زبانیں بھی بند ہو گئی ہیں کہ شمع رسالت کے پروانے میدان میں ہیں اور لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ لگانے والا ہر جوان غازی علم الدین بنا ہواہے۔
شیخ الحدیث خادم رضوی اور ڈاکٹر آصف اشرف جلالی میں تعبیر کی غلطی کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات بتدریج تحلیل ہورہے ہیں جس سے تماشائیوں کو صدمہ ہورہا ہے۔ اللہ تعالی کا نظام ایسا ہے کہ جس کی حکمتیں سمجھنے سے انسانی ذہن عاجز ہے ہم بعض چیزوں کے شر پر فوراًردعمل دیتے ہیں لیکن اس کا ’’خیر‘‘ہمارے دائرہ فکر میں مشکل ہی سے آتا ہے۔اگر ہم تحریک لبیک کے دھرنے کے حوالے سے جائزہ لیں تو چند ہوش ربا پہلو ہماری آنکھیں کھول دیتے ہیں۔سیاسی اعتبار سے تحریک ختم نبوت کے اثرات بتدریج ظاہر ہوں گے جس کی زد میں وہ تمام ارکان و قومی اسمبلی و سینٹ آئیں گے جنہوں نے اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا انہوں نے اپنے حلف سے انحراف کیا تھا۔۔اس ترمیم کا دفاع کرنے والے سابق وزیرقانون مستعفی ہوچکے ہیں۔ آئین پاکستان سے انحراف اور توہین رسالت کے مقدمات اب ان کے سر پر لٹکتی تلوار بن جائیں گے۔ورنہ ہمارے ہر دلعزیز قائد اعظم ثانی میاں نوازشریف نے سمجھ رکھا تھا کہ وہ ایک ناقابل شکست’’قائد‘‘ ہیں جنہیں کسی چیز کی پروا نہیں۔ مذہبی اور مشرقی روایات کا علمبردار ووٹر تو ان کی بائیں جیب میں ہے۔اس لئے انہوں نے اپنی ’’سلطنت‘‘ کودوام اوراپنی خاندانی سیاست وشہنشاہیت کووسعت دینے کے سیکولر اورخدابیزارطبقے کو حلیف بنانے کی ٹھانی۔ان کے مصاحب دائیں بازو کے دین دارصحافی تک اس بیہودہ مطابقت کے فلسفے پر نہ تڑپے۔ یوں پانی سر سے اوپر ہوتاجارہاتھا۔
ایک توحید پرست ‘اہلحدیث سینیٹر بنوا کر واحدنیت کی ساری گردانوں سے تائب ہوچکے تھے اور مشائخ عظام بھی ٹک دیدم، دیدم نہ کشیدن کا روپ دھارے بیٹھے تھے۔لبیک یارسول اللہ تحریک کے ایک دھرنے نے جناب نوازشریف اور ان کے دائیں اور بائیں کے مصاحبین کے چودہ طبق روشن کردیئے اور جسے وہ اپنی وارثت سمجھ رہے تھے، وہ بیس روزمیں تتربتر ہوتی دکھائی دینے لگی۔ یوں گردن میں آیا اتفاق کا سریا بھی پگھلتا نظرآرہا ہے ۔
دوسرا یہ کہ ہونہار احسن اقبال، گزشتہ چار ماہ سے ایک فلمی ہیرو کی طرف بڑھکیں ہانکتے دکھائی دے رہے تھے۔ ڈکٹیشن نہیں لوں گا۔ ’’اینف از اینف‘‘ کون کہاں ہے، میں ڈمی وزیرنہیں بنوں گا وغیرہ وغیرہ، لیکن گزشتہ بیس روز سے ایسا بلند دعوے کرنے والا ’’ہیرو‘‘بتاشے کی طرح آبِ ندامت میں بیٹھ چکا ہے۔ واشنگٹن سے سیکھی مینجمنٹ ہوا ہوگئی۔ جملوں کا ربط ٹوٹ گیا اور فخروغرور خزاں کے پتوں کی طرح بکھر رہا ہے۔یہی نہیں بلکہ ان کے نفس ناطقہ طلال چودھری بھی ہیں کہ نہیں ہیں کی مثال بن گئے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک عجیب منظر دکھایا۔
تیسرا یہ کہ راجہ ظفرالحق جیسا جہاں دیدہ اوربزرگ سیاست دان بھی، جنہیں مرحوم ضیاء الحق نے اپنا ’’اوپنر‘‘قراردیا تھا، وہ ضیاء مرحوم کے سیاسی بیٹے نوازشریف صاحب کی وکالت میں کذب و ریا کی کہانی لکھتے نظر آرہے ہیں۔ حضرت نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں فرمایا اس گناہ میں سب شریک ہیں جبکہ صاحبزادہ طارق اللہ نے حلفیہ کہا کہ ہم نے قومی اسمبلی میں ترمیم پیش کی جسے دانستہ طورپروزیرقانون زاہد حامد نے مسترد کیا اگر اسے مان لیا جاتا تو یہ فساد رونما نہ ہوتا اوریہ سب حقائق اسمبلی کے ریکارڈ پر اور اس کی ویب سائٹس پرموجود ہیں لیکن جناب راجہ ظفرالحق اس ثبوت کا سرے سے ذکر ہی نہیں کرتے۔ یوں (ن)لیگ کے جھوٹ پرپردہ ڈالنے کے شریک جرم ثابت ہوتے ہیں‘ ان کے ہمراہ مشاہد اللہ پراس لئے اعتراض کرنا ہم مناسب نہیں سمجھتے کہ وہ دوسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، جہاں سب چلتا ہے۔
چوتھا یہ کہ سازش کے نتیجے میں، بدنیتی پر یامحض غلطی اورتساہل سے قانون سازی کا یہ اذیت ناک واقعہ رونما ہوا۔ یہ سب باتیں اب قانونی حیثیت اختیار کرگئی ہیں۔ اصل خبراس میں سے یہ نکلی کہ 43 برس کے بعد ختم نبوت پرعمومی سطح پرتساہل اوربے خبری ڈیرے ڈال رہی تھی۔ این جی اوز مافیا اور میڈیامنڈی کے ذریعے یہ بنیادی ایمانی معاملہ نظراندازہورہا تھا لیکن اس خوب صورت غلطی نے عقیدہ ختم نبوت کو پوری قوت اور توانائی سے زندہ و بیدار اورتازہ کردیا۔ وہ نسل جو1974کے بعد میں شعور کو پہنچی ہے۔ اس کے لئے بھی یہ مسئلہ آنکھیں کھول دینے کا سبب بنا اورآج صورت یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا بے دین یا سیکولر بھی اس مسئلے پر سواداعظم کے سامنے کھڑا ہونے کی ہمت نہیں پاتا۔ یوں ختم نبوت کے بیانیے میں تازگی نے ایمان کی فصل کومزید ہرابھرا کردیا ہے۔
پانچوں یہ کہ دھرنے کی دھمک نے ان تمام مذہب بیزارعناصر کو یہ کھلا پیغام دیا ہے کہ اللہ اس کے رسولؐ اسلامی تہذیب اوردو قومی نظریے اور پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی یاوہ گوئی کی قیمت ادا کرنا پڑی گی یہ پیغام اس قدر بھرپور ہے کہ بہت سے فتاوی اور حب الوطنی کے اسباق اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں۔واضح رہے کہ اس وقت سیاسی میدان میں موجود مذہبی عناصر ووٹوں کی بھیک کے ہاتھوں ایسے شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ وہ توحید کے بنیادی پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی ہمت نہیں رکھتے، بلکہ اکھنڈ بھارت کے صریحاً کفرکے سامنے بھی ممیاتی بکریوں کی طرح زمین پر لیٹے رہتے ہیں۔
چھٹا یہ کہ سیاسی معرکہ آرائی اور حقیقی ایمانی معرکے میں پولیس اور فوج تک بھی ایمان کی بہارکی خوشبوبکھیرتی اورانہیں اندھی قوت استعمال کرنے سے پہلے سومرتبہ سوچنے پرمجبورکرتی ہے۔
ساتویںیہ کہ اس کہانی پرتوہنسی اور رونا بیک وقت آتا ہے کہ وقت روانگی لوگوں میں پیسے تقسیم کئے گئے۔ہم نے پوری تحقیق کی ہے ، یہ صرف پندرہ ہزار روپے تھے، جو پندرہ مستحق اور نادار عاشقانِ رسولؐ میں بانٹے گئے۔
یادرکھیں جرم اور سازش یوں کھلے عام نہیں کی جاتی۔ ذرا یہ تو معلوم کیجئے کہ الطاف بھائی جو قتل، غداری اور بھتہ خوری کے ساتھ خود پاکستانی فوجیوں اور پولیس اہل کاروں کو قتل کرنے کے جرائم میں ملوث تھے، انہیں نواز شریف سے لے کر بے نظیر تک اور مشرف سے زرداری راج تک کروڑوں روپے کی رشوت دی جاتی تھی۔ سوات اور وزیرستان میں بحالی کے لئے بے حساب اور بلوچستان کے قاتلوں اورغداروں پر لامتناہی رقوم خرچ کی گئیں۔ انہی صحافیوں کے سامنے اور گز گز لمبی زبانوں والے سیاست دانوں کے ہاتھوں یہ جرم ہوتے رہے۔ کیاموازنہ ہے پندرہ ہزار روپے کا ان اربوں روپوں کی بلیک میلنگ سے خدا کے لیے خیال رکھے۔ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے۔
اللہ اللہ، مجرم کس طرح قانون نافذ کرنے والے اداروں پر الزام لگا رہے ہیں اور اپنی چارپائی کے نیچے دیکھتے تک نہیں۔ ایک جج صاحب نے اسلام آباد کے معاہدے پر‘ فوج کو آڑھے ہاتھوں لیا ہوا ہے جب کہ دوسرا برادر جج ملک کو خانہ جنگی سے بچانے پر خراج تحسین پیش کررہا ہے۔ آئینی انارکی اسی کو کہتے ہیں کہ عدالتیں متضاد اور متصادم فیصلے دیتی ہیں اور اگر یہ معاملہ بڑھتا چلے جائے تو ریاست خاموشی سے اوندھے منہ گھٹنوں کے بل اپنے قدموں پر گر جاتی ہے۔
محسوس ہو رہا ہے عالی مرتبت اور عالی نسب جسٹس وجیہہ الدین احمد جیسا کوئی بے باک اوراصول پسند ہی ہماری نیّا پار لگا سکتا ہے ۔جج صاحب قانون پڑھاتے ہی نہیں جب بھی موقع ملا اس پر عمل کرکے بھی دکھایا۔مشرف جیسے آمر مطلق اور عمران جیسے عقلِ کْل کا مقابلہ کیا‘ بلند و بالا عہدوں اور مناصب کو چشم زدن میں ٹھکرا دیا اور پچھے مڑ کر نہیں دیکھا اصولوں پر سمجھوتا نہ کیا ۔