پیپلزپارٹی گولڈن جوبلی اور ’’واہ‘‘!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
پیپلزپارٹی گولڈن جوبلی اور ’’واہ‘‘!

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے‘ والی بات بھی چاک ہوچکی، گویا پورا پردہ ہی چاک ہوگیا۔ ’’پردہ داری سے پردہ چاک ہونے تک‘‘ میں فلسفہ بھی ہوتا ہے اور تجربہ بھی اور کئی اعتبار سے ایک تاریخ بھی۔ بہرحال کم لوگوں کو اس عام فہم سی بات کا کم فہم ہوتا ہے کہ تاریخ بننے اور تاریخ رہ جانے کا انحصار تحریک پر ہوتا ہے۔ جہاں تحریک کا معاملہ دم توڑ جائے وہاں سرے سے معاملہ ہی تاریک ہو جاتا ہے۔ پس تاریک بننے سے اجتناب کے لئے تحریک بننا ضروری ہے۔ شاید یہی تاریخ کا سبق ہے!

ارے کسی کی پردہ داری کا کیا تذکرہ یہاں تو ذاتی پردہ داری کو جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ تین چار دن سے بے خودی کا عالم ہے۔ ایک صریرخامے کو دل مچل رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ غالب نے درست ہی کہا تھا:
بے خودی بے سبب نہیں غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
میں ملتان کا رخت سفر باندھے ہوئے تھا کہ ہمارے ایک دوست پروڈیوسر رانا طارق مسعود کا فون آیا کہ آج کے لائیو ٹاک شو میں آپ نے ضرور آنا ہے کیونکہ پی پی پی کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے بات کرنی ہے۔ میں نے بوجہ سفر معذرت کرلی تاہم لاہور سے ملتان میرا دماغ میرے دل ناداں پر ایک ہی دستک دیتا رہا کہ میں ازخودگولڈن جوبلی کی دہلیز پر ہوں‘ پیپلزپارٹی کی گولڈن جوبلی تو میں بھول ہی گیا اور میں مسلسل سوچتا رہا کہ میں پاکستان سے محض بیس اکیس برس ہی چھوٹا ہوں۔ بس؟ چلیے میں اور پیپلزپارٹی کم وبیش ہم عمر ہی سہی لیکن ان 50برس میں میں نے پاکستان کو کیا دیا؟ پاکستان جو مجھ سے محض بیس اکیس سال بڑا ہے اس نے مجھے تعلیم دی‘ ڈگریاں دیں‘ زمین دی‘ مال وزر دیا، ایک نام دیا، گود دی اپنی چھاتی کے ساتھ لگا کر پروان چڑھایا۔ مگر میں نے اس پاکستان کو کیا دیا؟ ملتان سے واپس لاہور بھی آگیا لیکن دل سے گولڈن جوبلی والی بات نکلی نہیں۔ پھر یوں ہوا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ہمیں اپنے ایک عزیز دوست سابق پرنسپل علامہ اقبال میڈیکل کالج کے وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اکرم کی صاحبزادی کی تقریب شادی خانہ آبادی میں جانا پڑا‘ وہاں ذہن میں اٹکی ہوئی بات نے اور بھی تنگ کیا کیونکہ اس تقریب میں حکومتی اراکین ووزراء کے علاوہ پی پی پی کے قائدین کا جم غفیر تھا۔ بیورو کریسی اور میڈیا چمکتے دمکتے لوگ بھی بیسیوں تھے۔ کیوں نہ ہوتے، صاحبزادی انم سابق جسٹس اور سابق اٹارنی جنرل جسٹس محمد قیوم کی بھتیجی بھی تو ہے۔ پھر موجودہ وفاقی وزیر پرویز ملک بھی چچا ہوئے۔ اسی طرح شائستہ پرویز ملک بھی ممبر اسمبلی ہیں جو انم کی تائی/چچی ٹھہریں۔ علاوہ بریں صاحبزادی کی پھوپھی یاسمین رحمن (زوجہ مصباح رحمن سابق صدر پی پی پی لاہور) 2008ء میں پی پی پی کی ممبر قومی اسمبلی (سپیشل سیٹ) منتخب ہوئیں۔ یقیناً اس تقریب میں سینکڑوں متوالے اور جیالے رہنما نظر آنے تھے۔ سیاست کاروں کے جم غفیر کے درشن نے بالآخر مجھے پی پی پی گولڈن جوبلی کو کسی حد تک سپرد قلم پر مجبور کردیا۔
اب آتے ہیں پی پی پی ارتقاء کی طرف، آج جو حشر ہے سارا قصور زرداری کا نہیں طالبان اور لیڈران کا بھی ہے۔ پی پی پی ہی نہیں سبھی سیاسی جماعتوں اور میڈیا تک میں تحریکیں تھک گئیں اور ہوس اقتدار دوڑ کر آگے نکل گئے۔ بہرحال پی پی پی کے ساتھ کئی سیاسی جماعتیں بنیں‘ پھر اس کے مقابلہ پر اسٹیبلشمنٹ نے متعدد سیاسی جماعتوں اور سیاسی گروہوں کی پنیری بھی لگائیں جن میں سے کئی خزاں کی نذر ہوگئیں اور کچھ شجر سایہ دار اور پھولدار بھی بن گئیں۔ اس دوران کئی جماعتیں پی پی پی سے بغاوت اور عداوت کے سبب اس کے بطن سے بنیں، کوئی اسٹیبلشمنٹ کی منظور نظر ہوئیں اور قطعی پرکشش نہ تھیں۔ غلام مصطفیٰ جتوئی کی نیشنل پیپلزپارٹی‘ غلام مصطفیٰ کھر (سابق گورنر پنجاب و سابق وزیراعلیٰ پنجاب) کی متعدد بغاوتوں‘ پھر سابق وزیراعلیٰ صوبہ سرحد آفتاب خان شیرپائو کی پیپلزپارٹی (شیرپائو گروپ)‘ اسی طرح صاحبزادہ ذوالفقارعلی بھٹو‘ میر مرتضیٰ بھٹو اور ان کی بیگم غنویٰ بھٹو کی پیپلزپارٹی (شہیدبھٹو گروپ)کو کوئی سیاسی پذیرائی نہ مل سکی۔ حنیف رامے (سابق وزیراعلیٰ پنجاب) نے پی پی پی چھوڑ کر مساوات پارٹی بنانے کا شوق پورا کیا اور نامراد رہے۔ دوبارہ پی پی پی میں آکر قبل ازموت ایک دفعہ پھر پی پی پی کے پلیٹ فارم سے بینظیربھٹو کے آخری دور حکومت میں پنجاب اسمبلی کے سپیکر بنے۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے کزن اور سابق وزیراعلیٰ سندھ ممتاز بھٹو نے بھی اپنی دکانداری چمکا کر دیکھی اور ناکامی کے بعد (ن)لیگ کے در کی بھی خاک چھانی مگر پی پی پی چھوڑنے کے بعد جتوئی اور کھر کی طرح کچھ ہاتھ نہ لگا۔ آج کل ممتازبھٹو اور غلام مصطفیٰ کھر سیاست قسمت آزمانے کی پاداش میں تحریک انصاف کے قدموں میں ڈھیر ہیں۔ فیصل صالح حیات اور رائو سکندر اقبال ایک بڑا گروپ لے کر دور مشرف میں پیٹریاٹ کے برانڈ کے ساتھ پی پی پی سے ذاتی خوف اور مکافات عمل کے ڈر سے مشرف کے ہاتھوں پر بیعت ہوگئے تاہم آج واپس گھر پر ہیں۔ (رائو سکندر اقبال تو اللہ کو پیار ہوچکے ہیں تاہم ان کی فیملی واپس پی پی پی میں ہے)۔ پی پی پنجاب کے سابق صدور اور وفاقی وزراء بھی چڑھتے سورجوں کی پوجا پرستش کے لئے نئی درگاہوں اور سیاسی خانقاہوں کے مجاور بن چکے۔ اس پر حیرانی نہیں، ایسا ہونا ہمارا ٹاپ کلاس سیاسی کلچر ہے جس کا سامنا عنقریب (ن)لیگ کو بھی کرنا پڑے گا اور جوازوں کی کمی نہیں، ایک ڈھونڈو ہزار ملیں گے۔ نظریات اور جمہوری آئیوڈین کی کمی ہو تو نت نئے تلوے چاٹنے پڑتے ہیں۔ کوئی بات نہیں خیر ہے ’’سیاہ ست‘‘ میں یہ سب چلتا ہے مگر یہ سب پاکستان‘ نظریہ پاکستان یا خلق خدا کے لئے نہیں حرص وہوس کے لئے کرنا پڑتا ہے۔
بات چلی تھی پیپلزپارٹی کی گولڈن جوبلی سے جس کی بنیاد ذوالفقارعلی بھٹو نے رکھی اور محترمہ نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیربھٹو کی کاوشوں اور قربانیوں سے 2008ء تا 2013ء تک یہ وفاق کی علامت اور چاروں صوبوں کی زنجیر بنی رہی۔ سلسلۂ پی پی پی بھٹو صاحب‘ نصرت بھٹو‘ بینظیربھٹو کے ہاتھوں سے ہوتا ہوا آصف علی زرداری تک آپہنچا اور آج بلاول بھٹو زرداری اشتراک رکھتے ہیں۔ میڈیا کا وہ دوست جو کبھی پی پی پی کے ہم نوا تھا اور وہ ممبران اسمبلی یا لیڈران جو پی پی کو چھوڑ چکے بمعہ اللہ واسطے کے مخالفین کی نظر میں پی پی چراغ سحر ہوچکی ہے اور یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ خاتمہ نہیں زوال ضرور ہے۔ پی پی پی کو ناہیدخان اور صفدر صاحبان جیسوں کے جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ شاید فردوس عاشق اعوان و بابر اعوان یا گوندل برادران کے جانے سے بھی خاص فرق نہیں پڑتا لیکن پی پی پی کی تحریک ختم ہونے سے تاریخ ختم ہونے کا خدشہ ضرور ہے۔ یہ درست ہے کہ خورشید شاہ‘ نوید قمر‘ یوسف رضاگیلانی‘ راجہ پرویزاشرف‘ میاں رضاربانی‘ زمرد خان‘ سعیدغنی‘ اعتزاز احسن وغیرہ جب تک بلاول زرداری اور آصف زرداری کے ساتھ ہیں پی پی پی قائم ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بلاول بھٹو کو آگے لایا جائے، اس کی تربیت کی جائے اور پی پی پی روٹی، کپڑا اور مکان بلاول ہائوسز میں مقید نہ کریں بلکہ بھٹو کی طرح غریب کے جھونپڑے اور دل میں لائیں۔ محترم رحمن ملکوں اور سبھی فریال تالپوروں کو پچھلی صف میں لے جاکر عوامی لوگوں اور رہنمائوں کو پہلی صف میں لایا جائے۔ ہمیں معلوم ہے کہ چودھری منظور‘ قمر زمان کائرہ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر وغیرہ کو ہماری بات ہمیشہ بری اور کڑوی لگتی ہے لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ پی پی پی نے گولڈن جوبلی پر حالات حاضرہ کے تناظر میں بھٹو کے 1973ء کے آئین، قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کے کارنامے‘ بھٹو صاحب کے سیاست کو ڈیروں اور وڈیروں سے نکال کر عام آدمی میں لاکھڑا کرنے‘ بھٹو صاحب کے ایٹم بم کی بنیاد رکھنے اور بینظیربھٹو کی میزائل ٹیکنالوجی کی تقویت بخشنے‘ 18ویں ترمیم کے متعارف‘ میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھنے‘ عام لیڈران کو اٹھا کر وزیراعظم تک بنا دینے کے زرداری عمل‘ سدا اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہونے جمہوری قربانیوں کو دوام بخشنے جیسے معاملات کو منظم انداز میں گولڈن جوبلی پر نئی پود اور عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھا؟ بابا عجلت نظر آتی ہے ہوم ورک نہیں۔ جیالو! روایتی تحریک برپا کرنا تو دور کی بات، کیا تاریخ بچانے کے لئے تحریک سنانے سے بھی قاصر ہو؟ صریر خامہ پوچھتا ہے کہ ذاتی اور اجتماعی گولڈن جوبلیوں نے پاکستان کو کیا دیا اور کس نے کتنا دیا؟