اقتصادی راہداری ۔ سائیڈ ایفکٹس

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
اقتصادی راہداری ۔ سائیڈ ایفکٹس

سب سے پہلے تو یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ یہ شاندار منصوبہ کس حکمران کا کارنامہ ہے۔سابقہ نواز شریف حکومت کے مطابق یہ شاندار منصوبہ انکی حکومت کا کارنامہ ہے جبکہ سابقہ زرداری حکومت کے اعلان کے مطابق یہ زرداری حکومت نے شروع کیا تھا۔ایک مرحلہ پر سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اسکا کریڈٹ لینے کی کوشش کی تھی۔ بہر حال یہ کارنامہ جس بھی حکومت کا ہو وہ قابل تحسین ہے۔ نواز حکومت کا دعویٰ تھا کہ یہ منصوبہ تکمیل کے بعد ’’ گیم چینجر‘‘ ثابت ہوگا۔اس سے پاکستان میں شاندار اقتصادی ترقی ہو گی۔ بہت سے لوگوں کو ملازمتیں ملیں گی۔تمام صوبے ایک جتنے مستفید ہوں گے۔ نئے کارخانے لگیں گے۔انڈسٹریل زونزبنیںگے۔انرجی کی کمی کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گا اور پاکستان کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔پاکستان کی اقتصادی راہداری دراصل چین کی نئی معاشی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ چین دنیا میں معاشی طور پر اور عسکری طور پر ایک ابھرتی ہوئی طاقت ہے۔جس انداز میں چین آگے بڑھ رہا ہے اس سے کوئی شک نہیں رہتا کہ مستقبل میں چین ہی عالمی لیڈر ہوگا۔
چین آگے بڑھنے کے لئے امریکہ کی طرح نہ تو مختلف ممالک پر جنگ مسلط کرتا ہے نہ ہی کسی کو دھمکیاں دیتا ہے بلکہ حُسن سلوک اور معاشی تعاون سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین کی بہت بڑی خواہش ہے کہ چین کی پرانی ’’سلک روڈ ‘‘ دوبارہ زندہ کی جائے اور اسکے ذریعے جنوبی ایشیا مشرق وسطیٰ، افریقہ اور یورپ سے رابطہ ممکن بنایا جائے۔پرانی سلک روڈ چین کے ’’حین خاندان‘‘ کے دور حکمرانی میں 207قبل مسیح سے سن220تک قائم رہی۔ اس راستے کے ذریعے کاروان وسط ایشیا اور جنوبی ایشیا سے مشرق وسطیٰ ،افریقہ اور یورپ تک سفر کرتے تھے۔ اسی راستے کے ذریعے چین ایک دفعہ پھر ایشیا،افریقہ اور یورپ کو ملانا چاہتا ہے۔ رابطہ ممکن بنانے کے لئے چین دنیا کے68 ممالک میں 3ٹریلین ڈالرز خرچ کرنے کا ارادہ رکھتاہے ان ممالک کے انفراسٹرکچر کی ڈیو لپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائیگی۔ سڑکیں ،ریلویز،ائیر پورٹس،فائبرآپٹکس کنکشن اور بندر گاہوں کو ترقی دی جائیگی۔ان کے علاوہ چینی منصوبے میں انڈسٹریل زونزکی تعمیر، زراعت اور انرجی سیکٹرز کی ترقی یقینی بنائی جائیگی۔انفراسٹرکچر کی ترقی سے ان ممالک کی معاشی ترقی میں انقلاب برپا ہوگا۔لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئیگی۔ لوگوں کے آپس میں رابطے بڑھیں گے۔ثقافتی اور معاشی ماحول تبدیل ہو گا۔
ان ممالک کی ترقی کی تمام راہیں چین سے شروع ہو کر چین میں ہی اختتام پذیر ہوں گی۔یعنی سب کچھ چین کے کنٹرول میں ہو گا۔ اس طرح چین ہی دنیا کا لیڈر ہوگا۔ چین نے اس منصوبے کی بنیاد 2014میں رکھی اور اسے ’’ایک خطہ ایک سڑک‘‘ یا OBORکا نام دیا یعنی One Belt One Road" ـــ"
چین کے اس نئے منصوبے میں پاکستان ایک بہت ہی اہم ملک ہے۔پاکستان کی شمالی سرحد چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملتی ہے۔ اس مقام پر یہ سرحد 15000فٹ سے بھی زیادہ بلند ہے۔ اس مشترکہ بارڈر کی وجہ سے چین کو کوہ قراقرم اور بلوچستان کے راستے بحر ہند کے ساحل گوادر کی بندر گاہ تک رسائی ملی ہے جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا نام دیا گیا ہے۔ اس راہداری پر دو سالوں سے کام شروع ہے۔ یہ راہداری پاکستان کے لئے تو ترقی کی ضمانت ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس کی وجہ سے پاکستان میں بہت سا انفراسٹرکچر نیا تعمیر ہوگا اور پہلے والے موجود انفراسٹرکچر کو بھی جدید بنایا جائیگا۔
چین پاکستان کی اس ترقی پر60بلین ڈالرز خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے لیکن اس رقم کا ایک معقول حصہ پاکستان کو قرض کے طور پر دیا گیا ہے جسے بہر حال سود سمیت واپس کرنا ہوگا۔ اقتصادی راہداری میں بہت سی نئی تعمیرات شامل ہیں مثلاً انڈسٹریل پارکس،زرعی فارمز، ریلویز، ائیر پورٹس،روڈز،فائبر آپٹکس نیٹ ورک اور انرجی جنریشن پروجیکٹس وغیرہ ۔
علاوہ ازیں اس میں دنیا کا ایک سب سے بڑا سولر پارک اور کراچی سے پشاور تک ہائی سپیڈ ریلوے ٹرین کے منصوبے بھی شامل ہیں۔یہ ٹرین 160کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلے گی۔ یہ تمام منصوبے چینی منصوبہ بندی کے مطابق چینی مزدوروں اور کاریگروں کی وساطت سے مکمل کئے جائیں گے اور ان کا کنٹرول چینی منیجروں کے ہاتھ میں ہوگا۔ ان پروجیکٹس میں ٹیلی کمیو نیکیشن نیٹ ورک بھی ہو گا جس کا لنک چین کے ساتھ ہو گا اور چین کے ذریعے یورپ اور دیگر ممالک سے ۔ ان ممالک کے ثقافتی پروگرامز اور فلمیں آرام سے پاکستان میں دیکھی جا سکیں گی۔
میڈیا کی اطلاع کے مطابق کچھ شہروں کو ’’محفوظ ‘‘ بنانے کا ٹھیکہ بھی چینی فرموں کو دیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں اس کام کی ابتدا بھی کر دی گئی ہے۔ ’’محفوظ شہر ‘‘ کا بنیادی مقصد عوام کو دہشتگردی کی کاروائیوں سے بچانا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اور فوج کو بھی تربیت دینا پڑے گی ۔کچھ پرانی عمارات شاید گرانی پڑیں اور کچھ نئی تعمیرات بھی کرنا پڑیں گی ۔جب یہ سارا کام چینی انجنئیرز اور چینی تربیتی انسٹرکٹر زکریں گے تو یقیناً ہماری ثقافت اور طرز زندگی بھی متاثر ہوں گے۔ان تبدیلیوں سے ہمارا اسلامک کلچر بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
ظاہری طور پر تو چینی اقتصادی راہداری پاکستان کے لئے ایک ’’نعمت ‘‘ ہے جس سے پاکستان میں بہت سا نیا انفراسٹرکچر تعمیر ہو گا۔ ملک میں بہت زیادہ معاشی ترقی ہو گی ۔انرجی پروجیکٹس کی تکمیل کے بعد ملک میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائیگی۔ ملک میں جدید قسم کی زرعی فارمنگ متعارف کرائی جائے گی جس سے زراعت میں انقلاب آئے گا وغیرہ وغیرہ۔
یہ تمام باتیں سوچ کر ہی خوشی ہوتی ہے۔ اگر یہ تمام منصوبے آرام سے مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان ہر لحاظ سے ایک مضبوط و مستحکم ملک بن کر دنیا کے سامنے آئے گا اور یہی ہر پاکستانی کی خواہش ہے لیکن یہ سب کچھ سوچ کر یہ خوف بھی سر اٹھاتا ہے کہ آیا ایسا ممکن بھی یا نہیں۔ یہ تو ہم پاکستانیوں کی خواہش ہے۔ چینیوں کی اس منصوبے کے متعلق کیا سوچ ہے اسکے متعلق ہمیں کوئی پتہ نہیں۔ اگر عالمی میڈیا کو پڑھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب کچھ اتنا خوش کن نہیں جتنا ہم سوچتے ہیں۔
یہاں سب سے پہلی چیز تو یہ ہے کہ حکمرانوں نے یہ معاہدہ مکمل طور پر تا حال عوام کے سامنے نہیں رکھا ۔ہر بین الاقوامی معاہدے میں کچھ نہ کچھ خفیہ گوشے ضرور ہو تے ہیں جنہیں کچھ خفیہ مفادات کے حصول کے لئے عوام سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا اس معاہدے میں بھی کچھ ایسے خفیہ گوشے ہیں جو تا حال عوام کی نظروں سے اوجھل ہیں اور یہی خطرناک خفیہ گوشے وطن عزیز کے لئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثلاً ہم عوام خوش ہیں کہ چین 60بلین ڈالرز پاکستان میں خرچ کررہا ہے جس سے ایک نیا پاکستان بننے کی توقع ہے لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اس 60 بلین میں ایک معقول حصہ ہمیں قرض پر دیا گیا ہے جو ہمیں سود سمیت واپس کرنا ہوگا اور حکمران اس کا ذکر تک نہیں کرتے۔ پاکستان پہلے بھی قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔ پاکستان کا ہر شخص بمعہ نئے پیدا ہونے والے بچے تک کے سوا لاکھ کا مقروض ہے جو ہمیں ہر صورت ادا کرنے پڑیں گے۔اس کے اوپر چین کا قرض جو بمع سود واپس کرنا ہو گا تو اسکی ادائیگی کیسے ممکن ہو گی؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں کرپشن انتہا درجے پر پہنچی ہوئی ہے۔ہم وہ بد قسمت ملک ہیں کہ ہمیں وہی اشخاص لوٹتے ہیں جن کے ذمہ ہماری را ہبری ہے۔ پاکستان میں جتنا قرض آتا ہے اگر یہ صحیح استعمال ہوتا تو پاکستان آج ایک ترقی یافتہ ملک ہوتا لیکن ہمارا قرض تو راستے میں ہی لوٹا جاتا ہے اور بچا کھچا حصہ یہاں کے منصوبہ ساز ،ٹھیکیدار اور اہلکار مل کر کھا جاتے ہیں۔ ایک عام اندازے کے مطابق اصل رقم کا محض دس فیصد حصہ حکومتی پروجیکٹس پر خرچ ہوتا ہے۔ جسٹس کیانی مرحوم نے ایک دفعہ ٹھیک کہا تھا کہ: ’’ہمارے انجینئرز اتنے ماہر ہیں کہ وہ ایسی جگہوں پر بھی پل بنا لیتے ہیں جہاں کوئی دریا نہیں بہتا ‘‘ لہٰذا یہ بلنیز کا قرض پاکستان کی ترقی پر تو شاید ہی استعمال ہو لیکن بے قصور عوام کو مزید ضرور ڈبو دے گا۔ ہمیں دوسری خوش فہمی یہ ہے کہ ہمیں روزگار ملے گا۔چینی پالیسی کے مطابق وہ جہاں بھی کام کرتے ہیں چینی اپنی لیبر ،اپنے ٹیکنیشن ، اپنے منیجرز اور اپنے سیکورٹی افراد ساتھ لاتے ہیں جو یہاں بھی لائیں گے۔ ایک غیر ملکی اطلاع کے مطابق 15000چینی پاکستان میں کام کریں گے ۔
لہٰذا پاکستانیوں کو جابز ملنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہاں اگر کوئی جاب ملا بھی تو وہ خاکروب یا گاڈز وغیرہ کا ہو گا۔یہ ایک تکلیف دہ امر ہو گا کہ پروجیکٹس ہمارے ملک میں ہوں گے اور تمام ورکرز غیر ملکی۔
اسی طرح یہاں جتنے بھی پروجیکٹس بنیں گے انکا لنک چین سے ہو گا ۔لہٰذا کنٹرول بھی انہی کے ہاتھ میں ہو گا۔اس صورت میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ پاکستان فائدہ اٹھا بھی سکتا ہے یا نہیں؟کیونکہ اس منصوبے کے سائیڈ ایفکٹس شاید ہمارے کنٹرول سے باہر ہوں۔