کیا سیاستدان ہی بد عنوان ہیں؟

کیا سیاستدان ہی بد عنوان ہیں؟

ایک زمانہ تھا اور وہ بھی بہت سادہ! لیکن زندگی کا پہیہ بہت تیزی سے چل رہا تھا۔ ہر کام اور ہر فعل معمول کے مطابق صحیح وقت اور صحیح انداز میں انجام پا رہاتھا۔ لیکن جوں جوں انسان نے ترقی کی اور جدید ترین ٹیکنالوجیزسامنے آئیںتو ہمارے پاو¿ں بھی پھسل گئے اور ہر طرف سستی ہی سستی پڑ گئی۔ کیونکہ حال ہی میں صرف ہماری بد قسمت ریلوے ہی سست روی کا شکار نہیں بلکہ یہا ں پر ہر چیز سست روی ، کرپشن اور بد عنوانی کا شکار ہے۔ دوسرے ممالک کا تھوڑا جائزہ لیں تو بندہ دنگ رہ جاتا ہے کہ ان ممالک میں سویلین حکومت کیلئے کتنی قربانیاں دی جارہی ہیں ۔ یہ پتہ ان ممالک کے عوام سے لگ سکتا ہے۔ لیکن یہاں ہمارے بدقسمت ملک میں بات ہی کچھ اور ہے۔ یہاں جس کسی کے ہاتھ جو کچھ لگ جاتا ہے اسے مال غنیمت سمجھ کر کھا جاتاہے اور ” آگے دوڑپیچھے چوڑ “ والی بات ہے۔ کیونکہ حکمرا ن اور برسر اقتدار لوگ خزانے سمیٹ رہے ہیں اور عوام مہنگائی ‘ لوڈ شیڈ نگ اور بے روزگاری سے اتنے تنگ آگئے ہیں کہ لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں اور ادارے الزامات کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ عوام اس افرا تفری کے عالم میں گرمی کے یہ لمحے سڑکوں پر گزارنے کے علاوہ اورکربھی کیاسکتے ہیں ۔ ان بیچارے عوام کی آواز تو ان کے کانوں تک پہنچتی بھی نہیں ہے۔ کیونکہ جب حکمران عیاشیوں اور ادارے الزام تراشیوں میں مصروف ہوجاتے ہیں تو ان حالات میں پھر ان مظلوم عوام کی آواز اوپر والوں کے کانوں تک کہاں پہنچ سکتی ہے۔ حکومت اورعدلیہ محاذ آرائی سے ہماری ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر کھڑی ہے اور دنیا بھرمیں ہماری بدنامی ہورہی ہے۔ یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ اس محاذ آرائی میں حصہ لینے والا کوئی بھی حریف کسی بھی طرح سے ملک کی خدمت نہیں کر رہا کیونکہ استثنیٰ ”صدر“ کو حاصل ہے کسی شخصیت کو نہیں۔ عدلیہ کا اصرار ہے کہ استثنیٰ کلیم کرنے پر فیصلہ کیا جائیگا جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ کلیم کرنے کی کوئی ضرورت نہیں‘ استثنیٰ آئین میں موجود ہے۔ اس ٹکراﺅ کی صورتحال میں سارا ملک گومگوں کی کیفیت میں ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے بہتر یہی ہے کہ استثنیٰ پر سپریم کورٹ سوموٹوایکشن لیکر حکومتی موقف تفصیل کے ساتھ سن کر فیصلہ جاری کرے تاکہ اس مسئلے کا مناسب قانونی حل نکل سکے۔
جہاں تک جمہوریت کی بات ہے تو پہلے اکثر جمہوریت کو دوسری طاقت سے خطرہ ہوتا تھا اور جمہوریت میں دراڑ کے دوران اکثر یہ معرکہ پیش آیا ہے کہ دوسری طاقت نے حکومت کے اختیارات قبضے میں لئے ہیں اور جمہوری حکومت کو بھی یہ جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ قانون کی کسی شق کی خلاف ورزی کرے۔ جب بھی جمہوریت میں آج کل جیسے چہرے آجاتے جس طرح ابھی نمودار ہوئے ہیں تو ”فرشتے“ حرکت میں آجاتے۔ پارلیمنٹ کو توڑ دیتے اور وزیراعظم وغیرہ کو گھر بھیج دیتے اور جب وہ اقتدار پر قابض ہوجاتے اور یہ بھی کہتے تھے کہ ہم صرف ملک کی بگڑی ہوئی حالات کو کنٹرول کرنے آئے ہیں۔ تو پھر عوام کو ان سیاستدانوں کا پتہ چلتا کہ یہی سیاستدان کتنے بد عنوان ہیں اور سیاست کتنا گندا کھیل ہے۔ اب حالیہ دور ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنے کیلئے سازگار نہ ہوگا اور اب پتہ نہیں کہ ہمارے موجودہ دور میں عسکری قوت کی بجائے کسی اور طاقت سے خطرہ ہے۔ اب جیسا کہ فضاو¿ں میں قانون کی بالادستی کی باتیں گونج رہی ہیں۔ اب قانون کی بالادستی سے کون انکار کر سکتا ہے کوئی بھی ملک قانون کی بالا دستی کے بغیر نہیں چل سکتا ہے۔ مگر عدلیہ کا نشانہ بھی ایک سمت نہیں ہونا چاہئے بلکہ جو‘جو بھی مجرم ہیں‘ اُن کو قانون کے کٹہرے میں ایک برابر کھڑا کرنا چاہئے۔ عدلیہ کو شاہ و گدا کا فرق نہیں کرنا چاہئے‘ تب عدلیہ پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں مل سکے گا۔ لیکن بعض اوقات حالات ایسے بن جاتے ہیںکہ سب کی نظریں ایک ہی سمت مڑ جاتی ہےں جس طرح کہ موجودہ حالات میں ہیں۔ جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک میں ایک مقتدر شخصیت سے بڑ ھ کر اور کوئی بدعنوان سیاستدان ہے ہی نہیں۔ اسکے سامنے تو ملک کے باقی سیاستدان تو بالکل صاف آئینے کی طرح ہیں اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صدرکو ہر جرم کرنے پر استثنا حاصل ہے؟ اور دوسرا یہ دیکھا جائے کہ یہاں سیاستدا ن سب ایک ہی طرح ہےں؟یا سیاستدانوں کے علاوہ دیگر سول ، سرکاری اور دفاعی اداروں کے امراءبالکل صاف ہےں؟اور کیا ان میں سے کوئی بھی بد عنوانی کا شکار نہیں ؟یا ان کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ تو نہیں ہے؟لہٰذا ملک میں جتنے بھی سیاستدان ہیں‘ کوئی بھی اپنے آپ کو برا اور بد عنوان نہیں کہتا ۔ عمران خان دوسروں سے تھوڑا مختلف معلوم ہوتا ہے اور یہی ان کی شہرت کی بڑی وجہ ہے۔ تاہم اب انکے گرد جو چہرے نظر آتے ہیں ۔ہو سکتاہے یہی ان کیلئے تباہی کا سبب بھی بن جائیں کیونکہ ان چہروںسے مشکل ہی لگتا ہے کہ خان صاحب سونامی لے آئیں۔ اگر سیاستدان بد عنوان ہےں تو دوسرے صاحبان کو ہر طرح کا استثنا حاصل ہے؟۔میری اس تحریر کا مقصد یہ نہیں کہ جرائم سے ہر کسی کو مبرا کیا جائے بلکہ یہ کہ یہ سیاستدان اپنے آپ میں برداشت پیدا کرےں اور عدلیہ کے ہر حکم کی تعمیل کریں۔ایک بات یہ بھی سامنے آتی ہے کہ حالات کو معمول پر لانے کیلئے عدلیہ کو بھی ایک طریقہ کار پر چلنا چاہئے۔ کیونکہ اگر تمام سیاستدانوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے تو پھر حکومت چلانا بھی مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ آج کل کلئیر فیوچر مین ملنا بہت مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔ اسی لئے ماضی اور حال کے کچھ حصہ کو ایک لائن دینی پڑےگی ۔ اب بات پہ بات یاد آتی ہے جسطرح ائیر مارشل اصغر خان کا کیس ہے۔ جس میں انہوں نے 1990ءکے الیکشن میں خفیہ اداروں کی طرف سے رقم دینے کا انکشاف کیا تھا‘ اس کیس کو سرد خانے میں پھینک دیا گیا۔ اگر اس پر اسی طرح تیزی سے کام کیا جاتا جتنا کہ NRO پر کیا گیا تو آج نہ جانے کتنے سیاستدان الیکشن سے آو¿ٹ ہو جاتے ؟
ان تمام گزارشات کا مقصد یہ نہیں کہ صرف PPPوالے بد عنوان اور کرپٹ ہےں بلکہ PML, PTI, JUI اور JIسمیت تما م کے تمام تھوڑے بہت اس حمام میں حصہ دار ہیں۔کیونکہ دفاع پاکستان کونسل کے رعب اور ولولے سے لوگ کافی ڈر گئے تھے کہ کہیں یہ تحریک انصاف کے سونامی سے بھی بازی نہ لے جائے۔ لیکن آہستہ آہستہ ان کو بھی حالات نے اپنی آغوش میں لے لیا۔ حالانکہ انہوں نے تمام ترمزاحمت کا تہیہ کر رکھا تھا اور اسی کے ساتھ ساتھ عمران خان نے بھی انہی کی آواز میں آواز ملانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے بھی لانگ مارچ کی دھمکی دی تھی ۔ لیکن جب جذباتی مناظر پر زمینی حقائق کا رنگ بھرنا شروع ہوا تو ان کے تمام جذبات تہس نہس ہو گئے اور انکے وہ گرج دار نعرے ہوا کی لہروں میں لہراتے لہراتے خاموش ہو گئے۔ عوام اسی طرح ڈرون حملوں ، دھماکوں ، مالی مشکلات ، لوڈشیڈنگ ، بے روزگاری اور غربت کی طوفانی لہروں میں غوطے کھا رہے ہیں۔ حکومت ، عدلیہ اور تمام سیاسی رہنماو¿ں کو ان کی طرف توجہ دینی چاہئے اور انکے مسائل کے حل کیلئے فوری اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ان غریب اور مایوس عوام کے مسائل حل ہو سکےں اور ان کی پریشانیاں دور ہو جائیں۔ حکومت کی اونچ نیچ تو لگی رہتی ہے۔ مگر اسکے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے مسائل ہوتے ہیں۔ جن کو حل کرنا بھی بہت ضروری ہے۔