پاکستانی قیادت ، امریکی حکومت اور ڈرون حملے (آخری قسط)

کالم نگار  |  پروفیسر خورشید احمد
پاکستانی قیادت ، امریکی حکومت اور ڈرون حملے (آخری قسط)

لندن کے اخبار دی انڈی پنڈنٹ (10 جون 2012ئ) میں پیٹرک کاک برن کے مضمون میں یہ چشم کشا حقیقت بیان کی گئی ہے:
شمال مغربی سرحدی اضلاع میں ڈرون حملوں کا سب سے زیادہ چونکا دینے، لیکن کم بتایا جانے والا پہلو یہ ہے کہ یہ پاکستانی فوج اور اس کی طاقت ور خفیہ شاخ آئی ایس آئی کے تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹھیک نشانے پر حملہ کرنےوالے اسلحے کو بھی ہدف کی شناخت کیلئے زمین پر کی جانے والی خفیہ کارروائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ پاکستان میں، آئی ایس آئی نجی طور پر بتاتی اور اسکے ایجنٹ یہ تفصیلات مہیا کرتے ہیں کہ ڈرون کس کا تعاقب کریں۔ دُور بیٹھ کر کمانڈ پوسٹ سے ڈرون کی رہنمائی کرنا، دوسری جنگ ِ عظیم میں نشانہ پر لگنے والی بم باری یا عراق میں 1993ءاور 2003ءمیں ٹھیک نشانے پر لگنے والے میزائل حملے سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ اس بارے میں لمحے لمحے کی خفیہ اطلاع کہ کون کس گھر میں ہے اور جب وہ وہاں ہو، اس کی اطلاع کیلئے مقامی ایجنٹوں کے نیٹ ورک کی ضرورت ہوتی ہے جو ان معلومات کو فوراً پہنچا سکے۔یہ بہت ناپسندیدہ ہوگا کہ آئی ایس آئی، سی آئی اے کو اس طرح کا نیٹ ورک بنانے کی اجازت دے۔ وہ فیصلہ کن اطلاع جس کی وجہ سے امریکا نے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو تلاش کیا، خود آئی ایس آئی نے دی تھی۔ بلاشبہ جو قتل کا ہدف ہو شاید ہی اتنا بے وقوف ہو کہ وہ اپنی پوزیشن موبائل یا سیٹلائٹ فون یا برقی اطلاع کا ذریعہ استعمال کرکے دے۔ لیکن بعض باغی گروپ آج بھی ایسے ہیں جو اپنی پوزیشن آسانی سے بتادیتے ہیں۔ آئی ایس آئی پر اعتبار کی وجہ یہ ہے کہ یہ پاکستانی فوج کے افسران ہیں نہ کہ صدراوباما یا ان کا سلامتی اور عسکری سٹاف جو درحقیقت فیصلہ کرتے ہیں کہ ڈرون کس قسم کے مشکوک شخص کو ہلاک کرے گا۔ یہ نائن الیون کے بعد امریکا سے معاملہ کرنے کیلئے پاکستان کی کامیاب حکمت عملی ہے۔ تاہم، یہ ایک ہی وقت میں بہترین ساتھی بھی ہے اور بدترین دشمن بھی۔ (دی انڈی پنڈنٹ، 10 جون2012ئ)
مضمون نگار نے صدر اوباما کو ڈرون حملوں کے شدید ردعمل سے بچانے کے لیے جن حقائق کا انکشاف کیا ہے وہ بجا، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے اور نیویارک ٹائمز کی مفصل رپورٹ کے شائع ہونے کے بعد تو اس میں ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ ڈرون حملوں کاآخری فیصلہ صدراوباما خود کرتے ہیں اس طرح وہ بلاواسطہ اس قتل و غارت گری کے ذمہ دار ہیں۔ اس سلسلے میں Counter Punch پر بھی بل کویبی کا بڑا چشم کشا مضمون Five Reasons Drone Assassination is Illegal (ڈرون قتل غیرقانونی ہونے کی پانچ وجوہ) (دی انڈی پنڈنٹ،16مئی2012ئ) بڑا مدلل اور ناقابلِ انکار شواہد کا حامل ہے۔
نیو اسٹیٹس مین کی13جون کی اشاعت میں کرس ووڈز کا مضمون Drones: Barack Obama's Secret War (ڈرونز: باراک اوباما کی خفیہ جنگ)شائع ہوا ہے، جس میں عام شہریوں کی ہلاکت پر بڑے لائق اعتماد اور ہولناک شواہد دیے گئے ہیں۔ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈرون حملوں کی ٹھیک ٹھیک نشانہ بازی اور صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے دعوے مضمون نگار کے الفاظ میں من گھڑت (bogus) ہیں، نیز اس کے ساتھ اس نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس سے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک جاتے ہیں کہ:
القاعدہ کو اس مہم میں یقینا کافی نقصان پہنچا ہے۔4جون کو اس کے ڈپٹی لیڈر یحییٰ اللّیبی کی ہلاکت کے بعد یہ گروپ نہ ہونے کے برابر ہوگیا ہے۔ امریکی فضائی حملوں نے اس کو قیادت سے محروم کیا اور اس سے قبل دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مشترکہ آپریشن کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان نے برسوں تک اپنی سرزمین پر امریکی حملوں کو خاموشی سے برداشت کیا ہے۔ گذشتہ 18مہینوں میں یہ تعاون آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ اب پاکستان ہرحملے کی مذمت کرتا ہے کہ:”یہ بین الاقوامی قانون کی مکمل خلاف ورزی ہے“۔ اس دوران امریکا اپنے حلیف کو بڑی آسانی سے نظرانداز کردیتا ہے۔(Chriswoods Drones: Barack Obama's Secret War.، نیو اسٹیٹس مین، 13 جون2012ئ)
بات اب نظرانداز کرنے سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اب تو کھیل شراکت داری کا ہے جو نئی آگ بھڑکانے کا نسخہ ہے اور جس خطرے کی طرف اناطول لیون نے بھی اُوپر واضح اشارہ کیا ہے۔
اس خطرناک کھیل کا ایک اور پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جس کی طرف 8جون 2012ءکی ایک on line (28 جون2012ئ) رپورٹ میں کہا گیا ہے (شائع شدہ دی نیشن، 10جون 2012ئ) ۔ یہ خبر جولائی میں مفاہمت کی یادداشت (MOU) سے تین ہفتے پہلے کی ہے اور یہ وہ زمانہ ہے جب امریکا سے پاکستان کے تعلق کو ’کُٹّی‘ کا دور کہا جاسکتا ہے، لیکن اس دور کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ شمسی ایئربیس سے امریکیوں کے انخلا کے بعد بھی پاکستان کی سرزمین کے دوسرے مقامات سے ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری تھا۔ یہ اس پر مستزاد ہے جس کا دعویٰ اس وقت کے وزیردفاع نے کیا تھا: ”راستہ صرف زمین کا بند ہے، فضائی حدود کی پامالی تو ہماری اجازت سے جاری ہے“۔ اس اطلاع سے مزید تصدیق ہوئی ہے کہ امریکی بوٹوں کی موجودگی کا معاملہ صرف شمسی ایئربیس تک محدود نہیں تھااور (جون 2012ءکی رپورٹ کی روشنی میں) ۴جولائی کے رسد کی بحالی کے انتظامات سے پہلے کے دور میں بھی سی آئی اے کے دوسرے اڈے موجود تھے اور ان کو یہ خطرہ بھی تھا کہ انکے دوسرے غیرعلانیہ یا خفیہ (undeclared) اڈوں سے بھی انخلا کی بات ہوسکتی ہے:
نام نہ بتانے کی شرط پر امریکی اہل کاروں نے خفیہ معلومات کے بارے میں بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ پاکستان سی آئی اے کو باقی رہنے والا ہوائی اڈا بھی خالی کرنے کا کہے گا جس سے افغانستان کی سرحد پر پاکستان میں پناہ لیے ہوئے عسکریت پسندوں کو وہ اپنا ہدف بناتے ہیں۔ امریکا 2004ءسے اسلام آباد کی انتظامیہ کی خفیہ منظوری سے ڈرون حملے کر رہا ہے۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور اس کے لیڈر ان حملوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انھیں ملکی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ (دی نیشن، 10جون 2012ئ)
امریکا کے مو¿قر جریدے فارن پالیسی میں پیٹربرگن اور کیتھرین ٹائیڈمین کا مقالہ The Effects of the Drone Programme in Pakistan (پاکستان میں ڈرون پروگرام کے اثرات) شائع ہوا ہے، جس میں امریکا کے اس دعوے پر سوالیہ نشان لگایا گیا ہے کہ کیا فی الحقیقت ان ڈرون حملوں سے القاعدہ کی قیادت کا صفایا ہوگیا ہے؟ ان کی تحقیق کی روشنی میں اوسطاً سات میں سے صرف ایک میزائل کسی عسکریت پسند لیڈر کو ہلاک کر پاتا ہے۔ یہاں بھی حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ مارے جاتے ہیں وہ بالعموم بہت معمولی درجے کے عسکریت پسندہوتے ہیں۔
القاعدہ یا طالبان کی قابلِ ذکر قیادت کے صرف دو فیصد لوگ حملوں کی زد میں آنے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، البتہ عام شہریوں کی ہلاکت بھی ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے ۔ گو، عوام الناس کیلئے تفصیلی معلومات ان دونوں کے بارے میں دست یاب نہیں، یعنی عسکریت پسند اور عام شہری۔ زیادہ تر اعتماد اندازوں اور سنی سنائی پر ہے۔ البتہ نصف سے زیادہ مقامی آبادی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے جس کے خلاف عوام میں شدید ردعمل ہے۔ ان حقائق کا اعادہ اور اعتراف کرنے کے بعد جو اہم بات اس مقالے سے بھی کھل کر سامنے آئی ہے وہ پاکستانی قیادت کا منافقانہ کردار ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
جس آپریشن میں بن لادن کو قتل کیا گیا، پاکستانی اہل کاروں نے شور مچایا کہ ”ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی گئی ہے“۔ پس پردہ آصف زرداری اور یوسف رضا گیلانی نے کبھی کبھار دئیے جانےوالے احتجاجی بیانات کے ساتھ ڈرون حملوں کی حمایت کی۔ اسلام آباد کے تعاون کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ یہ پروگرام اب بھی جاری ہے۔ اس لیے کہ اس پروگرام میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کا تعاون چاہیے، جیساکہ ایک امریکی اہل کار نے تبصرہ کیا کہ تمھیں زمین پر لوگ چاہئیں جو تم کو بتائیں کہ ہدف کہاں ہے اور یہ اطلاع فاٹا کے آس پاس بھاگ دوڑ کرنے والا کوئی سفیدفام نہیں دے سکتا۔(پاکستان ٹریبون، 14 جولائی 2012ئ)