حکومت کدھر ہے؟

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ
 حکومت کدھر ہے؟

 ہمارا کوئٹہ، ہمارا پشاور اور ہمارا کراچی مقتل بن چکے ہیں۔ لوگ جوانوں، بوڑھوں،عورتوں اور بچوں کے لاشے اٹھا اٹھا کر تھک چکے ہیں۔ ہماری ہر صبح، صبح بے نور اور ہماری ہر شام، شامِ غریباں بن چکی ہے۔ اعدادو شمار کی بات کریں تو گزشتہ چار پانچ ماہ کے دوران کوئٹہ میں سینکڑوں لوگوں کو انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کردیا گیا۔ بسوں، کاروں اور رکشوں وغیرہ سے شیعہ فرقے کے لوگوں یا ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں کو اتار کر ان کے شناختی کارڈ دیکھ کر گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ اس پر نہ تو حکومت نے کسی غیر معمولی ردّعمل کا اظہار کیا نہ دینی سیاسی جماعتوں نے کوئٹہ میں آکر ان غمزدہ لوگوں سے اظہارِ ہمدردی کیا نہ مشائخ اور علمائے کرام نے اتحاد بین المسلمین کیلئے کوئی نمایاں کارروائی کی۔ لے دے کر ایک چیف جسٹس بیچارا چیخ و پکار کر رہا ہے مگر حکومت کی معاندانہ پالیسی کی بناءپر چیف کی صدا صدا بصحراءثابت ہورہی ہے۔ یہی صورتِ حال کراچی کی ہے۔یہاںبھتہ خوروں، ناجائز اسلحہ ہولڈروں اور قبضہ گروپوں نے رقص ابلیس کو آخری حد تک پہنچادیا ہے۔روزانہ ایک دو نہیں درجنوں انسانوں، گوشت پوست کے زندہ انسانوں، کسی کے بیٹے،کسی کے بھائی اور کسی کے شوہر کو گولیوں سے چھلنی کردیا جاتا ہے اور کوئی پُرسان حال نہیں۔ شہری جانتے ہیں، خفیہ ادارے جانتے ہیں اور پولیس والے جانتے ہیں کہ ان قاتلوں، بھتہ خوروں اور ابلیس کے پیروکاروں کے پیچھے کون ہے، ان کی پشت پناہی کون کر رہا ہے، انہیں تھپکی کون دے رہا ہے، ان سے بھتہ کی رقوم کون وصول کر رہا ہے اور ان رقوم کو کہاں کہاں خرچ کیاجارہا ہے مگر سب نے لب سی رکھے ہیں اور چپ سادھ رکھی ہے۔روشنیوں کا شہر اندھیر نگری بنتا جارہا ہے، پالن ہار شہر میں اب بیچارے بوٹ پالش کرنےوالے نوجوان کا بھی کوئی والی وارث نہیں۔ انہیں بھی دو وقت کی روٹی کمانے کی آزادی نہیں۔ انہیں معلوم نہیں کہ نہ جانے کس لمحے کوئی اڑتی ہوئی گولی آئے گی اور اُن کے جگر سے پار ہوجائے گی۔ یوں تو دہشت گردی ہر جگہ اپنے وحشت ناک پنجے گاڑے ہوئے ہے مگر سب سے زیادہ صوبہ خیبر پی کے اس کی زد میں ہے۔روز کوئی نہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوجاتا ہے۔انسانی جسموں کے چیتھڑے اڑا جاتا ہے۔آہ و بکا کرتے ہوئے انسانوں کو پیچھے چھوڑ جاتا ہے۔ابھی گزشتہ روز پشاور کے متنی بازار میں کار بم دھماکہ ہوا جس میں بارہ افراد جاں بحق ہوگئے14زخمی ہوئے اور سینکڑوں غم کی شدت سے نڈھال ہیں۔روزانہ بچے یتیم ہوتے ہیں، والدین کی آنکھوں کا نور چھن جاتا ہے،سہاگنوں کی دنیا ادھیر ہوجاتی ہے اور گھروں کے چراغ اور چولہے بجھ جاتے ہیں۔حکمرانوں کیلئے یہ کشت و خون اور قتل و غارت روزمرہ کا کھیل بن چکا ہے وہ اسے کوئی خاص اہمیت نہیں دیتے۔انہیں اور اُن کے اہل خانہ کو بندوق برداروں کا تحفظ حاصل ہے۔عوامی بازاروں کا وہ کبھی رخ نہیں کرتے۔قدرت نے ہمیں بھی کیسے کیسے مہربان دئیے ہیں۔ ہمارے سب سے بڑے مہربان رحمن ملک ہیںجو ہر واقعہ کے بعد تحقیق و تفتیش کا حکم دیتے ہیں اور کل تو انہوں نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے پیچھے دشمن ہے جو ہمیں غیر مستحکم کراناچاہتا ہے، جو ہمارے امن و امان کو غارت کرناچاہتا ہے جو ہمیں دنیا میں ایک ناکام ریاست بناناچاہتا ہے۔نہ جانے اُن کا اشارہ کس دشمن کی طرف ہے۔ ہمارے یقینا کئی دشمن ہیں۔ خارجی دشمن بھی ہیں اور داخلی دشمن بھی مگر ہم اپنے ہی دشمنِ جاں ہیں۔ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ہم نہ سیاسی اقدام کر رہے ہیں نہ حفاظتی اقدام کر رہے ہیں۔اس دہشت گردی کے علاوہ ڈرون حملوں کی صورت میں امریکہ ہماری پارلیمنٹ کی قراردادوں کا مذاق اڑا رہا ہے ہمارے احتجاج کی ہنسی اڑا رہا ہے۔ ہماری کسی بات کا سنجیدگی سے نوٹس نہیں لیتا اس لئے کہ ہمارے حکمرانوں کا سامنے چہرہ اور ،پسِ پردہ چہرہ اور ہے۔ پاکستان کی خود مختاری بار بار پامال ہورہی ہے اور حکمران اپنی لوٹ مار میں مصروف ہیں۔ اربوں لوٹ رہے ہیں اور اربوں لٹا رہے ہیں تاکہ اگلے انتخابات میں پھر لوگوں کی گردنوں پر سوار ہوسکیں۔
 سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی تو کسی مسئلے کو مسئلہ ہی نہ سمجھتے تھے چلئے موجودہ وزیراعظم اتنا تو تسلیم کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ جاکر اندازہ ہوا کہ خط کا مسئلہ حل ہوناچاہئے۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بلوچستان ، دہشت گردی اور معیشت پر دباﺅ تین بڑے چیلنج ہیں۔بلوچستان اور دہشت گردی کا تذکرہ تو ہم کرچکے ہیں اب ذرا دل تھام کر معیشت کی مخدوش صورتحال پر ایک نظر بھی ڈال لیجئے۔ گزشتہ ساڑھے چار برس میں پاکستان کی معیشت کسی واضح عزم و ارادے سے محروم رہی۔اندرونِ ملک سرمایہ کاری میں جتنی اس عرصے میں کمی ہوئی اتنی 60برس میں اس سے پہلے کبھی کم نہیں ہوئی۔غیر ملکی اور نجی سرمایہ کاری بھی بہت کم ہوئی ہے۔نئی سرمایہ کاری ہونے کے بجائے ہمارے سرمایہ کار اپنا سرمایہ، اپنی مشینری،اپنی ٹیکنالوجی اور اپنا تجربہ لے کر دوسرے ملکوں کو جارہے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جاچکے ہیں۔ سرمایہ کاری کیلئے جو باتیں بنیاد کی حیثیت رکھتی ہیں وہ ہی ناپید ہیں۔ امن و امان مفقود ہے،بھتہ خوری عروج پر ہے توانائی کا شدید ترین بحران ہے، حکومت کا کوئی معاشی وژن نہیں۔ روز مہنگائی کا نیا حملہ ہوتا ہے۔ بیرونِ ملک دوچار سینٹ پٹرول مہنگا ہوتا ہے یہاں دس دس روپے فی لٹر مہنگا کردیاجاتا ہے اور جب عالمی منڈی میں تیل زیادہ سستا ہوتا ہے تو یہاں اشک شوئی کیلئے دو چار پیسے فی لٹر قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں۔دنیا میں ہر جگہ حکومتیں شہریوں کے بجٹ کی محافظ ہوتی ہیں بلکہ اُن کی کفیل ہوتی ہیں۔ یہاں ہفتہ وار پٹرول مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اس کے منطقی نتیجے کے طورپر ہر شے مہنگی ہوجاتی ہے۔ حکومت دس فیصد قیمتیں بڑھاتی ہے ٹرانسپورٹر20 فیصد کرائے بڑھادیتے ہیں۔ اب مزدور، بندہ¿ مجبور کہ جو ہماری آبادی کا ساٹھ ستر فیصد ہیں کھائیں یا ٹرانسپورٹ کا کرایہ ادا کرکے فاقے کریں۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے چھوٹے بڑے روزگار کو تباہ کردیا ہے۔ دن میں روزگار نہیں۔ راتوں کو بجلی نہ ہونے کی بناءپر نیند نہیں۔آج ڈاکٹر کہتے ہیں کہ انسانی جسم کو روزانہ کم از کم آٹھ گھنٹے مسلسل نیند کی ضرورت ہے۔ گزشتہ پانچ برس میں حکومت نے جو ملکی اداروں سے قرضے لئے ہیں اُن کی مقدار دوگنا ہوگئی۔ بیرونی قرضے بھی دوگنا سے زیادہ ہوگئے ہیں۔یوں محصولات سے حاصل ہونے والی آمدن کا زیادہ حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی میں صرف ہورہا ہے۔ حکومت روزانہ اربوں کی کرنسی چھاپ رہی ہے اور افراط زر میں بے پناہ اضافہ کررہی ہے۔ساڑھے چار برس میں اس حکومت نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے جسے وزیراعظم ایک چیلنج قرار دے رہے ہیں جن معاملات کو حکومت بڑا چیلنج قرار دے رہی ہے اُن پر توجہ دینے کا حکومت کے پاس وقت نہیں۔ حکومت بلوچستان کی طرف توجہ دے رہی ہے نہ کراچی کی طرف۔
دنیا حیرت سے ہمارا منہ دیکھ رہی ہے اور ہم سے بار بار یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا پاکستان میں پولیس نہیں، کیا پاکستان میں خفیہ ادارے نہیں، کیا پاکستان میں رینجرز نہیں اور کیا پاکستان میں فوج نہیں اور کیا پاکستان میں اصحاب فہم و فراست نہیں۔ اس سے بڑی ایمرجنسی کیا ہوگی کہ بلوچستان میں کس بیدردی سے شیعہ کمیونٹی کے لوگوں کو ہلاک کیاجارہا ہے۔ اس سے پہلے کوئٹہ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو قتل کیاجارہا تھا۔ان مقتولین میں بڑے بڑے ماہرین تعلیم بھی شامل تھے۔ان میں سے بعض حضرات کے خاندان ایک ایک سو سال سے وہاں آباد ہیں۔ جناب رحمن ملک کہتے ہیں ہمارا دشمن ہمیں ناکا م ریاست بنانے پر تلا ہوا ہے۔ آج اندرون ملک پاکستانی پوچھتے ہیں، غم میں تڑپتے ہوئے سمندر پار پاکستانی پوچھتے ہیں اور ساری دنیا پوچھتی ہے کہ پاکستانی حکومت کدھر ہے؟