ہمارے ایٹمی اثاثے خطرات کی زد میں

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
ہمارے ایٹمی اثاثے خطرات کی زد میں

یہ غالباً 1998 کا واقعہ ہے کہ بھارت اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر پاکستان کے ایٹمی پلانٹ کہوٹہ پر حملہ کر کے اسے تباہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسرائیل پہلے ہی اس قسم کی کاروائی عراق میںکر چکا تھا۔ عراق نے ایٹمی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کیلئے ’’اوزیراک‘‘ کے نام سے ایٹمی پلانٹ لگایا۔ اسرائیل کو جب پتہ چلا تو اس سے برداشت نہ ہو سکا۔ لہٰذا اسرائیل نے اپنے کمانڈوز اور F-16بھیج کر ’’اوزیراک‘‘ کو تباہ کر دیا اور یہ جہاز بحفاظت واپس آگئے۔عراق کے بعد پاکستان دوسرا مسلمان ملک تھا جو ایٹمی قوت بننے کیلئے کوشاں تھا اور کسی مسلمان ملک کا ایٹمی قوت حاصل کرنا اسرائیل کیلئے نا قابل برداشت تھا۔یہی حالت بھارت کی ہے۔بھارت کیلئے تو پاکستان کا وجود ہی ناقابل برداشت ہے چہ جائیکہ پاکستان کاایٹمی قوت بننا۔بھارت نے اسرائیل سے رابطہ کیا اور دونوں مل کر ’’کہوٹہ‘‘ تباہ کرنے کیلئے تیار ہو گئے۔اسرائیل کی بہترین تربیت یافتہ کمانڈو ٹیم کے ساتھ اسرائیلی F-16طیارے بھارت پہنچے جنہیں پاکستانی سرحد کے نزدیک مقبوضہ کشمیر کے ہوائی اڈے پر رکھا گیا جہاں انہوں نے ایک ہفتہ پہاڑی علاقوں میں پروازیں کر کے حملے کی پریکٹس کی۔ کہوٹہ کے متعلق تمام معلومات حاصل کیں ۔حملے کی تاریخ اور وقت مقرر کر دئیے گئے۔غالباً حملے کا وقت صبح ساڑھے چار بجے تھا۔پاکستان کو رات بارہ بجے اس حملے کا پتہ چلا۔جناب نواز شریف صاحب اسوقت وزیر اعظم اور جناب گوہر ایوب صاحب وزیر خارجہ تھے ۔فوری طور پر فوج اور ائیر فورس کو الرٹ کیا گیا۔اہم وزراء کی میٹنگ بلائی گئی۔رات کے دو بجے بھارتی سفیرکو وزیر اعظم ہائوس بلایا گیا۔اسے بتایا گیا کہ اگر بھارت یہ حملہ کرتا ہے تو اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائیگی۔پاکستان کی فوج اور ائیر فورس الرٹ تھیں اور کسی بھی قسم کے حملے سے نبٹنے کیلئے تیار۔ جب بھارتی سفیر کو تمام حالات کا علم ہوا اور پاکستان کی طرف سے جوابی کاروائی کی دھمکی ملی تو اس نے فوری طور پر اپنے دفتر خارجہ سے رابطہ کیا اور حملے کے احکامات واپس لے لئے گئے ۔ لہٰذا جوابی کاروائی کے خوف پر خطرہ ٹل گیا۔

معزز قارئین ! یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی مسلمان ملک اور خصوصاً پاکستان کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا بہت سے غیر مسلم ممالک کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ خصوصی طور پر بھارت اور اسرائیل کیلئے۔ عراق نے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کی تو انکا پاور پلانٹ اسرائیل نے تباہ کر دیا۔ پاکستان جب یہ صلاحیت حاصل کرنے کے قریب پہنچا تو بھارت اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر اسے تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کی لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانی تھی کہ پاکستان کو بروقت پتہ چل گیا اور حفاظتی اقدامات مؤثر ثابت ہوئے۔
اب ایک دفعہ پھر ہمارے اثاثوں پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور اس دفعہ اس منصوبے میں بھارت، اسرائیل کے علاوہ امریکہ بھی شامل ہے ۔اس منصوبہ بندی کے مطابق بھارت پاکستان میں ایسے حالات پیدا کریگا جس سے سیاسی عدم استحکام اور سیاسی افراتفری پیدا ہوگی۔ اسی لئے بھارت کو افغانستان میں خصوصی کردار دیا جا رہا ہے اور افغانستان کی ہمدردیاں بھی بھارت کے ساتھ شامل ہیں۔ اسکے ساتھ ہی امریکہ بھارت کو اس علاقے کا لیڈر بنانے کا خواہشمند ہے۔ بھارتی فوج کو جدید ہتھیاروں سے لیس کیا جا رہا ہے۔ایران پر بھی بھارتی اثر ورسوخ غالب ہے۔ ’’را اور داعش‘‘ کے ایجنٹ پہلے ہی کراچی اور بلوچستان میں سرگرم عمل ہیں۔ نئی دہشتگرد ٹیمیں پاکستان میں داخلے کیلئے تیار کی جا رہی ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل اللہ نے بھی ایک 1200 دہشتگردوں کی ٹیم تیار کر لی ہے ۔جسے پاکستان میں داخل کیا جائیگا۔اسکا ایک ثبوت تو یہ ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس دن وہاں دہشتگردی کا واقعہ نہ ہو۔اسکے ساتھ ساتھ بھارت کشمیر کی لائن آف کنٹرول پر بھی کاروائیاں بڑھا رہا ہے بھارتی فائرنگ سے ہر آئے دن ہمارے علاقے میں شہادتیں ہو رہی ہیں۔منصوبہ بندی کے مطابق اس دفعہ یہ حملہ امریکہ کی طرف سے کیا جائیگاجس میں اول تو تمام ایٹمی مواد پر قبضہ کر کے اسے یہاں سے نکال کر لے جایا جائیگا اور اگر ایسا ممکن نہ ہو سکا تو اسے بنکرز میں ہی غیر مئوثر کر دیا جائیگا۔ اس اپریشن کیلئے پنٹاگان نے تفصیلی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ یہ سپیشل اپریشن ہوگا۔ سپیشل اپریشن کے ایک سنئیر منصوبہ ساز کے مطابق امریکہ کی طرف سے اب تک کئے گئے سپیشل اپریشنز کی نسبت یہ بہت وسیع اور خطرناک اپریشن ہوگا کیونکہ امریکہ کو اندازہ ہے کہ پاکستانیوں کو اپنے ایٹمی اثاثے جان سے بھی پیارے ہیں۔ وہ کسی صورت بھی کسی کو ان اثاثوں تک نہیں پہنچنے دیں گے اور پھر پاکستانی فوج اور پاکستانی ائیر فورس پیشہ ورانہ طور پر بہت مضبوط ہے۔ پاکستان فوج کے دس ہزار بہترین سولجرز ان اثاثوں کی حفاظت پر مامور ہیںجنہیں شکست دیکر اثاثوں تک پہنچنا آسان نہ ہوگا۔لہٰذا امریکہ کوئی چانس نہیں لینا چاہتا۔اس مقصد کے لئے امریکی فورس کے ’’ جوائنٹ سپیشل اپریشنل کمانڈ ‘‘کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔امریکہ کی سنٹرل کمانڈ اور پیسیفک کمانڈ اس اپریشن کی راہبری کریں گی۔
’’نویڈا نیشنل سیکورٹی سائٹ‘‘ جو کہ لاس ویگاس کے شمال مغرب میں واقع ہے وہاں پر ان کمانڈوز کو تربیت دی جا رہی ہے ۔اس ٹیم میں امریکہ کی ڈیلٹا فورس اور سیل ٹیم کا چھٹا سکواڈ رن حصہ لے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ 2011میں ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن اپریشن اسی سیل ٹیم نے کیا تھا۔ان کی تربیت کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے مشرقی ساحل پر کچھ پشتون گائوں بھی بنائے گئے ہیںجن میں بڑے مضبوط قسم کے بنکرز اور سٹورز تعمیر کئے گئے ہیںجنہیں خصوصی طور پر ایٹمی مواد رکھنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ کمانڈوز کو جہازوں سے یہاں اتارا جاتا ہے جو ان بنکرز اور سٹورز کی بیرونی اور اندرونی دیواریں توڑ کر ایٹمی مواد تک پہنچنے کی عملی تربیت حاصل کرتے ہیں ۔ اس اپریشن کو ممکن بنانے کیلئے پاکستان کے گرد و نواح میں امریکی فورس اور بہت سے سراغرساں تعینات کئے جائیں گے ۔خیال افغانستان کی طرف جاتا ہے جہاں مزید امریکی فوج آرہی ہے اور شاید کچھ بھارتی انٹیلی جنس فورس بھی آئے۔جونہی پاکستان میں جہادی یا دہشتگرد حالات خراب کرینگے امریکی فوج فوری طور پر حملہ کر دیگی۔کمانڈو فورسز ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کے ذریعے وہاں پہنچیں گی اور فوری طور پر نیچے اتریں گی۔ انکے ساتھ سویلین سائنسدان بھی ہوں گے جو حساس آلات کے ذریعے ایٹمی مواد کی موجودگی کا فوراً پتہ چلا لیں گے۔ امریکی کمانڈوز اندر داخل ہوں گے اور سب سے پہلے "Tactical weapons"کے پن نکال کر انہیں بیکار کر دینگے۔ پھر ایٹمی مواد لے کر فوراً باہر آئینگے اور وہاں سے نکل جائینگے۔ کسی قسم کی جوابی کاروائی سے بچنے کیلئے کمانڈوز کو امریکی فوج کی بیسویں سپورٹ کمانڈ اور میرین کی مدد حاصل ہو گی ۔جو ایٹمی ہتھیار یا ایٹمی مواد بچ جائے گا اسے طاقتور میزائل مار کر تباہ کر دیا جائیگا۔دعا ہے کہ خدا پاکستان کی حفاظت کرے ۔آمین!
نوٹ؛ معزز قارئین! یہ مضمون مجھے انٹر نیٹ پر ملا۔اسکی صداقت کے متعلق کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بہر حال دشمن اپنی کمینی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا۔لہٰذا ہمیں ہر قسم کے حالات سے نبٹنے کیلئے تیار رہنا ہوگا۔