ہمارے صحن میں بنے راستے

کالم نگار  |  منیر احمد خلیلی
ہمارے صحن میں بنے راستے


یہ جس وبال کا شکار اور جیسے انتشار کی لپیٹ میںہم ہیں،اور جیسے خطرات ہم پر منڈلا رہے ہیں، ایسی صورتِ حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ریاست اپاہج،سیاست بے حِس اور حکومت اندھی ہو جاتی ہے ،جب سیاسی اور مذہبی قوتیں اپنے حقیقی کردار سے یا تو بالکل غافل ہوتی ہیں یا یہ کردار ادا کرنے کے سارے راستے بند کردیے جاتے ہیں،جب سیاسی اور مذہبی قوتیں مصلحت اور مفادات کی دلدل میں دھنس جاتی ہیں۔حالت یہ ہو جاتی ہے کہ ان کے اندرعزم و ہمت مردہ ہو جاتے ہیں اورعقل ساتھ چھوڑ دیتی ہے۔وہ سارے زرّیں اصول اور اعلیٰ اقدار فراموش کر بیٹھتی ہیں۔ اتحاد و یگانگت اور ملکی سلامتی اور استحکام سے وہ اپنی آنکھیں بند کر لیتی ہیں۔ان پرمداہنت غالب آ جاتی ہے۔ ان کے اندر نہ اپنی صفوں میں گھسے تخریب پسند عناصر کی پہچان رہتی ہے اور نہ ان کے مقابلے کی سکت۔وہ اپنے جماعتی، مسلکی اور گروہی مفادات کی اسیر ہو کر رہ ہوجاتی ہیں۔مذہبی اور سیاسی قوتیں شر پسند اور تخریب کار عناصر کی سرگرمیوں میں ان کی پشت پناہی کرنے لگ جاتی ہیں ۔وہ اپنی آنکھوں کے سامنے شر پسند اور تخریبی عناصر کو سرگرم دیکھتی ہیں لیکن ان کی مفاد پرستانہ بزدلی آڑے آتی ہے اور وہ اس مہلک کھیل کو روکتی نہیں ہیں۔
پانچ سال تک بلوچستان میں جو جماعتیں سیاسی حکومت کا حصہ رہی ہیں وہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ کی غیر سنجیدگی اور صوبے کے حالات سے بے اعتنائی کا مشاہدہ کرتی رہیں۔ ان جماعتوں سے وابستہ ارکان ِ صوبائی اسمبلی وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے۔
امن و امان کی بد سے بدتر ہوتی صورتِ حال دیکھ کر نہ کسی کی وطن سے محبت جاگی اور نہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کا احساس بیدار ہوا۔مختلف قومیتوں اور سیاسی وابستگیوں کے لوگ چن چن کر مارے جاتے رہے، قومی تنصیبات تخریب کاری کی زد میں رہیں،مسلک اور عقیدے اور علاقائیت اور صوبائیت کی بنیاد پر نفرتوں کی آگ کے شعلے بلند ہوتے رہے ، اغوا برائے تاوان کی وارداتیں مبینہ طور پر وزرا ءاور اہم سیاسی شخصیات کی سرپرستی میں زوروں پر رہیں،دہشت گردی کا عفریت انسانی خون سے آزادانہ پیاس بجھاتا رہا لیکن اقتدار کے دسترخوان پر بیٹھی نہ کسی دینی جماعت کی ایمانی غیرت جوش میں آئی اور نہ کسی کے دل میں ملکی سلامتی کے بارے میں تشویش کی کوئی لہر اٹھی۔
ہزارہ برادری کے خلاف دہشت گردی کے ایک روح فرسا سانحے پر شدید احتجاج کے نتیجے میں جب گورنر راج نافذ ہوا تو بلوچستان کی حکومت کی شراکت دار ایک دینی جماعت کی جمہوریت پسندی کی رگ پھڑکنے لگی ۔ امن و امان کی بحالی اور لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے معاملے میں تو کبھی ایسی سرگرمی نہ دکھائی گئی لیکن بلوچستان حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف قومی اسمبلی اور سینیٹ سے کئی بار واک آﺅٹ کیا۔حکمرانی میںحُسنِ انتظام اورخُوش تدبیری ، حُرمتِ جان و مال اور عزت، امن و امان کا قیام، عدل کی پاسداری کوئی چیز نہیں، بس حکومت قائم رہے وزارتوںاور مشاورتوں کا دسترخوان بچھا رہنا چاہیے۔
بے حِسی اور گھٹیا مفادات کا یہی مکروہ کھیل کراچی میں کھیلا گیا اور لرزہ خیز المیوں کو جنم دیتا رہا۔وزیرِ اعلیٰ کی خوابیدگی ، حکمران اتحاد کی شاطریت، مفادات کی بندر بانٹ پر جھگڑے اور تصادم جاری رہے اور ادھرروزانہ اوسطاً درجن بھر انسانی جانیں اس سنگ دلی کی بھینٹ چڑھتی رہیں۔بھتہ خوری کا کاروبار چلتا رہا۔تاوان کے لیے لوگ اغوا ہوتے رہے۔ ٹارگٹ کِلنگ سے شہریوں کا خون یا توبہتا رہا یا پھرخوف و دہشت سے خشک ہوتا رہا۔یہاں بھی سُپریم کورٹ نے صوبے کی حکومت کے بارے میں واضح فیصلہ دیا کہ وہ عوام کی جان و مال کی حفاظت میں ناکام رہی ہے۔لیکن نہ کسی کے ماتھے پرعرقِ ندامت کا کوئی ایک قطرہ نمودار ہوا اور نہ ہی کسی کے اندر احساسِ زیاں کی کوئی لہر اٹھی ۔حلیف اور اتحادی ہونے کا اصل مقصد اہم وزارتوں پر قبضہ اور ماتحت حکومتی مشینری میں کلیدی عہدوں پر اپنے اپنے بندے تعینات کرانا اور ان کی مدد سے کرپش کی رفتار تیز تر رکھنا طرزِحکمرانی کا امتیاز رہا ہے۔
ایسی صورت میںسماجی تشکیل و تقویت میں ریڑھ کی ہڈّی کی حیثیت رکھنے والی اعلیٰ روایات اور زرّیں اقدار کا پسِ پُشت چلے جانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی۔پانچ سال تک حیاتِ اجتماعی وقتی تقاضوں ، خود غرضانہ سوچوں اور بزدلانہ فیصلوںکے تابع رہی ہے۔ غیرت و حمیت کی دیوار میں شگاف پیدا ہوتے رہے اور وطن دشمن قوتیں ان شگافوں سے اپنے راستے بنا تی ر ہیں۔باہر کی قوتوں کو دخل اندازی کے بہانے ملتے رہے۔ کسی نے دوست اور بھائی بن کر اور کسی نے امداد کی آڑ میں اپنی پِکٹیں مضبوط بنائیں۔
مسلکوں کا تنوع اور فروعی اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جوچیزہمارے اجتماعی وجود میں دراڑیں ڈال رہی اور ہماری ملکی سلامتی اور استحکام کو معرضِ خطر میں ڈالے ہوئے ہے وہ ان اختلافات کاکھلی دشمنی میں بدل کر مختلف فرقوں کا بر سرِ جنگ ہو جانا ہے ۔اس سے بھی کہیں زیادہ تشویش کی بات یہ ہے لسانی گروہوں اور مذہبی فرقوں کی وفاداریاں قوم و وطن کے بجائے باہر کی سرپرست قوتوں سے ہیں۔ہماری سلامتی داﺅ پر لگ گئی‘ امن و سکون چھن گیا‘ قانون ٹھوکروں پر آگیا۔ ہماری کمزور دیواروں کی وجہ سے ہمارے آنگن سے بہت سے راستے نکلنے لگے‘ ہم سب کے ”ممنونِ احسان“ تھے اس لئے کسی کو یہ نہ کہہ سکے کہ ہماری سرزمین کو اپنی جنگ کا میدان نہ بنائیں۔