پرویز مشرف....چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ
 پرویز مشرف....چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی


سابق صدر او ر آل پاکستان مسلم لیگ کے بانی پرویز مشرف نے خود ساختہ جلا وطنی ختم کر کے نگران حکومت کی تشکیل کے ایک ہفتے کے اندر وطن واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوںنے اپنے خلاف قائم مقدمات کا سامنا کرنے اور آئندہ انتخابات میں ہر حلقے سے امیدوار کھڑے کرنے کا اعلان بھی کیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ بھی کیا وہ کہ آئین کی وفعہ62اور63 کی چھلنی سے تمام امیدواروں کو گزارے تا کہ آئندہ انتخابات میں صرف دیانت دار اور مخلص قیادت ہی سامنے آئے۔پرویز مشرف کس تاریخ اور کس جگہ آئیں گے یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اگر حالات ان کی خواہش کے مطابق ہوئے تو وہ 23مارچ کو پاکستان آئیں گے۔ اگر ان کے حامی بڑی تعداد میں لوگوں کو استقبال کے لیے ائیر پورٹ لانے کا بندوبست کر سکے تو وہ کراچی آئیں گے بصورت دیگر اسلام آباد ائیر پورٹ اتریں گے۔ کیا وہ ائیر پورٹ سے سیدھے چک شہزاد اپنے نو تعمیر شدہ فارم ہاﺅس جائیں گے جو گزشتہ پانچ سال سے اپنے مکین کے انتظار میں ہے یا کسی مقدمہ کا سامنا کرنے کے لیے حوالہ پولیس ہوں گے اس کا فیصلہ وقت ہی کرے گا۔
پرویز مشرف کی پر عزم لیکن متنازعہ شخصیت مہم جوئی سے عبارت ہے۔ ان کے نو سالہ اقتدار میں ،میں نے ایک نیوز رپورٹر کی حیثیت سے بار ہا ان کے ساتھ کئی غیر ملکی سفر کیے۔ یوںمجھے ان کی شخصیت کے پرت اترتے دیکھنے کا موقعہ ملا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب اور ان کی کتاب "In the Line of Fire"کی امریکہ میں لانچنگ کے موقعہ پر بیس دن تک میں ان کا ہم سفر رہا۔ بنگلہ دیش کے دورے میں جب انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام سے 1971کے واقعات پر معافی مانگی اور وسط ایشیائی ریاستوں کے دورے پر جب انہوں نے مغلیہ سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر کی "مراقبہ مسجد" جو کئی ہزار فٹ بلند پہاڑی پر واقع ہے کا دورہ کیا اور وہاں اپنی اہلیہ کے ہمراہ صدقے کے بکرے ذبح کیے۔پرویز مشرف صاحب کا انداز حکمرانی اور رنگا رنگ زندگی کے کئی ایسے پہلو ہیں جو بذات خود ایک کتاب کے لیے پر کشش موضوعات بن سکتے ہیں۔ لیکن اس وقت زیر گفتگو ان کی سیاسی زندگی کا وہ پہلو ہے جو ان کی پاکستان آمد کے اعلان سے پیدا ہوا ہے۔ پرویز مشرف پاکستانی سیاست کے ایک ایسے منفرد کھلاڑی ہیں جو فور سٹار جنرل ہونے کے ساتھ ساتھ آرمی چیف ، صدر مملکت، چیف ایگزٹیو اور اب ایک سیاستدان کے طور پر عوام کے سامنے آئے ہیں۔ 70سالہ پرویز مشرف1943 میں دریا گنج بھارت میں پیدا ہوئے۔آرمی میں کمیشن 1964 میں حاصل کیا۔ 1998میں انہیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان آرمی کا چیف بنایا، کارگل کی مہم جوئی کے بعد وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے اور وزیر اعظم نواز شریف نے بارہ اکتوبر1999کو انہیں آرمی چیف کے عہدے سے سبکدوش کر نے کا اعلان کیا تو انہوں نے اس حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اپنے فوجی رفقاءکے ساتھ مل کر آئینی طور پر منتخب وزیر اعظم کا تختہ الٹ کر اقتدارکر قبضہ کر لیااور وزیر اعظم نواز شریف کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کر دیا گیا۔ بعد ازاں ایک معاہدے کے تحت نواز شریف کو زبر دستی جلا وطنی پر مجبور کیا۔ پرویز مشرف1999 سے2008 تک بلا شرکت غیرے نو سال تک پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ملک کا آئین اور قانون سب ان کے تابع تصور کیا جاتا تھا۔ امریکہ نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو پرویز مشرف نے اس خطے میں امریکی سپہ سالار کا کردار ادا کیا،جس سے مغربی دنیا میں ان کی مقبولیت بڑھی۔ پرویز مشرف کو قدرت نے "Table Talk"اور دلائل سے گفتگو کرنے کی جو صلاحیت عطا کی اس کی بدولت انہوں نے دنیا بھر کے حکمرانوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے اپنے دور اقتدار میں ایسی سیاسی حکمت عملی اختیار کی کہ پاکستان کے دو مقبول ترین سیاسی رہنما اور سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف ان کی مرضی کے بغیر پاکستان نہ آ سکے۔ پرویز مشرف کے عہد صدارت میں پانچ وزرائے اعظموں نے حلف اٹھایا۔ ان میں میر ظفر اللہ جمالی، چوہدری شجاعت حسین، شوکت عزیز، محمد میاں سومرو اور یوسف رضا گیلانی شامل ہیں۔
پرویز مشرف کو اپنے پورے دور اقتدار میں سب سے کٹھن صور تحال کا سامنا سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے 9مارچ2007کی اس ملاقات کے دوران کرنا پڑا ، جب انہوں نے آرمی ہاﺅس راولپنڈی میں انہیں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کے لیے کہا ۔ چیف جسٹس صاحب نے ان کا غیر قانونی حکم ماننے سے انکار کر دیا ۔جس پر پرویز مشرف نے ان کے خلاف مواخذے کا اعلان کرتے ہوئے انہیں غیر فعا ل کر دیا۔اس فیصلے کو پاکستانی عوام نے تسلیم نہ کیا اور ان کی بحالی کے لیے ملک گیر تحریک شروع ہوگئی۔ اس تحریک نے پرویز مشرف کے اقتدار کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔اس دباﺅ کے زیر اثر پرویز مشرف نے ہیجانی فیصلے کیے۔ بے نظیر بھٹو سے بد نام زمانہ این آر او بھی اسی دباﺅ کے دوران ہوا۔پرویز مشرف کو فوجی وردی بھی اتارنی پڑی۔
عام انتخابات میں جب وہ اپنی مرضی کے نتائج حاصل نہ کر سکے تو دباﺅ کے تحت مجبوراً صدارت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ابتداءمیں ان کا ارادہ پاکستان ہی میں رہنے کا تھا لیکن جب حکمران اور حزب اختلاف کے سیاستدانوں کے تیور بگڑنے لگے اور گرفتاری کا خطرہ پیدا ہوا تو وہ علاج کا بہانہ بنا کر بیرون ملک چلے گئے اور خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لی۔ ان ایام میں وہ امریکہ اور مغربی ممالک کی مختلف یونیورسٹیوں میں ڈیڑھ سے دو لاکھ ڈالر یومیہ پر لیکچر دیتے رہے ۔ لیکن کیا کیا جائے۔
 "چھٹتی نہیں ہے منہ کو یہ کافر لگی ہوئی"
کے مصداق پرویز مشرف نے اپنے عہد صدارت میں جو طم طراق، پروٹوکول اور حکمرانی کا نشہ لوٹا وہ انہیں مجبور کر تا رہا کہ "دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو" انہوں نے ایک بار پھراقتدار کے سرکش گھوڑے پر بیٹھنے کے لیے یکم اکتوبر2010کو رکاب(سیاسی جماعت)آل پاکستان مسلم لیگ بنانے کا اعلان کیااور"آ بیل مجھے مار"کی مثال کو تازہ کرتے ہوئے پاکستان کے سیاستدانوں اور اپنے مخالفین کو ان سے دست و گریباںہونے کا موقعہ دیا۔ ان کے سیاست میں آنے کے اعلان کے ساتھ ہی ان کے خلاف چارج شیٹ ہائی لائٹ ہونا شروع ہوئی۔ آئین کی دفعہ 6کے تحت غداری کا مقدمہ، کارگل کا تنازعہ، لال مسجد کیس، اکبر بگٹی کا قتل سب کے بارے میں بیان بازیاں اور قانونی چارہ جوئی ہونے لگی۔پرویز مشرف نے کئی بار پاکستان آنے کا اعلان کیا بلکہ ایک آدھ بارتو تاریخ بھی دے دی لیکن گرفتاری کے خوف سے ان میں تبدیلی کرتے رہے ۔ اب جب کہ ملک میں انتخابات اور نگران حکومت کی آمد آمد ہے تو انہوں نے پھر اعلان کیا ہے کہ وہ اکھاڑے میں اترنے کے لیے تیار ہیں۔ آمد کی حتمی تاریخ نگران حکومت کی تشکیل سے مشروط ہے۔ لیکن راز داں کہتے ہیں کہ وہ نگران حکومت اور الیکشن کمیشن کے تیور دیکھنے اور اپنی Constituency" کی جھنڈی"دیکھ کر ہی سب سے پہلے پاکستان آئیں گے۔