دوستی کا سفر

کالم نگار  |  پروفیسر نعیم قاسم
دوستی کا سفر


کہنہ مشق اور جید صحافی اصغر شاد گذشتہ تین دھائیوں سے نوائے وقت سے منسلک ہیں۔ نوائے وقت ‘ نظریہ پاکستان اور اسلام کے ساتھ ان کی گہری وابستگی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ وہ مجید نظامی کے نظریاتی صحافت کے ادنیٰ سپاہی ہیں اور ان کے متعلق ایک غیر مطبوعہ کتاب کے بھی مصنف ہیں۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی سوانح حیات ”بینظیر بھٹو ‘ پاکستان اور جمہوریت“ ان کی بینظیر بھٹو کے ساتھ دوبئی میں متواتر ملاقاتوں میں مسلسل گفتگو سے ماخوذ ہے۔ 2011ءمیں انہیں ڈنمارک کی حکومت نے پندرہ سینئر صحافیوں کے ساتھ اپنے ملک کے مطالعاتی دورے پر مدعو کیا۔ دوستی کا سفر پاکستان کے صحافتی سفیر کے سفر نامہ کی وہ روداد ہے۔جہاں انہوں نے پاکستان کے مقدمے کو ڈینش حکام‘ دانشوروں اور یونیورسٹی کے طلباءو طالبات کے سامنے بڑی جرات سے پیش کیا۔ ڈنمارک کے اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ خاکوں کے مسئلے اور پاکستان میں دہشت گردی کی جنگ (War on terror) پر ڈنمارک کی قدیم ترین یونیورسٹی (Arhus University) میں پاکستان کے عوام کے جذبات کی جس جرات اور حوصلہ سے ترجمانی کی وہ میرے لئے بڑی متاثر کن اور قابل تحسین ہے۔ ایک محب وطن صحافی کا کردار ایسا ہی ہونا چاہئے۔ دوستی کے سفر میں اصغر شاد لکھتے ہیں ”ہماری بس تقریباً پندرہ منٹ کے سفر کے بعد ایک بڑی خوبصورت اور وسیع و عریض عمارت کے باہر آ کر کھڑی ہو گئی‘ میزبان خاتون نے ہمیں نیچے اترنے کا اشارہ کیا۔ جب ہم نیچے اترے تو پتہ چلا کہ یہ ڈنمارک کی قدیم ترین ارس یونیورسٹی (Arhus University) ہے جس کے تمام اطراف میں ہمیں نوجوان طلباءو طالبات بہت بڑی تعداد میں دکھائی دئیے اور آج مجھے نوائے وقت کے نمائندے کے طور پر ڈینش یونیورسٹی میں پاکستان اور افغانستان میں برپا دہشت گردی کے خلاف جنگ پر یونیورسٹی کے طلباءو طالبات کو لیکچر دینا تھا ....سب سے پہلے تو میں ڈینش گورنمنٹ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے میرے اور دوسرے صحافتی ساتھیوں کے لئے اس قدر مفید اور قابل ذکر دورے کا اہتمام کرایا وہاں ہم نے اپنا تجربے‘ اپنی تحقیق اور مختلف غلط فہمیوں کو دور کرنے کے ساتھ پاکستان کے بارے میں مغربی میڈیا سے جو متعصبانہ پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے اس کے جواب میں اصل حقائق سے آپ کو آگاہ کرنے کا عمدہ موقع پایا۔ پاکستان میں دہشت گردی کے اسباب کیا ہیں؟ کون اس کا ذمہ دار ہے اور کون اس سے متاثر ہو رہا ہے۔ اس کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے متعلق اپنی بساط کے مطابق حقائق بیان کرنے کی کوشش کرونگا۔ میں ایک صحافی کی حیثیت سے اکثر و بیشتر ایسے مقامات پرجاتا رہا ہوں جہاں دہشت گردی یا تخریب کاری کی کوئی واردات رونما ہوتی ہے۔ ایسی وارداتیں جن میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں ‘ جن کا حکومتی ملکی یا بین الاقوامی معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں اور ایسی بھی جانیں جو صرف اپنے ملک ہی نہیں بلکہ اقوام عالم کے لئے بے حد اہمیت کا درجہ رکھتی ہیں۔ یہاں ایسی سینکڑوں جانوں کا اﷲ کو پیار ہو جانے کا ذکر کرسکتا ہوں لیکن ایک ایسی شخصیت کی شہادت کی ضرور ذکر کر سکتا ہوں لیکن ایک ایسی شخصیت کی شہادت کا ضرور ذکر کرونگا جس سے پوری مغربی دنیا بخوبی واقف ہیں وہ ہے پاکستان کی سابق وزیراعظم بین الاقوامی سطح کی لیڈر محترمہ بینظیر بھٹو ان کی جب شہادت ہوئی وہ دہشت گردی کا نشانہ بنیں تو میں ان سے بہت تھوڑے فاصلے پر موجود تھا۔ یہ المناک واقعہ میرے گھر کے بالکل قریب رونما ہوا کہ انتہائی قیمتی لیڈر اور دیگرمتعدد افراد کو بم سے اڑا دیا گیا۔ اس سے بڑا دہشت گردی کا اور کیا حادثہ ہو سکتا ہے۔ دہشت گرد یا اس کے ساتھی یہ کبھی نہیں سوچتے کہ ان کے عمل سے کتنے لوگ بےگناہ مر جائیں گے۔ انسانی زندگی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ڈنمارک نیٹو کا ممبر ملک ہے اس کی مسلح افواج افغانستان میں اتحادی افواج کے ہمراہ برسرپیکار ہیں۔ نیٹو کی افواج بے گناہ افغان عوام پر گولے برسا رہی ہیں کیا یہ دہشت گردی نہیں ہے ؟ اب تک 50 ڈینش فوجی اس جنگ کی آگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ ان کی میتیں جب یہاں کوپن ہیگن کے ائیرپورٹ پر اترتی ہیں تو پورے ڈنمارک میں ہر آنکھ آنسو¶ں سے لبریز ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی آنسو ہمارے آنکھوں سے بھی بہتے ہیں جب ڈرون حملوں سے پاکستانی سرحد کے اندر مدرسوں کے چھوٹے چھوٹے بچے شہید ہو جاتے ہیں۔ لاکھوں افغان شہری اس جنگ میںشہید ہو گئے ہیں اور امریکہ کی ہم پرمسلط کردہ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان کے پانچ ہزار فوجی افسران ‘ پولیس اور رینجرز کے اہلکار شہید ہونے کے ساتھ ساتھ 30 ہزار سے زائد بے گناہ پاکستانی شہید کر دئیے گئے ہیں۔ اگر آپ کو اپنے فوجیوں سے پیار ہے تو ہمیں بھی ہے۔ آپ ضرور سوچتے ہیں اور یہاں ڈنمارک میں حکومت کو شدید تنقید کا بھی سامنا ہے کہ آخر پرائی آگ میں ہم کیوں جل رہے ہیں؟ مجھے یہ بھی پتہ ہے کہ ڈینش وزیر خارجہ کے اس بیان پر پورے اتحادی ممالک میں بہت لے دے ہوئی جس میں انہوں نے برملا کہا تھا کہ افغانستان میں قیام امن فوجی ذرائع سے حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ دہشت گردی کے تمام واقعات اور وارداتوں کے متعلق تو میں برملا کہہ سکتا ہوں کہ جو سوسائٹی معاشی اور سماجی انصاف کی فراہمی میں بخل سے کام لے وہاں دہشت گردی کی فیکٹریاں ضرور کھل جایا کرتی ہیں۔ اپنے مذموم مقاصد اور بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے کے لئے انسانیت کا بیوپار کرنے والے شیطان چند سکوں کے عوض بھوک اور بیروزگاری سے تنگ آئے ہوئے نوجوانوں کو اپنا آلہ کار بنا لیتے ہیں۔ یہ وہ آسان شکار ہیں جو تخریب کاروں اور وطن دشمنوں کے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے اپنی جان چند روپوں کے عوض اس لئے گنوا دیتے ہیں کہ ان کے پیاروں کو تھوڑی سی آسودگی حاصل ہو جائے۔ میں آپ کو یہاں ایک واقعہ سناتا ہوں جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا اور میں آج تک سوچتا ہوں کہ اس المیہ کا ذمہ دار کون ہے؟ میں خود‘ وہ دہشت گرد ‘ حکمران یا سوسائٹی مگر مجھے آج تک اس کا جواب نہیں مل پایا۔
وفاقی دارالحکومت کے قریب مری میں کچھ عرصہ قبل ایک سترہ سالہ نوجوان نے خودکش حملہ ایک سرکاری سکول بس پر کیا تھا جس سے متعدد ہلاکتیں ہوئیں جب اس دہشت گرد کی لاش کا معائنہ کیا گیا تو اس کی قمیض کی جیب سے ایک پرچی برآمد ہوئی جس میں اس نے اپنی پانچ سالہ بہن کے لئے ایک خط چھوڑا جس میں اس نے تحریر کیا تھا: ”تم ہر روز مجھ سے آئس کریم کی فرمائش کرتی ہو لیکن میں کیا کرتا میرے پاس پیسے جو نہیں تھے‘ آج میں تمہیں دو ہزار روپے بھیج رہا ہوں۔ تم خوب مزے مزے کی آئس کریم کھانا‘ مگر اب تمہارا بھائی تمہیں کبھی نہیں مل پائے گا“ جب یہ حالات ہوں تو دہشت گردی کی سب سے زیادہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے۔ اگر ہمارے ملک میں آپ کے ملک کی طرح مخلص ‘ایماندار قیادت دستیاب ہو جائے اور ہمیں اپنے وسائل کے بھرپور استعمال سے معاشی خود کفالت حاصل ہو جائے تو ہمارے ہاں دہشت گردی کا مسئلہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا اور جب ہمارے ہاں تعلیم کے ذریعے لوگوں میں شعور اور سمجھ آ جائے گی تو حالات کافی حد تک بدل جائیں گے۔ مگر میں ایک بات ضرور کرونگا کہ جب آپ دہشت گردی کےخلاف جنگ کے موضوع پر بات کریں تو اس کی جغرافیائی سرحدوں اور سٹرٹیجک پوزیشن کا بھی تجزیہ کریں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ امریکہ اور بھارت کیونکر ہمیں دہشت گردی کے چنگل سے نکلنے دیں گے۔ جب میرا لیکچرختم ہوا تو جہاں طلباءطالبات کی اکثریت مطمئن دکھائی دیتے وہاںایک طالب علم سخت برہم نظر آ رہا تھا لہذا میرے معلوم کرنے پر بتایا گیا کہ وہ بھارتی طالب علم ہے میں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ میرا مقصد پورا ہو گیا۔
قارئین! مسز ایوا EVA ڈینش پارلیمنٹ کمیٹی کی سربراہ نے جب مصنف کو کہا کہ ہم پاکستان کو اپنا بہترین دوست اور عمدہ پارٹنر ملک تصور کرتے ہیں اور ہمیں اس کے مفادات پوری طرح عزیز ہیں تو اصغر شاد نے اس موقع پر انہیں ٹوکا اور کہا کہ اس دوستی میں دراڑ پڑ چکی ہے اور یہ تب ہی ختم ہو سکتی ہے جب آپ پاگل کارٹونسٹ کو اس کی گستاخی پر قرار واقعی سزا دیں گی۔ وگرنہ دوستی کا یہ سفر لمحے میں دشمنی اور عداوت کی نظر ہو جائے گا۔