پدماوتی

کالم نگار  |  وقار مسعود خاں
پدماوتی

 بھارت میں سینما بھارتی معاشرے اور زندگی کا جزو لاینفک بن گیا ہے، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت کے متحد رہنے میں اس کا بڑا کردار ہے، کیونکہ وہ متعدد زبانوں کے باوجود دور دراز کے لوگوں کو باہمی طور پر جوڑ دیتا ہے۔ جیسا کہ ہالی وڈ کے متعلق بھی یہ بات مشہور ہے کہ وہ خفیہ اداروں کے ایما پر فلم کے ذریعے اپنے لوگوں میں خاص تصورات پیدا کرتے ہیں، بالی وڈ بھی اپنے قومی اداروں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً اس سوچ کی پرورش کرتا ہے جو حکومت یا مملکت کی پالیسی ہوتی ہے۔ پاکستان سے دشمنی پر مبنی فلمیں عام ہیں لیکن پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ فنکار اپنی مرضی سے فلم بنانے پر اصرار کرتے ہیں اور کسی بھی دبائو میں آنے سے انکار کر دیتے ہیں۔

بھارتی سینما کے ایک انتہائی معتبر اور کئی ایوارڈز جیتنے والے فلمساز، کہانی نویس اور ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کی حالیہ فلم ’’پدماوتی‘‘ نے بھارت میں ایک ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔ بھنسالی ایک کہنہ مشق تخلیق کار اور بیباک شخصیت کے مالک ہیں ان کی بنائی فلموں پر ماضی میں بھی تنازعہ کھڑا ہو چکا ہے۔ حالیہ ہنگامہ اپنے نوعیت میں منفرد ہے۔ فلم کی کہانی بظاہر سلطان علائو الدین خلجی (14ویں صدی) کی شخصیت کے گرد گھومتی ہے، خصوصاً اس کی جنوب مغربی بھارت میں ایک مشہور لڑائی جو چتور گڑھ کے قلعے کے محاصرے سے متعلق ہے۔ تاریخ سے اس واقعہ کا واسطہ صرف محاصرے کے بیان تک محدود ہے۔ باقی وہ افسانہ ہے جو ملک محمد جیاسی (14ویں صدی) سے منسوب ایک منظوم قصے میں بیان ہوا ہے۔ خود جیاسی صاحب کی شخصیت کے بارے میں تاریخ کوئی رہنمائی نہیں کرتی۔ افسانے کے مطابق’پدماوتی‘ میواڑ( موجودہ راجسھتان) کی ایک خوبصورت رانی ہے جس کے حسن و جمال کی خبر سن کر علائو الدین خلجی چتور کے قلعے کا محاصرہ کر لیتا ہے اور اس کی فتح یقینی ہے۔ راجپوت مرد بشمول رانی کا شوہر میدان جنگ میں مارے جا رہے ہیں لہٰذا پدماوتی اپنی عزت بچانے کیلئے راجپوتوں کی روایت کے مطابق خود سوزی کر لیتی ہے اور یوں علائو الدین کو اس انعام سے محروم کر دیتی ہے جس کی خاطر وہ حملہ آور ہوا تھا۔ راجسھتان میں موجود ایک انتہا پسند گروپ، ’’شری راجپوت کرنا سینا، جو 2004ء میں قائم ہوا، اور ایک مقامی قوم پرست تحریک ہے، اس نے راجپوت تاریخ کے کرداروں پر مبنی ٹی وی سیریل اور فلموں پر احتجاج کا سلسلہ شروع کرکے شہرت کمائی ہے۔2008ء میں جودھا اکبر کے نام سے بننے والی ٹی وی سیریز اور فلم بھی اس کے غیظ و غضب کا شکار ہو چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ فلم تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے اور اس میں ان کی تضحیک اور تحقیر کا پہلو نکلتا ہے۔ خصوصاً یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ فلم میں ایک سین ہے جہاں علائو الدین خلجی ایک خواب میں پدماوتی سے راز و نیاز کی باتیں کر رہا ہے۔ بھنسالی نے اس قیاس آرائی کی بار بار سختی کے ساتھ تردید کی ہے۔ جنوری میں جب پدماوتی کے جے پور میں فلمبندی ہو رہی تھی تو اس کے سیٹ پر حملہ کردیا گیا اور بھنسالی کو مارا پیٹا گیا اور فلمسازی کے آلات توڑ دیئے گئے۔ مارچ میں کرنی سینا کے کارکنوں نے چتور گڑھ میں پدمنی قلعے کے اندر نصب آئینوں کا ایک سلسلہ توڑ ڈالا یہ کہہ کر کہ یہ 1941ء میں اس وقت لگائے گئے تھے جب وزیراعظم جواہر لال نہرو نے دورہ کیا تھا، اس سے اس بات کی تردید مراد ہے کہ علاوہ الدین خلجی نے پدماوتی کا عکسی مشاہدہ کیا تھا، اس گروہ نے حال میں ایک سینما کو تہہ بالا کر دیا جہاں پدماوتی کا ٹریلر دکھایا جا رہا تھا۔ مزید برآں انہوں نے چتور گڑھ اور کھمبل گڑھ قلعوں کو جانے والے راستوں کو بھی بند کردیا جن کو یونیسکو کی عالمی ورثے کی حیثیت حاصل ہے، اور یہ بھی اعلان کردیا کہ وہ دیپکا پڈکون کی ناک کاٹ دیں گے دیپکا فلم کی ہیروئن ہیں اور ان کی خدمات کے عوض انہیں فلمی تاریخ کا سب سے زیادہ معاوضہ 13کروڑ بھارتی روپے ادا کیا گیا ہے۔ ان دھمکیوں کے بعد وہ پولیس کی حفاظت میں زندگی گزار رہی ہیں حیدر آباد میں امریکی صدر کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ کی تقریب میں بھی وہ شرکت نہ کر سکیں۔
اعتراض کرنے والوں نے حکومت کو یہ دھمکی بھی دی ہے کہ اگر فلم کو ریلیز کیا گیا تو وہ پرتشدد احتجاج کرینگے اور ساتھ ہی بھنسالی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرنے کا مطالبہ کردیا۔ راجسھتان کی بی جے پی کی حکومت نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فلم کو نمائش کی اجازت نہ دی جائے۔ اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات کی وجہ سے سیاسی پارٹیاں اس مسئلے پر خاموشی اختیار کر رہی ہیں کیونکہ راجپوتوں کی حمایت سے کوئی بھی محروم ہونا نہیں چاہتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سہمے ہوئے مسلمانوں نے اس مسئلے میں کسی بھی قسم کا کوئی ردعمل نہیں دکھایا، حالانکہ ان کی ایک تاریخی شخصیت کو ایک سراپا ہوس پرست اور بے رحم حکمراں کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے یہی نہیں، احتجاج کو روکنے کی خاطر فلم بنانے والے یقین دلا رہے ہیں کہ انہوں نے تو راجپوتوں کے عزت ووقار کو یہ دکھا کر بلند کیا ہے کہ ان کی ایک عورت نے ایک جابر حکمراں کی ہوس کا شکار ہونے کے مقابلے میں موت کو ترجیح دی ہے جیسا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے، تاریخ میں اس واقعہ کا کوئی سراغ نہیں ملتا، لہٰذا یہ فلم خلجی کے خرچے پر تفریح کا سامان پیدا کر رہی ہے۔ اس احتجاج اور غنڈہ گردی نے اس وقت قومی شکل اختیار کرلی جب پہلے سماج وادی پارٹی کے ایک لیڈر نے بھنسالی کو جان سے مارنے والے کیلئے ایک کروڑ روپے انعام دینے کا اعلان کیا، جبکہ بعد ازاں حکمراں جماعت بی جے پی کے ایک اور لیڈر نے بھی نہ صرف اس کی تائید کردی بلکہ انعام کی رقم میں اضافہ بھی کردیا۔ ملک میں تمام بڑے شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں جہاں لوگوں میں پھیلی ہیجانی کیفیت بخوبی دیکھی جا سکتی ہے اس دوران ایک اور دل سوز واقعہ یہ پیش آیا کہ جس مقام پر فلم کی فلمبندی ہوئی تھی اس کے قریب ایک شخص کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی ملی جس کے ساتھ ایک کاغذ پر یہ تحریر تھا کہ ہم آگ میں نہیں جلاتے بلکہ سولی پر چڑھاتے ہیں۔
اس قصے نے اس وقت بین الاقوامی شہرت حاصل کیا جب کرنی سینا کے ایک لیڈر نے ممبئی میں ایک ٹی وی پر یہ اعلان کیا کہ اگر فلم کی برطانیہ میں نمائش کی اجازت دی گئی تو وہ ہر اس سینما کو آگ لگا دیں گے جہاں یہ فلم دکھائی جائے گی ، فلم کی نمائش یکم دسمبر کو شروع ہونی تھی جو فی الحال ملتوی کردی گئی ہے حکمراں جماعت نے ان تمام واقعات کا خاطر خواہ نوٹس نہیں لیا ہے جن تین ریاستی حکومتوں نے اس فلم کی نمائش پر بغیر دیکھے پابندی لگا دی ہے ان میں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور گجرات شامل ہیں ان سب میں حکمران پارٹی کی حکومتیں ہیں۔ پنجاب اور بہار میں بھی پابندی لگائی گئی ہے جہاں حزب اختلاف کی حکومتیں ہیں حیرت کی بات یہ ہے کہ فلم کو ابھی سنسر بورڈ سے اجازت بھی نہیں ملی ہے اور پابندیاں لگانے والوں نے صرف غنڈہ گردی کے مظاہروں سے خوفزدہ ہو کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست کے دوران چیف جسٹس دیپک شرما نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس فلم کا سنسر بورڈ نے جائزہ نہیں لیا ہے، لہٰذا عدالت کا اس موقع پر کچھ کہنا بورڈ کے جائزے کو ضررر پہنچا سکتا ہے۔
بھارتی لبرل طبقات، خصوصاً صحافتی اور شوبز سے وابستہ حلقے، اس ساری صورتحال پر سخت پریشانی، شرمندگی اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں لیکن کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کو روکنے میں کوئی کردار ادا کر سکے۔ کچھ سیاستدانوں کا خیال ہے کہ اس عوامی ردعمل پر حکومت کی خاموشی اس کی غیر اعلانیہ رضامندی کا اظہار ہے، لہٰذا وہ اس موقع کو بھی اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے تاکہ اس کا ووٹ بینک قائم رہے۔ یہ الزام کافی وزنی ہے کیونکہ گزشتہ تین سال میں مودی حکومت نے ہندوتا کے پرچار اور لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے۔ خصوصاً اتر پردیش کے وزیراعلیٰ ادتیاناتھ جوگی کے انتخاب کے بعد ہندو قوم پرستوں کی غیر قانونی سرگرمیاں، لوگوں کو ہراساں کرنا اور اقلیتوں کیخلاف چیرہ دستیاں بہت آگے نکل گئیں یہ واقعات، جو بھارت کے آئین کے سرا سر خلاف ہیں، ملک کے اتحاد اور یکجہتی پر گہرے منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں اور اس کی ظاہری ترقی اور سپر پاور بننے کے خواب کو چکنا چور کر دیں گے۔