مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں

مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں

مجید نظامی صاحب ایک شخص نہیں ایک ادارہ تھے۔ ان کا نصب العین پاکستان کو ایک مضبوط اسلام کا قلعہ دیکھنا تھا۔ ان کا اُٹھنا، بیٹھنا، سوچنا پاکستان کے استحکام کیلئے تھا۔ مجید نظامی صاحب سے پہلی ملاقات 1953ء میں پولیٹیکل سائنس پنجاب یونیورسٹی ڈیپارٹمنٹ میں ہوئی۔ مجید نظامی صاحب اس زمانے میں بھی ایک مدبر قابل احترام شخصیت تھے اور آسانی سے کسی کے ساتھ زیادہ فری نہیں ہوتے تھے۔ اس زمانہ میں بھی سرراہے نوائے وقت تحریر کرتے تھے۔ اکثر طالب علم اُن سے گھبراتے تھے لیکن مجید نظامی صاحب شروع سے ہی میرے مہربانوں میں سے تھے۔ امجد احمد شیخ اس زمانہ میں سی ایس پی سلیکٹ ہوئے تھے اور سرتاج عزیز صاحب بھی سنٹرل سروس میں سلیکٹ ہوئے تھے جو ان کے دوستوں میں سے تھے میں بھی انکی محفل میںشامل ہو گیا اور مال روڈ پر پیدل لارنس گارڈن تک شام کو سیر کیا کرتے تھے۔ اس زمانے میں آئین بن رہا تھا اس پر بحث مباحثہ ہوتا تھا اور پاکستان کے سیاستدانوں پر تبصرہ ہوتا تھا۔ ممتاز دولتانہ اور نواب ممدوٹ میں کشمکش چل رہی تھی اُس پر نظامی صاحب ہمیں مکمل انفرمیشن اپنے دلائل کے ساتھ پیش کیا کرتے تھے۔ یہ سب باتیں بتانے کا مطلب یہ ہے کہ نظامی صاحب طالب علمی کے زمانے میں بھی پاکستان کی فکر میں تھے، عام طالب علموں کی طرح لیلیٰ مجنوں کے قصے نہیں دہراتے تھے۔ کالج کے پروفیسر بھی انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور لڑکے بھی ان کی عزت کرتے تھے۔ کلاس میں الیکشن کا وقت آیا تو نظامی صاحب نے مجھے پولیٹیکل سائنس کے صدر کیلئے منتخب کرانا پسند کیا اور میں نے انہیں سیکرٹری کا عہد لینے کیلئے مجبور کیا۔ پہلے تو وہ انکار کرتے رہے لیکن بعد میں مان گئے۔ ہمارے پورے پینل کو فتح نصیب ہوئی اور ہمارے پینل کے خلاف رفیع کے پینل کو شکست ہوئی، رفیع بعد میں یو این او میں کافی بڑے عہدے پر متعین رہے تھے۔ اس طرح کالج کے زمانہ سے نظامی صاحب کے ساتھ نیاز مندی رہی۔
ایم اے کرنے کے بعد میں مجسٹریٹ سلیکٹ ہو گیا اور خانپور تحصیل رحیم یار خان میں تعیناتی ہوئی۔ مجید نظامی صاحب ایم اے کرنے کے بعدمزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے لندن جا ر ہے تھے۔ خانپور ریلوے سٹیشن پر میں نے ضد کر کے انہیں ایک رات کیلئے خانپور ٹھہرا لیا۔ اسد علی شاہ بھی خانپور کے رہائشی تھے ان سے بھی نظامی صاحب کے تعلقات تھے۔ انہوں نے بھی میرے ساتھ اصرار کیا تو نظامی صاحب مان گئے۔ ایک رات کیلئے رُکے تھے، رات کو سونا تو کیا تمام رات جاگ کر کالج کے زمانے کی یادیں تازہ کیں اور پرانے دوستوں کو ساری رات یاد کیا۔ دوسرے دن نظامی صاحب کو کراچی کیلئے روانہ کیا لیکن وہ ایک رات جو گپ شپ میں گزاری میری زندگی کے حسین ترین لمحات میں سے تھی۔ میں نے اپنے بیڈ روم میں نظامی صاحب اور دوسرے کلاس فیلوز کی تصاویر لگا رکھی تھیں۔ نظامی صاحب دیکھ کر بہت خوش ہوئے کہ تم نے تو بیڈ روم کو ہمارے کلاس روم میں منتقل کر دیا ہے۔ کالج کے پورے دو سال ایک رات میں دہرائے گئے۔
 لندن میں بھی ان سے خط و کتابت کا سلسہ جاری رہا۔ نظامی صاحب لندن کے آزاد ماحول کا ذکر اکثر خطوط میں کرتے رہے، مَیں پاکستان کے دگرگوں حالات اُن کے پیش نظر کرتا رہا۔ 1962ء میں ان کے بھائی حمید نظامی صاحب جب علیل ہوئے تو مجید نظامی صاحب پاکستان آ گئے۔ حمید نظامی صاحب کی وفات کے بعد مجید نظامی صاحب نے نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے چارج لیا اور حمید نظامی صاحب کی پالیسی اپنانے کا عہد کیا۔ کسی بڑے سے بڑے حکمران کو صحیح بات کہنے سے نہ ہچکچاتے تھے۔ نوائے وقت کی پالیسی سچ بولنا، سچ لکھنا اور استحکام پاکستان کیلئے کام کرنا رہی۔ ایوب خان کے زمانے کے ایجی ٹیشن میں بھی مجید نظامی صاحب نے اپوزیشن کا ساتھ دیا اور ایوب خان سے ڈرنے کی بجائے حکومت کی خامیوں کو آشکار کیا۔ محترمہ فاطمہ جناح کی ایوب خان کے خلاف الیکشن میں کُھل کر مدد کی، نواب کالا باغ جیسے سخت گیر گورنر کی موجودگی میں بھی محترمہ فاطمہ جناح کی ہمنوائی کرتے رہے۔ نواب کالا باغ گورنر مغربی پاکستان بھی مجید نظامی صاحب کی آزادیٔ صحافت کے قائل تھے اور نجی محفلوں میں تعریف کرتے تھے۔ بھٹو کے زمانے میں بھٹو کی خامیوں کو بھی آشکار کرتے تھے۔
شملہ معاہدہ پر میں نے ایک مضمون لکھا جس میں شملہ معاہدہ کی اندرونی کہانی تحریر کی گئی تھی۔ بھٹو اس مضمون کو پڑھ کر اشتعال میں آ گئے اور نظامی صاحب نے بعد میں مجھے بتایا کہ وہ بار بار یہی اصرار کئے جا رہے تھے کہ شملہ معاہدہ میں اندرا گاندھی اور بھٹو کے درمیان گفتگو اور ایشوی کمار ہندوستان میں پنجاب میں آئی جی رہ چکے تھے اور اس وقت اندرا گاندھی کے چیف سکیورٹی آفیسر کی دوران ملاقات کا ہو بہو نقشہ کس نے راقم کو بتایا ہے۔ جس پر نظامی صاحب نے جواب دیا کہ شملہ معاہدہ مضمون کے تحریر کنندہ سے پوچھیں مجھے کیا معلوم۔ ضیاالحق بھی نوائے وقت کے اداریوں سے خوش نہ تھے لیکن مجید نظامی صاحب نے اس کی پروا کئے بغیر آزادیٔ صحافت کے پرچم کو سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ موجودہ حکمرانوں کے متعلق مشہور ہے کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے تعلقات مجید نظامی صاحب سے گہرے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مجید نظامی صاحب کے میاں محمد شریف سے بہت اچھے تعلقات تھے لیکن مجید نظامی صاحب ان تعلقات کو آزادیٔ صحافت اور آزادی اظہار رائے میں مخل نہیں ہونے دیتے تھے۔ مجید نظامی صاحب میاں نواز شریف کی بھارت کے ساتھ پالیسی کے سخت برملا مخالف تھے، اُن کا فرمان تھا جب تک بھارت کشمیر میں رائے شماری کرا کر کشمیریوں کو خود ملک سلیکٹ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، بھارت سے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے۔ میاں نواز شریف دلی طور پر بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن مجید نظامی صاحب اس پر کشمیر میں رائے شماری یو این او کی قراردادوں کے مطابق نہیں ہوتی اور پاکستانی دریائوں کے پانی پر بھارتی ڈیم ختم نہیں کئے جاتے تب تک بھارت سے صلح نہیں ہو سکتی نہ ہی بھارت کو ترجیحی بنیادوں پر موسٹ فیورٹ سٹیٹ کا درجہ دیا جا سکتا۔
مجید نظامی صاحب نے زندگی کی آخری تقریر میں تو یہاں تک کہہ دیا کہ کشمیر بغیر جنگ کے ہندوستان نہیں چھوڑے گا۔ اسی طرح بھارت کے پاکستانی دریائوں پر ڈیم تباہ کر دئیے جائیں ۔ ان دو باتوں پر موجودہ حکومت سے بھی مجید نظامی صاحب سخت مخالف تھے اور اپنی تحریروں اور تقریروں میں حکومت کو متنبہ کرتے رہتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ ذاتی تعلقات اگر ہوں بھی تو آزادی صحافت کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتے تھے۔ پرائیویٹ ملاقات میں کشمیر کے پاکستان کی شہ رگ ہونے کے قائداعظم کے فرمان کی تائید کرتے رہتے تھے۔وہ برملا کہتے کشمیر اور پانی کا مسئلہ زورِ بازو سے ہی حل ہو گا، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
اس دفعہ عجیب اتفاق ہوا کہ ان کی بیماری کا مجھے علم نہ ہو سکا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں خود بیمار تھا۔ 26 رمضان المبارک کو نوائے وقت میں ایک چھوٹی سی خبر نظامی صاحب کی علالت کی جب میں نے صبح پڑھی تو نوائے وقت کے دفتر ٹیلی فون کر کے مجید نظامی صاحب کے متعلق دریافت کیا وہاں سے پتہ چلا کہ وہ ہسپتال داخل ہیں۔ میں فوراً ہسپتال پہنچا، وہاں عبدالغنی ان کے کمرہ کے باہر ملا، اس نے بتایا کہ ان سے ملنے کی اجازت نہیں لیکن اب وہ پہلے سے بہتر ہیں۔ میں نے اس کی بہت منت سماجت کی کہ مجھے مل لینے دو لیکن اس نے انکار کر دیا کہ ڈاکٹروں نے سختی سے منع کیا ہوا ہے۔ 27ویں رمضان المبارک کو جب میں روزہ رکھنے کیلئے اٹھا تو ٹیلی ویژن پر ان کی وفات کی خبر چل رہی تھی۔ آنسو تھے کہ اُمڈے چلے آ رہے تھے لیکن مشیئتِ ایزدی کے سامنے انسان بے بس ہے اُس نے اپنے نیک بندہ کو متبرک رات کو اپنے پاس بُلا لیا۔ اِنا للہ و اِنا اِلیہ راجعون!
مرنے والے مرتے ہیں لیکن فنا ہوتے نہیں
یہ حقیقت میں کبھی ہم سے جُدا ہوتے نہیں