غزہ کی صورتحال …مسلم امہ کے منہ پرطمانچہ

کالم نگار  |  سرورمنیر راﺅ
 غزہ کی صورتحال …مسلم امہ کے منہ پرطمانچہ

غزہ پر ہونے والی حالیہ اسرائیلی بربریت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔عالمی اور اسلامی ممالک کا ضمیر اس ظلم و بربریت کی خبریں دیکھنے کے باجود بھی بے حس ہو چکا ہے۔فلسطین اور غزہ کے قریبی ممالک مصر،اردن، شام، کویت ، سعودی عرب اور عراق بھی اس صورت حال کو کبوتر کی طرح آنکھ بند کر کے تماشہ سمجھ کر دیکھ رہے ہیں۔دنیا بھر کو سستا تیل فراہم کرنے والے عرب ممالک تیل کے ہتھیار کو بھی استعمال کرنے سے گریزاں ہیں۔ماضی قریب میں یہی عرب ممالک عراق،ایران جنگ۔پھر کویت،عراق جنگ کا مہرہ بنے اپنی ہی تباہی و بربادی اپنے ہاتھوں سے کرتے رہے۔ عراق پر امریکی جارحیت کے وقت بھی سوائے شام کے سبھی عرب ممالک بغلیں بجاتے رہے۔ شام اور لیبیا میں حکومت اور باغیوں کے درمیان جو خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے وہ بھی ان کے لیے دو طرفہ تماشہ ہے۔ہر ذی شعور مسلمان لرزاں ہے کہ کہا ں گیا وہ جذبہ جہاد اور اسلامی بھائی چارہ کہ جس کی تعلیم ہمیں اسلام نے دی ۔ بقول اقبالؒ ؎ نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر۔
مسلم امہ کا ضمیر سویا ہی نہیں بلکہ بے حس بھی ہوچکا ہے۔ ملت اسلامیہ میں قحط الرجال ہے نہ تو کوئی قیادت اور نہ ہی دانش و حکمت کہ وہ تاریخ اسلام یا جدید مغربی تاریخ سے کوئی سبق سیکھ لے۔ یورپ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنے تمام تر اختلافات بھلا کر یورپی یونین کی بنیاد رکھی اور یہ تمام ممالک مختلف زبانیں، ثقافت اور مفادات رکھنے کے باوجود ایک دوسرے کے محافظ بنے ہوئے ہیں۔جبکہ ہم نے نام کو تو ایک تنظیم" او آئی سی" بنالی ہے لیکن یہ تنظیم ملت اسلامیہ کے اتحاد اور فلاح کے لیے کام کرنا تو درکنار ، اسلامی ممالک کے انفرادی، باہمی اور اجتماعی مسائل اور تنازعات کے حوالے سے بات کرنے کو بھی تیار نہیں۔ اس تنظیم کے ممبر ممالک کو امریکہ اور یورپ کبھی لالچ اور کبھی خوف کا احساس دلا کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے باآسانی استعمال کر لیتے ہیں۔مغربی میڈیا اور اقوام متحدہ کے دوہرے معیار کا اندازہ تو شاہد ہر ذی شعور کو غزہ کی صورتحال دیکھ کر ہو گیا ہے اس پر مزید تبصرہ کیا کیا جائے ۔سب کچھ سب پربخوبی عیاں ہے۔
تاریخی اعتبار سے غزہ کا یہ خطہ تاریخ اقوام عالم میں ہمیشہ سے نمایاں حیثیت کا حامل رہا ہے۔غزہ کا قدیم اور تاریخی شہر اسرائیل اور مصر کی سرحد پر Mediterranean Sea کے تنگ ساحلی علاقے کی پٹی پر واقع ہے ۔زمانہ قدیم سے غزہ شمالی افریقہ ،عرب ممالک اور یورپ کے درمیان اہم تجارتی راستہ رہا ہے۔قدیم مصری زمانے میں غزہ کو "انعامات کا شہر" کہا جاتا تھا۔حضرت محمد ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم کی قبرمبارک بھی غزہ ہی میں ہے۔اسی نسبت سے غزہ کو" غزہ ہاشم" بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ کے زمانے میں غزہ کواسلامی سلطنت میں شامل کیا گیا۔ اموی اور عباسی دور میں بھی غزہ کو اسلامی سلطنت میں اہم انتظامی حیثیت حاصل رہی۔ سکندر اعظم نے بھی پانچ سال تک غزہ کو اپنے قبضے میں رکھا۔ غزہ کا شہر دو حصوں میں تقسیم ہے ۔ایک حصے کو عیسائی کواٹر کہا جاتا ہے یہاں عیسائیوں کی تعداد زیادہ ہے اور دوسرے حصے کو مسلم کواٹرکہا جاتا ہے یہاں مسلم اکثریت ہے۔فقہ شافی کے بانی حضرت محمد ابن ادریس الشافی غزہ میں ہی پیدا ہوئے ۔1191میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے عیسائیوں کو عبرت ناک شکست دے کر غزہ کو فتح کیا ۔جنگ عظیم دوئم کے بعد لیگ آف نیشنز نے غزہ کو برطانوی حاکمیت میں دے دیا۔ 1949 میں غزہ کو مصرکی حکمرانی میں دیے دیا گیا۔1967میں اسرائیل نے غزہ پر قبضہ کر لیا۔ 1979میں اسرائیل اور مصر کے درمیان ایک معاہدے کے تحت اس علاقے کی محدود خودمختار حیثیت کو تسلیم کر لیا گیا۔ستمبر1993میں اوسلو معاہدے کے تحت جو اسرائیل اور PLOکے درمیان ہوا،اسے فلسطین کا حصہ بنا دیا گیا۔یاسرعرفات مرحوم نے غزہ کو اپنا صوبائی دارالحکومت قرار دیا۔
محل وقوع کے اعتبار سے غزہ 27میل رقبے پر پھیلی ہوئی پٹی پر مشتمل ہے۔ یہاں تقریباً سترہ لاکھ افراد ایک چوہے دان میں پھنسے اسرائیلی کڑیکی میں آئے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی ظلم و بربریت بلا تخصیص بچوں اور عورتوں کو بھون رہا ہے۔انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اقوام متحدہ، او آئی سی اور جہاد کے متوالے سبھی خاموش ہیں۔ القائدہ اور طالبان اپنے ہی ملک یا ہمسایہ مسلمان بھائیوں کو خود کش دھماکوں میں مار کر توبقول خود" جنت الفردوس" میں جانے کے لیے تیار ہیں لیکن اس بین الاقوامی بربریت اور امریکی پشت پناہی کو ختم کرنے کے لیے دشمنان اسلام کو ہلاک کر کے جنت میں نہیں جانا چاہتے۔ ان کے پاس اسرائیل کے ہمسایہ ممالک میں اپنی Baseبنا کر صہیونی اور امریکی سازش کی بیخ کنی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
یہ امر اور بھی کس قدر افسوس ناک ہے کہ 58 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی یا عرب لیگ غزہ کے معاملے کو اقوام متحدہ یا پورپی یونین میں اٹھانے کے لیے متحرک نہیں وہ اپنے اقتدارکو محفوظ بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔حالانکہ کبوتر کی طرح آنکھ بند کر لینے سے بلی کو حملے سے روکا نہیں جا سکتا۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ " عرب بہار"کے ساتھ ساتھ اب امریکہ نے "داعش" کو بھی لانچ کر دیا ہے۔ایسی تحریکوں پر نظر رکھنے والے لارنس آف عریبیا کے کردار کو نہیں بھولے ۔امریکہ اسلامی دنیا کے خلاف جو چو مکھی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اس کے تحت امریکہ مشرق وسطیٰ پالیسی کے ڈانڈے پاکستان تک پھیلے ہوئے ہیں ۔ پاکستان اور چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی رفاقت خصوصاً چین سے گوادر تک "اقتصادی راہداری" کے منصوبے نے امریکی پالیسی سازوں کی نیندیں حرام کی ہوئی ہیں۔روسی ٹیلی ویژن RT نے حال ہی میں ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں اس حوالے سے کھل کر تجزیہ پیش کرتے ہوئے امریکی عزائم کو آشکارہ کیا ہے۔ تجزیہ نگارنے بڑے کھلے الفاظ میںکہا ہے کہ امریکہ پاکستان کی "اقتصادی راہداری پالیسی"کے تحت گوادر کے راستے مشرق وسطیٰ میں چینی عمل داری کو روکنا چاہتا ہے اور اس منصوبے پر عمل کرنے کے لیے امریکہ نے رد عمل کے طور پر پاکستان کے حوالے سے کثیر جہتی پالیسی اختیار کی ہے۔ امریکہ کو یہ احساس ہے کہ پاکستان ایک مضبوط فوجی اور جوہری طاقت ہے۔اس لیے پاکستان پر کسی بھی طرح کی بل واسطہ یا بلا واسطہ فوجی پیش قدمی مناسب نہیں۔ پاکستان کو زیر نگیں رکھنے کے لیے اندرونی طور پر اسے خلفشار کا شکار رکھنا ضروری ہے ۔یہاں سول نا فرمانی اور خانہ جنگی کی صورتحال کو ہوا دینے سے حکومت غیرمستحکم ہوگی۔ اس طرح اقتصادی راہداری کا منصوبہ ایک خواب ہی رہے گا۔پاکستان میں منتخبہ جمہوری حکومت کوغیر مستحکم کرنے کے لیے گزشتہ چند ماہ کے دوران جو کچھ ہوا ہے وہ کس چیز کا پیش خیمہ ہیں اور ان کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔اس کا تجزیہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں۔
؎ صلاح عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے