مرکزی بینک کی تازہ مانیٹری پالیسی

کالم نگار  |  شیخ منظر عالم
 مرکزی بینک کی تازہ مانیٹری پالیسی

گذشتہ ہفتے حسب معمول مرکزی بینک نے ایک روایتی مانیٹری پالیسی جاری کرکے اپنی رسمی ذمہ داری ادا کردی جس میں صرف اعدادوشمار کے ہیر پھیر دکھائے گئے اور لفاظی سے کھیلا گیا ہے۔ حالانکہ کسی ملک کی بھی مانیٹری پالیسی اس ملک کی تجارتی پالیسی اور دیگر ترجیحات کا اشارہ دیتی ہے لیکن پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں سیاسی حقیقتوں کے علاوہ معاشی حقیقتوں کو بھی نظر انداز کرکے اعدادوشمار کے گورکھ دھندوں میں قوم کو الجھا کر ایک سراب دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ۔
المیہ تو یہ ہے کہ پاکستان کی آمریتوں اور فوجی حکمرانوں کو ہدف تنقید بنانے والی اورجمہوریت کی پاسبانی کا دعویٰ کرنیوالی دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی حقائق کیمطابق پاکستان اور پاکستان کی معیشت پر بیرونی قرضوں کا بھاری بوجھ لادنے کی ذمہ دار ہیں کیونکہ 1947سے 2008تک پاکستان پر کل بیرونی قرضوں کا بوجھ 6800ارب ڈالرز تھا جو 2008سے 2013کے درمیان کے جمہوری دور میں تقریباً 13800ارب ڈالرز یعنی صرف پانچ سالوں میں دگنا ہوگیا تھا اور اب موجودہ دور حکومت کے دو سال کے بھی کم عرصے میں عالمی معاشی اداروں کے پسندیدہ ترین وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ذہانت اور قابلیت کی وجہ سے اب یہ بوجھ 19000ارب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے اور ابھی بھی مزید قرضوں کے حصول کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ ان معاشی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے سرکاری اداروں کی ان سہ ماہی اور ششماہی رپورٹوں کے بارے میں ، میں اکثر کہتا ہوں کہ ایک جھوٹ ہوتا ہے ،دوسرا سفید جھوٹ ہوتا ہے اور اسکی تیسری اور آخری کیٹیگری سرکاری اعدادوشمار ہوتے ہیں۔ پھر بھی نجانے کیوں ہمارے معاشی افلاطون اس جدید اطلاعاتی دور میںقوم کو دھوکا دینے کی کوشش کررہے ہیں؟اور وقتاً فوقتاً تجارتی پالیسی ، برآمدی پالیسی اور ٹیکسٹائل پالیسی کا اعلان کرکے قوم کو بے وقوف بنانے کی بھی کوشش کرتے ہیں حالانکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ یہ تمام اعلانات صرف اور صرف اعلانات اور نعروں کی حد تک ہی محدود رہیں گے اور ان کو عملی جامہ نہیںپہنایا جاسکے گا اور یہی ہمارے ہر دور کے ارباب اختیار کا وطیرہ اور بہترین مشغلہ رہا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان زمینی اور زیر زمین خزانوں سے مالامال ہے ۔ پاکستان میں اس وقت موجود تقریباً 192ارب ٹن کوئلے کے ذخائر سے ہم ایک لاکھ میگا واٹ بجلی تین سوبرس تک پیدا کرسکتے ہیں اوراسکے علاوہ ہمارے آبی وسائل سے بھی تقریباً ایک لاکھ میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس کی مالیت 42ارب ڈالرز سالانہ بنتی ہے ۔ اسکے علاوہ خصوصاً بلوچستان و پنجاب کیساتھ ساتھ سندھ اور خیبر پختونخواہ میں تانبے، سونے، کوئلے اور گیس کے ذخائر وسیع پیمانے پر موجود ہیں ان کو بروئے کار لاکر ان سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
اس وقت امریکہ کے زرمبادلہ کے ذخائر 150ارب ڈالرز اور چین کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 4200 ارب ڈالرزہیں اور جس طرح ہم قدرت کی طرف سے نوازے گئے محل وقوع کے مناسبت سے چین کے انتہائی قریب آگئے ہیں اس سے بھی صحیح معنوں میں فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اس کیلئے حسب معمول ایک بار پھر ہمارے ارباب اختیار اپنی عاقبت نا اندیش پالیسیوں اور ہمارے نام نہاد بیرونی آقا نما دوستوں کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں اور سازشوں کا شکار نہ ہوں ۔ اگر گوادر کے منصوبے پر کام ہوا تو انشاء اللہ اس منصوبے سے نہ صرف پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہوگی بلکہ بحری راہداری کی وجہ سے ہمیں یورپ، مشرق وسطیٰ ، چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کی مال برداری کے معاوضے کی صورت میں اتنی رقم مل سکتی ہے کہ ہمیں کسی بیرونی معاشی ادارے کی مدد کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو عالمی معاشی ادارے جانتے ہیں کہ پاکستان ذخائر اور وسائل سے مالامال ہے اور پاکستان کے جذبوں کو شکست دینا آسان نہیں ہے اسی لئے وہ ہمارے کچھ ارباب اختیار کو ذاتی مفادات کی گہرائیوں میںالجھا کر پاکستان کی سمت آزاداور خودمختار معیشت کی طرف نہیں موڑنے دیتے یہی وجہ ہے کہ ہم سے کم آبادی رکھنے والے اور ہم سے کم قدرتی وسائل کے حامل ممالک معاشی ترقی میں ہم سے کہیں آگے جاچکے ہیں۔ مثلاً کوریا کی آبادی تقریباً 55ملین ہے اور قدرتی وسائل کی بھی کمی ہے مگر کوریا کی جی ڈی پی تقریباً 415ارب ڈالرزاور برآمدات 593ارب ڈالرز ہے حالانکہ 1968-1969میں پاکستان کی جی ڈی پی کوریا سے زیادہ تھی ۔ اسی طرح جاپان کی آبادی 127ملین ہے اور اسکے پاس بھی قدرتی وسائل کی کمی ہے لیکن اس کی جی ڈی پی 4500ارب ڈالرز اور برآمدات 700 ارب ڈالرز سالانہ ہیں۔ اسکے علاوہ 1964-1965 تک ہماری برآمدات ایران ، ترکی، کوریا اور خطے کے دیگرکئی ممالک سے زیادہ تھی لیکن آج ان ممالک کی برآمدات ہم سے کئی سو گنا زیادہ بڑھ چکی ہے اور ہم ابھی تک 25ارب روپے کی برآمدات کے شادیانے بجارہے ہیںاور انجمن ستائش باہمی قسم کے تاجروں اور صنعتکاروں سے مبارکبادیں وصول کررہے ہیں حالانکہ حقیقتاً ہمارے ہاں برآمدات میں پیداواری طور پر اضافہ نہیں ہوا بلکہ ہماری محکوم معیشت کی وجہ سے جس طرح گذشتہ دس سال میں کرنسی کی قدر میں تقریباً پچاس فیصدکمی واقع ہوئی ہے اور ڈالر ساٹھ روپے سے 102 روپے پر آگیا ہے اسی لئے صرف روپوں کی تعداد میں ہی اضافہ ہوا ہے اور پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوا بلکہ اس تناسب سے پیداواری شعبے بند ہوئے ہیں جیسا کہ اعدادوشمار کیمطابق گذشتہ چھ سے آٹھ سال میں مجموعی طور پر پاکستان کی پانچ ہزار سے زیادہ چھوٹی بڑی پیداواری صنعتیں بند ہوئی ہیں اور اس وقت ہمارا شمار خام مال برآمد کرنیوالے ممالک میں کیا جاتا ہے حالانکہ ترقی کا دارومدار تیار شدہ مصنوعات کی پیداوار پر ہی ہوتا ہے۔ ہمارے اپنے ارباب اختیار کی غلامانہ معاشی پالیسیوں نے ہمیں آج پستی کی اتھاہ گہرایوں میں دھکیل دیا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ اب ہم خواب غفلت سے جاگیں اور گذشتہ تلخ حقیقتوں اور تجربات کی روشنی میں آئندہ کی حکمت عملی ترتیب دیں کیونکہ اب مزید غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔ ہماری اس معاشی ،قومی اور اجتماعی پستی کی ایک اور بنیادی وجہ فیصلوں میں مستقل مزاجی اور طویل المیعاد ی کے بجائے ایڈہاک ازم پر وقتی فیصلوں کا ہونا ہے اور جہاں ادارے کمزور ہوں اور نظام میں خامیاں موجود ہوںتو وہاں ارباب اختیار کو کھل کھیلنے کا موقع ملتا ہے جس کی وجہ سے کرپشن اور بدعنوانی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ اس کو برائی یا کرپشن ہی نہیں سمجھا جاتا اوراس طرح ملک میں نظام نہ ہونے کی وجہ سے انارکی بڑھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے سیاسی رہنما یہ شور مچارہے ہیں کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے مگر یہ کہہ کر وہ اپنی ماضی کی کوتاہیوں، نالائقیوں اور لاپروائیوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔