قومی مفادات!

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
 قومی مفادات!

فرانس بیکن نے کہا تھا کہ ’’موقع‘‘ ایک خوبصورت لڑکی کی مانند ہے جسے صرف سامنے سے آتے ہوئے پکڑا جا سکتا ہے۔گزرنے کے بعد نہیں۔شکسپئیر نے اسی بات کو دوسرے انداز میں کہا تھا ۔’’ہر انسان کی زندگی کے سمندر میں ایک لہر ابھرتی ہے اگر اسوقت فائدہ اٹھا لیا جائے تو زندگی سنور جاتی ہے ورنہ پوری زندگی مایوسیوں اور ناکامیوں کے تلاطم میں گھر جاتی ہے۔‘‘بدیگر الفاظ ’’ موقع‘‘ انسانی زندگی کا شاندار لمحہ ہوتا ہے۔ عقلمند لوگ آتا ہوا موقع جانے نہیں دیتے ۔ موقع سے فائدہ اٹھانا انسان کو کامیابیوں کی معراج تک پہنچا دیتا ہے لیکن موقع گنوا دینے سے ناکامی اور بد بختی مقدر بن جاتی ہیں۔یہی حال اقوامِ عالم کا ہے۔ ہوشیار اور زندہ قومیں قومی زندگی میں رونما ہونیوالے مواقع کیش کرتی ہیں اور ترقی انکا مقدر بن جاتی ہے جبکہ سست اور نا اہل اقوام مواقع گنوا کر مختلف مسائل کا شکار بنی رہتی ہیں ۔وہ مسائل کے جنگلات کی دلدل سے بمشکل ہی باہر نکل سکتی ہیں۔ ذرا مندرجہ ذیل واقعات پر غور کریں۔
مشرق وسطیٰ تیل کی دولت کی وجہ سے ایک امیر کبیر خطہ ہے۔ 90کی دہائی میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ کی دولت سے فائدہ اٹھانے کا سوچا تو اگست 1990میں عراق سے کویت پر حملہ کروادیا۔یوں کویت کا خاصا علاقہ بمع تیل کے کنوئوں کے عراق کے قبضہ میں چلا گیا۔اس قبضہ سے سعودی عرب اور گلف ممالک کو اپنی سا لمیت خطرے میں نظر آئی تو امریکہ بہادر نے ان سب کو بچانے کے نام پر جنوری 1991میں عراق پر حملہ کردیا۔اس اپریشن کو ’’ڈیزرٹ سٹار م ‘‘ کا نام دیا گیا۔اس اپریشن سے کویت تو آزاد ہوگیا ۔گلف ممالک بھی محفوظ ہوگئے لیکن عراق کی خاصی تباہی ہوئی۔امریکہ نے گلف ممالک سے دو سو ارب ڈالرز بطور جنگی تاوان وصول کئے اور سو ارب ڈالرز کویت میں تعمیر نو کے نام پر جگا ٹیکس وصول کر لیا ۔ مصر،شام اور ترکی نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور موقع سے فائدہ اٹھایا۔شام اور ترکی نے بطور کمپن سیشن ایک معقول معاوضہ وصول کیا۔ پاکستان سے بھی امداد مانگی گئی تھی۔ پاکستان نے اپنے ٹروپس بھی بھیجے لیکن اپنی پاکستانی تنخواہ پر،کسی قسم کا فائدہ نہ اٹھایا۔ ہمارے جو ٹروپس وہاں گئے انہیں تنخواہ بھی پاکستانی روپے میں ملتی رہی حالانکہ غیر ممالک میں ہمیشہ تنخواہ ڈالروں میں ملتی ہے ۔
پھر اسی قسم کا ایک موقع دوبارہ 2001میں آیا جب امریکہ نے افغانستان پر حملے کا منصوبہ بنایا۔ سب سے پہلے امریکہ نے ایران سے ہوائی اڈے مانگے تو ایران نے اس بناء پر انکار کردیا کہ وہ کسی برادر اسلامی ملک کے خلاف کسی قسم کی جنگ میں شریک نہیں ہوگا۔ بہت ہی احسن فیصلہ تھا۔ پھر ترکی سے امداد مانگی گئی لیکن ترکی نے دو شرائط سامنے رکھیں ۔اول یہ کہ اس کے تمام قرضے معاف کئے جائیں اور دوم یہ کہ ہوائی اڈوں کے استعمال کا کرایہ دینا ہوگا۔ امریکہ نے بارگین کرنے کی بہت کوشش کی لیکن ترکی اپنی شرائط پر ڈٹا رہا جو امریکہ کو قابل قبول نہ ہوئیں کیونکہ بہت مہنگا سودا تھا۔ بالآخر یہی مطالبہ پاکستان سے کیا گیا تو ہماری بدقسمتی کہ جنرل مشرف صاحب صرف ایک فون کال پر ہی سب کچھ مان گئے۔ ذاتی مفادات تو یقیناً حاصل کئے گئے۔ انکی حکمرانی کو بھی دوام ملا لیکن قوم کو کیاملا؟ ایک نہ ختم ہونیوالی دہشتگردی کی جنگ جو آج تک ہم بھگت رہے ہیں ۔قومی مفادات یہاں بھی بیدردی سے قربان کر دئیے گئے ورنہ اور کچھ نہیں تو کم از کم ہم اپنا قرضہ تو آسانی سے معاف کرا سکتے تھے۔امریکہ نے ساڑھے چھ سو بلین ڈالرز افغانستان کی جنگ میں تو جھونک دئیے لیکن ہمیں اپنے انفراسٹرکچر کی تباہی اور پچاس ہزار معصوم لوگوں کی شہادتوں کے تحفہ کے علاوہ اور کچھ نہ ملا۔ایک حالیہ واشنگٹن ڈی سی سے جاری ہونیوالی رپورٹ کیمطابق ہماری شہادتوں کی تعداد 80 ہزار سے زائد ہے۔ اب ہم فقیروں کی طرح ہر دفعہ امریکہ سے’’ کولیشن سپورٹ فنڈ ‘‘کی بھیک مانگتے ہیں اور وہ ہر سال کسی نہ کسی بہانے کٹوتی کر کے قسطوں میں خیرات کی طرح یہ فنڈ ادا کرتا ہے اور جلی کٹی مزید سننی پڑتی ہیں جیسے کہ ہم مجرم ہوں۔ اگر اسوقت ہم ایک خودار قوم والے انداز میں ترکی یا مصر کی طرح امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ڈیل کر تے تو آج ہماری یہ حالت تو نہ ہوتی۔ ضرورت امریکہ کو تھی ہمیں نہ تھی۔
اب ایک دفعہ نیا موقع ابھر اہے ۔یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگی چپقلش ایک سنگین صورت حال کی طرف بڑھ رہی ہے ۔شاید اسی سنگین صورتحال کا پیشگی اندازہ کرتے ہوئے شاہ سلمان نے مختلف مسلمان سربراہوں سے ملاقات کی جن میں ترکی، مصر، قطر اور پاکستان شامل تھے۔ گلف نیوز رپورٹ کیمطابق سعودی عرب نے مصر اور پاکستا ن سے عسکری امداد کی درخواست کی۔ مصر نے اس موقع سے ایک دفعہ پھر فائدہ اٹھایا ۔مصر نے اپنی معاشی بد حالی کا ذکر کر کے دو قسم کی امداد طلب کی۔پہلی تو یہ کہ عوام کیلئے 12بلین ڈالر کی فوری ضرورت ظاہر کی جو سعودی حکومت نے اسی وقت منظور کر لی۔ مصر کا دوسرا مطالبہ یہ تھا کہ مصر کادارالحکومت قاہرہ بہت گنجان شہر بن چکا ہے ۔کسی قسم کی ترقیاتی سکیم کامیاب نہیں ہورہی۔حکومت کیخلاف عوامی نفرت روز بروز بڑھ رہی ہے لہٰذا مصر موجودہ دارالحکومت سے کچھ فا صلے پر نیا دارالحکومت بنانا چاہتا ہے جس کا رقبہ تقریباً سات سو کلو میٹر ہوگا اوربنیادی طور پر ایک کروڑ دس لاکھ مکانات بنائے جائینگے۔یہ منصوبہ سات سے دس سال میں مکمل ہوگا اور اس کیلئے 175 سے لیکر 300بلین ڈالرز کی ضرورت ہوگی۔سعودی عرب اور گلف کونسل نے مل کر یہ شرط بھی منظور کر لی ۔یہ تمام ممالک مل کر مصر کو نئے دارالحکومت کا انفراسٹرکچر تیار کر کے دینگے۔یاد رہے کہ جب جنرل السیسی نے مُرسی حکومت کا تختہ الٹا تھا تو گلف ممالک نے بیس بلین ڈالرز بطور بیل آئوٹ پیکج اسوقت بھی دیا تھا۔
جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم یہاں بھی شہزادے ہی ثابت ہوئے ہیں ۔ہمیں ایک سال پہلے سعودی عرب نے ڈیڑھ بلین ڈالر دئیے تھے ۔اس پر حکومت نے ایسی خاموشی اختیار کی کہ آج تک معلوم نہیں کہ یہ امداد تھی یا قرض ۔ اب یمن اور سعودی چپقلش کے ساتھ ہی ہمارے حکمرانوں نے سعودی عرب کیلئے ہر قسم کی امداد کے اعلانات شروع کر دئیے ہیں ۔حکومتی بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹروپس بغیر معاوضہ بھیجے جائینگے جبکہ ہمارے کچھ کمانڈوز پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔اس مہربانی کی دو بڑی وجوہات ہیں۔اول یہ کہ ہمارے حکمران سعودی عرب کے ممنون ہیں کہ مشکل وقت میں انہیں وہاں پناہ ملی،دوم یہ کہ ان کے وہاں بہت زیادہ تجارتی مفادات ہیں جن کا تحفظ حکمرانوں کیلئے ضروری ہے۔حکمران تو اپنا ذاتی احسان اتارنا اور اپنے ذاتی تجارتی مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں لیکن اس میں قوم کا کیا فائدہ ہوگا؟ ذاتی مفادات تو بہرحال ہر صورت اٹھائے جائینگے ۔ غلط یا صحیح افواہ یہ بھی ہے کہ حکمرانوں نے سعودیوں سے 3.5بلین ڈالرز وصول کر لئے ہیں ۔ یہاں یاد رہے کہ یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہرگز نہیں۔ سعودی حکمرانوں اور یمنی قبائل کے مفادات کی جنگ ہے بلکہ شیعہ اور سنی کی جنگ ہے جس میں ہمارا کوئی کردار نہ ہے اور نہ ہونا چاہیے۔ہم پہلے ہی مذہبی فرقہ واریت کی آگ میں جل رہے ہیں۔یہ جنگ بالآخر سعودی حکومت اور ایران کے درمیان لڑی جائیگی لہٰذاہمیں اپنے قومی مفادات کا ہر صورت تحفظ کرنا چاہیے۔