منزل ہے آسماں تو بے بال و پر نہ جا

منزل ہے آسماں تو بے بال و پر نہ جا


افلا طون یعنی پلیٹو (PLATO) چوتھی اور پانچویں صدی قبل مسیح کا ایک مانا ہوا یونانی فلاسفر اور ریاضی دان تھا جس کو یہ اعزاز حاصل تھا کہ اس کا استاد عظیم بین الاقوامی دانشور اور فلاسفر سقراط اور اس کا شاگرد مشہور زمانہ دانا، مصنف اور محقق ارسطو تھا۔
پلیٹو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ریاستوں کو چلانے کیلئے بہترین نظام وہ ہوتا ہے جس کو بہترین اور دیانتدار لوگ چلا رہے ہوں۔ پلیٹو کا پیغام بڑا واضح تھا اور وہ یہ کہ کوئی نظام بھی اچھایا بُرا نہیں ہوتا۔ دراصل نظام کے کامیابی سے چلانے کا سارا دار و مدار اُن لوگوں کی اہلیت، دیانتداری، حب الوطنی، خدا خوفی اور بصیرت پر ہوتا ہے جو اس نظام کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ جنوبی کوریا کے جنرل پارک، مصر کے کرنل جمال عبدالناصر اور جاپان کے امریکی جنرل میکارتھر سب دیانتدار اور اہل ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے ان ممالک کی قسمت بدل ڈالی لیکن اُن کے مقابلے میں فلپائن کے صدر مارکوس اور عراق کے صدر صدام حسین جیسے ڈکٹیٹر اپنی کمزوریوں اور ناقص پالیسیوں کی وجہ سے اپنے ممالک کی تباہی کا موجب بنے۔ اسی طرح امریکہ، برطانیہ یا باقی مغربی دنیا کی صدیوں کی پرانی جمہوریت کو آپ چھوڑ دیں اور صرف تیسری دنیا کے دو ممالک ملائیشیا اور جنوبی افریقہ کودیکھ لیں جنہوں نے جمہوری نظام کو چلایا اور کہاں سے کہاں تک پہنچ گئے انکے مقابلے میں ایک جمہوریت پاکستان میں بھی ہے جو ہماری معاشی، سماجی، سفارتی اور مالیاتی تباہی کا ایسا بدترین موجب بنی ہے کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ موجودہ جمہوری نظام سے ڈکٹیٹر شپ بہتر تھی۔
جب ہم اس بات کا بغور جائزہ لیتے ہیں کہ آمریت ایک جگہ کامیاب اور دوسری جگہ ناکام اور اسی طرح جمہوریت ایک ریاست میں کامیاب اور دوسری میں بُری طرح ناکام کیوں ہے تو جو بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ریاستوں کی کامیابی اور خوشحالی کا دار و مدار مروجہ نظام سے زیادہ اقتدار پر قابض قیادت کے کردار، Integrity، اصول پرستی بہترین نظام عدل و احتساب پر ایمان اور اہلیت پر ہے۔ پاکستان کو اگر ہم نے معاشی خوشحالی کی عظیم الشان منازل طے کر کے آسودگی کے آسمانوں تک پہنچانا ہے تو پھر اس کیلے رختِ سفر مذکورہ بالا اوصاف ہی ہیں۔ دیانتدار قیادت کے ارد گرد لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ عقیدت کے ساتھ اکٹھے ہو جاتے ہیں جس سے قائدین کو تقویت ملتی ہے جس کی بدولت وہ قومی سلامتی کے خلاف چلنے والے بڑے بڑے طوفانوں کا بے جگری اور ہمت سے مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں عوامی طاقت کے اٹھارہ کروڑ چراغ ہیں جن کو بُجھانا کسی طاقت کے بس میں نہیں شرط صرف قومی یکجہتی ہے۔ چکوال کے سالٹ رینج کے عظیم سپوت و قومی شاعر احمد ندیم قاسمی نے کیا خوب کہا ....
عزمِ سفر کیا ہے تو رختِ سفر بھی باندھ
منرل ہے آسماں تو بے بال و پر نہ جا
لاکھوں چراغ لا کہ ہَوا تیز ہے بہت
صرف اِک دیا جلا کر سرِ راہ گذر نہ جا
قارئین، اس میں تو ذرہ برابر بھی شک نہیں کہ ہمارے ملک پاکستان میں صرف اور صرف عوامی حکومت ہونی چاہئے۔ نظام خواہ پارلیمانی ہو یا صدارتی لیکن فوجی ڈکٹیٹر شپ پاکستان کے مسائل کا حل بالکل نہیں بلکہ یہ ریاست اور اس کے اداروں کیلئے بہت ہی مہلک ہے۔ ماضی کے تجربات سے ہم نے تلخ اسباق حاصل کئے ہیں ان کو دہرانا عاقبت نااندیشی ہو گا لیکن ایک بات لوگ ضرور کہتے ہیں کہ ڈکٹیٹر شپ تو بھلے نہ ہو لیکن کوئی نظام تو ہو جو ہماری جان و مال کی حفاظت کر سکے، ہمیں جلد اور سستا انصاف ملے اور کم از کم ہمارے چولہے جلتے رہیں تاکہ ہم بھوک و افلاس کی چکی میں پس کر ختم ہو جانے کی بجائے زندہ رہ سکیں۔ بدقسمتی سے آج پاکستان میں کوئی نظام نہیں، بُلٹ پروف گاڑیوں اور خاردار تاروں سے پروئی ہوئی دیو قد دیواروں کے اندر سمٹی ہوئی حویلیوں میں رہنے والے چند وڈیروں، جاگیر داروں اور حاکموں کے علاوہ کسی کی جان و مال محفوظ نہیں۔
قبائلی پٹی میں بسنے والے ہمارے بدنصیب بھائیوں اور ڈرون حملوں سے قتل کئے جانےوالے مظلوموں کے لواحقین، بلوچستان میں رہنے والے ہمارے بلوچ اور غیر بلوچ مقتول بھائیوں کی میتوں پر آہ پکار کرنے والے سینکڑوں سوگوار خاندانوں اور کراچی کی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے سینکڑوں بلکہ ہزاروں متاثرہ خاندانوں کے افراد سے اگر آپ یہ سوال کریں کہ ملک میں کونسا نظام حکومت بہتر ہے تو اس کا جواب یہ ہو گا کہ موجودہ نظام کے علاوہ جس میں ہماری جان اور مال محفوظ نہیں کوئی بھی دوسرا نظام خواہ شہنشاہیت ہی کیوں نہ ہو ہمیں قبول ہے شرط صرف یہ ہے کہ ہمیں جینے کا حق ملے اور پیٹ میں ڈالنے کیلئے خوراک اور پینے کےلئے پانی میسر ہو۔ ابھی ملک کے اندر ایسی گہری دھند اور زہریلی فضائی آلودگی ہے کہ ہم اپنے قائدین اور ڈاکو¶ں اور قاتلوں میں تمیز نہیں کر پا رہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ....
تمیز راہبر و راہزن ابھی نہیں ممکن
ذرا ٹھہر کہ بلا کا غبار راہ میں ہے
عید کے دن صدرِ مملکت کا یہ بیان سامنے آیا کہ انہوں نے ملکی صورتحال پر ایم کیو ایم، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ق) کی قیادت سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ آئین کے تحت ملکی صورتحال کی ساری ذمہ داری ملک کے وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے جو دنیا کے کسی کونے سے بھی اس صورتحال کا جائزہ لے سکتے ہیں اور لینا بھی چاہئے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن قائدین سے آپ صورتحال کا پوچھ رہے ہیں وہ خراب صورتحال کے خود ذمہ دار ہیں چونکہ وہ چندمنافع بخش وزارتوں کو جیب میں رکھے اور اپنے اقتدار کی طوالت کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کےلئے اس پوزیشن میں بالکل نہیں کہ ملک کے صدر یا وزیراعظم کو یہ بتا سکیں کہ ہم سب ناکام ہو گئے ہیں، ملک تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے جس کی ساری ذمہ داری ہم قبول کرتے ہیں۔ چونکہ ہم پچھلے پانچ سالوں سے اقتدار پر قابض ہیں اب ہمارا خوابیدہ ضمیر جاگ اٹھا ہے۔ ملکی مفاد اب اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم آپ کی حکومت کو مزید ایک دن کیلئے بھی ناجائز سہارا نہ دیں اس لئے آپ فوراً عبوری حکومت بنا کر اقتدار اس کے حوالے کر دیں تاکہ مزید لوگ قتل نہ ہوں اور ملک کا مزید معاشی نقصان نہ ہو۔
دراصل صورت حال کا صحیح اندازہ لگانے کیلئے صدر اور وزیراعظم کو میاں نواز شریف، عمران خان اور پروفیسر منور سے بات کرنے کے علاوہ ٹی وی پر بیٹھ کر عوام کے سوالوں کا جواب دینا چاہئے تھا اور ساتھ پلیٹو کی یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ریاستوں کو کامیابی سے چلانے کےلئے اہل اور دیانتدار قیادت ایک لازمی شرط ہے پھر اُن کو پتہ چلتا کہ صورتحال کی خرابی کا اصل ذمہ دار کون ہے۔