قائداعظم کا وژن اور آج کا پاکستان

کالم نگار  |  ڈاکٹر حسین احمدپراچہ
 قائداعظم کا وژن اور آج کا پاکستان


 عیدالاضحی کی تعطیلات کے دوران ہمیں قارئین کی طرف سے برقی پیغامات، ای میلز اور ٹیلی فون کالوں کے ذریعے مسلسل ہدیہ¿ تبریک وصول ہوتا رہا۔اس کرم نوازی پر میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔اسی رابطے کے دوران بہت سے دوستوں نے ایک دو کالم نگاروں اور بیرونِ ملک مقیم کچھ سیاستدانوں کے اُس راگ کی طرف متوجہ کیا جو وہ گاہے بگاہے الاپتے رہتے ہیں۔اس راگ میں وہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو سیکولر ثابت کرنے کیلئے اپنے زنگ آلود دل کا بخار نکالتے رہتے ہیں۔وہ جو کہا گیا ہے کہ دلوں پر مہر لگادی جاتی ہے۔بسا اوقات دلوں پر مہر اور دماغوںپر تالے لگادئیے جاتے ہیں۔ایسی صورت میں کہ جب کوئی دلیل ہو نہ ہی کوئی تاریخی شہادت نہ ہو اور کوئی تاریخ کے چپے چپے پر روشن چراغوں کو پھونکوں سے بجھانے پر آمادہ دکھائی دے تو اس کے رویے پر ترس بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ہم ایسی بے سروپا باتوں کا بار بار مسکت جواب دے چکے ہیں اور مزید جواب دینے کی ضرورت محسوس نہ کرتے تھے۔تاہم ایک معاصر میں معروف کالم نگار ایاز امیر نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت اور اُن کے وژن کے بارے میں جسارت کی ہے ۔
27اکتوبر2012کو ایاز امیر لکھتے ہیں۔ 1946'' کے انتخابات، جن میں مسلم لیگ کو فتح نصیب ہوئی،میں پارٹی نے نعرہ بلند کیا تھا.... ”مسلمان ہے تو مسلم لیگ میں آ“ اس میں یقینا سیکولر ازم کا کوئی شائبہ نہیں ہے مگر اس وقت تک جناح صاحب کی عمر کا سورج ڈھل چکا تھا اور صورتِ حال پر اُن کی گرفت ڈھیلی پڑ چکی تھی۔تاہم حالات کے دھار ے میں مسٹر جناح جو کبھی ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے اور سروجنی نائیڈو اُن کے گن گاتی تھیں میں بھی تبدیلی واقع ہوئی اور وہ شیروانی اور ٹوپی میں ملبوس آئے۔یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑے گی کہ دو قومی نظریہ پاکستان کی تخلیق کی وجہ بننے کی حد تک تو ٹھیک تھا مگر اب موجودہ دور میں یہ اپنی اہمیت کھو چکا ہے.... روشن خیال اور لبرل سوچ رکھنے والے افراد آج نظریہ¿ پاکستان کا ازسر نو تعین کر سکتے ہیں تاکہ اسے موجودہ زمانے کی ضروریات سے ہم آہنگ کیاجاسکے تاہم اس سلسلے میں ہمارے دیس میں قحط الرجال نظر آتا ہے“۔گویا کالم نگار قائداعظم پر موقعہ پرستی اور ریا کاری کا الزام لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ اسی کالم کے آغاز میں فاضل کالم نگار قائداعظم کی ساری شخصیت، اُن کی ساری جدوجہد اُن کے سارے ارشادات و بیانات اور اُن کی ساری اسلامی کمٹمنٹ کو ایک طرف رکھتے ہوئے 11اگست 1947 کے خطاب کا حوالہ دیتے ہیں۔یہ حوالہ سیکولر ازم کا ہر پرستار دیتا ہے مگر علمی بد دیانتی سے کام لیتا ہے ۔قائداعظم نے بجا فرمایا....” آپ آزاد ہیں، چاہے تو آپ مساجد میں جائیں، مندروں میں جائیں،ریاست کو اس سے کوئی سروکار نہیں“ اس خطاب میں بھی قرآن پاک کی آیت کہ دین میں کوئی جبر نہیں کی عملی تفسیر نظر آتی ہے۔ آپ نے غیر مسلموں پر واضح کیا کہ آپ کو پاکستان میں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہوگی اور کوئی پکڑ پکڑ کر آپ کو مسجدوں میں نہیں لے جائیگا“۔
جادو وہ ہوتا ہے جو سر چڑھ کر بولتا ہے۔اب دو قومی نظریے کی تاریخی حقیقت کا ابطال تو ممکن نہیں اس لئے سیکولر کالم نگار کہتے ہیں کہ تاریخ کے صفحات کو پھاڑنا تو ہمارے لئے ممکن نہیں اس لئے نظریہ¿ پاکستان کو ہی بدل ڈالو اور اس اسلامی نظریے کو سیکولر الزم کا چولا پہنادو۔
دیکھئے اس بارے میںقائداعظمؒ کا وژن کتنا واضح اور دو ٹوک ہے۔ 1941میں قائداعظمؒ نے عثمانیہ یونیورسٹی کے طلبہ کو ایک انٹرویو دیا۔طلبہ کا پہلا سوال یہ تھا کہ مذہب اور مذہبی ریاست کے بارے میں آپ کا نقطہ¿ نظر کیا ہے۔ قائداعظمؒ کا جواب تھا ” جب میں Religion کا لفظ سنتا ہوں تو میرا ذہین فوراً انگریزی زبان اور اس کے برطانوی مفہوم کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔اس مفہوم کے مطابق مذہب بندے اور خدا کے درمیان ایک ذاتی تعلق کا نام ہے۔تاہم مجھے اچھی طرح معلوم ہے اسلام کا تصور مذہب اس سے بالکل مختلف ہے۔میں مولوی ہوں نہ ملاں اور نہ ہی میں مذہبی عالم ہونے کا دعویدار ہوں۔ مگر میں نے اپنے طریقے سے قرآنِ مجید اور اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا ہے۔یہ عظیم کتاب رشدو ہدایت سے منور ہے۔ اس میں انسانی زندگی کے ہر پہلو کیلئے ہدایت موجود ہے ،چاہے یہ روحانی پہلو ہو معاشی پہلو ہو، سیاسی اور سماجی پہلو ہو اس کتاب میں حیاتِ انسانی کے کسی شعبے کو نظر انداز نہیں کیا گیا“.... اسلامی ریاست کے بارے میں ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے قائداعظم نے ارشاد فرمایا کہ اسلامی ریاست میں صرف اور صرف اللہ اور اس کی کتاب کی پیروی کی جائیگی۔
 ایسی ہی واضح اور دو ٹوک باتیں قائداعظمؒ نے تحریکِ پاکستان کے دوران بار بار ارشاد فرمائیں۔آج ہم نے پاکستان کا جو حلیہ بنا رکھا ہے اور ہم نے اپنی سیاسی و معاشی حالت کو جتنا بگاڑ رکھا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ ہم نے قائداعظمؒ کے وژن کے بالکل برعکس اسلام کے نظامِ زندگی کو پسِ پشت ڈال رکھا ہے۔ ہمارے حکمرانوں نے قائد کی رحلت کے بعد برطانوی غلامی کو چھوڑ کر امریکی چاکری اختیار کرلی ہے۔سیٹو اور سنٹو جیسے معاہدوں میں شامل ہوکر اپنی خود مختاری سے دستبرداری اختیار کرلی ہے۔امریکہ کو اپنے ملک کے چھوٹے بڑے معاملات میں مداخلت کا حق دے کر ہم ہر اختیار سے محروم ہوچکے ہیں۔اب ہمارے حکمران امریکہ کے اشارہ¿ ابرو پر ناچتے ہیں۔امریکہ ہی کو اپنا ملجا و ماویٰ مانتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے حکمرانوں نے ملک کے اندر حقیقی معاشی اصلاحات لانے کے بجائے دونوں ہاتھوں سے ملک کو لوٹا ہے اور اپنے ہی شہریوں پر عرصہ¿ حیات تنگ کر رکھا ہے۔منافع کے نام پر تاجر، ذخیرہ اندوز اور سی این جی مالکان منہ مانگا منافع لیتے ہیں اور خلق خدا کی زندگی کو عذاب مسلسل میں بدل دیتے ہیں۔ اس کے بارے میں قائداعظمؒ نے قیام پاکستان سے پہلے ہی خبردار کردیا تھا۔
آپ نے 24اپریل 1943کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس سے دہلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا۔ایک اسلامی ریاست میں سرمایہ داروں کی طرف سے غریبوں کے معاشی استحصال کی ہرگز کوئی گنجائش نہیں۔ آپ نے فرمایا:
”یہاں میں زمینداروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو وارننگ دیناچاہتا ہوں۔یہ لوگ اتنے بد معاش اور خود غرض ہوچکے ہیں کہ ان سے دلیل کی زبان میں بات کرنا بہت مشکل ہے۔لوگوں کا استحصال اُن کے خون میں گردش کر رہا ہے۔وہ اسلام کی تعلیمات کو بھلا چکے ہیں۔لالچ اور خود غرضی میں وہ اندھے ہوچکے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ آج ہمارے پاس اقتدار نہیں۔ آپ دیہاتی علاقے میں کہیں بھی چلے جائیں آپ کو کروڑوں انسان ایسے ملیں گے جنہیں بمشکل ایک وقت کا کھانا بھی نہیں ملتا۔کیا یہ تہذیب انسانی ہے۔کیا یہ پاکستان کا مقصد ہے۔اگر پاکستان کا یہی مقصد ہے تو میں کبھی ایسا پاکستان حاصل نہ کروں گا۔ اگر یہ زمینداراور سرمایہ دار عقلمند ہیں تو اپنا رویہ درست کرلیں۔اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو اللہ ہی انہیں سمجھے مگر ہم اُن سے کوئی رو رعایت نہیں کریں گے“۔
قائداعظم کے اسلامی وژن کے برعکس یہاں کے جاگیرداروں،سرمایہ داروں، سیاست دانوں، کئی جرنیلوں اور سیکولر ازم کے مفاد پرست دعویداروں نے ملکر پاکستا ن کو لوٹا ہے اور غریبوں کی زندگی کو انتہائی اجیرن بنادیا ہے۔وقت آگیا ہے کہ قائداعظم کے ارشاد کے مطابق عوام اپنے حقوق حاصل کرنے کیلئے خود اٹھ کھڑے ہوں اور یہاں سے استحصال اور سیکولر ازم کا خاتمہ کرکے حقیقی اسلامی فلاحی معاشرہ قائم کریں۔