بلوچستان جل رہا ہے

کالم نگار  |  محمد عارف خان سندھیلہ
بلوچستان جل رہا ہے


روم جل رہا تھا نیرو بانسری بجا رہا تھا کے مصداق بلوچستان میں شورش بر پا ہے جبکہ ہمارے حکمران مخالفین کوپچھاڑنے کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ مشرف دور میں بلوچوں سے ہونیوالی ناانصافیوں کے باعث متعدد بلوچ نوجوان سراپا احتجاج ہیں مزید جلتی پر تیل کا کام ہمارے دشمن بھارت سرانجام دے رہے ہیں میثاقِ جمہوریت کے نتیجہ میں 2008ءکے انتخابات کے بعد، اقتدار پر متمکن حکومت نے سنجیدگی سے بلوچ نوجوانوں کی اشک شوئی نہیں کی۔ امن پسند ، مہمان نواز اور صلح جو قوم کیوں راہ چلتے عام پاکستانیوں کو تہہ تیغ کر رہی ہے۔ اُنہیں اس قدر مشتعل کیوں کیا گیا؟ یہ سب جانتے ہیں کہ بلوچ قوم اور ان کے بچوں کو ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے تعلیم سے دور رکھا ۔ جس معاشرے میں تعلیم عام نہ ہو اور جوتعلیم ان کے قومی شعور کو پختہ نہ کرے تو اُس معاشرے میں بلوچستان جیسی صورتحال کا پیدا ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ پرویز مشرف اور ان کے حواری حکمرانوں کی پے در پے بو العجبیوں نے برسوں سے پاکستان کی سر زمین کو دھرتی ماں ماننے والے لوگوں کو لسانی بنیادوں پر مجرم قرار دے دیا ۔ اس صوبے کی تاریخ کا کڑوا سچ تو یہ ہے کہ بلوچستان کو خون میں نہلانے اور نعشوں کا تحفہ بخشنے کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کی ذاتی اَنا، آمرانہ سوچ اور اپنے مخالف کو برداشت نہ کرنے کی خو اور طاقت سے دبانے کی پالیسی سے ہوا۔ جسے دوام مشرف کی طاقت نے بخشا۔ ذوالفقار بھٹو کو اپنی مخالف نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت برداشت نہ تھی۔ 1973ءکے آئین کی منظوری تک انہیں برداشت کیا گیا آئین کی منظوری کے بعد اس منتخب حکومت کو بر طرف کر دیا گیا وہاں فوجی آپریشن ہوا۔ جس سے کئی ہزار بلوچ نوجوان جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بعد ازاں حیدر آباد جیل میں بلوچ اور پشتون لیڈروں پر غداری کا مقدمہ چلا۔ وہ آگ جو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں اس صوبے کی دھرتی کے چپے چپے پر سلگ رہی تھی جنرل ضیاءالحق کی عام معافی اور چھ ہزار بلوچوں کو جیل سے رہا کرنے کے بعد یکسر سرد پڑ گئی۔ اسکے بعد کا دور رنجشوں اور محرومیوں کا دور کہلانے لگا۔قوم کی بدقسمتی یہ تھی کہ 12 اکتوبر 1999ءکو مشرف نے منتخب عوامی حکومت پر شب خون مارا تھا۔ امریکہ کی بے جا حمایت مشرف کی مجبوری تھی جس کے عوض مشرف کو اتنا عرصہ وطن عزیز پر حکمرانی کا موقع ملا اس دوران مشرف اپنی آمرانہ سوچ کے باعث ہر مسئلے کو طاقت سے دبانے کا عادی ہو گیا۔ نواب اکبر بگٹی کا قتل بھی اسی سوچ کا نتیجہ تھا۔ مشرف کی ذاتی اَنا سے گزشتہ کئی دہائیوں سے دبی چنگاریاں ایک بار پھر سے سلگنے لگیں جواب آتش فشاں بن چکی ہیں اگرچہ 2008 ءکے بعد بظاہر ایک جمہوری حکومت نے وہاں اقتدار سنبھال رکھا ہے مگر مرکزی حکمرانوں اور اسٹیبلشمنٹ نے جو قصے کہانیاں سُنیں، اُسی پر عمل کیا یعنی ناراض قبائلیوں کو اپنے ساتھ ملاﺅ اور مزاحمت کرنے والوں کے خلاف استعمال کرو۔ ناعاقبت اندیش مرکزی حکمران یہ بھی نہ جان سکے کہ دور حاضر کا تغیر، بلوچی قوم کے قدیمی تہذیب و تمدن کو تبدیل نہ کر سکا اور نا ہی عہد حاضر کی تہذیب اس خطے کی سنگلاخ چٹانوں کو سر کر سکی۔ اس جدید دور میں بھی بلوچ نوجوان اپنے روائتی کلچر کے امین ہیں یعنی ان کا وہی پرانا لباس ، دس گزکی پگڑی ،ایک تھان کی شلوار ، چار گز کا کرتا ، وہی دشتِ نووردی، وہی خارِ مغیلاں۔ ایسے میں اُنہیں تعلیم کے زیور سے روشناس کرانے کی ضرورت تھی وہاں عام شہریوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانا ضروری تھا اور ان خواتین کو مٹی کے مٹکو ں اور مشکیزوں سے نجات دلانا تھی جو میلوں پیدل سفر کرکے جوہڑوں اور تالابوں میں جمع ہونے والا بارش کا پانی اپنے معصوم بچوں کی پیاس بُجھانے کے لیے روزانہ لاتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا بدبودار ، بدذائقہ اور آلودہ پانی کے استعمال سے بچوں کی شرح اموات میں بے تحاشہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے یہ جوہڑوں اور تالابوں میں جمع ہونے والا وہی پانی ہوتا ہے جسے انسان ، درندے اور مویشی یکساں استعمال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ مرنے والوں کو غسل دینے کے لیے بھی پاک پانی کا آسانی سے دستیاب ہونا مشکل ہے دور دراز تک سڑکوں کا نام و نشان نہیں۔ دشوار گذار راستوں اور بل کھاتی پگڈ نڈیوں پر خواتین کا سروں پر مٹی کے مٹکے اٹھائے قطاروں میں جانا وہاںکی شناخت ہے۔ مرکزی حکومت نے "بلوچستان پیکج" کی شکل میں اربوں کے بل دکھائے مگر اس کے ثمرات کہیں نظر نہیں آرہے۔ ہر طرف غربت اور تنگدستی کا راج ہے جس پر احتجاج کرنا وہاں کے مکینوں کا حق ہے اور اپنی گیس کی جائز رائیلٹی مانگنا کسی بھی قسم کی غداری کے زمرے میں نہیں آتا۔
مگر صد افسوس! اپنے حق کے لیے بات کرنے والے ہر شخص کو مشرف نے اپنا دشمن گردانا جسکے باعث بلوچستان سمیت وطنِ عزیر کا ہر خطہ و علاقہ غیر محفوظ ہو گیا۔ مشرف دور میں جس لعنت نے ہمارے وطن اور بلوچوں کو سب سے زیادہ بر انگیختہ کیا، وہ لا پتہ افراد تھے یہ لاپتہ افراد اس ملک کے ہر خطے سے اٹھائے گئے ۔لسانی بنیادوں پر قتل و غارت گری کی گئی جسکا الزام باغیوں پر لگایا گیا حتیٰ کہ کئی پروفیسرز صاحبان جو قلم کے ذریعے امن کا پیغام دے رہے تھے انہیں راہ چلتے قتل کیا گیا۔ پنجابیوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئیں وہ قوم جو اپنے مہمانوں کی آﺅ بھگت میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھی وہ دل اور گھر دونوں کے دروازے مہمانوں کے لیے وا رکھتے ہیں مگر ۔۔ آج ان کی زمین پر غریب الوطن مزدوروں کو چن چن کر موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔
راقم کے نزدیک! موجود ہ صورتحال کی ذمہ داری باغیوں کیساتھ ساتھ ریاست اور ایجنسیوں پر بھی عائد ہوتی ہے اِسی طرح مذہبی اور قوم پرست لسانی جماعتیں بھی اس مسئلے سے اپنے دامن کو نہیں بچا سکتیں۔ نا اُمیدی کے اس ماحول میں میاں نواز شریف ہی وہ واحد کرن ہیں جن میں سلگتے بلوچستان کے حل کا جذبہ موجزن ہے۔ راقم نے متعدد بار بلوچ رہنما ﺅں اور اکبر بگٹی کی اولاد کو میاں نواز شریف کے ہاں ملکی سلامتی کے لیے باتیں کرتے سنا ہے۔ 28 مئی 2000 کو راقم، بیگم کلثوم نواز کے ہمراہ "یومِ تکبیر" کی سالگرہ پر چاغی گیا جہاں طویل راستے میں بلوچ قوم کا لاکھوں کا مجمع پاکستان زندہ باد ، کلثوم نواز زندہ باد کے نعرے لگا رہا تھا ہم نے چاغی کے سفید پہاڑوں پر قومی پرچم لہرایا جہاں ہزاروں بلوچ جمع ہوگئے اور انہوں نے مسلم لیگ (ن ) کو ملک کا محافظ قرار دیا۔ وہاں آئے بلوچوں کا کہنا تھا کہ ہم آج بھی نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں وہی ہمارے مسیحا ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب بھی میاں نواز شریف اپنی تمام تر توانائیاں مسئلہ بلوچستان کے حل کے لیے صرف کر رہے ہیں حکمران بھی ذاتی مصلحتوں کی بجائے قومی مفاد میں فیصلے کریں۔ اَختر مینگل کے چھ نکات کو بنیاد بنا کر کوئی پیش رفت کریں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کی رو سے لاپتہ افراد بازیاب ہوں۔ ذمہ داروں کے خلاف بلا روک ٹوک کاروائی کی جائے نواب اکبر بگٹی کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے ۔
بلوچ سرداروں اور سیاسی جماعتوں کو بھرپور انداز میں آگے بڑھنے کا موقع دینا نظر بھی آنا چاہیے اِسی طرح سیاسی قیادتیں کراچی اور اسلام آباد میں بلوچ قوم پرستوں سے محض ملاقاتیں کرنے کی بجائے ، بلوچستان کی سیاسی اشرافیہ، دانشوروں ، شاعروں، ادیبوں، اساتذہ اور سماجی کارکنوں سمیت سول سوسائٹی کے اداروں کے ساتھ بھی مﺅثر رابطے کریں۔ ان کے مسائل سنیں اور انہیں بتائیں کہ پوری قوم مشرف آمرانہ سوچ کی مخالف تھی۔ بلوچستان کا بحران سیاسی فیصلو ں کا متقاضی ہے یہ بحران انتظامی اور سیاسی نوعیت کا ہے۔ بدقسمتی سے ہم معاملات کو سیاسی فہم و فراست اور تدبر سے حل کرنے کے بجائے صرف انتظامی ، قانونی یا طاقت کی بنیاد پر حل کر رہے تھے ۔اندریں حالات! مسلم لیگ (ن) کی با شعور قیادت نے اس مسئلے کے حل کے لیے کل جماعتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا جسے قومی اسمبلی نے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا تھا اب سوال یہ ہے کہ اس کمیشن کو جلد از جلد بنا دیا جائے اور اِسے ہر طرح کے فیصلے کرنے کی خود مختاری دی جائے اور حکمران اس کمیشن کے ہر فیصلے پر من وعن عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور بلوچ سردار بھی مشرف دور میں ہونیوالی زیادتیوں کو، وطن کی خاطر بھول کر ایک نئے جذبے سے اس کا رواں میں شامل ہوں۔ وہ وقت اب دور نہیں جب بلوچستان میں میاں نواز شریف کی قیادت میں ایک بار پھر گوادر بندرگاہ جیسے میگا پراجیکٹ شروع ہونگے۔ وسائل کا رخ بلوچستان کی طرف موڑ دیا جائے گا اور بلوچستان کی دیرینہ محرومیوں کا ازالہ ہوگا یہی مسلم لیگ (ن) کا ماٹو ہے کہ ایک پڑھا لکھا اور مضبوط بلوچستان ہی ، ایک مضبوط پاکستان کا ضامن ہے ۔