پولیس، وکلا تصادم… وجوہ اور مضمرات!

کالم نگار  |  شوکت علی شاہ
 پولیس، وکلا تصادم… وجوہ اور مضمرات!

ویسے تو اس وقت وطن عزیز میں ’’ہمچو ما دیگرے نیست‘‘ والی کیفیت طاری ہے۔ نوکرشاہی ہو، مذہبی جماعتیں ہوں، تاجر برادری، ٹریڈ یونینز، سب اپنا کیا ہوا درست سمجھتی ہیں اور کہا ہوا مستند گردانتی ہیں لیکن دو ادارے ایسے ہیں جن کی اہمیت، رعب داب اور طمطراق کچھ زیادہ ہی بڑھ گیا ہے۔ آئے دن اخبارات میں ان قانون کے رکھوالوں کی باہمی چپقلش، مناقشت اور سینہ زوری کے قصے چھپتے رہتے ہیں۔ تصادم چونکہ اکثر احاطہ کچہری میں ہوتا ہے اس لئے کالے کوٹ والوں کا پلہ بھاری رہتا ہے۔ وردی والوں کو بوجوہ پسپائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔
برصغیر میں انگریز کو اپنی سلطنت کا استحکام درکار تھا اس لئے پولیس کا رعب داب قائم رکھنا ضروری ہو گیا۔ ایک سپاہی وارنٹ لیکر جب گائوں میں جاتا تو ساری آبادی تھرتھر کانپنے لگتی۔ وہ بغیر ہتھیار کے مطلوبہ شخص کو ہتھکڑی لگاتا اور اگلے روز عدالت میں پیش کر دیتا۔ تھانیدار کا دورہ خصوصی اہمیت کا حامل ہوتا۔ نمبردار سارے علاقے کی صفائی اور دیسی مرغیوں کی گنتی اپنی ذاتی نگرانی میں کرواتا۔ اگر ایک شخص بھی جھگڑتا تو اس کا خمیازہ پورے گائوں کو بھگتنا پڑتا۔ ڈر اور خوف کی فضا قائم رکھنا امور سلطنت اور رموز مملکت کا لازمی حصہ گردانا جاتا لیکن فرانسیسیوں سے نفرت کے باوصف برٹش راج نے مفکر مانٹیسک کا وہ قول بھی پڑھ رکھا تھا POWER CORRUPTS AND ABSOLUTE POWER CORRUPTS ABSOLUTELY۔ اس لئے پولیس کی عناں گیری بھی ضروری تھی۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کو خاص اختیارات دیئے گئے تھے۔ وہ S.P کی سالانہ خفیہ رپورٹ لکھتا۔ تھانیداروں کے تبادلے ڈی سی کی پیشگی منظوری سے ہوتے۔ مجمع خلاف قانون کو منتشر کرنا مجسٹریٹ کا کام تھا، پولیس ازخود گولی نہ چلا سکتی تھی، ایسا کرنا قتل عمد کے زمرے میں آتا۔ Riot Act میں صاف اور واضح الفاظ میں لکھا ہوا ہے، مجسٹریٹ پہلے وارننگ دے گا، پھر آخری تنبیہہ کرے گا اور آخرکار باامر مجبوری SHALL CHARGE THEM SWORD IN HAND
یہ ملک تو آزاد ہو گیا لیکن فکر و نظر آزاد نہ ہو سکی۔ ایک قلیل لیکن منظم گروہ پیر تسمہ پا کی طرح قوم کے کندھوں پر سوار ہو گیا۔ اسے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے اور اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے دھونس اور دھاندلی سے کام کروانے کی ضرورت تھی اور وہ کام پولیس بدرجہ اتم کر سکتی تھی۔ اگر ضابطہ فوجداری پڑھیں تو اس میں ایس ایچ او کو بہت سے اختیارات دیئے گئے ہیں۔ جب ملک کی ’’اشرافیہ‘‘ نے دیکھا کہ ایک مہاجر تمام اختیارات سنبھالے ہوئے ہے تو اس کا ہٹانا ضروری ہو گیا۔ لیاقت علی خان کو پنڈی کے کمپنی باغ میں دوران تقریر گولی مار دی گئی۔ تہمت کی ہر انگلی پولیس کی طرف اٹھی۔ دولتانہ آئی جی خان قربان علی خان کو انکل کہتا تھا۔ جتنا بڑا ’’کارنامہ‘‘ سرانجام دیا جائے قیمت بھی اسی حساب سے وصول کی جاتی ہے۔ S.P نے اپنا ACR فارم ڈی سی کو بھجوانا بند کر دیا۔ تھانیداروں کے تبادلے بھی ازخود کرنا شروع کر دیئے۔ جوڈیشل انکوائری میں بھی یہ مجسٹریٹ سے اپنی مرضی کی رپورٹ لکھواتے۔ انکی رعونت اس حد تک بڑھی اور حوصلے اس قدر بلند ہوئے کہ بہت عرصہ قبل واہ فیکٹری میں مزدوروں نے ہڑتال کر دی۔ ڈیوٹی پر تعینات DSP گولی چلانا چاہتا تھا۔ مجسٹریٹ کے منع کرنے کے باوجود بھی وہ بضد تھا۔ جب مجسٹریٹ نے اس کے خلاف شہادت دینے کا عندیہ دیا تو وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا
SIR! A BULLET MIGHT GO STRAY, AND YOU WILL NOT BE THERE TO GIVE EVIDENCE
E.P MOON کا شمار ہندوستان کے بہترین ڈپٹی کمشنروں میں ہوتا تھا، وہ لکھتا ہے ’’میں جس گھوڑے پر بیٹھ کر پچاس میل کا سفر ایک دن میں طے کرتا تھا، ہر تھانے کا معائنہ اور تھانیدار سے امن عامہ کی صورتحال دریافت کرتا۔ ہرچند کہ میرا شمار سخت گیر افسروں میں ہوتا تھا لیکن
I ALWAYS PROTECTED POLICE FROM THE EXCESSES OF JUDICIARY
وہ ملتان میں 1934ء سے لیکر 1937ء تک ڈپٹی کمشنر رہا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جس کا ذکر قدرت اللہ شہاب نے اپنی سوانح عمری میں کیا ہے۔ وہ جھنگ میں کچھ عرصہ ڈی سی رہے۔ مقامی پولیس ان سے ناخوش تھی۔ چنانچہ ایک دن I.G.P خان قربان علی خان نے انہیں اور چیف سیکرٹری کو اپنے دفتر میں طلب کیا۔ سخت ناراضی کا اظہار کیا اور کچھ دنوں بعد ان کا تبادلہ کرا دیا۔ ساہیوال کے ڈی سی اور S.P میں چپقلش بڑھی تو S.P نے ڈی سی ہائوس کی گارڈ کو حکم دیا کہ جب ڈی سی آئے تو اس کو سلیوٹ نہ کیا جائے۔ وہ SSP کچھ عرصہ میرے ساتھ رحیم یار خان میں بھی رہا لیکن چل نہ پایا۔ جو کچھ ہوا اس کا تفصیلی ذکر میں نے اپنی زیرطبع کتاب ’’شاہ داستان‘‘ میں کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر جنرل پرویز مشرف نے نکال دی۔ پولیس کو بے لگام کرنے میں اس کا بھی ہاتھ تھا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ پولیس میں اچھے آدمی نہیں ہیں۔ جن لوگوں کے ساتھ میں نے کام کیا ہے ان میں اکثر افسروں کو دیانتدار، فرض شناس اور رحم دل پایا۔ پولیس کی مثال ایک تلوار سے دی جا سکتی ہے، یہ چلانے والے پر منحصر ہے کہ وہ اس ہتھیار کو کس مقصد کیلئے استعمال کرتا ہے… جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئے یا اپنے مخالفین کو ناکوں چنے چبوانے کیلئے! ماڈل ٹائون کے المیے کو بھی ایسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے!
ہر ادارے میں چند سرپھرے افراد ہوتے ہیں۔ بازار میں بھی ایسے خودپسند لوگ دیکھے جا سکتے ہیں، میں نے چالیس برس جوڈیشل سروس کی ہے، وکلاء کے ساتھ باہمی تکریم کا سلسلہ ہمیشہ برقرار رہا۔ دراصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جوڈیشل افسر دہرا معیار اپناتا ہے، بلاوجہ ڈانٹ ڈپٹ کرتا ہے، پوری بحث نہیں سنتا، خود چیمبر میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گپ شپ لگاتا ہے اور باہر وکلا کو محاوراتی ایک ٹانگ پر کھڑا رکھتا ہے۔ اس صورت میں ریلیف نہ دینے پر لامحالہ تلخ کلامی ہوتی ہے، لڑائی جھگڑے ہوتے ہیں، بدقسمتی سے یہ پروفیشن SATURATE ہو چکا ہے، نوجوان وکلا کو کام نہیں ملتا، سارا دن ایک عجیب قسم کی فرسٹریشن کا شکار رہتے ہیں، بے کاری سب برائیوں کی جڑ ہے، معمولی واقعہ بھی جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے، ضبط کے بندھن ٹوٹ جاتے ہیں، غم و غصہ ایک لاوے کی شکل میں باہر نکل آتا ہے، حکومت کو انکی JOB CREATION کے سلسلے میں کوئی واضح پالیسی وضع کرنی چاہئے۔
ڈسکہ کا واقعہ بڑا اندوہناک ہے، اس کا کوئی بھی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اشتعال انگیزی کتنی بڑی ہی کیوں نہ ہو، اتنے شدید ردعمل کا جواز نہیں بن سکتی۔ قانون کا پہیہ حرکت میں آ چکا ہے، ملزم گرفتار ہو چکا ہے، انصاف کے تقاضے تو بہرحال پورے ہونگے لیکن دو اداروں کے درمیان نفرت کی جو خلیج کھڑی ہو گئی ہے اسے پاٹنا بھی ضروری ہے۔ اسے ایک انفرادی فعل سمجھنا چاہئے اور پوری فورس کو ذمہ ذار نہیں ٹھہرانا چاہئے۔ ہر روز دونوں عدالتوں میں ایک ہی چھت تلے جمع ہوتے ہیں، یہ نہ ہو کہ خدانخواستہ جذبات پھر سے بھڑک اٹھیں۔ عدالتوں کا احترام مقدم ہے۔ تالیف قلوب کیلئے ضروری ہے کہ بغیر تاخیر کے مقدمہ میں مثبت پیشرفت ہو، انصاف کے تقاضے تیزی سے پورے کئے جائیں۔ وکلا کے ساتھ ڈائیلاگ بھی ایک تسلسل کے ساتھ جاری رہنا چاہئے۔ سیاسی پارٹیوں کو پوائنٹ سکورنگ سے اجتناب برتنا چاہئے۔ حکومت اس وقت منقار زیرپر ہے، اپوزیشن کو شوریدہ سر پانیوں میں مچھلی کا شکار نہیں کرنا چاہئے۔