معاشی ترقی میں اقتصادی راہداری اور بجٹ سٹریٹجی کا کردار

کالم نگار  |  نعیم قاسم
 معاشی ترقی میں اقتصادی راہداری اور بجٹ سٹریٹجی کا کردار

گوادر پورٹ کے ذریعے چین کو بحیرۂ عرب اور تیل پیدا کرنیوالی خلیجی ریاستوں کے ساتھ آبنائے ملاکا (Malacca Strait) کی نسبت ایک محفوظ اور مختصر تجارتی رستہ مل جائیگا۔ 3000کلومیٹر پر پھیلی ہوئی یہ اقتصادی راہداری مغربی چین تک تیل کے جہاز گوادر کے ذریعے دس دن میں 12000 کلومیٹر کے سفر کے ذریعے کاشغر تک پہنچا دینگے جبکہ بحر ہند میں آبنائے ملاکا کے ذریعے چین کے جہازوں کو دو ماہ میں 16000 کلومیٹر کا سفر طے کرکے شنگھائی کی بندرگاہ پر پہنچتے ہیں۔ اس طرح اس اقتصادی راہداری کے قیام سے چین کو تیل کی درآمد اور تجارتی اشیاء کی ترسیل کیلئے آسان، محفوظ اور بہترین سمندری ریل اور روڈ کے راستے دستیاب ہوجائینگے۔
پاکستان کے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کسی ایک سڑک کا نام نہیںہے اسکے تین روٹس ہیں جو بلوچستان اور خیبر پختونخواہ سے گزرتے ہیں ۔28 مئی کو وزیراعظم کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس میں پاک چین اقتصادی راہداری کے متعلق تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہوگیا ہے اور حکومت نے واضح کیا ہے کہ سب سے پہلے اس کا مغربی روٹ اپ گریڈ کیا جائیگا اور جہاں کوئی مسنگ لنک ہوگا اس کو پورا کیا جائیگا۔ یہ مغربی روٹ گوادر ، بسمیہ، سراب، قلات، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ژوب، ڈیرہ اسمعیٰل خان تا حسن ابدال پشاور سے ہوتا ہوا خنجراب کے ذریعے مغربی چین کے صوبے کاشغر کے ساتھ لنک کریگا۔ حکومت نے حالیہ بجٹ میں اس کیلئے 150 ارب روپے مختص کرنے کا عندیہ دیا ہے اس کے علاوہ اس راہداری کا وسطی روڈ گوادر، بسمیہ، خضدار، رتو ڈیرو اور بذریعہ انڈس ہائی وے پشاور سے خنجراب اور مشرقی روٹ گوادر، بسمیہ، خضدار، سکھر، کراچی، ملتان، لاہور، اسلام آباد، پشاور تا خنجراب پہنچے گا۔ اقتصادی راہداری پاکستان کی معاشی ترقی کے عمل کو اس صورت میں بڑھاوا دیگی کہ اسکے اردگرد انڈسٹریل زون بنیں اور پاکستانیوں کو نوکریاں ملیں۔ یہ نہ ہو کہ پرائیویٹ طور پر سرمایہ کاری کرنیوالی چینی کمپنیاں اپنے ملک سے زیادہ افرادی قوت لے آئیں اور دوسرا حکومت کو راہداری سے ٹول ٹیکس حاصل ہو۔
چونکہ اس اقتصادی پراجیکٹس میں 32 ارب ڈالرز چین کی کمپنیاں توانائی کے پراجیکٹس میں لگائیں گی اور 18 فیصد ریٹ آف ریٹرن پر 25 سالوں میں اپنی سرمایہ کاری سے کئی گنا زیادہ نفع حاصل کرلیں گی اور حکومت پاکستان IPP's کی طرح ہر حال میں ان کو مارک اپ ادا کریگی چاہے وہ ان سے بجلی خریدے یا نہ خریدے لہٰذا ضروری ہے کہ اقتصادی راہداری کے پرائیویٹ منصوبوں میں حکومت پاکستانی عوام کے دیرپا مفادات کو بھی مقدم رکھے وگرنہ پہلے ہی ہم قرضوں کے جال میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور پاکستان کے عوام اقتصادی راہداری اور بجٹ سٹریٹجی 2015-16ء سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ آئندہ مالی سال میں حکومت کے بقول جو اس کو اقتصادی استحکام حاصل ہوا ہے اسکے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں گے۔
اگرچہ حکومت نے آئندہ مالی سال کیلئے ہمیشہ کی طرح بڑے خوش کن اہداف مقرر کئے ہیں یعنی اقتصادی ترقی کا ہدف 5.5 فیصد، بجٹ خسارہ 3.4 فیصد اور مہنگائی کا ہدف 6 فیصد جبکہ ٹیکس وصولیوں کاہدف 3100 ارب روپے مقرر کیا ہے مگر ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ اہداف حاصل کرنا مشکل ہوگا ۔ آئی ایم ایف کیمطابق اگرچہ پاکستان کے معاشی حالات میں 8 ماہ میں قدرے بہتری آئی ہے جس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو 50 فیصد سے کم ہونا ہے مگر ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو 10 فیصد سے بڑھا کر کم ازکم 20 فیصد تک لاکر بجٹ کا خسارہ ختم کرے اور بالواسطہ ٹیکسوں کی بجائے براہ راست ٹیکسوں کا دائرہ وسیع کرے تاکہ حکومت کو سماجی بہتری، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کیلئے وسائل مہیا ہوسکیں اور انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کیلئے وسائل مہیا ہوسکیں۔
اگر موجودہ حکومت نے اپنے آنیوالے سالوں میں ملک سے سرمایے کے غیر قانونی انخلاء اور اداراتی کرپشن کا خاتمہ نہ کیااور غیر ترقیاتی حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی نہ کی تو پاکستان کی معیشت کے ملکی معیشت کے اشاریے پھر عدم توازن کا شکار ہوجائیں گے جہاں ہمیں ایسی اقتصادی پالیسیاں تشکیل دینی ہیں جس سے غربت اور بیروزگاری کا خاتمہ ہو اور عام لوگوں کو کم شرح سود پر مالیاتی اداروں سے چھوٹے چھوٹے کاروبار کرنے کیلئے آسان اقساط پر قرضے دستیاب ہوں اور اسکے ساتھ ساتھ ملک کے داخلی سکیورٹی سسٹم کو بہتر بنا کر دہشت گردوں سے بھی نجات حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کا دعویٰ ہے کہ ہمارا وسطی مدت کا معاشی پلان یہ ہے کہ جی ڈی پی کی گروتھ ریٹ کو بتدریج سات فیصد تک لایا جائے جبکہ افراط زر کو 4 فیصد تک محدود کیا جائے ۔ اسکے علاوہ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سال غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو 20 ارب ڈالرز اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 13 فیصد تک لائینگے اور مالیاتی خسارے کو جی ڈی پی کا 4 فیصد لایا جائیگا جو اس سال کے بجٹ میں 1300 ارب ہوگا۔ (ختم شد)