تیسری باری کا تیسرا بجٹ

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی
 تیسری باری کا تیسرا بجٹ

شریف حکومت کا پہلا بجٹ 1992ء میں منظر عام پر آیا تھا جس کا ویژن نج کاری ڈی ریگولیشن اور لبریلائزیشن تھا، اب تیسری بار شریف حکومت کا تیسرا بجٹ بے نقاب ہونے کو ہے، بجٹ میں حکومت عوام کے سامنے جھولی پھیلاتی ہے، عوام کی جھولی تو خالی رہتی ہے وہ زمانہ اور تھا جب بجٹ سے ایک ہفتہ پہلے سگریٹ، چینی، سیمنٹ، مشروبات، گھی، چائے، چینی جیسی اشیاء غائب کر دی جاتی تھیں لیکن اب مینوفیکچررز اور دکانداروں کو فری مارکیٹ کلچر میں فری ہینڈ ملا ہوا ہے جب چاہیں قیمتیں بڑھا لیں کوئی پوچھنے والا نہیں، جب چاہیں فیسیں بڑھا لیں کون ہے جو بازپرس کر سکے۔ گداگر بھی دس روپے سے کم میں نہیں ٹلتا۔ دنیا بھر میں ایسی فری مارکیٹ اکانومی کہیں نہیں جہاں ہر دکاندار کا اپنا اپنا ریٹ ہے۔ اتوار بازار ہوں یا رمضان بازار سب دکھاوے کی باتیں ہیں۔ ہر بجٹ نے مایوسی اور مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا۔ صارفین اس بار دُہری آگ میں جلیں گے، ایک الائو 5 جون کے فوراً بعد اور دوسرا الائو یکم رمضان المبارک سے سامنے آئے گا۔ شوکت عزیز نے اپنے دور میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں کو بجٹ سے علیحدہ کر دیا تھا تاکہ بجٹ ملامت سے بچا رہے۔ اب بجٹ آمدنی اور اخراجات کی کہانی سناتا ہے، مستقبل کے حوالے سے ترقی کے سہانے سپنے دکھاتا ہے جیسے کوئی ماں بچے سے کہتی ہے کہ تو بڑا ہو گا تو فوجی افسر بنے گا، تجھے سیلوٹ پیش ہونگے، فوجی جیپ میں تو بیٹھے گا تو دنیا دیکھے گی حالانکہ ہر بچے کے نصیب میں کاندھوں پر رینک سجانا اور سلامی لینا نہیں ہوتا۔ یہ بھی سپنے ہیں کہ لوڈشیڈنگ سے نجات مل جائے گی۔ اقتدار سنبھالنے سے قبل وعدوں کی لسٹ سامنے رکھیں تو افسوس ہوتا ہے کہ پرنالہ جوں کا توں ہے۔ دو سال بعد بھی لوڈشیڈنگ جوں کی توں ہے۔ بجلی پر سبسڈی ختم کرنے کا اعلان بھی ہو چکا ہے، شرح سود 8 فیصد سے کم کر کے 7 فیصد کرنے کا فائدہ حکومت کو ہو گا جو بینکوں سے سب سے زیادہ قرض لیتی ہے اور سود کی مد میں بھاری رقوم بینکوں کو ادا کرتی ہے۔ حکومت کے روزمرہ امور کو کمرشل بینکوں سے قرض لے کر چلانے کی عادت زرداری عہد حکومت میں شروع ہوئی تھی۔ بنکوں کا منافع 250 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ پیسہ پیسہ بچانے والے اور ہیں اور اسے لٹانے والے اور۔ حکومت خودنمائی کے اشتہارات کو ہی اپنی کامیابی جانتی ہے، اصل اشتہارات عوام کی زبان ہوتی ہے۔ مخلوق کی زبان کون روک سکتا ہے۔
ایگزیکٹ کا بھید تو اب کھلا ہے، چھوٹے چھوٹے ایگزیکٹ تو لاتعداد ہیں، تعلیمی اداروں کے بورڈوں کی آڑ میں بھی کالے دھندے ہوتے ہیں۔ بجٹ کے فوراً بعد رمضان المبارک میں مہنگائی کا آتش فشاں لاوا اگلے گا۔ نئی بجٹ حکمت عملی میں بجٹ خسارہ 4.3 فیصد جبکہ مہنگائی کا ہدف 6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ بھلا مہنگائی کسی ہدف کی پابند ہے۔ کوئی ایسا ہدف بتایا جائے جو پورا ہوا ہو، وعدہ ہو یا ہدف کبھی ایفا نہیں ہوا۔ ذخیرہ اندوز اور منافع خور حکومت کو کیا سمجھتے ہیں۔ لاہور میں والڈ سٹی اتھارٹی اندرون شہر کیا تبدیلی لا سکی۔ جابجا تجاوزات اور پلازوں کی بھرمار ہے، قیمتوں میں اضافہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ ڈھائی کروڑ لوگوں کی یومیہ آمدنی ڈیڑھ سو روپے سے زیادہ نہیں۔ اکنامک گروتھ ریٹ سے بڑا سوال عوام کی مشکلات میں کمی اور سہولتوں میں اضافے کا ہے۔ کرپشن کا خاتمہ کسی طرح ممکن نہیں ہو رہا۔ رضاکارانہ ٹیکس جمع کرانے کیلئے کوئی تیار نہیں۔ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کا ہدف منافع خوری اور استحصال کے سوا کچھ نہیں۔ قومی معیشت کے اشاریوں کی بہتری احسن اقبال، اسحاق ڈار اور نواز شریف کو نہال کر رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر بیس ارب ڈالر تک چلے جائیں گے تب بھی امیروں کا ہی بھلا ہو گا۔ برآمدات کیلئے 32 ارب ڈالر کا ہدف برآمدی تاجروں اور حکومت کو ہی فائدہ پہنچائے گا۔ افراط زر کی شرح بارہ فیصد ہو یا چھ فیصد عام صارف کی سمجھ میں کبھی نہیں آ سکتی۔ مالیاتی خسارہ آٹھ فیصد سے چار فیصد ہو جائے تب بھی عام پاکستانی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بجٹ میں غیرحقیقی اور ناقابل حصول اہداف کیوں مقرر کئے جاتے ہیں؟ اب بھی ٹیکسوں سے آمدنی کا ہدف 3100 ارب مقرر کیا گیا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 60 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، 30 جون تک یہ ساڑھے اٹھارہ ارب ڈالر ہو جائیں گے جبکہ ٹیکسوں سے آمدنی 2606 ارب روپے تک پہنچ جائے گی۔ گردشی قرضہ 595 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔ آئندہ بجٹ میں دس مرلے سے بڑے گھر پر دس ہزار روپے ودہولڈنگ ٹیکس عائد کیا جائے گا، چار لاکھ روپے سالانہ تک کی آمدنی ٹیکس سے مستثنیٰ ہو گی۔ اراکین قومی اسمبلی اور سینٹ کی تنخواہیں 68 ہزار ماہانہ سے بڑھا کر ایک لاکھ 30 ہزار روپے کی جا رہی ہیں، ہر سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں 10 فیصد سے زیادہ اضافے کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ بجلی اور چینی کے نرخ بھی بڑھ چکے ہیں۔ بجٹ میں نہ تو ایسے اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں جن سے عام آدمی کی آمدنی میں اضافہ ہو اور نہ ہی ٹیکسوں کی شرح کم یا بالکل ختم کر کے اسے کوئی ریلیف دیا جاتا ہے جبکہ پورے سال میں کئی منی بجٹ لائے جاتے ہیں۔
عام آدمی کیلئے ریلیف یوٹیلیٹی بلوں میں کمی کرنے سے ممکن ہو سکتا ہے۔ دہی دودھ تو رمضان اور سستے بازاروں سے نہیں ملتے۔ سبسڈیز کو بتدریج ناپید کیا جا رہا ہے جبکہ سبسڈی کا حق دار صرف غریب طبقہ ہے۔ سارا زور بالواسطہ ٹیکسوں پر ہے، ہر سال خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کا ذکر ہوتا ہے، دنیا میں 40 کروڑ افراد کی یومیہ آمدنی 1.25 ڈالر سے بھی کم ہے، ہمارا شمار بھی ایسے کروڑوں لوگوں میں ہوتا ہے۔ ہمارا مسئلہ لوڈشیڈنگ ہے، اس وقت بجلی کی مجموعی پیداوار 12 ہزار میگاواٹ جبکہ طلب 16 ہزار میگاواٹ ہے، 4 ہزار میگاواٹ کی کمی یومیہ 10 گھنٹے لوڈشیڈنگ سے پوری کی جا رہی ہے۔ بجلی کے بڑے منصوبوں کے سامنے آنے میں 5 سے 10 سال کا وقت لگے گا۔ وزیر خزانہ کی زبان زرمبادلہ کے ذخائر کا ڈھنڈورا پیٹتے نہیں تھکتی، انکے نزدیک ذخائر میں تاریخی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ جون 2014ء میں زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 9.1 ارب ڈالر تھی، مئی 2015ء میں 12.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، 30 جون تک 18.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح تک پہنچنے والی ہے۔ جون کے آخری ہفتے میں آئی ایم ایف سے 50 کروڑ ڈالر قرضے کی آٹھویں قسط ملنے کی توقع ہے، رواں مالی سال کے دوران شرح سود میں تیسری بار کمی کی گئی ہے۔
خدا بھلا کرے لاہور ہائی کوٹ کا جس نے صارفین کے درد کو محسوس کیا اور بجلی کے بلوں پر سرچارج کو غیرقانونی قرار دیکر صارفین کو رقم واپس کرنے کا حکم صادر کیا ہے۔ ہر سال نئی بوتل میں بجٹ کی پرانی شراب انڈیل دی جاتی ہے۔ دوسرے بجٹ میں وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے 6.7 ارب ڈالر کے بیل آئوٹ کا سہارا لیا تھا، تیسرے بجٹ میں ایسا کوئی سہارا دکھائی نہیں دے رہا۔ کمرشل بنک سلامت رہیں جو بھوک لگنے پر حکومت کے منہ سے قرض کے فیڈر لگا دیتے ہیں۔