’’پانی میں مدھانی‘‘

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی
’’پانی میں مدھانی‘‘

’’ پانی میں مدھانی‘‘ کا محاورہ موجودہ ملکی صورت حال کا عکاس ہے ۔ اس سے مراد  ہے کہ جب تمام دلیلیں اور کوششیں بے نتیجہ ہوں۔ یعنی کہ لسی یا دہی میں مدھانی چلانے سے مکھن تو نکل آتا ہے مگر پانی میں جتنی دیر مدھانی چلا لیں نتیجہ کچھ نہیں نکلتا۔ ہماری جمہوری اور منتخب حکومت کا بھی اس مدھانی جیسا حال ہے جو  پانی میں چل  رہی ہے اور اس کا کچھ فائدہ نظر نہیں آرہا۔ 1977ء کے جنرل ضیاء الحق کے مارشل  لا کے تقریباً ایک سال بعد گوجرانوالہ کینٹ میں فوجی یونٹوں کے درمیان تیراکی اور پانی میں رسّہ کشی کے مقابلے ہوئے سوئمنگ پول میں دو فوجی یونٹیں رسہ کشی کے مقابلے میںآمنے سامنے تھی۔ جب ایک یونٹ پانی میں ٹانگیں چلا چلا کر تھک گئی تو دوسری یونٹ نے باآسانی سے اپنی جانب کھینچ لیا۔ مقابلے کے بعد جب منتظمین رسہ نکالنے لگے تو انہوں نے دیکھا کہ جیتنے والی ٹیم کے رسے کا کونہ سوئمنگ پول کی بیرونی دیوار کے پیچھے درخت سے بندھا تھا۔ معلوم ہوا کہ کسی افسر  نے اپنی یونٹ کو جتانے کے لیے مذاق میں ایسا کیا۔  مجھے  آج بھی یاد ہے کہ نہ صرف جیتنے والی یونٹ انعام لے گئی بلکہ متعلقہ افسر (میرے والد مرحوم ) کوبھی ’’ دھاندلی انعام‘‘ کے طور پر تالیوں کی گونج میں شیونگ کا سامان دیا گیا۔مگر کل کا یہ مذاق شاید آج کی تلخ حقیقت بن گیا ہے۔
 حکومت اور فوج کے درمیان رسہ کشی میں حکومت کو پانی میں ٹانگیں مارنے کی اجازت تو ہے مگر رسے کا دوسرا سرا  ایک گرین ہاؤس میں پرورش پانے والے قومی سلامتی ‘ ایٹمی ہتھیاروں اور دہشت گردی کے تن آور درختوں سے بندھا ہے ۔ ایک طرف ’’پانی میں مدھانی‘‘  کے مصداق جمہوریت کے تالاب میں ٹانگیں مارنے والی پارلیمنٹ ‘ حکومت‘ عدالت اور صحافت تو دوسری طرف طاقت ور خفیہ ہاتھ جو سکون کے ساتھ اپنے حصے کے رسے سے جھول رہے ہیں۔ تھکی ہاری سیاسی قوتوں کو کچھ عرصے بعد اپنی جانب کھینچ کر ان کی اوقات یاد دلائی جاتی ہے۔ پیغام واضح ہے کہ ہمیں جوابدہ بنانے کی بجائے اسی پانی میں تیرنا سیکھ لیں‘ عام انتخابات میں لاکھوں ووٹ لے کر آنے والے پہلوان اور رسہ گیر اس تالاب میں موجود زہریلے کیکڑوں اور بچھوؤں سے بھی نالاں ہیں یہ پالتو زہریلے کیکڑے اور بچھو رسے کے  ساتھ بندھے ہوئے سرے کی جانب بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ ان پالتوں بچھوؤں کا شاید اتنا زہر نہیں جتنا خوف ہے۔ بہر حال اس تمام صورت حال میں ایک بات طے ہے کہ اگر ایک کرنل اپنی فوجی یونٹ کی جیت کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے تو پھر ایک جنرل پر ادارے سے وفاداری اوراپنے سابق سربراہ کے لیے اقدامات پر حیرانگی کیوں؟ مگر یہ کوئی مذاق نہیں۔
ایک پیشہ ور کمانڈوفورس ضرورت کے وقت  دھویں کی دیوار میں پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے ہدف تک جا پہنچتی ہے۔ دھویں کی دیوار چھا چکی ہے جس میں کچھ سجھائی نہیں دے رہا سب سے پہلے سیاسی مورچہ خاموش کرایا گیا جہاں سے وزراء کی مشین گن آگ اگلتی تھی چند مذہبی جماعتوں کی پیدل فورس نے اس مورچے پر اپنا جھنڈا گاڑ دیا ہے ۔
اس کے بعد میڈیا کی توپوں کے دھانے بھی ایک دوسرے کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں‘ یہاں بھی مجاہدین کامیاب نظر آتے ہیں۔ میڈیا کے  ایک توپچی کی لاش کو بیچ چوراہے میں لٹکانے کی تیاریاں ہورہی ہیں جس سے میڈیا کے باقی توپچی عبرت پکڑیں گے اور پکڑ رہے ہیں۔ عدل کی فوج بھی پسپائی کاشکار نظر آتی ہے۔ میڈیا کی قبضے میں لی گئی کچھ توپوں کا رخ اب عدالتی محاذ کی جانب کر دیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کے مقدمات لاپتہ ہوتے نظر آرہے ہیں۔  سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے ٹی وی چینلوںپر چلنے والے کارٹون اور ڈمی کردار عدالت عظمیٰ کے موجودہ ججوں کے لیے ایک واضح پیغام اور اشارہ ہیں۔
اب واضح ہے کہ ہمارے اداروں کو جمہوریت کے اس تالاب اور اس میں جاری رسہ کشی کے دوران پانی میں ٹانگیں مارنے کی تو اجازت ہے مگر عدم تعاون کی صورت میں اس تالاب میں موجود پالتو سانپ‘ کیکڑے اور بچھواپنا وار کرتے وقت حاصل شدہ ووٹوں کی تعداد معلوم نہیں کرتے اورنہ ہی کسی آئینی شق کے تحت اپنے ڈنگ کا استعمال کرتے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ جلد ہی اس تالاب میں کوئی شارک مچھلی چھوڑی جائیگی اور سیاسی قوتوں کی اس چیخ وپکار میں آئین اور قانون کا مجرم اول ’’دی گریٹ ایسکیپ ‘‘ (The Great Escape) یعنی ’’ قید سے فرار کی عظیم داستان‘‘ دوبئی میں بیٹھا لکھ رہا ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم بطور قوم اس  رسے کے دوسرے سرے  کو ان  درختوں سے کھول کر اسکا جائز مقام دے پائیں گے ؟  اگر نہیں تو پھر شیر کو (بھاگنے کی مشین) "Jogging machine"  پر بھاگنا سیکھ لینا چاہیے ایسا کرنے کے دو فائدے ہیں ایک یہ کہ شیر مصروف  نظرآتا ہے اور دوسرا یہ کہ بھاگتے شیر کو کسی وقت بھی رخ تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ ’’رسہ گیر‘‘ قوتوں کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ قومی اداروں کے کمزور ہونے سے ملکی دفاع مضبوط نہیں کمزور پڑے گا‘تنقید کو برداشت کرنا اورخود احتسابی وقت کی ضرورت ہے‘ افراد کو بچانے والے ادارے خود بھی مشکل میں پڑ جاتے ہیں‘ دماغ ‘ زبان اور ترازو کی قوتیں بھی ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کر تی ہیں وگرنہ پھر… ؎
اپنوں ہی کے بوٹوں تلے روندے ہوئے یہ لوگ
دشمن سے بھلا کیونکر بے خوف لڑیںگے