وہ جب اعلان کرتے ہیں بجٹ کا

کالم نگار  |  قیوم نظامی
وہ جب اعلان کرتے ہیں بجٹ کا

قومی بجٹ کے اعلان کے دن قریب آتے ہیں تو عوام خوش ہونے کی بجائے تشویش میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ بجٹ کے بعد ان کی زندگی مزید تلخ ہوجاتی ہے۔ عوام کے گھریلو بجٹ اپ سیٹ ہوجاتے ہیں۔ حبیب جالب نے درست کہا تھا۔
وہ جب اعلان کرتے ہیں بجٹ کا
غریبوں  ہی  کا  ہوجاتا ہے جھٹکا
وہ ایوانوں میں سرمست و غزل خواں
وطن  قرضے کی  سولی  پہ  ہے  لٹکا
زندگی کے ستر برس بیت گئے آج تک ایک بھی ایسا بجٹ نہیں دیکھا جس سے عوام کو ریلیف ملا ہو۔ قومی بجٹ کیا ہے قومی وسائل کی لوٹ مار کی داستان ہے۔ امیر لوگ امیروں کے لیے بجٹ بناتے ہیں جو امیروں کو مزید امیر بنا دیتا ہے۔ طاقتور طبقات قومی دولت سے اپنا حصہ لے لیتے ہیں اور عوام کے نصیب کچھ یوں ہوتے ہیں…؎
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہوگئی ہے
منتخب حکمران عوام کو ریلیف دینے کے وعدے تو کرتے ہیں مگر اقتدار میں آنے کے بعد ووٹ دینے والے عوام سے ہی بے وفائی کرنے لگتے ہیں۔ آج کل آٹے کی قیمتوں کے بارے میں سپریم کورٹ میں ایک اپیل زیر سماعت ہے۔ سپریم کورٹ کے آنرایبل جسٹس جواد ایس خواجہ نے یہ آبزرویشن دے کر حکمرانوں کو بے نقاب کردیا ہے ’’موجودہ حالات میں حکمرانوں کو نیند نہیں آنی چاہیئے۔ یوٹیلٹی سٹورز وہاں ہیں جہاں غریب نہیں رہتے۔ حکومت عدالت کو یقین دلائے کہ غریب بھوک سے نہیں مریں گے۔ سبسڈی ان کو دی جارہی ہے جن کو ضرورت نہیں ہے۔ حکمران بتائیں کہ دو بچوں پر مشتمل گھرانہ جس کی آمدن سات ہزار روپے سے نو ہزار روپے ماہانہ ہو گزارہ کرسکتا ہے؟ کیا حکمران بجٹ بناتے وقت سپریم کورٹ کی اس آبزرویشن کو ذہن میں رکھیں گے۔
ہم اس اسلامی جمہوری پاکستان کے شہری ہیں جس میں ٹیکس عوام دیتے ہیں اور عیش و عشرت امیر اشرافیہ کرتی ہے۔ ایف بی آر کے مطابق پاکستان کے تیس لاکھ افراد کی آمدن ٹیکس کے قابل ہے مگر ان میں سے صرف نو لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ ٹیکسوں کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی ہمارے قومی بجٹ کا المیہ ہے۔ حکمرانوں میں زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی ہمت ہی نہیں ہے۔ چین، ملائشیا، ترکی اور تھائی لینڈ نے ٹیکس نیٹ وسیع کرکے ہی ترقی کی ہے۔ پاکستان کے معروف اکانومسٹ سابق گورنر سٹیٹ بنک شاہد کاردار تجویز کرتے ہیں کہ حکومت برآمدات میں اضافہ کرے۔ امریکی اور یورپی منڈیوں سے فائدہ اُٹھائے۔ مواصلات اور تعمیرات پر خصوصی توجہ دے تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ حکمران اشرافیہ کی کارکردگی ملاحظہ کیجئے۔ 2007ء میں پاکستان عالمی معاشی رینکنگ میں 83 نمبر پر تھا اور 2013ء میں 133 نمبر پر پہنچ گیا گویا پاکستان کی معاشی کارکردگی 50 درجے مزید خراب ہوگئی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت میگا پراجیکٹس پر زیادہ توجہ دیتی ہے جبکہ پرائمری سکولوں اور صحت کے بنیادی یونٹوں کو نظر انداز کرتی ہے۔ اس طرح سماج بنیادی طور پر کمزور رہتا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ(ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے قوم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر تعلیم کا بجٹ جی ڈی پی کا 4 فیصد کردیں گے۔ گزشتہ مالی سال میں مسلم لیگ (ن) کو ہنگامی بجٹ پیش کرنا پڑا۔ کیا نئے مالی سال کے بجٹ میں میاں نواز شریف اپنا وعدہ پورا کردکھائیں گے۔
تیرے وعدے پہ جیے ہم تو یہ جان جھوٹ جانا
خوشی  سے  مر  نہ  جاتے  اگر  اعتبار  ہوتا
پاکستان کے سرکاری و نجی ملازمین کی انکم فیکسڈ ہوتی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے ان کی زندگی بڑی تلخ ہوجاتی ہے۔ ایسے افراد کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ہونا چاہیے۔ خاص طور پر چھوٹے ملازمین حکومت کی خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ حکومت نے قومی اور صوبائی سطح پر ترقیاتی بجٹ 1.310 کھرب روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ بھاری بجٹ دیانتداری سے خرچ کیا جائے تو اس کے مثبت معاشی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں مگر چونکہ ہمارا احتساب کا نظام صاف، شفاف اور فعال نہیں ہے اس لیے ترقیاتی منصوبوں پر صرف ہونے والا سرمایہ بااثر اور طاقتور افراد کی جیبوں میں چلا جاتا ہے جس کے نتیجے میں افراد طاقتور ہوجاتے ہیں اور ملک کمزور ہوجاتا ہے۔ گزشتہ حکومت پانچ سال میں احتساب بل منظور نہ کراسکی۔ موجودہ حکومت بھی اس سلسلے میں خاموش ہے۔ حکومت نے 5.1 فیصد گروتھ اور 8 فیصد افراط زر کا ٹارگٹ دیا ہے۔ اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ٹارگٹ پورے نہیں ہوسکے۔ نئے مالی سال کے ٹارگٹ کیسے پورے ہوں گے۔ گڈ گورنینس کے بغیر قومی بجٹ کے اہداف پورے نہیں ہوسکتے۔
بجلی کی قلت پاکستان کا نمبر ون مسئلہ بن چکا ہے۔ حکومت نے انرجی کی پیداوار کے لیے بجٹ 135ارب سے بڑھا کر 260 ارب روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئند ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق وژن 2025ء کی بنیاد سات اصولوں پر رکھی گئی ہے جن میں سوشل سیکٹر پر خصوصی توجہ، شراکتی اکنامک گروتھ، انرجی سیکٹر، ترقیاتی منصوبے، اجتماعی گورنینس، مقابلے کی پالیسی اور مربوط نظام شامل ہیں۔ احسن اقبال مخلص، نیک نیت اور اہل وزیر ہیں ان کی منصوبہ بندی بھی معیاری اور تعمیری ہوتی ہے مگر جب عملدرآمد کا وقت آتا ہے تو منصوبہ بندی بکھر کررہ جاتی ہے۔ جب تک کلیدی آسامیوں پر اہل اور دیانتدار افراد نامزد نہ کیے جائیں حکومت کا کوئی منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔ منصوبے کاغذوں پر ہی رہ جاتے ہیں اور زمین پر کچھ نظر نہیں آتا۔ گزشتہ روز این ای سی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف نے کی ۔ چاروں صوبوں کے وزیراعلیٰ اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس اجلاس میں وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے بجٹ میں 36 ارب مختص کرنے کا فیصلہ ہوا۔ یہ بجٹ چاروں صوبوں کے پسماندہ علاقوں پر صرف کیا جائے گا تاکہ قومی یکجہتی کو فروغ ملے۔ اسی اجلاس میں قومی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 1.175 کھرب روپے مختص کرنے کی منظوری دی گئی۔ وزیراعظم پاکستان اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار قوم سے وعدہ کررہے ہیں کہ قومی بجٹ عوام دوست ہوگا اور عوام کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھا جائے گا۔ چند روز میں اس وعدے کی حقیقت بھی سامنے آجائے گی۔