بھارتی گجرات نہیں، اپنا گجرات!

کالم نگار  |  نعیم مسعود
 بھارتی گجرات نہیں، اپنا گجرات!

حقیقت میں آج کا موضوع ’’خطۂ یونان‘‘ ہے خطۂ یونان!!!
علم و ادب سے آشنا، غنیمت کنجاہی سے شریف کنجاہی تک کو کافی حد تک جانتے ہیں۔ پھر سیاسی قلابازیوں اور سیاسی رنگ و روپ کی وادی سے تعلق رکھنے والے سارے باسی میاں اکبر اور چودھری ظہوالہی سے بھی اچھی طرح واقفیت رکھتے ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ میاں اکبر مسلم لیگی سیاست کا گجراتی آفتاب و ماہتاب تھا اور چودھری ظہورالٰہی بعد میں بڑے مسلم لیگی گردانے گئے حالانکہ یہ ایوبی جاہ وجلال کی زلف کے اسیر، فاطمہ جناحؒ کے مدمقابل کبھی ایوبی ساتھی بھی رہے۔
ذوالفقار بھٹو سے بھی کبھی متاثر تھے مگر مقبولیت کی شاہراہ پر وہ سیاسی حادثات لے آئے، جو سیاسی زندگیوں کی تاریخ میں ہوا کرتے ہیں۔ بعدازاں چودھری ظہورالٰہی پکے اور سچے مسلم لیگی بن گئے۔ پھر گجرات میں جہاں روایتی پنجابی کلچر سدا آباد رہا وہاں پرورش لوح و قلم کو بھی خوب لوگ ملے۔ مضبوط گجرات کے ہاں ایک کمزور صدر پاکستان چودھری فضل الٰہی 1973-1978ء بھی پائے گئے۔ اسی دور میں یہاں کا ایک گجراتی ڈاکٹر ذاکر حسین بھارت کا صدر بھی تھا!!!
بحرحال ایوان صدر سے ایوان وزیراعظم تک، اور وزارت اعلی پنجاب سے وزارت تعلیم پنجاب تک بھی گجرات کا قبضہ بھی طنطنے والی تاریخ ہے۔
چودھری شجاعت (ولد چودھری ظہورالٰہی) چند دن ہی سہی تاہم 30 جون تا 20 اگست 2004ء عبوری وزیراعظم پاکستان رہے۔ پرویزالٰہی زبردست وزیراعلی پنجاب اور میاں عمران مسعود (خاندان میاں اکبر) جاندار وزیر تعلیم پنجاب رہے۔ ابھی تک کم از کم میاں عمران مسعود سا متحرک اور تعلیم دوست ایک حقیقی وزیر تعلیم پنجاب کو نہ مل سکا۔ ان سب سے بڑی بات جو دھرتی گجرات کی ہے وہ یہ کہ 9 میں سے 3 نشان حیدر گجرات کے لئے سیلوٹ کا باعث ہیں۔ شہیدوں اور غازیوں کی گجرات دھرتی نے بے شمار مجاہدین اسلام کو بھی اپنی کھوکھ سے جنم دیا جو طرہ امتیاز ہے!
قارئین باتمکین! ان دنوں بھارتی گجرات کی بڑی باتیں ہو رہی تھیں کہ، کل کا گجرات کا متعصب ہندو وزیراعلی آج بھارت کا وزیراعظم بن گیا۔ ہم نے سوچا کیا بھارتی گجرات، گجرات ہو رہا ہے۔ ہم چناب کے پڑوس والے پنجاب کے دماغ اپنے گجرات کی باتیں کرتے ہیں۔ اس سوہنی اور مہنیوال کے گجرات کی باتیں کہ، جہاں رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے۔ جی ٹی روڈ اور دریائے چناب وجہلم کے سنگم پر گجرات کے جن پڑوسی شہروں نے اس کے ارد گرد محبت کا ہار بنا رکھا ہے وہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، جہلم، منڈی بہائوالدین اور میرپور (آزاد کشمیر) ہیں پھر دریائے جہلم اور دریائے چناب کے بیچ میں ہونے کے سبب جہاں اس کی زمین زرخیز ہے وہاں لوگ بھی بیدار مغز۔
سب باتیں اپنی جگہ پر، مزے دار اور شاندار ہیں لیکن ایک بات اپنی سمجھ سے باہر ہے کہ، ن لیگی رہنمائوں کی ق لیگی رہنمائوں یعنی پرویز الٰہی اور چودھری شجاعت سے محبت کی ’’انتہا‘‘ ہے یا نہ جانے کیا کہ، ن لیگ نے ضلع گجرات میں کسی کی لیڈری کو، یعنی کسی ن لیگی ہی کی لیڈری کو جلا بخشی ہے نہ تقویت!!! یہاں اگر کسی نے چودھری برادران کی سیاست کا قلع قمع کیا ہے یا پی پی پی کے سدا بہار لیڈر اور ہیرو ورکر قمر زمان کائرہ کو شکست سے دوچار کیا ہے۔ ہاں! ہر کوئی ن لیگی ایم این اے وفاقی وزارت سے نامراد رہا۔
میاں نواز شریف سے میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز نواب زادوں اور چودھری جعفر اقبال جونیئر سمیت سب کو جتنی بھی ’’لالو پوتیاں‘‘ لگا لیں جب تک انہیں وزارت کی پھیتیاں یا پھول نہیں لگائیں گے تب تک آئندہ گجرات کا سیاسی مستقبل ان کے ہاتھ نہیں لگنے والا۔ ایسی صورتحال میں اگلی دفعہ گجرات سے ن لیگ کو یہ نتائج کبھی نہ مل پائیں گے۔ چودھری برادران آدھے ہارے و آدھے جیتے ’’زندہ یا نیم زندہ‘‘سیاست کے سنگ ن لیگیوں پر سیاسی، سماجی، اخلاقی اور روایتی برتری رکھے ہوئے ہیں۔ اڑتی ہوئی ملی ہے خبر بزم ناز سے کہ، وزیراعلی ہائوس کا ایک سجیلا بیورو کریٹ مسلک کی بنیاد پر ایم این اے اور ایم پی اے دو بھائیوں کو سرد جنگ اور بیورو کریٹک وار کے ذریعے ایک کونسلر لیول تک محدود کئے ہوئے ہے۔ تھانہ کچہری میں اس بیورو کریٹ کا سکہ چلتا ہے۔ کھاریاں (گجرات) سے تعلق رکھنے والے ایم این اے عابد رضا اور ایم پی اے شبیر رضا مضبوط ترین سیاسی کیرئیر رکھتے ہیں مگر ایک بیورو کریٹ کے نیچے دب کر رہ گئے۔ وہ الگ بات ہے کہ پارٹی پالیسی اور سیاسی کیرئیر کے تحفظ کی بدولت مصلحتوں کے رنگ میں رنگے جا چکے ہیں، لیکن ہیں یہ لوگ ن لیگ کے لئے انمول اثاثہ، اگر کوئی سمجھے۔ کبھی کبھی ہمارے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ، گوجر خان اور ملتان کے عوام بڑے سادے اور معصوم ہیں یا سابق وزرائے اعظم راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی بڑے ’’سادہ لوح اور معصوم‘‘ تھے۔
 جو بھی تھا، گوجر خان اور ملتان کے ہاتھ میں بڑی سرداریاں تھیں۔ وہ سرداریاں بھی گئیں اور ان کے متبادل ن لیگ نے ان شہروں کو کوئی بڑا پورٹ فولیو بھی نہیں دیا۔ حلقۂ گیلانی سے یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے عبدالقادر گیلانی کو شکست دینے کی پاداش میں ملک سکندر حیات بوسن کو نیشنل فوڈ سکیورٹی اور ریسرچ کی وزارت ملی… بس!!!
یہ سرداری اور بالخصوص انتخابی سرداری بھی بڑی بے وفا ہوتی ہے۔ یہی نہیں، یہ ووٹر بھی کبھی کبھی ’’سرداری‘‘ دکھا جاتا ہے۔ برنڈ بروچ نے کیا خوب کہا تھا کہ ’’ایک سپاہی لیڈر کو ہمیشہ اپنے کندھوں کے اوپر سے دیکھتے رہنا چاہئے کہ، لڑکے وہاں ہیں، نہیں ہیں تو لیڈری گئی!‘‘ گجراتی ن لیگ کو بہرحال ق لیگ کے سامنے اگر خم ٹھونک کر کھڑے رہنا ہے یعنی چودھری کا اوکھے سوکھے مقابلہ کرنا ہے، اور قمر زمان کائرہ جیسے معروف اور ہردلعزیز سیاست دان کا راستہ روکنا ہے تو انہیں شریف برادران کو مطلع کرنا ہو گا کہ، ان کی جھولی میں بھی کسی وزارت کی خیر ڈال دیں۔ پلاٹو نے کہا تھا کہ ’’سیاست میں شمولیت سے انکار کی سزا یہ بھگتنی پڑتی ہے کہ پھر کم تر آپ پر حکمران بن جاتے ہیں!‘‘ شاید پھر یہ ہے کہ گجرات والوں کا کوئی مطالبہ ہی نہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ جیت ہی ان کے لئے غنیمت ہے۔ ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ، ایک سیاسی لیڈر آخر تک یہی کہتا ہے کہ، بس میری اگلی تقریر بہت اہم اور قابل توجہ ہے۔ لگتا ہے گوجرانوالہ سے نکل کر اسلام آباد تک پہنچنے سے پہلے، پہلے والوں کے پاس اپنی قیادت کو کہنے کے لئے کچھ نہیں ہے، تو آئندہ اپنے حلقوں کے عوام کو کیا کہیں گے؟ یہی کہ آہ! ہمیں بیورو کریسی مار گئی شہنشائوں کے وفادار ’’شاہ‘‘ مار گئے، ہمارے تھانوں پر ان کا راج تھا، ہماری کچہریوں پر وہ حاوی تھے۔ وزیراعلی و وزیراعظم اور ہمارے درمیان دیوار وہ رہے۔ لہٰذا ہم تو لٹ گئے!
محترم وزیراعظم! یہ ضروری ہے کہ ’’ان باتوں‘‘ سے قبل آنے والے بجٹ، اور پھر سال بھر کی کارکردگی کا جائزہ لے لیں۔ کس کس وزیر نے کیا کیا، اور کون کون سا وزیر راجہ پرویز اشرف کی طرح سب کچھ اپنے ہی شہر میں لے گیا۔ جی ہاں! اس سے پہلے پاکستانی عوام مجموعی طور پر اور گجرات کے عوام اپنے طور پر احتساب کریں آپ خود ہی احتسابی کو رواج دیں۔ بیدار مغز لوگوں کی وجہ سے جو گجرات کو خطۂ یونان کہا جاتا ہے اس کا مطلب ہے کہ وہاں حکمت و دانائی کا بسیرا ہے۔ استفادہ کیجئے!