سانحہ پشاور دیہی عوام کی نظر میں

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
سانحہ پشاور دیہی عوام کی نظر میں

2014ء بہت سے غم ،آہیں اور سسکیاں دیکر بالآخر تمام ہوا۔تا حال غم کی شدت اتنی ہے کہ نئے سال کی مبارکباد پیش کرنے کی بھی جرأت نہیں لیکن بارگاہ رب العزت کے حضور دعا گوضرور ہوں کہ نیا سال ہمارے ملک اور ہم سب اہل وطن کے حق میں خوشیوں کا سال ہو۔ آمین!  وطن عزیز اسوقت تاریخ کے بہت ہی کٹھن دور سے گزر رہا ہے۔ دشمنوں نے ہمیں لہو لہان کر دیا ہے۔ وہ ہماری سلامتی کے در پے ہیں۔ دشمن ہماری شہ رگ کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ہم دشمن کے ہاتھوں بے نامی اور ذلت کی موت بھی مر سکتے ہیں اور وطن کی آن کیلئے کھڑے ہو کر وطن اور مستقبل کیلئے نئی زندگی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ہمیں اس وطن عزیز نے بہت کچھ دیا ہے ۔اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس کیلئے کیا کرتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایک با عزت قوم کی طرح زندہ رہینگے اور ایک دلیر قوم کی طرح وطن کی حرمت کیلئے کھڑے ہونگے۔یہ ساری تفصیل دینے کا واحد مقصد ہے کہ سانحہ پشاور نے جہاں ہمارے دل زخمی کئے ہیں وہاں ہم میںخوداری اورقومی یکجہتی کا جذبہ بھی جگا دیا ہے۔ آج ملک کا بچہ بچہ وطن عزیز پر ہونیوالے ظلم و بر بر بت کیخلاف متحد ہے اور ایسے جذبے جب قوموں میں بیدار ہوتے ہیں تووہ اپنی تاریخ بدل ڈالتی ہیں۔ میں یہ اس لیے ضبط تحریر میں لارہا ہوں کہ یہ جذبہ اس دفعہ میں نے صرف شہروں میں ہی نہیں بلکہ گائوں میں بھی دیکھا ہے۔ اس سانحہ پر ہمارے گائوں کے لوگ بھی اتنے ہی دکھی اور غصے میں تھے جتنے ہم لوگ شہروں میں ہیں۔ مجھے ایک قریبی عزیزہ کی فوتگی پر گائوں جانا پڑا۔حیران کن بات یہ ہے کہ تمام لوگوں کی بات چیت کا فوکس یہی واقعہ پشاور ہی رہا۔ میرے لیے یہ بات حیران کن تھی کہ یہ لوگ نہ صرف اس واقعہ کی تفصیل سے واقف تھے بلکہ سخت غصے میں تھے کہ آخر ہم ایک غیرت مند قوم کی طرح اب تک کھڑے کیوں نہیں ہوئے۔ صرف ایک ہی اصول پر کاربند ہوتے ہیں۔زندہ رہنا ہے تو سر اٹھا کر رہنا ہے۔ بے عزتی کی زندگی سے تو موت بہتر ہے اس لیے ہمارے علاقے میں غیرت کے نام پر قتل ہوتے ہیں اور وہ اس میں کوئی عیب نہیں سمجھتے۔ یہی سوچ انکی سانحہ پشاور کے متعلق تھی ۔مجھے یاد ہے کہ پچاس کی دہائی میں جب بھارت نے ہمارا پانی بند کیا تھا تو ہمارے گائوں کے لوگوں نے متفقہ فیصلہ کیاکہ اگر بھارت ہمیں پانی بند کر کے مارنا چاہتا ہے تو ہم لڑ کر کیوں نہ مریں؟سب سے پہلی چیز جو مجھے گائوں میں منفرد نظر آئی وہ انکا اس سانحہ سے متعلق احساس تھا کیونکہ جتنے بھی لوگ آئے وہ سب سے پہلے سانحہ پشاور کے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کرتے اور پھر اپنی عزیزہ کی فوتگی پر ۔گائوں والوں کے کچھ بہت ہی مدلل اعتراضات بھی تھے  اُن کا سب سے پہلا اعتراض یہ تھا کہ جب بھی کوئی ایسا خوفناک واقعہ پیش آ جاتا ہے تو بجائے اسکے کہ سانحہ کے ذمہ داروں کو پکڑا جائے حکومت ایک گول مول سا جواب دیتی ہے کہ اس سانحہ کے متعلق تو ہمارے انٹیلی جنس اداروں نے پہلے ہی اطلاع دیدی تھی۔ اس سانحہ میں بھی اب حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پشاور سکول پر حملے کی اطلاع 18اگست کو دی گئی تھی۔ذہن یقین نہیں کرتا کہ اتنی مستند اطلاع پا کر بھی ادارے کے متعلقہ حکام غافل رہے یہ اس لئے بھی اہم ہے کہ یہ ادارہ فوجی تعلیمی ادارہ تھا۔ زیادہ آرمی والوں کے بچے تھے۔ سٹاف کے بھی زیادہ تر لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ فوجی خاندانوں سے ہی تھے۔پھر واقعی اگر اطلاع دی گئی تھی تو اب تفتیش مشکل نہ تھی2دنوں کے اندر اندر نتیجہ سامنے آجانا چاہیے تھا لیکن چونکہ ایسا نہیں ہوا تو نظر ایسے آتا ہے کہ ہمارے انٹیلی جنس ادارے سو فیصد اطلاعات دینے کی صلاحیت سے محروم ہیں کیونکہ آج تک جتنے بھی اہم ادارے دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں سب کے متعلق یہی بیان سامنے آیا ہے کہ اطلاع دیدی گئی تھی۔چاہے کراچی ائیرپورٹ کا واقعہ ہو یا واہگہ بارڈر کا ۔ اگر یہ حکومتی دعویٰ سچ ہے تو مناسب حفاظتی کاروائی کیوں نہ ہوئی ذمہ داران کو کیفر کردار تک کیوں نہ پہنچایا گیا۔ معلوم ایسے ہوتا ہے کہ انٹیلجنس ادارے ایک جنرل قسم کی وارننگ دیتے رہتے ہیںمثلاً علاقے میں کسی سکول پر دہشتگردی کا حملہ ہو سکتا ہے ۔مسجد یا مزار پر حملہ ہو سکتا ہے اور اس جنرل قسم کی وارننگ سے کوئی حفاظتی تدابیر اختیار نہیں کی جاسکتیں۔ پھر ایسی بھی اطلاعات ہیں کہ کچھ اندر کے اہلکار ملے ہوئے تھے۔ ایسے لوگوں کے متعلق سکول انتظامیہ اندازہ نہیں لگا سکتی نہ ہی انکی ایسی تربیت ہوتی ہے۔ اگر ایسا خطرہ تھا ور مستند اطلاع موجود تھی تو متعلقہ ادارے کو فوری طور پر حرکت میں آنا چاہیے تھا اور سانحہ رونما ہونے سے پہلے ہی دہشتگردوں کو تباہ کر دیا جاتا ۔ دیہاتیوں کا دوسرا بڑا اعتراض تھا کہ حکمران بزدلی کا شکار ہیں اور جہاں بزدلی آجاتی ہے وہاںقائدانہ صلاحتیں دم توڑ جاتی ہیں۔ہم جب بھی اپنے حکمرانوں کے چہروں کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاںپرایک خاص قسم کی مایوسی اور خوف کا تاثر ملتا ہے جبکہ حالات کا تقاضا ہے کہ لیڈر کھل کر سامنے آئے اور قوم کے سامنے کھڑا ہو۔قوم بہت کچھ کرنا چاہتی ہے اور بہت کچھ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے مگر رہنمائی کہاں سے آئیگی؟ حکومت نے طالبان کے خوف سے پھانسیاں ایکدفعہ پھر معطل کر دی ہیں۔ اب تک صرف وہی چند پھانسیاں ہوئی ہیں جو فوج کے زیر اثر تھیں۔ بزدلی وہ عنصر ہے جوکوئی دیہاتی پسند نہیں کرتا اور نہ وہ اپنی حکومت سے ایسی توقع رکھتے ہیں۔ حکومتی سنجیدگی اور صلاحیت کے متعلق لوگ زیادہ پر امید نظر نہیں آتے ۔ اب جبکہ دشمن نے ہماری عزت اور غیرت پر حملہ کیا ہے تو ہمیں اس مسئلے کو ہمیشہ کیلئے ختم کرنا چاہیے چاہے جتنے بھی لوگوں کی مزید قربانی دینی پڑے۔ حکومت کی یہ پالیسی بھی سمجھ سے بالا تر ہے یا پھر خوف کا عنصر غالب ہے کہ کئی لاکھ افغان مہاجرین اور دیگر قوموں کے لوگ کئی سال سے ہمارے داماد بنے بیٹھے ہیں۔ انہیں کس نے اور کیوںیہاں رہنے کی اجازت دی ہے؟ یہاں اپنے قارئین کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ پاکستان کے نا اہل حکمران اب تک 20 ہزار کلومیٹر علاقہ طالبان کے سامنے کھو چکے ہیں۔ یہاں تقریباً تیس لاکھ افغان مہاجرین ملک کے طول و عرض میں موجود ہیں۔پھر ڈاکٹر فرخ سلیم کے دئیے گئے اعداو شمار کیمطابق 20ہزار شدت پسند جنگجو ہمارے فاٹا میںسرِگرمِ عمل ہیں جن میں  5ہزار سعودی۔  4ہزار ازبک اور چیچن ۔3ہزار یمنی  2ہزار مصری۔ تقریباً 3ہزار الجزائری ۔ 4سو تیونس۔ 2سو لیبیا۔ 300 عراقی اور 200اُردنی شامل ہیں۔ پھر مسئلہ مدارس کا بھی ہے جب پاکستان بنا تھا تو پورے ملک میں تقریباً پونے دو سو مدارس تھے لوگ زیادہ نیک اور بہتر مسلمان تھے۔ آج ملک میں تقریباً 29ہزار مدارس اور بیس لاکھ اسلامی طلبہ ہیں اسلامی تعلیم بھی عام ہے ۔ جید علماء کی بھی کمی نہیں لیکن حالات ہمارے سامنے ہیں۔