انتہاء پسند اپنا عقیدہ ہی بگاڑے جا رہے ہیں!

کالم نگار  |  نازیہ مصطفی
انتہاء پسند اپنا عقیدہ ہی بگاڑے جا رہے ہیں!

ہندومت میں دیسی مہینوںاسوج، چیت، اساڑھ اور ماگھ کی پہلی نو راتوں اور نو دنوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے، ان نو راتوں اور نو دنوں میں ہندو خواتین دُرگا دیوی کی خصوصی پوجا کرتی ہیں، جسے ’نوراتر‘‘ کہاجاتا ہے۔ ’’ نو راتر‘‘ کے آخری یعنی نویں دن سدھاتری دیوی کی پوجا کی جاتی ہے، جس کیلئے نو قسم کے اناج کا پرساد ، نو رس بھوجن اور نو قسم کے پھل پھول وغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے، ہندو عقائد کے مطابق اس طرح نوراتر کا اختتام کرنے سے ہندو خواتین کو اس دنیا میں دھرم اورارتھ حاصل ہوتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ہندو خواتین کوئی سا بھی اقدام اٹھالیں تو انہیں پاپ (گناہ) نہیں ہوتا، بلکہ وہ اس میں کامیاب ہوں گی۔ یہ بات یہاں تک تو ہندو عقائد کیمطابق درست تھی لیکن گزشتہ ستمبر میں مدیھہ پردیش کی اسمبلی میں بی جے پی کی ایک انتہاپسند رکن ِاسمبلی نے جب یہ بیان دیا کہ کئی روز تک چلنے والے نو راتر کے تہوار کے بعد ہر برس چارلاکھ سے زیادہ ہندو لڑکیاں مسلمان مردوں سے شادی کرکے اسلام قبول کررہی ہیں تو اس ’’انکشاف‘‘ نما بیان سے پورے بھارت میں آگ سی لگ گئی، بھارتی انتہاپسند طبقے نے ان شادیوں کو ’’لو جہاد‘‘ کا نام دے کر خوب پراپیگنڈا کیا کہ بھارت کی ہندو ’’ناریوں‘‘ کو مسلمان کرنے کیلئے خلیجی اور دیگر مسلم ممالک سے بڑے پیمانے پر رقوم آرہی ہیں اور یہ کہ یہ رقوم نوراتر کے آخری دن کی تقریب پر خرچ ہوتی ہیں، جسے ہندو خواتین کا مذہب تبدیل کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اس انکشاف کے بعد انتہاپسند تنظیموں کی جانب سے ہندوؤں پر زور دیاگیاکہ وہ نوراتر کے اس تہوار کے دوران خاص طورپر نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے ڈانڈیا رقص کی تقریبات میں مسلم نوجوانوں کو داخل نہ ہونے دیں، کیونکہ ان تقریبات میں ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکوں کی جانب مائل ہوکر اسلام قبول کرلیتی ہیں۔ یہ پراپیگنڈا یہاں تک بھی رہتا تو شاید ٹھیک تھا لیکن اب بھارت میں وشوا ہندو پریشد کی نوجوان بجرنگ دل ’’لّو جہاد‘‘ کو ایک نیا رنگ دینے کی تیاری میں ہے جسکے تحت ’’لوجہاد‘‘ اور’ ’گھر واپسی‘‘ کے بعد بجرنگ دل اب ’’بہو لاؤ، بیٹی بچاؤ‘‘ کے نام سے ایک نئی تحریک شروع کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ بجرنگ دل کیمطابق اس تحریک کے ذریعے دوسرے مذاہب کی جو لڑکیاں ہندو لڑکوں سے شادی کریں گی انہیں پوری عزت دی جائیگی اور انکی مکمل حفاظت بھی کی جائیگی۔ ’’بہو لاؤ، بیٹی بچاؤ‘‘ تحریک کے تحت جو ماں باپ عیسائی یا مسلم کمیونٹی کی لڑکیوں کو اپنی بہو بنانے کی مخالفت کرینگے انہیں بھی سمجھانے کی کوشش کی جائیگی۔اس سلسلے میںپمفلٹ اور بل بورڈز کے ذریعے لوگوں میں ’’شعور‘‘ اجاگر کرنے کی مہم بھی شروع کردی گئی ہے اور اس سب کے باوجود کہا جاتا ہے کہ بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔واہ! سبحان اللہ!
بالخصوص بھارت کی جانب سے ہی عالمی سطح پر ایک اور پراپیگنڈا یہ بھی کیا جارہا ہے کہ پاکستان ایک مذہبی انتہاپسند ریاست ہے، آئیے اس ’’الزام ‘‘ کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں اٹھانوے فیصد کے لگ بھگ آبادی مسلمان ہے، پاکستان انگلیوں پر گنی جانیوالی دنیا کی ان چند ریاستوں میں سے ایک ہے، جن کا قیام مذہب کے نام پر عمل میں آیا، اسلامی ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں قرآن و سنت کے منافی آئین یا قانون بنایا ہی نہیں جاسکتا، کیونکہ پاکستان کے آئین کی اساس ہی یہ ہے کہ ملک میں تمام قانون سازی قران و سنت کیمطابق کی جائیگی، یہ بھی طے ہے کہ پاکستانی قوم عالم اسلام میں ممتاز اور قائدانہ مقام رکھتی ہے اور دنیا بھر میں پاکستان اور پاکستانیوں کا بنیادی تشخص اسلامی ہے ، اہل پاکستان کی بڑی تعدادنہ صرف اسلام پسند ہے بلکہ اسلام کی خاطر اپنی جان بھی قربان کرسکتی ہے، جس کا ایک ثبوت وہ اسلامی تہوار ہیں جن پر پاکستانیوں کا جوش، جذبہ، ولولہ ، وارفتگی اور عقیدت و احترام دیکھنے کے لائق ہوتا ہے۔دنیا میں سب سے زیادہ اسلامی خیرات (زکواۃ، صدقات وغیرہ) بھی پاکستانی ہی دیتے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں مساجد کے بعد اب دنیا کی سب سے بری مسجد بھی پاکستان میں بننے جارہی ہے، سینکڑوں اسلامی فلاحی تنظیمیں بھی پاکستان میں رو بہ عمل ہیں،صرف یہی نہیں بلکہ تبلیغی اجتماع کی صورت میں حج کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع بھی پاکستان میںہی رائیونڈ میں ہوتا ہے۔ ایک جانب اگر ماہ صیام، عیدین، شب برات اور عید امیلا النبی ﷺ جیسے تہواروں پر جوش و خروش دیکھنے والا ہوتا ہے تو دوسری جانب عاشورہ محرم الحرام پر سارا پاکستان نواسہ رسولﷺ کی المناک شہادت کے غم میں ماتم کناں محسوس ہوتا ہے، پاکستان میں ہی دنیا کا سب سے بڑا مدارس کا نظام کار فرما ہے۔الغرض پاکستان میں مذہب کا اس قدر عمل دخل ہے کہ دین پر مر مٹنے والا اگر ایک ڈھونڈو تو ہزار ملتے ہیں، لیکن ان سب حقائق کے باوجود! جی ہاں! اس سب کے باوجود پاکستا ن ایک اسلامی ریاست تو ہے لیکن اسے کسی بھی صورت مذہبی ریاست قرار نہیں دیا جاسکتا۔کیوں؟ آئیں! اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں۔
اب یہی دیکھ لیں کہ پاکستان میں بہت سی مکمل مذہبی اور نیم مذہبی سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور سیاسی میدان میں بڑی حد تک غیر مذہبی سیاسی جماعتوں سے بھی زیادہ فعال ہیں۔اسکے باوجود اسلام کے نام پر حاصل ہونیوالے پاکستان میں مسلمانوں کی اٹھانوے فیصد آبادی میں اسلام سے پیار کرنیوالے کروڑوں کٹر مسلمانوں نے کبھی کسی مذہبی یا مذہبی سیاسی جماعت کو اقتدار میں نہیں آنے دیا۔ یا دوسرے الفاظ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سڑسٹھ سالہ سالہ تاریخ میں کوئی مذہبی یا دینی جماعت خود کو عوام کیلئے قابل قبول نہ بناسکی۔ اسکے برعکس پاکستانی تاریخ روشن خیال سیاسی جماعتوں سے بھری ہوئی ہے۔ مشرف دور میں افغانستان پر امریکی یلغار کے ردعمل میں البتہ سال 2002  کے عام انتخابات میں خیبر پختونخواہ (اس وقت کے صوبہ سرحد)میں متحدہ مجلس عمل کو حکومت بنانے کا موقع ملا تو یہ اس صوبے میں خاص حالات کی وجہ سے ممکن ہوسکا، لیکن جیسے ہی وہ حالات ختم ہوئے تو سال 2008 ء کے عام انتخابات میں ثابت ہوگیا کہ پاکستانی قوم مذہبی جماعتوں کی جانب کس حد تک مائل ہے؟اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اہل پاکستان کا رجحان مذہب کی طرف تو رہتا ہے لیکن مذہبی جماعتوں کی جانب کبھی نہیں رہا۔یہ بجا کہ ملک میں مذہبی جماعتوں کابڑا نیٹ ورک موجود ہے، لیکن ان جماعتوں کا ووٹ بینک اس قابل نہیں کہ وہ ملکی سیاسی اساس میں کسی بہت بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکے۔ پاکستان میں آنیوالے برسوں میں بھی کسی مذہبی جماعت کے اقتدار میں آنے کا دور دور تک کوئی امکان نظر نہیں آتا، حد تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی سے لیکر جمعیت علما ئے اسلام تک اور جمعیت علمائے پاکستان سے لیکر تحریک منہاج القران اور پاکستان عوامی تحریک تک تمام مذہبی جماعتوں نے نظام کی تبدیلی، اُکھاڑ پچھاڑ اور انقلاب کیلئے بڑا زور لگایا لیکن جانوں کی قربانی دینے کے باوجود یہ مذہبی جماعتیں کبھی کوئی انقلاب برپا نہ کرسکیں۔ پاکستان میں کسی مذہبی جماعت نے مرکز میں اقتدار میں تو کیا آنا تھا، کوئی دینی جماعت غیر مذہبی جماعتوں کے اقتدار کیلئے کبھی خطرہ بھی نہیں بن سکی۔
قارئین کرام!! پاکستان کے برعکس بھارت میںکبھی کانگریس کے تنگ نظر ہندو کی حکومت رہی اور کبھی کٹر انتہاپسندہندؤوں کی شکل میںبھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلم دشمنی میں ووٹ لیکر اقتدار حاصل کیا۔بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے ہی بھارت کے سیکولرازم کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔اب جب بی جے پی کی مودی سرکار اقتدار میں آئی ہے تو اس سے بھی بھارت کا سیکولر چہرہ مسخ ہوا ہے۔ مودی کے اقتدار میں آتے ہی ایک جانب اگر مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں تو دوسری جانب ’’بہو لاؤ ، بیٹی بچاؤ‘‘ جیسی تحریکوں کے ذریعے غیر ہندوخواتین کا مذہب تبدیل کرنے کی مذموم سازش شروع کردی گئی ہے، لیکن حقیقت میں اس تحریک کے ذریعے انتہاپسند ہندو دوسروں کا مذہب تبدیل کرتے کرتے ’’نوراتر‘‘ جیسے اپنے عقائد کے پیچھے بھی پڑ گئے ہیں، کیونکہ بجرنگ دل کی اس کوشش کے بعد بھارت میں نوراتر کے شرکاء کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے کو ملی ہے۔تو یہ ہے سیکو لر بھارت کا اصل چہرہ، جس میں دوسرے کے پیچھے لٹھ لیکر پڑنے والے بھارتی انتہاپسند ااپنا عقیدہ ہی بگاڑے جارہے ہیں!