شاباش

کالم نگار  |  روبینہ فیصل ....دستک

 اپنی بھانجی کا پاسپورٹ بنوانا تھا ۔ ڈرائیور کو کہا پاسپورٹ آفس چلو ۔۔ باجی وہاں بہت رش ہوتا ہے ۔ کوئی بات نہیں پھر بھی چلو ۔ دل اندر سے ڈر گیا ۔ مگر پاکستان کے شارٹ کٹس پر اعتماد تھا لہذا پکا ارادہ کیا کہ کوئی بات ، پیسے پرس میں ہوں تو پاکستان میں وقت کی کوئی پرابلم نہیں ۔ راستے میں ایک وکیل دوست کو فون کیا ، اوہ اوہ پاسپورٹ آفس جارہی ہو وہاں تو بہت رش ہوگا ۔۔ شارٹ کٹ بتاﺅ ۔۔ کسی ایجنٹ کو پیسے دے دینا ۔۔ اچھا !! آفس کے باہر گاڑی رکی تو ایک لڑکا بھاگا بھاگا آیا ۔ باجی پاسپورٹ بنوانا ہے ؟
ہاں !!
بہت رش ہوتا ہے ۔
ہاں پتہ ہے ۔
کتنے پیسے لو گے ؟1500لوں گا ۔۔
ٹھیک ہے دیر کتنی لگے گی ؟ باجی دو تین گھنٹے ۔۔ چلو ٹھیک ہے ۔۔
نیشنل بنک کے سامنے چالان فارم لایا ۔۔ بھر دئے ، شناختی کارڈ کی فوٹوکاپی اور پرانے پاسپورٹ کی کاپی بھاگ کر کروا لایا ۔
فیس تم جمع کروا گے ۔۔ نہیں باجی آپ نے کروانی ہے ۔۔
 خواتین کی لائن الگ تھی بہت احترام کے ساتھ کلرک نے فیس جمع کی ۔ پانچ منٹ میں فیس جمع ہوگئی۔
اب تم ساتھ آﺅ گے ؟
نہیں باجی میں فون کرتا ہوں میرا آدمی آپ کو اندر لے جائے گا ۔مجھے کیسے پتہ چلے گا ؟ وہ خود آکر آپ کو لے جائے گا ۔ اُسے کیسے پتہ چلے گا ؟تم ساتھ کیوں نہیں آتے ۔۔ ہم اندر نہیں جاسکتے آپ پیسے ابھی دے دیں ۔۔ ابھی کیوں ؟ میں پہلے اندر جاﺅں گی دیکھوں گی کہ کیا ہورہا ہے ۔تمھارا آدمی میری کس طرح مدد کرتا ہے پھر باہرآکر پیسے دوں گی ۔
میں اس سب کو پاکستانی نظام کا حصہ سمجھ رہی تھی اور میرے ذہن میں یہ بات پختہ تھی کہ اس کے بغیر پاکستان میں کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔
اس نے کہا پیسے ابھی دے دیں ،آپ کا کام ہوجائے گا تو آپ پیسے نہیں دیں گی ۔ 1300میں نے اندر دینے ہیں اور دو سو میں نے رکھنے ہیں ۔ میرا ماتھا ٹھنکا ۔تم مجھ پر اعتبار نہیں کر رہے میں تم پر کیوں کرﺅں ؟ آپ کو کرنا پڑے گا ۔۔ جاﺅ بھاگو میں نہیں کرتی ۔اور وہ سچ میں بھاگ گیا ۔۔ اندر آئی تو بڑے بڑے بینرز لگے ہوئے تھے ۔ ©"ایجنٹوں سے ہوشیار رہیں !! یہ آپ کا کام جلدی کروانے میں آپ کی ذرا برابر بھی مدد نہیں کر سکتے ۔ پاسپورٹ کا انتظام ایسا کر دیا گیا ہے کہ بہت جلد ی آپ کا کام ہوجائے گا ۔
میں نے اس بینرز کے الفاظ پر یقین نہ کیا ۔
اندر جا کر لائن میں کھڑے ہوگئے یہ سوچ کر کہ اب اللہ وارث ۔۔جو پاکستان میں کچھ ذیادہ ہی ہوتا ہے ۔ اتنی لمبی لائن اور جمعہ کا دن ،جمعہ بریک آجائے گی اور ہم نہ جانے کب پاسپورٹ کی درخواست جمع کرا پائیں گے ۔۔
لائن چلتی گئی ۔ step oneتصویر کھینچی ، ٹوکن دیا ۔۔ سٹیپ ٹو240نمبر چل رہا تھا ہمارا ٹوکن 384۔میں پورے دن کی قربانی کا سوچ کر وہاں اطمینان سے بیٹھ گئی ۔ غیر یقینی طور پر گھنٹے کے اندر اندر ہمارا نمبر آگیا ۔۔5 کاﺅنٹرز کام کر رہے تھے ۔سب آفیسرز مستعد ۔جس عورت نے ہمارا کام کیا میں نے اسے شکریہ کہا ، اس نے حیرت سے مجھے دیکھا ، اسے شکریہ سننے کی عادت نہیں تھی ۔ اور میرا دل کر رہا تھا جس مستعدی سے اس نے پاسپورٹ کی ابتدائی انفارمیشن ڈالی ہیں ، میں تو کھڑے ہوکر اس کی لمبی چوڑی تعریف کے چکر میں تھی ۔ حیرت اور خوشی سے میرا برا حال تھا ۔ مگر اس نے اگلے نمبر کو آواز دی ۔۔تیسرا سٹیپ بھی آنا فانا ہوگیا ، پھر چوتھا فنگر پرنٹ والا مرحلہ تھا وہ بھی ترتیب سے چل رہا تھا ، بس کبھی کبھار کوئی سنئیر سٹیزن آجاتا تو نمبر آگے پیچھے ہوجاتے ۔آخری مرحلہ اور آخری کاﺅنٹر ۔۔کچھ سوالات کئے اور کہا اب آپ فلاں تاریخ کو پاسپورٹ لینے آجانا ۔۔ ہم گھر جائیں ؟ جی ۔۔ ہم گھر جائیں ۔۔ جی جی ۔۔
اتنے رش میں اتنا مناسب وقت تو شائد کینڈا کے آفسز میں بھی نہ لگے ۔۔ میرے دل سے نئے ڈی جی پاسپورٹ سکندر سلطان راجہ کے لئے دعا نکلی ۔ اور یہ امید بندھی کے پاکستان کے محکمے بھی درست ہوسکتے ہیں اگر ایک بھی "ٹھیک کرنے والا"شخص سر پر آکربیٹھ جائے ۔ ،شاباش سکندر سلطان راجہ ،شاباش انچارچ لاہور گارڈن ٹاﺅن پاسپورٹ آفس ۔۔۔
 جب میں امیگریشن لاءکی پریکٹس میں تھی تو ایک بڑی عام پریکٹس پاکستانی قونصلیٹ ٹورنٹو کے دفتر کے حوالے سے دیکھنے میں آتی تھی ۔جب کینڈا میں کوئی رفیوجی پاکستانی پاسپورٹ کے لئے قونصلیٹ آفس سے رجوع کرتا تو اسی طرح کے ایجنٹ اسے باہر ہی روک لیتے اور ایک پاسپورٹ تقریبا دو ہزار سے پانچ ہزار ڈالرز تک بیچا جاتا ۔ رفیوجی کو بے تحاشا پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا اور کسی آفیسر تک اس کی برا ہ راست پہنچ نہ تھی ۔ ان کے کیس کرنے کے لئے باہر وکیل اور ایجنٹ بیٹھے ہوتے تھے جو انہیں سیدھی راہ دکھانے سے ذیادہ ان کی مجبوری اور vulnerabilty کا فائدہ اٹھاتے ۔ جس طرح آج کل کوئی نیک دل اور پاکستانی نظام کی کرپشن کا باغی پاکستانی پاسپورٹ آفس میں انچارچ بنا ہے اُسی طرح اس وقت جب ایک ایسے ہی نظام کے باغی آفیسر کے کندھے پر مشن کی ذمہ داری آئی تو وہی پاسپورٹ فری میں ملنے لگے ۔ اور عام ستایا ہوا رفیوجی جو ہر طرف سے لوٹا جاتا تھا کم از کم پاکستانی قونصلیٹ میںاس کی بچت ہونے لگی ۔اس کے ساتھ ساتھ رفیوجز کی رہنمائی کے لئے قونصیلٹ کے اندر ہی امیگریشن وکیل کا وقت مقرر کر دیا گیا اور بے بس لوگ اس سے استفادہ حاصل کرنے لگے ۔ شاباش عمران علی ۔۔شاباش ان سب فرسودہ اورکرپٹ نظام کے باغی آفیسرز پر جو پاکستان کے اداروں میں بھی کرپشن ختم کرتے ، یا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اپنی جان اور عزت کو خطرے میں ڈال کر عوام کو ایجنٹ مافیا سے نجات دلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ میں جانتی ہوں سچ کے راستے میں بہت کانٹے ہوتے ہیں اپنے ہاتھ ،اپنا جسم سب چھلنی ہوجاتا ہے ۔ہر طرف سے مخالفت کی ہوائیں گھیر لیتی ہیں اور اس جھوٹ اور مکر کی دنیا میں لگتا ہے سچ تنہا آندھیوں میں گھرا ہوا کھڑا ہے ۔ایسے میں جب بھی کوئی اچھا کام دیکھیں ۔ایسے بہادر آفیسرز کے لئے ایک لفظ "شاباش"©کا ضرور کہہ دیں ۔ اس سے تنہا لڑنے والوں کا احساسِ تنہائی شائد کم ہو جائے ۔ اور ہم بھی اس جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہوجائیں ۔