تیونس میں اسلامی جمہوریت کا پُرخطرسفر

کالم نگار  |  فتح ملک

 مژدہ ہو کہ تیونس کے اسلام پسندسیاسی مدبررشید غنوچی نے حزبِ اختلاف کے رہنماﺅں کے ساتھ ایک نئے معاہدے کی بدولت سیاسی بحران سے نجات کی آئینی راہ تلاش کر لی ہے۔ تین سال پیشترعرب بہار کا آغاز یہیں سے ہوا تھا۔عرب بہار کے شگوفے یہیں سے پھوٹے تھے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے عرب دُنیا میں بہار نے ڈیرے ڈال دیئے تھے۔ اسلامی جمہوریت کی ترویج کی خاطر عرب دُنیا میںبیداری¿ فکر و عمل کی عوامی جمہوری تحریک کے کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد تیونس میں 2011ءکے عام انتخابات میں اسلامی جمہوری قوتوں نے یہیں زمامِ کار سنبھالی تھی۔ گذشتہ تین برس کے دوران خطے کے بیشتر ممالک میں یہ بہار انتہائی بے ثبات ثابت ہوئی۔مصر میں صدر مُرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹ دئیے جانے کے بعد سے لے کے اب تک اخوان المسلمون اور اُن کے حامیوں پر لاٹھی گولی کی سرکار مسلط ہے۔قید و بند اور قتل و غارت روز کا معمول بن کر رہ گئی ہے۔اب نوبت یہاں آ پہنچی ہے کہ اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا ہے۔سفّاک آمریت نے اخوان المسلمون کے اراکین کی نقل و حمل پر پابندی لگا دی ہے، اثاثے ضبط کر لیے ہیں، معاشرتی اور خیراتی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے ، حتیٰ کہ اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام قائم خیراتی ہسپتالوں کے ایک فعّال اور سرگرم سلسلے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ یہ ہسپتال گذشتہ نصف صدی سے سالانہ بیس لاکھ غریب مصریوں کو مفت طبّی امداد فراہم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ اب اِن خیراتی ہسپتالوں کے دروازوں پر سینکڑوں مریض دستک دے رہے ہیں مگر بے سُود۔جب سے فوجی آمریت نے صدر مُرسی کی حکومت کا تختہ اُلٹا ہے تب سے لے کر اب تک مصر میں جمہوریت پسندوں کے مظاہرے جاری ہیں۔ابھی کل کی بات ہے کہ مصر کی شہرہ¿ِ آفاق الازہریونیورسٹی میں صدر مُرسی کے حامی طالب علموں نے مظاہرے کے دوران یونیورسٹی کے دو شعبوں کی عمارتوں کو نذرِآتش کر دیا ہے۔ بے انتہا ریاستی جبروتشدد کے باوجود اخوان کی تحریکِ مزاحمت دن بدن زور پکڑتی چلی آ رہی ہے۔
تیونس میں بھی اخوان المسلمون کی حکومت کو اسی انجام سے دو چار کرنے کی خاطر وہ سارے گُر آزمائے گئے اور اب تک آزمائے جا رہے ہیں جو دہشت گردی کی لپیٹ میں آئے ہوئے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں میں آزمائے جا رہے ہیں۔ یہاں بھی سیاسی رہنماﺅں پر پے در پے قاتلانہ حملوں نے آئین سازی کی راہ میں مسلسل روڑے اٹکائے اور یوںنوبت ایک شدید سیاسی بحران تک آ پہنچی تھی۔رشید غنوچی کی جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ شخصیت نے بالآخر حزبِ اختلاف کے سیکولر رہنماﺅں کے ساتھ جمہوریت کے تسلسل اور استحکام کی خاطر ایک سیاسی معاہدہ کر لیا ہے۔ حکمران جماعت کے قائد رشید غنوچی اور سابق حکومت کے وزیراعظم ایسابی نے ایک عبوری حکومت کی نگرانی میں نئے سرے سے انتخابات کے انعقاد سے نئی جمہوری حکومت کے قیام کا معاہدہ کر لیا ہے۔ اِس عبوری حکومت کے سربراہ موجودہ حکومت کے وزیرِ صنعت مہدی جمعہ ہوں گے۔ اِس معاہدے کی رُو سے 14 جنوری1914 ءتک اقتدار عبوری حکومت کے پاس رہے گا۔اِس دوران آئین سازی کی تکمیل کر دی جائے گی اور پھر ازسرِنو عام انتخابات کا اہتمام کیا جائے گا۔ جمہوریت کو بچانے کی خاطرحزبِ اختلاف کی جماعت ندائے تیونس کے رہنمااور ایک سابق وزیراعظم اِیسابسی کے درمیان کم از کم پانچ ملاقاتیں ہوئیں۔اِن میں سے بیشتر ملاقاتیں بیرونِ ملک ہوئیں۔جب اِیسابسی پیرس گئے تو رشید غنوچی بھی پیرس جا پہنچے اور ہر دومختلف الخیال مگر جمہوریت پسند سیاسی رہنماﺅں نے تنہائی میںاپنی قوم کو درپیش بحران کا حل ڈھونڈ نکالا۔ مقامِ مسرت ہے کہ جس طرح تین سال پیشتر تیونس سے عرب بہار کا آغاز ہوا تھا اُسی طرح آج اِس بہار کو دوام بخشنے کی خاطر تیونس کی سیاسی قیادت نے مختلف الخیال سیاسی قائدین سے باہمی گفت و شنید کے ذریعے اختلافات حل کرنے کی راہ بھی دکھا دی ہے۔مصر میں اخوان حکومت کے مقدر سے بچنے کی تمنّا میں ہر دو رہنماﺅں نے اسلام اور جدیدیت کے امتزاج سے عرب دُنیا کے لیے ایک ایسا نیا سیاسی ماڈل دریافت کر لیا ہے جو سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ مزدور یونینز کے لیے بھی قابلِ قبول ہے۔اپنی فراستِ مومنانہ کی بدولت رشید غنوچی عرب بہار کو دوام بخشنے میںکامیاب رہے ہیں۔
رشید غنوچی درس و تدریس ، تحریر و تقریر اور سیاست و حکمت کے میدانوں کے شہسوا ر ہیں۔ تیونس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ مصر اور دمشق میں زیرِ تعلیم رہے۔ اِسی دوران وہ اخوان المسلمون سے متعارف ہوئے اور پھر اِس کے اٹوٹ وابستگان میں شمار ہوئے۔فارغ التحصیل ہو کر تیونس واپس آئے تو اُنہوں نے ”المعرفہ“کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا،اخوان کے مسلک کی پیروی میں اسلامی طرزِعمل (Islamic Action)کے نام سے ایک سیاسی تنظیم کی بنیاد رکھی اور اسلامی رجحانات کی ترویج کا کام شروع کر دیا۔ بعد ازاں 1989ءمیں النہدہ(نیا جنم)پارٹی کی بنیاد رکھی اور رسالہ” الفجر “شائع کرنے لگے۔یہ وہ زمانہ تھا جب تیونس میں نمازِ پنجگانہ کے پابند مسلمانوں پر بھی تخریب کاری کا شُبہ کیا جاتا تھا۔حجاب پر پابندی تھی۔ وقتاً فوقتاً سینکڑوں کے حساب سے سیاسی کارکنوں کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی تھی۔اِسی عالم میں وہ گرفتار ہوئے اور عمر قید کی سزا پائی۔بعد ازاں مختلف یورپی ممالک میں طویل جلاوطنی کے دِن گزارے۔
تین سال پیشتر جب عوامی جمہوری تحریک کے نتیجے میں آمریت ختم ہوئی تو عام انتخابات کے ذریعے رشید غنوچی کی قیادت میں اخوان المسلمون اقتدار میں آگئی۔آئین سازی کا عمل شروع ہوامگر ساتھ ہی ساتھ تشدد اور دہشت گردی کا بازار بھی گرم کر دیا گیا۔دہشت گردوں نے سیکولر سیاسی لیڈروں پر قاتلانہ حملے شروع کر دئیے۔ حزبِ اختلاف کے سرکردہ رہنما محمد براہیمی کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔جوں جوں القاعدہ اور انصار الشریعہ کی دہشت گردی بڑھتی گئی امن و امان کی صورتِ حال دِگر گوں ہوتی گئی۔ایسے میں رشید غنوچی آئین سازی کے عمل کو تیز سے تیز تر کرتے چلے گئے۔یہاں میں صرف اُن کی پانچ اگست کی تقریر کا حوالہ دینا کافی سمجھتا ہوں۔ اِس تقریر میں اُنہوں نے اعلان کیا تھا کہ جو لوگ ہماری حکومت کا تختہ اُلٹ دینا چاہتے ہیں اُنہیں صرف چند ہفتے انتظار کرنا چاہیے۔ آئین سازی اپنی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے۔نئے آئین کے تحت وہ انتخابات کے ذریعے ہماری حکومت کو تبدیل کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے اِس حق کو صدقِ دل سے تسلیم کرتے ہوئے النہدہ پارٹی حکومت خود ، رضاکارانہ طور پر ، اقتدار سے دستبردار ہوئی اورپُرامن جمہوری عمل کے تسلسل اور استحکام کی خاطر اقتدار ایک عبوری حکومت کے سپرد کر دیا۔
تیونس میں اخوان المسلمون کی قیادت نے اسلامی جمہوری نظام کے فروغ کی ایک ایسی روشن مثال قائم کر دی ہے جوعرب دُنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی قابلِ تقلید ہے۔حکمران طبقے کی بربریت اور مختلف حکومتوںکے ریاستی تشدد کے باعث عرب دُنیا میںاخوان المسلمون کے وابستگان دو طرح کے ردعمل کے خُوگر ہیں۔ ایک ردعمل ایمن الظواہری کے سے مسلمانوں کا ہے جوجمہوری عمل کی ناکامی کو دہشت گردی کی کامیابی بنانا چاہتے ہیں۔یہ منفی طرزِ عمل ہے۔اِس کے برعکس رشید غنوچی کے سے اخوان المسلمون قائدین کا پُرامن ، صلح کُل اور اختلافی تصور و عمل کے احترام کا مثبت طرزِ عمل ہے۔آج تیونس سمیت عرب ممالک میں ہر دو طرز ہائے عمل میں آویزش جاری ہے۔ہماری تمنّا یہ ہے کہ رشید غنوچی کے سے طرزِ فکر و عمل کوہر چہار سمت ،ہمہ گیر پذیرائی نصیب ہو!