لا پتہ افراد کا المیہ

کالم نگار  |  قیوم نظامی

پاکستان میں لاپتہ افراد کا المیہ طول پکڑتا جارہا ہے۔ متاثرہ خاندان ذہنی کرب اور اذیت میں مبتلا ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کی وجہ سے قوم کو اس المیے کا سامنا کرنا پڑا۔ آمر جرنیل پرویز مشرف نے ملکی قوانین سے انحراف کرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کرکے سی آئی اے کے حوالے کیابلکہ ان کو فروخت کرکے ڈالروں میں ان کی قیمت وصول کی جس کا اعتراف آمر نے اپنی کتاب میں کیا۔ پاکستانی عوام اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستان کے شہریوں کو لاپتہ کرنا انتہائی مکروہ عمل ہے جو کسی صورت قابل قبول نہیں ہے۔ عوامی ناپسندیدگی کے باوجود افراد کو لاپتہ کرنے کا شرمناک سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب نے عاجز آکر کوئٹہ سے کراچی پیدل لانگ مارچ کیا تاکہ ریاستی اداروں کے ضمیر کو جھنجوڑا جاسکے اور عوامی رائے عامہ کو بیدار کیا جاسکے۔ افسوس ہم مجموعی طور پر بحیثیت قوم اس حد تک زوال پذیر ہوچکے ہیں کہ بے بس عورتوں، بزرگوں اور بچوں کی آہیں اور آنسو بھی اب ہمیں متاثر نہیں کرسکتے۔ حکومت کا کوئی وزیر اور اعلیٰ افسر پیدل مارچ کرنے والوں سے اظہار ہمدردی کے لیے نہ پہنچا۔ لاپتہ افراد کو یہ علم نہیں ہے کہ ان کے پیارے زندہ ہیں یا موت کی وادی میں چلے گئے ہیں۔ یہ ایسا غم اور کرب ہے جس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کے عزیز کئی سالوں سے لاپتہ ہیں۔ پاکستان لاالہ الاللہ کے نعرے پر وجود میں آیا تھا جس کا مطلب یہ تھا کہ پاکستان میں صرف ایک خدا کی کارفرمائی ہوگی مگر آج پاکستان میں خدا کے بندے خدا بنے بیٹھے ہیں اور لاوارث عوام پکار پکار کر کہہ رہے ہیں۔
کس کس کے آستاں پہ جبیں کو جھکائیں ہم
ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں
مجبور اور بے بس انسانوں کا ہمدرد اور غم خوار اور آئین کا رکھوالا چیف جسٹس پاکستان لاپتہ افراد کے بارے میں آہ و بکا کررہا ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریاستی سکیورٹی اداروں کو حکم دیا کہ ان 35 افراد کو عدالت میں پیش کیا جائے جن کو مالاکنڈ جیل سے لاپتہ کیا گیا۔ چیف جسٹس کی واضح ہدایات کے باوجود ایف سی نے لاپتہ افراد کو عدالت میں پیش نہ کیا۔ سپریم کورٹ نے آئی جی ایف سی میجر جنرل اعجاز شاہد کو عدالت میں طلب کرلیا جنہوں نے مصروفیت کی بناءپر عدالت میں حاضری سے معذوری ظاہر کی۔ سپریم کورٹ نے تنگ آکر آخری حربے کے طور پر وزیر دفاع کو طلب کرلیا حالانکہ سپریم کورٹ کو علم تھا کہ پاکستان کے وزیردفاع وزیراعظم میاں نواز شریف ہیں۔ وزیراعظم پاکستان نے وزارت خارجہ، وزارت دفاع اور وزارت قانون کے محکمے اپنے پاس رکھے ہوئے تھے جس کا جواز بھی کبھی عوام کو نہیں بتایا گیا۔ جب جواب دہی کا وقت آیا تو خود سپریم کورٹ میں پیش ہونے کی بجائے وزیراعظم نے جواب دہی کے لیے راتوں رات خواجہ محمد آصف کو وزیردفاع بنادیا۔ خواجہ آصف عدالت میں پیش ہوئے اور چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ لاپتہ افراد کو عدالت میں لایا جائے گا۔ انہوں نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ 738 لاپتہ افراد کا سراغ لگالیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے ان کو 2 دسمبر تک مہلت دے دی۔ چیف جسٹس نے درست کہا کہ نئی منتخب حکومت عوام کی توقعات پر پوری نہیں اُتری اور لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب آج بھی آہ و بکا کررہے ہیں مگر حکومت اپنی آئینی ذمے داریاں پوری کرنے سے قاصر ہے اور سکیورٹی کے اداروں نے متوازی حکومت قائم کررکھی ہے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ لاپتہ افراد کیس میں ایف سی کے نامزد ملزمان ڈی آئی جی سی آئی ڈی کوئٹہ کے سامنے پیش ہوں تاکہ تفتیش مکمل ہوسکے۔
انتہائی دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ لاپتہ افراد کی وجہ سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں بدنام ہورہا ہے۔ جس ملک میں کئی سالوں سے ہزاروں شہری لاپتہ ہوں اور ان کے لواحقین مارے مارے پھر رہے ہوں۔ چیف جسٹس پاکستان ان کی دادرسی نہ کرسکتا ہواس ملک کی دنیا میں کیا عزت باقی رہ جاتی ہے۔ جب پاکستان کے سکیورٹی کے ادارے آئین ، قانون اور عدالت سے ماوراءاپنے ہی شہریوں کو گھروں سے اُٹھالیں اور ان کی لاشیں سڑکوں پر پھینک دیں تو پھر امریکہ پاکستان پر ڈرون حملے کیوں نہیں کرے گا اور حکمران کس منہ سے ڈرون حملوں کی مخالفت کریں گے جبکہ ڈرون حملوں سے خطرناک دہشت گرد ہلاک ہورہے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گرد وحشیانہ کاروائیاں کررہے ہیں۔ وہ سکیورٹی اداروں کے افراد کو اغوا کرکے ان کے گلے کاٹ دیتے ہیں اور قتل و غارت گری کے باوجود کمزور عدالتی نظام کی وجہ سے رہا ہوجاتے ہیں۔ جج دہشت گردوں کے مقدمات سننے پر آمادہ نہیں ہوتے اور وزیراعظم کو کہنا پڑتا ہے کہ جج ماسک پہن لیں۔ ایسے خطرناک دہشت گرد کسی نرمی کے محتاج نہیں ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان بجا طور پر حکومتی اداروں پر گرجتے برستے رہے مگر وہ دہشت گردوں کو کیفر کردار پر پہنچانے کے لیے موثر قانون سازی نہ کرسکے۔
میاں نواز شریف اپوزیشن لیڈر کی حیثیت میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بڑے جوش و خروش کے ساتھ اُٹھاتے رہے۔ وہ اسلام آباد میں لاپتہ افراد کے عزیز و اقارب کے دھرنے میں شریک ہوئے انہوں نے بڑی دردمندی کے ساتھ احتجاج کرنے والوں کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا اور کھلی آنکھوں کے ساتھ غم زدہ والدین کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر سابق حکمرانوں کو کوستے رہے۔ عوام کو توقع تھی کہ میاں نواز شریف لاپتہ افراد کو بازیاب کرائیں گے مگر وزیراعظم کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے اس سلسلے میں افسوسناک سردمہری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کا فرض تھا کہ وہ سکیورٹی اداروں کے اعلیٰ افسروں سے مشاورت کرکے لاپتہ افراد کا مسئلہ حل کرتے اور دہشت گردوں کے کڑے احتساب کے لیے خصوصی عدالتی نظام اور خصوصی قوانین وضع کرتے اور لاپتہ افراد کے المیے کو ختم کرتے مگر افسوس چھ ماہ گزرنے کے باوجود وزیراعظم یہ انسانی مسئلہ حل نہیں کرسکے۔ میاں نواز شریف مسائل کی تشخیص تو درست کرتے ہیں مگر تشخیص کے مطابق قومی بیماریوں کا علاج کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ انہوں نے درست کہا کہ دہشت گردوں کو دو ہفتے میں سزا ملنی چاہیئے۔ عوام کی خواہش ہے کہ اس اصول پر دو ماہ کے اندر عمل شروع ہوجائے۔ ذوالفقار علی بھٹو جب خطاب کرتے تھے تو حکومتی ادارے ان کے خطاب کی روشنی میں حرکت میں آجاتے تھے۔ وزیراعظم کی بات اور فیصلے کو قانون کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔ کاش میاں صاحب بہترین ایڈمنسٹریٹر ثابت ہوں اور عوام کو گڈ گورنینس دے سکیں۔ پاکستان کا نمبرون مسئلہ گڈ گورنینس ہے۔ باقی تمام مسائل اسی نمبرون مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں۔ابھی تک حکومتی ادارے منتخب وزیراعظم کی ہدایات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے۔
پاکستان کے نئے سپہ سالار جنرل راحیل شریف کے بارے میں معتبر گواہیاں سامنے آئی ہیں کہ وہ خدا پر یقین کامل رکھنے والے منکسر مزاج دردمند شخصیت ہیں ان سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ پاکستان اور فوج کے وقار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لاپتہ افراد کامسئلہ حل کرائیں اور سکیورٹی اداروں کے افسروں کو ہرگز اس بات کی اجازت نہ دیں کہ اپنی ذاتی انا کے لیے آئین اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لیں اور ججوں کو ایسے ریمارکس دینے کا موقع ملے جن سے ادارے کی ساکھ مجروح ہو۔ جنرل شریف فوج کی لیگل برانچ کو ہدایت کریں کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے خصوصی قوانین مرتب کرے تاکہ پارلیمنٹ سے ان کی منظوری لی جاسکے۔ اُمید ہے نئے سپہ سالار لاپتہ افراد کا انسانی مسئلہ ترجیحی بنیاد پر حل کریں گے۔