سپریم کورٹ رپورٹر

کالم نگار  |  مطیع اللہ جان....ازخودی

پاکستان میں سپریم کورٹ رپورٹنگ میدان جنگ کی رپورٹنگ سے کم نہیں رہی‘ خصوصاً ٹی وی رپورٹرز حضرات کی کمرہ عدالت اور کمروں کے درمیان بھاگم دوڑ اور اپنی کہانیوں کے کرداروں کے پیچھے لمبی تاروں والے مائیکرو فون لے کر بھاگنا تو باقاعدہ فوجی تربیت کا متقاضی بن گیا تھا ‘ وکلاءتحریک اور اس کے نتیجے میں کورٹ رپورٹرز کے ساتھ ساتھ کیمرہ مینوں نے بھی اپنی جانوں کو ہلکان کئے رکھا‘ وکلاءتحریک میں لاہور کے تاریخی سفر کے دوران کئی کیمرہ مینوں نے چیف جسٹس اور ان کے اس وقت کے ڈرائیور بیرسٹر اعتزاز احسن کی ایک جھلک کے لئے ایک چلتی گاڑی سے دوسری چلتی گاڑی پر چھلانگیں بھی لگائی‘ معزول چیف جسٹس کے خطابات کے دوران رپورٹر اور کیمرہ مین حضرات درختوں سے بھی لٹکتے رہے‘ مختصراً یہ کہ صحافت عروج پر تھی اور پھر کسی نے واپسی کا راستہ یعنی سیڑھی ہٹا لی‘ اس وقت سے لے کر آج تک محترمہ صحافت عروج پر ہی رہی اور نیچے آنے کا نام نہیں لیتی‘کورٹ رپورٹنگ تو دنیا بھر میں ہوتی ہے مگر جو عدالتی صحافت پاکستان میں ہوئی اس کی مثال شاید پوری دنیا میں نہیں ملتی‘ امریکہ اور برطانیہ میں عدالتی رپورٹنگ کا محور مقدمات کی قانونی بحث اور فیصلوں کے اثرات پر ہوتا ہے مگر پاکستان میں تو کورٹ رپورٹنگ نے عوامی صحافت کے ساتھ ساتھ مبینہ طور پر حکومت کو بھی یرغمال بنا رکھا تھا‘ حکومتی عہدیدار اور وزراءاپنے وزیراعظم کے بلائے ہوئے اجلاسوں میں جانے کی بجائے صبح صبح چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے کمرہ عدالت نمبر 1 میں داخل ہوتے تھے‘ دوسرے حکام کی عزت و بے عزتی کا نظارہ کرتے اور اپنی عزت و بے عزتی کا انتظار اور پھر دوسرے دن اخبارات کی سرخیوں سے اپنی بچھی کھچی عزت سمیٹتے تھے‘ معلومات کا ایک انبارتھا ‘ ٹی وی چینلز کے کاروبار کی ”بونی“ (پہلا گاہگ) کمال کی ہوتی تھی‘ ججوں کے ریمارکس میٹھی گڑ والی پٹی کی مانند ”خبری پٹی“ بن کر خوب بکتے‘ پھر خبری پٹی رپورٹروں کی ٹیلی فون پر آہ و زاری ”بیپر“ Beaper یعنی فون انٹرویو کی شکل اختیار کرتی‘ جس کے بعد رپورٹر حضرات بھاگم بھاگ داخلی دروازے پر نصب ٹی وی کیمروں کے سامنے جا کر براہ راست رپورٹنگ کرتے‘ پھر فیصلے کی صورت میں فیصلے کی اصل کاپی کی تلاش شروع ہوتی‘ رپورٹروں میں مقابلہ درست خبر سے زیادہ پہلے خبر دینے کا ہوتا تھا ایک بار تو راقم نے بھی آرمی چیف کو توہین عدالت کا نوٹس دلوادیا اور میرے ساتھ کھڑے ایک سینئر صحافی نے مجھے پوچھ کر یہی خبر چلا دی‘ بعد میں میں نے ان سے اور ناظرین سے معذرت کر لی ‘ ایک اور موقع پر چینی کی قیمتوں سے متعلق تاریخی کیس کی سماعت کے دوران میں سینئر ساتھی رپورٹروں سے طنزاً کہہ رہا تھا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے وفد نے چیف جسٹس سے چیمبرز میں ملاقات کی ہے پیچھے کھڑے ایک نوجوان اور ناتجربہ کار رپورٹر نے بغیر پوچھے اور تصدیق کئے فون پر خبر چلوا دی اور بعد میں اس بے چارے کی وضاحت طلب کر لی گئی‘ کئی ماہ بعد مجھے اس بات کا علم ہوا تو افسوس ہوا ‘ ان واقعات کے باوجود رپورٹروں کا ایک دوسرے سے اعتبار ٹوٹا نہیں‘ خاص کر ججوں کے ریمارکس سے متعلق خبریں آج تک ایک دوسرے سے ہی لی جاتیں رہیں‘ ویسے بھی سپریم کورٹ کی طرف سے کچھ ریمارکس اتنی بار دیئے گئے کہ ان کے بار بار استعمال پر بھی تردید کا خدشہ نہ ہوتا تھا۔ سپریم کورٹ کی رپورٹنگ بھی کسی صمد بانڈ کے نشے کی مانند بن گئی تھی رپورٹر حضرات صبح صبح پارکنگ میں اپنے موٹر سائیکل کے عقبی آئینے میں دیکھ کر شیو کرتے ہوئے بھی پائے گئے عام صحافی کے لئے چند گھنٹوں کی پریس کانفرنس بھی تھکا دینے والا عمل ہوتا ہے مگر سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک والی ”پریس کانفرنس“ تو صبح نو بجے شروع ہوتی اور کبھی کبھی شام پانچ یاچھ بجے تک جاری رہتی‘ ججوں کے ریمارکس ‘ سوالات اورو کیلوں کے دلائل سن سن کر صحافی حضرات غیر محسوس انداز میں ایک عجیب ذہنی اور نفسیاتی تغیر کا شکار ہوئے۔ ہمارے بہت سے صحافی دوستوں ملک کے اعلٰی ترین آئینی و قانونی دماغوں کے پرمغز دلائل سن کر دلیلوں کے سمندر میں کچھ ایسے ڈوبے کہ بس اپنی عام گھریلو زندگی بھی متاثر کر بیٹھے کسی دن اہم کیس نہ بھی ہوتا تو سپریم کورٹ پہنچ جاتے ‘ کچھ صحافی حضرات تو دلائل کی دنیا میں یوں کھو گئے کہ اہم قانونی معاملات پر از خود ہی مفاد عامہ کے نام پر درخواستیں دائر کر دی اور صحافت کی دیوار پھلانگ کر وکالت کی دنیا میں داخل ہوگئے‘ یہ کورٹ رپورٹر حضرات روزانہ ایک جیسے راستے طے کرکر‘ ایک جیسے عدالتی ماحول میں پہنچتے اور ایک جیسے ہی ججوں کے ویسے ہی بیانات رپورٹ کرکے خود بھی اسی ماحول میں ڈھل گئے۔ اس عدالتی رپورٹنگ کے کنویں میں چند ماہ بعد نئے رپورٹروں کو دھکیلنا بہت ضروری ہے اور پرانے کورٹ رپورٹروں کو کنویں سے نکالنا بھی ورنہ ہم یقینا کسی کنوئیں کے مینڈک سے کم نہیں ہوتے جو اپنی ہی آوازوں کی گونج کا جواب دیتا رہتا ہے۔
گزشتہ دنوں چیف جسٹس صاحب لاہور گئے تو حسب معمول بہت کم رپورٹر حضرات اسلام آباد میں سپریم کورٹ کو روانہ ہوئے‘ سینئر صحافی قیوم صدیقی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ بڑے عرصے کے بعد دس پندرہ لوگوں سے ملاقات کرنے کا موقعہ ملا تو محسوس ہوا کہ باہر کی بھی کوئی دنیا ہے اورہم لوگ باہر کی دنیا سے منقطع ہو گئے ہیں میں نے اتفاق کیا ان تمام صورت حال کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ججز بحالی تحریک کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان میں ہونے والی تاریخی واقعات کا چشم دید گواہ ہونا ہم صحافیوں کے لئے باعث فخر ہے اور ناقدین جو بھی کہیں تاریخ بحرحال لکھی جا چکی ہے ان فیصلوں میں جنہوں نے ہمارے سیاسی ‘ عسکری اداروں کی زور آوریوں کو بے نقاب کیا اب چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد کورٹ رپورٹر حضرات بہت کچھ سوچ رہے ہیں جس میں اپنا طرز زندگی اور طرز صحافت تبدیل کرنا بھی شامل ہے ایک بات طے ہے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کا دور صحافیوں کےلئے معلومات کے خزانے کا دور تھا ملکی آئین اور قانون کی بالادستی کا ناقابل یقین نمونہ جو شاید پھر کبھی دیکھنے کو نہ ملے گا‘ یہ سب کورٹ رپورٹرز کےلئے ایک خواب تھا خوبصورت خواب چاہے کوئی سیاست دان‘ بیوروکریٹ یافوجی افسر اسے بھیانک خواب ہی کیوں نہ کئے‘ مگر اب وقت آگیا ہے کہ میڈیا اور حکومتی ادارے اس خواب سے جاگ جائیں ‘ ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں خواب سے پہلے والے معاملات کو یوں ہی چلنے دیں یا پھر ایک نئے پاکستان کے لئے اس خواب کی تعبیر کے لئے کوشاں ہوں ویسے بھی 2025 کےلئے کی جانے والی منصوبہ بندی میں سپریم کورٹ کے فیصلے اہم بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔