اور ایک کہانی مکمل ہوئی !

کالم نگار  |  نعیم مسعود

سیانے کہتے ہیں جس کہانی کا اختتام اچھا ہو، سمجھیں کہانی اچھی ہے اور کوئی یہ بھی نہیں دیکھتا کہ کہانی حقیقت پر مبنی ہے یا افسانہ ہے۔ البتہ کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے آخر میں بات نامکمل مگر بامعنی ہوتی ہے۔ تب اسے اختتام کو سمجھنے والے کی صوابدید پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ، وہ کیا سمجھے!
نئے آرمی چیف کی تقرری اور نئے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کی آمد آمد پر آئینی اعتبار سے چشمِ ما روشن دلِ ماشاد ہی کہنا پڑے گا۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے علاوہ عوام الناس پر کیا بیتتی ہے۔ فی الحال حُسنِ ظن ہی رکھا جا سکتا ہے بلکہ ان عہدوں کے حوالے سے بعد میں بھی ”حُسنِ ظن“ ہی رکھا جائے گا۔ آپ ”اور کچھ“ رکھ ہی نہیں سکتے۔ جو صورت فی الفور سامنے آئی ہے وہ یہی بول رہی ہے کہ میاں نواز شریف بحیثیت وزیراعظم، بحیثیت میاں نواز شریف اور بحیثیت اپوزیشن لیڈر ہمیشہ خوش قسمت رہے۔ وطن ہو کہ جلا وطنی انہیں سبھی کچھ ہمیشہ راس آیا تاہم دعا یہ ہے کہ وہ قوم کو بھی راس آ جائیں۔ اس دفعہ مکمل ہونے والی کہانی یہ بتاتی ہے کہ آرمی چیف ان کی مرضی کے آئے ہیں (لائے تو پرویز مشرف کو بھی یہ خود ہی تھے لیکن وہ راس نہیں آئے تھے۔ اس دفعہ آرمی چیف جہاں ملک و ملت کیلئے اچھے ثابت ہوں گے وہاں میاں نواز شریف کی حکومت اور ”جمہوریت“ کیلئے بہت اچھے ثابت ہوں گے --- ”بہت اچھے!“
قلمکار کیلئے ایک مصیبت ہمیشہ رہتی ہے کہ چند عہدوں کیلئے وہ کچھ نہیں کہہ سکتا مگر رہ بھی نہیں سکتا، اس لئے جان کی امان پاتے ہوئے اتنا کہنے کی جسارت ضرور ہو گی کہ ایک کہانی یہ بھی مکمل ہوئی کہ جو بھی ہو جیسا بھی ہو آئندہ چیف جسٹس صاحب محترم حکومت کو وہ ٹف ٹائم نہیں دیں گے جو پہلے دیا جا چکا ہے۔ ہاں، وہ کئی اداروں کے سربراہان کی سیٹیں اور قلمدان جو زنگ آلود ہو رہے ہیں اُن پر آسانی سے لوگ آ جائیں گے۔ ابھی نیب ہی کے چیئرمین کا معاملہ فائنل ہُوا تھا لیکن ”حتمی صورتحال“ کچھ اور ہی بن گئی۔ بس سارے کے سارے کام رُک گئے۔ مانا کہ ملک و ملت کیلئے صدر، وزیراعظم، آرمی چیف اور چیف جسٹس کا ہونا آئینی، سماجی، معاشرتی اور قانونی تناظر میں ہونا بہت ضروری ہوتا ہے لیکن زندہ اقوام اور ترقی یافتہ معاشروں میں تحقیقی اور اعلیٰ تعلیم کے سربراہ کا ہونا بھی کوئی کم ضروری نہیں ہوتا۔ اسی طرح کوئی نیشنل ہائی وے ہو یا سٹیل مل، ان کے سربراہان بھی بہت ضروری ہیں۔ کم از کم ہائر ایجوکیشن کمشن کے حوالے سے تو عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ بھی بار بار یاد دہانیاں کرا چکے مگر مئی سے مسندِ اقتدار پر براجمان حکمرانوں نے ایڈہاک ازم ہی کو حرزِ جاں بنا رکھا ہے۔ کسی ادارے میں عارضی اور ایڈ ہاک بنیادوں پر لوگ ہیں، کہیں تبادلوں کی ضرورت ہے تاہم حاکمِ وقت فیصلہ ہی نہیں کر پا رہے۔ شاید یہ فیصلے بالخصوص چیف جسٹس آف سپریم کورٹ اور بالعموم آرمی چیف کے بعد ہی ممکن تھے۔ گر بعد ہی میں ممکن تھے پھر بھی وقت کا یوں ضائع ہونا درست ہے کیا؟
 تغافل کہیں کہ تساہل اسے، جو بھی ہے اسے اب ختم ہو جانا چاہئے اور جلد ختم ہونا چاہئے۔ اب خدشہ کیا ہے؟ تاریخ نے ایک دفعہ پھر آپ کو مضبوط ترین حکمران بنا دیا ہے۔ قوم بڑے میاں صاحب کو بہت لاڈ پیار، احترام اور امیدوں کے ساتھ سربراہِ حکومت لائی ہے تاکہ درجہ بدرجہ سبھی سربراہان کارآمد اور مفید ہوں۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے کہ مریم نواز صاحبہ کو نوجوانوں کی چیئرپرسن بنا دیا گیا ہے لیکن اتنا ضرور کہیں گے کہ نوجوان تو چل ہی رہے ہیں دیگر اداروں کے جوانوں اور نوجوانوں کو بھی تو چلانا ہے، ان بے شمار اداروں میں غالباً 28 کے لگ بھگ ادارے اپنے سربراہان کے انتظار میں ہیں مُردہ و نیم مُردہ حالت میں ہیں۔
کالا باغ ڈیم، گیس پائپ لائن کی بروقت تکمیل، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ، لاپتہ افراد کی بازیابی، ادویات کی قیمتوں میں واضح کمی، ہسپتالوں کی زبوں حالی اور عملے کی عاقبت نااندیشیاں (بالخصوص شیخ زید ہسپتال لاہور جیسے مرکزی اداروں کی سستی و کاہلی) ، مہنگائی کے طوفان بدتمیزی، وزراءیعنی عوامی نمائندوں کے بجائے بیورو کریسی کے اختیارات کی وسعتیں اور دیگر خارجی و داخلی کمزریوں جیسے معاملات کے آگے بند باندھنے کی اشد ضرورت ہے۔ چھ ماہ سے زائد عرصہ میں یہ چیزیں جوں کی توں ہیں۔ ہنی مون پیریڈ ختم ہوئے بھی چار ماہ سے زائد ہو گیا۔ کیا واقعی خاک ہو جائیں گے تم کو خبر ہونے تک --- ابھی تو بلدیاتی انتخابات کا جِن بوتل سے نکلنے والا ہے جس کا کچھ بھی نہیں، عدلیہ کی توجہ اور احکامات سے لگتا تو ہے وہ انتخابات بھی سر پر ہے لیکن حکومتی ارادوں، وعدوں اور اندرونِ خانہ کہانیوں سے بہرحال نہیں لگتا کہ بلدیاتی انتخابات کی کہانی بروقت شروع ہونے والی ہے۔ کس شاعر نے کسی قدر شگفتگی اور نغمگی کے ساتھ دلخراش باتیں کی ہیں کہ
خود کو کردار سے اوجھل نہیں ہونے دیتا
وہ کہانی کو مکمل نہیں ہونے دیتا
سنگ بھی پھینکتا رہتا ہے کہیں ساحل سے
اور پانی میں بھی ہلچل نہیں ہونے دیتا
محترم وزیراعظم اللہ آپ کا بھلا کرے۔ قوم کو سچ مُچ کا وزیر دفاع بھی دے دیں، لوگوں کو معلوم ہے کہ خواجہ آصف تو عدلیہ میں وزیر دفاع ہوں گے مگر عدالت کے باہر وہ وزیر پانی و بجلی ہی ہوں گے اور خدارا وزراءکو سچ مُچ کے اختیارات بھی دے دیں یہ بیچارے تو اپنی مرضی سے اپنے پرسنل کیا اور پرنسپل کیا، کوئی سیکرٹری تک تبدیل نہیں کر سکتے۔ شہر کے کچھ مصاحب تو ازخود ”شاہ“ بنے بیٹھے ہیں کبھی کسی وزارتِ اعلیٰ میں اور کہیں وزارتِ عظمیٰ میں! یہ تو شکر ہے کہ آپ کو خیال آیا کہ ایک بیورو کریٹ ایک سے زیادہ کارپوریشن یا بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل نہیں ہو سکتا --- سرکار! آپ جانتے ہیں اور آپ کو تجربہ بھی ہے کہ بھاری بھرکم مینڈیٹ اور مرضی کے آرمی چیف بھی کبھی کبھی امتحانات کے دریچے بن جایا کرتے ہیں اس لئے اس کہانی کے بعد دیگر کہانیوںکو بھی مکمل کریں۔ آپ نے بی بی سی سے تو سُنا ہی ہو گا لیکن یہاں عوام کا وہ دل جو بھٹو جیسے اور آپ جیسے مقبول وزرائے اعظم کیلئے دھڑکتا ہے آخر ان کی دھڑکنیں بھی آرمی چیفوں پر سیاستدانوں کی نسبت زیادہ تکیہ کرنے بیٹھ جاتی ہیں۔ پس عام انتخابات میں وعدہ کی صورت میں کہی گئی سب کہانیوں کو مکمل کریں!