”وہ میری رنجش بے جا پہ ٹھیک کہتے ہیں“

خدا خدا کر کے نگران وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کی تقرری کا مرحلہ طے ہو گیا۔ تمام اینکر صاحبان کے اندازے اور کالم نگاروں کے اندازے غلط ثابت ہوئے۔ چار عہدے جوڈیشری کو ملے اور ایک عہدہ جرنلسٹ کو ملا۔ جوڈیشری کی سلیکشن ایک لحاظ سے صحیح ہے لیکن....ہم نے سوچا تھا کہ کرینگے کوتوال سے شکوہوہ کمبخت بھی تیرا چاہنے والا نکلالوگوں کا خیال تھا کہ الیکشن کمیشن میں چار ممبران ن لیگ کے سپورٹر ہیں اور ایک مخالف ہے لیکن تعجب کی بات ہے وزیراعظم کے انتخاب پر 4 ممبرز الیکشن کمیشن کھوسو صاحب کے حق میں ووٹ دیئے اور پنجاب کے ممبر جسٹس ریٹائرڈ کیانی صاحب نے جسٹس ریٹائرڈ ناصر اسلم زاہد کے حق میں ووٹ دیا۔ جس سے الیکشن کمیشن کے متعلق لوگوں کے تجزیے غلط ثابت ہوئے ۔ پنجاب کے چیف منسٹر کی سلیکشن غیر متوقع تھی لیکن شنید یہ ہے کہ چیف منسٹر پنجاب کی سلیکشن میں امریکی چڑیا جو ان کی جیب میں تھی اس نے اہم رول ادا کیا جبکہ نگران حکمرانوں کی سلیکشن میں جوڈیشری پر لوگوں کو اعتماد زیادہ تھا۔ پنجاب میں اس مرتبہ جوڈیشری کو مات دے گئی حالانکہ جسٹس عامر رضا اور جسٹس زاہد بخاری دونوں شریف النفس اور شریف انسان تھے چونکہ دونوں جج صاحبان کسی کی جیب میں آنے والے نہیں تھے اسلئے امریکن چڑیا نے نواز شریف کو قائل کیا کہ ”ہما“ سیٹھی صاحب کے سرپر بٹھا دیں۔ سیٹھی صاحب کے متعلق ایک نجی چینل پر زاہد حامد صاحب کا تبصرہ حیرت انگیز تھا۔ سیٹھی صاحب کے متعلق احمد سعید کرمانی جو دولتانہ صاحب کے معتمد اور ایوب خاں کے آخری دور میں اہم منسٹر تھے نوائے وقت میں سیٹھی صاحب سے متعلق انکا بیان پڑھنے سے حیرت ہوئی کہ وہ نظریہ پاکستان کے ہی قائل نہیں۔الیکشن کمیشن نے جو تبادلے کئے ہیں وہ بھی معنی خیز ہیں۔ چیف سیکرٹری پنجاب کو اسلئے تبدیل کیا گیا کہ وہ نواز شریف کے خاص معتمد تھے جب ڈپٹی کمشنر لاہور تھے تو ریونیو ریکارڈ کو جلایا گیا ۔ خیر ان باتوں میں پڑنے کی ضرورت نہیں الیکشن پنجاب میں نہیں ہو رہے پورے ملک میں ہو رہے ہیں۔ اگر پنجاب میں رکھنا ان کو مناسب نہیں سمجھا گیا تو سندھ میں بھی الیکشن ہو رہے ہیں۔ اگر وہ پنجاب میں نواز شریف کی پارٹی کیساتھ منسلک تھے تو سندھ میں بھی نواز لیگ الیکشن لڑ رہی ہے وہاں کیسے غیر جانبدار ہونگے۔ اس طرح سے جو پنجاب میں چیف سیکرٹری لگائے گئے ہیں میجر قمر صاحب نواز شریف شہباز شریف کے ہوم سیکرٹری پنجاب اور کمشنر راولپنڈی رہ چکے ہیں۔ وہ آزادانہ الیکشن کرانے کے اہل کس طرح ہونگے انکا رجحان ن لیگ کی طرف ہو گا۔ اس طرح آئی جی پنجاب مسٹر آفتاب سلطان، مسٹر نصراللہ درویشک کے برادر نسبتی ہیں اور دریشک صاحب نے حال ہی میں ن لیگ جوائن کی ہے۔ سی ایس پی اور پی ایس پی کیڈر میں بہت سے لائق ایماندار آفیسر موجود ہیں جن کو پنجاب میں نوکری کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ وہ شہباز شریف کے معیار پر نہیں اترتے تھے کیونکہ ان میں عزت نفس باقی تھی۔ چاہئے تو یہ تھا کہ ان باہر کے پڑھے لکھے افسران جو انڈیپنڈنٹ اور ایماندار تھے کو چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب پولیس لگایا جاتا لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔ اب سیٹھی صاحب کہہ رہے ہیں کہ وہ مزید تبدیلیاں کرینگے اگر چیف سیکرٹری پنجاب اور انسپکٹر جنرل پنجاب جیسی تبدیلیاں کرنی ہیں تو اسکا کیا فائدہ۔ جملہ چیف منسٹر صاحبان اور وزیراعظم کی حلف برداری کے بعد جو بیان شائع ہوئے ہیں ان میں انہوں نے دو چیزوں کی نشاندہی کی ہے ۔اول یہ کہ لا اینڈ آرڈر کی صورت بہتر کی جائیگی دوئم یہ کہ معاشی حالت بہتر کی جائیگی۔ تیسرے یہ کہ الیکشن بروقت اور آزادانہ کرائے جائیں۔ جناب والا اس وقت انحصار جوڈیشری پہ کیا جا رہا ہے لیکن پنجاب میں سول جج مجسٹریٹ اور ایڈیشنل سیشن ججوں کو مقابلہ کے امتحان میں سلیکٹ نہیں کیا گیا۔ نواز شریف کے دور میں جب وہ چیف منسٹر پنجاب تھے۔سلیکشن کی گئی تھی جس کے بعد خواجہ شریف چیف جسٹس نے پبلک سروس کمیشن میں مقابلہ کے امتحان کی تاریخ مقرر کی تھی ان کیسز کو ہائی کورٹ میں واپس لیکر خود سلیکشن کی ۔ آئین کہتا ہے کہ 17 گریڈ اور اسکے اوپر کی آسامیاں پبلک سروس کمیشن مقابلہ کے امتحان کے ذریعے پُر کی جائیگی اسلئے ہی خواجہ شریف جسٹس کی سلیکشن غیر آئینی ہے چیف جسٹس پاکستان کو سوموٹو نوٹس لینا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا اس لئے موجودہ الیکشن کے ریٹرننگ آفیسرز اور پولنگ آفیسر نواز شریف ، شہباز شریف کے پروردہ ہیں ان کو ان عہدوں پر نہیں لگانا چاہئے دوسری طرف اگر ایگزیکٹو سے ریٹرننگ آفیسریا پولنگ آفیسرز لگائیںگے تو وہ بھی نواز شریف کے دور کے ہیں۔وہ آزادانہ انتخاب نہیں کرا سکتے یہ کام فوج کے سپرد کیا جانا چاہئے تھا تاکہ آزادانہ انتخاب کرائے جا سکیں۔ رہا لا اینڈ آرڈر کا سوال تو جب تک لوکل باڈیز ایکٹ 2001 منسوخ کر کے 1975یا1979 کا لوکل باڈی ایکٹ رائج نہ کیا جائے اور اس طرح پولیس ایکٹ 2001 منسوخ کر کے 1860ءکا پولیس ایکٹ رائج نہ کیا جائے آزادانہ انتخاب نہیں ہو سکتے نہ ہی لا اینڈ آرڈر درست ہو سکتا ہے۔پاکستان پینل کوڈ اور پاکستان پروسیجر کوڈ میں جو ترامیم مشرف دور میں ہوئیں ان کو منسوخ کر کے پہلے کوڈ کے مطابق لا میں ترمیم نہ کی جائیں لا اینڈ آرڈر قائم ہو ہی نہیں سکتا‘ اس لئے وزیراعظم کیلئے لازم ہے کہ آرڈیننس کے ذریعے وہ ترامیم کی جائیں PPC اور CRPC کو مشرف سے پہلے دور کے مطابق کیا جائے ڈپٹی کمشنر کے عہدے مشرف سے پہلے کی پوزیشن میں لائے جائیں۔ جوڈیشری کو بھی ملکی بقا کیلئے ضد چھوڑ کر ایگزیکٹو مجسٹریٹ کا پرانا ڈپٹی کمشنر سسٹم مان لینا چاہئے اور صرف سول جج صاحبان کو سول کے کیسز ہی کرنے چاہئیں تاکہ انسدادی آفیسر موجود جو "Preventionکا کام انجام دے سکیں۔ Prevention is better than cure" کا اصول نافذ کیا جا سکے۔ بھارت میں کامیاب جمہوریت چل رہی ہے وہاں ابھی تک انگریزوں کے زمانے کے ڈپٹی کمشنر، کمشنر بااختیار ہوم سیکرٹری موجود ہیں اگر بھارت نے جوڈیشری کو ایگزیکٹو کے اختیار نہیں دیئے تو پاکستان میں جو تجربہ ناکام ہو چکا ہے اسے ختم کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ وزیراعظم اور چیف منسٹر صاحبان اگر لا اینڈ آرڈر ٹھیک کرنا چاہتے ہیں تو فوراً آرڈیننس کے ذریعے متذکرہ بالا ترامیم اختیار کریں۔اقتصادی معاملہ گھمبیر ہے اسے دو مااہ میں تو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر آفتاب احمد خان CSP اور مسعود مختار CSP کو منسٹر فنانس بنایا جائے تو کچھ معاملات حل ہوسکتے ہیں۔ جوڈیشری کا آجکل بڑا بول بالا ہے اور ہر ایگزیکٹو معاملہ میں مداخلت کرنے کا رواج ہے۔انگریزوں کے زمانے کا آزمودہ نظام جو ابھی تک سابقہ برٹش کالونی میں صحیح چل رہا ہے وہ پاکستان میں کیوں نہیں چل سکتا۔ جوڈیشری خود تسلیم کر چکی ہے لا اینڈ آرڈر تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ نظام ملکی بہتری کیلئے ہوتا ہے لیکن کسی اچھے اصولی نظام سے ملکی بہتری نہ آ سکے تو اسے ترک کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہئے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جوڈیشری نے سوموٹو اختیار استعمال کر کے اربوں روپے پاکستان گورنمنٹ کے واپس کرائے ہیں جو ایک اچھا اقدام ہے۔ لیکن زیادہ تر NRO کے معاملے کو رگڑا گیا ایک وزیراعظم کو گھر بھجوایا دوسرے وزیراعظم کو نوٹس دیا ہوا ہے اچھے اقدام تھے لیکن اصغر خان کیس کے مجرموں کو کوئی سزا نہیں دی گئی جو اب بھی 62-63 کے زمرہ میں آتے ہیں ۔ اس طرح شہباز شریف کی حکومت کو Stay order دے کر پانچ سال گزار دیئے۔ اسکے علاوہ پاکستان فارن اکاﺅنٹ کے پیسے کہاں گئے؟حدیبیہ مل کیس میں حسان ڈاہر کے بیان پر خاموشی کیوں اختیار کی گئی کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ یہ سب سوالیہ نشان ہیں جن کا کسی نہ کسی سٹیج پر جواب دینا ہو گا۔ الیکشن اگر آزادانہ منصفانہ کرانے ہیں تو یہ سب کام فوج کے سپرد کیا جائے جو آزادانہ انتخاب کرانے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔