پاکستان کی داخلی صورتحال

کالم نگار  |  نعیم قاسم

پاکستان پر عرصہ دراز سے جو قیادتیں حکمران رہی ہیں اور بالخصوص پچھلے 25 سال میں جو لوگ برسراقتدار رہے ہیں وہ بدقسمتی سے اہلیت، دیانت، حب الوطنی کے جذبات سے بڑی حد تک عاری ہیں۔ ہر محب وطن اور پراخلاص شخص اس بات پر متفق ہے کہ جب تک پاکستان میں ہمہ گیر اور ہمہ جہتی سٹیٹس کو ختم کرکے دیانتدار، اہل اور محب وطن قیادت اوپر نہ لائی جائے تو ملکی معاملات میں بہتری لانا ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف کے عمران خاں، عوامی تحریک کے طاہرالقادری اور سول سوسائٹی کی اکثریت کے خیال میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون ہو یا قاف، اے این پی ہو، جمعیت علماءاسلام، ایم کیو ایم ہو، موجودہ اور پچھلی حکمران قیادت ہر حوالے سے نااہل اور کرپٹ ہے ان کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ قیادت موجودہ استحصالی نظام کی پیداوار بھی ہے اور اس کی محافظ بھی ہے نیز وہ استعماری طاقتوں کی دریوزہ گر اور آلہ کار بھی ہے۔ وہ پاکستان کو موجودہ مسائل سے نکالنے اور اسے ایک خوشحال سچا اسلامی معاشرہ بنانے کی استعداد سے یکسر محروم ہے اگر پاکستان کو صحیح معنوں میں فلاحی ریاست میں تبدیل کرنا ہے اور اسے تمام بیماریوں سے آزاد کرانا ہے جو اس کے جسد قومی کو لاحق ہو چکی ہیں تو قیادت کی تبدیلی ناگزیر ہے۔ قارئین یہ امر شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ پاکستان کا موجودہ سیاسی، معاشی، معاشرتی اور انتظامی ڈھانچہ ظالمانہ، غیر منصفانہ اور استحصالی ہے۔ بددیانت اور کرپٹ عناصر قومی زندگی کے ہر شعبے میں چھائے ہوئے ہیں اور ان سے نجات حاصل کرکے نہ تو غربت و افلاس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو بنیادی سہولتیں دی جا سکتی ہیں اور نہ ہی خط افلاس سے نیچے جانوروں سے بھی بدتر زندگی بسر کرنے والے کروڑوں انسانوں کو بنیادی سہولتیں دی جا سکتی ہیں اور نہ ہی ایک عادلانہ معاشرہ وجود میں لایا جا سکتا ہے مگر میرا عمران خاں سے سوال ہے کیا اس کے لئے ”نیا پاکستان“ کی اصطلاح جسے میں قومی بدعت قرار دوں گا متعارف کرانا ضروری ہے۔ اس کے لئے ہم قائداعظم اور علامہ اقبال کے تصور ریاست کے مطابق ”تحریک پاکستان سے تکمیل پاکستان“ یا ”تشکیل نو پاکستان“ کا سلوگن بھی متعارف کرا سکتے ہیں۔ نئے پاکستان کی اصطلاح سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت متعارف کرائی تھی جب مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا تھا۔ بھٹو صاحب نے سندھ میں ایک تقریب میں کہا کہ شکر ہے پاکستان بچ گیا ہے۔ اب ہم نئے پاکستان کی بہتر طور تعمیر نو کریں گے لہٰذا ضروری ہے کہ ہمارے قومی لیڈران رائج شدہ اصطلاحات کی تفہیم اور توضیح میں بال کی کھال اتارنے سے پرہیز کریں کیونکہ اس طرح نئی نسل کے ذہنوں میں نظریاتی کنفیوژن جنم لیتی ہے۔ پہلے بھی عمران خاں پاکستان کے لئے باران رحمت مانگنے کی بجائے سونامی سونامی کا راگ الاپتے رہتے ہیں حالانکہ وہ کالاباغ ڈیم بنانے کے حامی ہیں انہیں تو چاہئے اللہ سے ہمیشہ یہ دعا کریں جیسے حضرت میاں محمد بخش فرماتے ہیں....رحمت دا مینہ پا خدایا باغ سُکا کر ہَریابوٹا آس امید میری دا کر دے میرے بَھریاہماری قومی سطح کے لیڈران کو اس بات کا ادراک اور فہم ہونا بے حد ضروری ہے کہ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے وژن کے مطابق پاکستان کو ایک جدید، ترقی یافتہ، فلاحی اسلامی ریاست بنانے کے عملی تقاضوں کو سمجھیں اور ان کی تکمیل کی کوشش کریں کیونکہ اگر نجم سیٹھی صاحب بھی نگران وزارت اعلیٰ پنجاب کا حلف لیتے ہیں تو انہیں سیکولر خیالات رکھنے کے باوجود یہ کہنا پڑتا ہے کہ وہ ہر حال میں اسلام اور پاکستان کے نظرئیے کے ساتھ وفادار رہیں گے۔ تو کیا اگر اقتدار عمران کو مل جائے گا تو وہ پاکستان کی جگہ ”نئے پاکستان“ کا لفظ استعمال کر پائیں گے۔آج جب قوم انتخابات کے ذریعے ملک و قوم کی قیادت منتخب کرنے والی ہے اگر وہ اپنی اور پاکستان کی قسمت بدلنا چاہتے ہیں تو پھر ضروری ہے کہ وہ ملک میں ایک دیانتدار قیادت لائیں۔ قاضی حسین احمد کے مطابق ایک دیانتدارانہ قیادت کے بغیر اللہ کے کلمے کی سربلندی کا کام نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر نفاذ شریعت کا کام نہیں ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر کرپشن سے پاک معاشرے کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکتا ہے۔ ہماری زندگی کا بنیادی شعار کیا ہے؟ دیانتدار قیادت، نفاذ شریعت، کرپشن سے پاک معاشرہ۔ یادش بخیر! قاضی صاحب نے آج سے پندرہ سال قبل ایک اجتماع میں بلند آواز میں نعرہ لگایا ”پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ“۔وہ مجمع سے بولے آپ بھی بولیں پھر ہزاروں افراد نے جواب دیا پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ۔ قاضی صاحب نے مجمع سے پوچھا کہ کیا پاکستان میں لا الہ الا اللہ کا نظام کبھی قائم ہوا ہے حالانکہ قرار داد مقاصد بھی پاس ہو گئی تھی جس میں یہ عہد کیا گیا کہ یہ ملک اللہ نے دیا اس میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت قائم ہو گی۔ باشندگان پاکستان قرآن اور سنت کی حدود کی اندر آپس میں مشورے سے اپنے امور و معاملات طے کریں گے۔ وہی قرارداد مقاصد ہمارے دستور کی بنیاد ہے لیکن غلط کار لوگوں کے ہاتھوں قیادت ہو تو نتائج پیدا نہیں ہو سکتے ہیں کیا حکومت پاکستان کے پاس اختیارات کی کمی ہے؟ اختیارات تو ہر طرح کے موجود ہیں سودی نظام ہمارے آئین میں خلاف آئین قرار دیا گیا ہے فیڈرل شریعت کورٹ نے فیصلہ دیا کہ سود سے معیشت کو پاک کر دیا جائے مگر سپریم کورٹ نے اسکے خلاف حکم امتناعی دے رکھا ہے تاکہ سودی معیشت چلتی رہے۔ برس ہا برس سے اس کی سماعت نہیں ہو رہی ہے تو پھر یہ اعلان کر دیا جائے کہ سود حلال ہے اور یہ بھی ہمت نہیں کہ کہیں کہ شریعت کورٹ کا فیصلہ درست ہے اس وقت کے حالات آج کے حالات سے کس قدر مطابقت رکھتے تھے اس کو قاضی صاحب کیسے بیان کرتے ہیں آج ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ”پاکستان میں روزانہ قتل ہو رہے ہیں حکیم سعید اور مولانا عبداللہ کو دن کی روشنی میں قتل کر دیا گیا(آج بھی فرقہ وارانہ قتل ہو رہا ہے) لیکن کیا کوئی مجرم پکڑا گیا اس لئے نہیں پکڑا گیا کیونکہ حکمرانوں کا مجرموں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے ان کی سرپرستی کی جاتی ہے جیسا کہ کراچی میں ہو رہا ہے پولیس کا ادارہ ہو انتظامیہ ہو، انتظامی ادارے ہوں سب کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے تباہ و برباد ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کی توہین کی گئی ( جو آج بھی جاری ہے) یہاں تک فوج بھی اب اس دستبرد سے آزاد نہیں‘حکمرانوں کو اب کونسے اختیارات چاہئیں ملک کی معیشت تباہ و برباد ہو گئی ہے امن و امان کی حالت ناگفتہ بہ ہے ملک کے اندر افراتفری ہے ملک میں اندھیر نگری ہے اگر ملک میں تاریکیوں میں روشنی کی کرن تلاش کرنا ہے تو ایسے افراد کو اپنا حکمران بنائیں جو ہر طرح کے علاقائی اور لسانی تعصبات سے بالاتر ہوں جو اپنے سینوں میں انسانیت کا درد رکھتے ہوں۔ کون ہیں جن کے پاس محبت اور اخوت کا پیغام ہے؟ کون ہیں جو ہر طرح کی فرقہ وارانہ عصیبت سے بالا تر ہیں؟ کون ہیں جو شیعہ سنی کو ملانا چاہتے ہیں؟ اور ان کو اکٹھا کرنے چاہتے ہیں؟ کون ہیں جو عرب و عجم کو اکٹھا کرنا اور اللہ کے بندوں کو بھائی بھائی بنانا چاہتے ہیں کون ہیں جو انسانی جذبوں سے مالا مال ہیں؟ کیا ظلم کی یہ چکی یوں ہی چلتی رہے گی؟ اور ہم بیٹھ کر صرف تماشا دیکھتے رہیں گے صرف معذرتیں ہی کرتے رہیں گے اس طرح کبھی نہیں ہو گا اب ایک بہت بڑے جہاد کی ضرورت ہے ہمیں ایک عظیم الشان انقلاب برپا کرنا ہے تاکہ ہم لوگوں کے جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کر سکیں میرے عزیزو! نظام تبدیل کرنے کا مطلب اور مقصد یہ ہے کہ انگریز نے جو نظام چھوڑا تھا اس نے یہاں ایک اسٹیبلشمنٹ چھوڑی ہے وہ انتظامیہ میں بھی ہے، فوج میں بھی عدلیہ میں بھی ہے سیاست میں بھی ہے وہ اسٹیبلشمنٹ ابھی بھی مغربی قوتوں کی سرپرستی میں کام کر رہی ہے۔ اس کے اندر کرپشن کا زہر سرایت کر چکا ہے اس کرپشن کو ختم کرنے کےلئے ایک انقلاب کی ضرورت ہے جو ریڈیکل تبدیلیاں لائے جو بنیادی چیزوں کو تبدیل کرے یہ کیا نظام ہے جہاں اربوں کھربوں ڈالرز لوٹ کر بیرون ملک منتقل کر دیئے جاتے ہیں اور وہ لوگ ملک کے اندر اشرافیہ کے طور پر موجود رہتے ہیں اور مزید لوٹ مار میں مصروف ہیں مگر کوئی انکے احتساب کےلئے تیار نہیں حالانکہ ان کی لوٹ مار سے ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اس کی آزادی جکڑی گئی ہے اس کو غلامی کی زنجیریں پہنا دی گئی ہے۔ قارئین آج 2013 کے حالات 1990ءکی دہائی کے آخری سالوں سے بھی زیادہ گھمبیر ہیں جس کی اسوقت قاضی حسین احمد نے نشاندہی کی تھی۔ آج جو لوگ پاکستان کو بدلنے کے لئے تبدیلی کے نعرے لگا رہے ہیں تحریک انصاف نیا پاکستان بنائے گی۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا دعویٰ ہے کہ ہم تبدیلی لا چکے ہیں اور اس کو مزید استوار کریں گے۔ قاضی حسین احمد اور مولانا مودودی کی جماعت اسلامی کو سمجھ ہی نہیں آ رہی ہے کہ وہ سیاسی صف آرائی میں نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہو یا عمران خان کے ساتھ یا پھر دوبارہ دینی قوتوں کے اتحاد کے نام پر مولانا فضل الرحمن کے ہاتھوں استعمال ہو جائے مگر آج کوئی تو اٹھے اور قاضی حسین احمد کی طرح نعرہ مستانہ بلند کرے کہ ہم عوام کی حمایت سے خود غرض، مفاد پرست، لالچی، حریص اور غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار غلاموں کو دوبارہ اقتدار میں نہیں آنے دیں گے اور ہمارے عوام کو بھی یہ عہد کرنا ہو گا وہ ایسے حکمران منتخب کریں گے جو دیانتدار ہونگے، امین ہونگے، عدل و انصاف قائم کریں گے ناکہ راجہ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کی طرح ریٹائر منٹ کے بعد لاکھوں روپوں کی مراعات تاحیات حاصل کر لیں گے۔ فہمیدہ مرزا کی طرح اپنے شوہر کے ذمہ کروڑوں کے واجب الادا قرضے معاف کرا لیں گے۔ فیصل کریم کنڈی کی طرح سات ارب کا سی ڈی اے کا پلازہ محض 36 کروڑ میں ہتھیا لیں گے۔ مگر مجھے ایسا دکھائی نہیں دے رہا ہے ہمارے عوام بھی موجودہ نظام کے اسیر ہیں۔ انہیں بھی ایسے حکمران چاہئیں جو خود بھی کھائیں اور بچا کھچا ان تک پہنچنے دیں۔ سرمایہ دارانہ معیشت میں سیاست اور جمہوریت پاکستان جیسے ملکوں میں کاروبار ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے مالکان کو اربوں روپوں کے فنڈز ملتے ہیں تو ایسے میں کونسی تبدیلی اور کونسا نیا پاکستان سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا ۔