امریکہ بہادر بمقابلہ طالبان

کالم نگار  |  سکندر خان بلوچ
امریکہ بہادر بمقابلہ طالبان

سب سے پہلے میری طرف سے نوائے وقت کے تمام سٹاف ممبران اور قارئین کو عید مبارک ۔
معزز قارئین! امریکہ جب سے دنیا کی سپر پاور بنا ہے نہ خود آرام سے بیٹھتا ہے نہ دنیا کو آرام سے رہنے دیتا ہے۔ موجودہ دور کا سکندر اعظم بن کر پوری دنیا کو فتح کرنا چاہتا ہے۔ اگر فتح نہیں کر سکتا تو کم از کم انہیں برباد ضرور کرنا چاہتا ہے۔ امریکی رویہ دیکھ کر پوٹھوہار کی وہ کہاوت یاد آجاتی ہے ’’اپنے سے طاقتور کو دیکھتا ہوں تو مجھے رحم آجاتا ہے۔ اپنے سے کمزور کو دیکھتا ہوں تو مجھے غصہ آجاتا ہے‘‘ امریکہ بھی اسی کہاوت پر عمل کر رہا ہے۔ جو ممالک اسے آنکھیں دکھاتے ہیں وہاں یہ آنکھیں نیچی کر لیتا ہے جو غریب ممالک اسے جواب دینے کی سکت نہیں رکھتے ان پر غصے سے چڑھ دوڑتا ہے۔ عراق ، افغانستان،لیبیا اور یمن غریب ممالک میں سے ہیں۔ ان غریب ممالک پر حملہ کرکے انہیں تباہ و برباد کر دیا۔ کامیابی پھر بھی نصیب نہیں ہوئی۔ شمالی کوریا اور ایران امریکی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ آنکھیں دکھاتے ہیں۔ وہاں امریکہ بہادر آنکھیں نیچی کر لیتا ہے۔ مزید بد قسمتی یہ ہے کہ امریکہ اپنے ماضی سے بھی نہیں سیکھتا۔ ویت نام اور کمبوڈیا کو کمزور ممالک سمجھ کرچڑھائی کی۔ ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ بمباری کر کر کے پورے علاقے کو پائوڈر بنا دیا۔ نیپام بم تک استعمال کر ڈالے پھر بھی فتح دور ہی رہی۔ آخر بے عزت ہو کر وہاں سے بھاگنا پڑا۔ اگر امریکہ بہادر اپنی ماضی کی تاریخ پر ذرا برابر بھی نظر پھیر لیتا تو کسی ایشیائی ملک پر دوبارہ حملہ کرنے کی غلطی نہ کرتا لیکن مصیبت یہ ہے کہ امریکہ کو اپنی طاقت کا نشہ نہیں بیٹھنے دیتا۔ پوٹھوہاری کہاوت کی طرح اپنے سے کمزور ملک کو دیکھتا ہے تو غصے میں چڑھ دوڑتا ہے۔ اسی طاقت کے نشے میں 2001میں افغانستان پر حملہ آور ہو گیا۔ شمالی الائنس کی مدد سے ملک کو تباہ و برباد کر دیا۔ اس سے بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہوا تو بمباری کر کرکے پورے ملک کا حلیہ بگاڑ دیا۔ لاکھوں کے حساب سے بے گناہ انسان موت کی نذر ہو گئے۔ان میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔ اتنی بڑی تباہی اور بے انتہا عسکری طاقت کے اندھا دھند استعمال کے باوجود امریکہ بہادر طالبان کے جذبہ جہاد اور جذبہ حب الوطنی کو شکست نہ دے سکا۔ پچھلے سولہ سالوں سے ہر قسم کی طاقت استعمال کر ڈالی۔ اب تک 850بلین ڈالرز خرچ کر چکا ہے۔ 2400سولجرز اور تقریباً 1200 سویلین کنٹریکٹرز مروا چکا ہے۔20000امریکی زخمی ہوئے۔ وہاں اپنی مرضی کی پٹھو حکومت قائم کی۔افغان آرمی کھڑی کرکے اسے تربیت دی۔ اتنا کچھ کرنے کے باوجود بھی کامیابی نصیب نہ ہو سکی۔39ممالک کی1,30,000 نیٹو فورسز لائی گئیں لیکن بہادر افغانیوں نے انکا بھی کچومر نکال دیا۔ اب یہ عالم ہے کہ تقریباً آدھے افغانستان پر طالبان قابض ہو چکے ہیں۔ باقی افغانستان کی جنگ جاری ہے۔ اگر امریکہ میں ذرا برابر بھی شرم ہوتی تو خاموشی سے واپس چلا جاتا لیکن امریکہ بہادر کی خوبی یہ ہے کہ وہ ایسے احساسات سے ہی عاری ہے بلکہ اپنی ناکامی اور بدنامی کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال کر پاکستان کو دھمکیاں دینی شرو ع کر دی ہیں۔
پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ شروع سے ہی امریکہ کا اتحادی ہے۔ پاکستان نے ہر اہم موقع پر امریکہ کا ساتھ دیا۔ امریکہ کے کہنے پر سیٹو اور سنٹو معاہدوں کا ممبر بنا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکہ بہادر کا فرنٹ لائن اور نان نیٹو اتحادی بنا۔ امریکہ کو اپنے ہوائی اڈے اور بری راستوں کی سہولت فراہم کی جس سے ہمیں سواسو ارب ڈالرز کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ امریکہ کی ایما پر مجاہدین کو تربیت دی اور انکا بوجھ برداشت کیا۔ انکے ساتھ 40لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی برداشت کی۔ اس میزبانی کے بدلے میں اٖفغانیوں نے ہمیں کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر سے نوازا۔ اس پر بھی وہ مطمئن نہ ہوئے تو افغانستان سے دہشتگردوں کی میزبانی کرکے پورے ملک میں دہشتگردی پھیلا دی جس کی سزا ہم اب تک بھگت رہے ہیں۔ امریکہ خود تو افغانستان سے چلا گیا لیکن جاتے جاتے افغان جنگ ہمارے گلے ڈال گیا جو ہم اس وقت تک لڑ رہے ہیں۔ اپریشن ضرب عضب اور اپریشن رد الفساد تاحال جاری ہیں۔ امریکہ کی جنگ گلے ڈالنے سے اب تک 10ہزارسولجرز سمیت 73ہزار بے گناہ اور معصوم لوگوں کی قربانی دے چکے ہیں لیکن بجائے احسان مند ہونے کے امریکہ ہمیں مجرم قرار دیکر دھمکیاں دے رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’‘’ہم پاکستان کو اربوں ڈالرز دیتے ہیں مگر وہ دہشتگردوں کو پناہ دیتا ہے۔ پاکستان کو افغانستان میں ہمارا ساتھ دینے سے فائدہ ہوگاور نہ نقصان‘‘یہ ہے ہماری بے بہا قربانیوں کو صلہ۔ بقول نوائے وقت23 اگست 2017 ’’ٹرمپ انتظامیہ کی یہ ساری منصوبہ بندی درحقیقت بھارت کے ایما پر پاکستان کو زچ کرنے اور دہشت گردی کی جنگ میں بھارتی ڈکٹیشن کیمطابق اس سے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے بڑھانے کیلئے تھی۔ یہ درحقیقت پاکستان کی سا لمیت پر حملے کا اعلان ہے‘‘۔ ٹرمپ نے وہ کچھ کہا جو کچھ بھارت اور افغانستان چاہتے تھے۔ مودی عرصہ دراز سے کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کو دہشتگرد ملک قرار دلوا کر دنیا میں تنہا کر دیا جائے اسلئے اس نے ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کیخلاف دہشتگردی کے بڑے بڑے الزام لگائے اور دنیا کو قطع تعلق کی ترغیب دی۔ اب جو کچھ اس نے امریکہ کے منہ سے کہلوایا ہے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نظر آتا ہے۔ پھر صرف یہی نہیں بلکہ ٹرمپ نے بھارتی کردار کی تعریف کرتے ہوئے اسے افغانستان میں ایک بڑا کردار ادا کرنے کی دعوت دی ہے جس سے یقینا پاکستان کیلئے بہت سی مشکلات پیدا ہوں گی۔
افغانستان اور بھارت کا عرصہ دراز سے یہ بھی اصرار ہے کہ یہ جنگ افغانستان کی بجائے پاکستان میں لڑی جائے، ٹرمپ کے اس دھمکی آمیز بیان کے بعد دونوں ممالک کو یقین ہے کہ اب پاکستان میں دہشت گردوں کی مفروضہ پناہ گاہوں پر ڈرون حملے ہونگے اور یوں یہ دونوں ممالک ملکر جنگ کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دینگے اس لئے دونوں ممالک بڑے خوش ہیں۔ دونوںممالک میں خود اعتمادی بھی بڑھ گئی ہے۔ چند روز پہلے صدر اشرف غنی نے قندھار میں اپنی افواج سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کے بیان کو خوش آئند قرار دیا۔
یہ تمام دھمکیاں اور بیان بازیاں اپنی جگہ لیکن اصل دوسرا فریق جس کیخلاف یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے یعنی طالبان ان کا سخت رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ وہ اپنے مقصد میں پر عزم ہیں اور اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی روس اور امریکہ کو سبق سکھایا ہے اور اب ایکدفعہ پھر امریکہ بہادر کو مزید سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں۔ پہلے بھی دو امریکی صدور زور لگا چکے ہیں لیکن طالبان کو زیر نہیں کرسکے اورا ب تیسرا صدر بھی زور آزما کر دیکھ لے۔ طالبان کے ترجمان ذبیع اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں کہا: ’’اگر امریکہ اپنی فوج یہاں سے واپس نہیں لے جاتا تو ہم اس سپر پاور کیلئے افغانستان اکیسیویں صدی کا قبرستان بنا دینگے‘‘ ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا:’’امریکہ کو یہاں سے واپسی کی سٹریٹجی کا سوچنا چاہیے نہ کہ جنگ کو جاری رکھنے کا‘‘ طالبان کے اتحادی گروپ حقانی کے ترجمان نے کہا: ’’ٹرمپ یہ ثابت کر چکا ہے کہ یہ صلیبی جنگ ہے اور وہ تمام مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتا ہیـ‘‘ ٹرمپ کے بیان سے پہلے طالبان نے ٹرمپ کو ایک کھلا خط بھی لکھا کہ:’’ وہ اپنی تمام افواج کو فوری طور پر افغانستان سے واپس بلا لے اور مزید فوج بھیجنے کی حرکت ہرگز نہ کرے‘‘ امریکہ ، بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ اور تباہ کن ہتھیاروں کا استعمال ایک خطرناک منصوبہ بندی ہے لیکن طالبان کے نا قابل شکست جذبے کے سامنے کسی قسم کی فتح نا ممکن نظر آتی ہے۔ امریکہ بہادر کا بھی روس جیسا حشر ہوگا۔